غزوہ بدر(صحیح روایات)

*غزوۂ بدر*

2 ہجری،17رمضان المبارک جمعہ کا بابرکت دن تھا جب غزوۂ بدر رونما ہوا،قرآنِ مجید میں اسے یوم الفرقان فرمایا گیا۔

📗 [در منثور، ج4،ص72، پارہ10،الانفال تحت الآیہ41]

اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد313 تھی جن کے پاس صرف 2 گھوڑے، 70 اونٹ، 6 زرہیں (لوہے کا جنگی لباس) اور 8 تلواریں تھیں- جبکہ ان کے مقابلے میں لشکرِ کفار ایک ہزار1000 افراد پر مشتمل تھا جن کے پاس سو100گھوڑے، سات700 اونٹ اور کثیر آلاتِ حرب تھے۔

📗 [زرقانی علی المواھب، ج2، ص260،معجم کبیر،ج11، ص133،حدیث11377،مدارج النبوۃ،ج،2ص81]

*جنگ سے قبل رات*

حضورسرور عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نےاپنے چند جانثاروں کے ساتھ بدر کے میدان کو ملاحظہ فرمایا اور زمین پر جگہ جگہ ہاتھ رکھ کر فرماتے یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے اور کل یہاں فلاں کافر کی لاش پڑی ہوئی ملے گی۔چنانچہ راوی فرماتے ہیں ویسا ہی ہواجیسا فرمایا تھا اور ان میں سے کسی نےاس لکیر سے بال برابر بھی تجاوز نہ کیا۔

📗 [مسلم،ص759،حدیث4621]

*سُبْحٰنَ اللہ!* کیا شان ہےہمارے پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی،کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے ایک دن پہلے ہی یہ بتا دیا کہ کون کب اور کس جگہ مرے گا۔

اس رات اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں پر اونگھ طاری کردی جس سے ان کی تھکاوٹ جاتی رہی اور اگلی صبح بارش بھی نازل فرمائی جس سے مسلمانوں کی طرف ریت جم گئی اور پانی کی کمی دور ہو گئی۔

📗 [الزرقانی علی المواہب،2/271]

آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے تمام رات اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے حضور عجز و نیاز میں گزاری-

📗 [دلائل النبوۃ للبیہقی،3/49]

اور صبح مسلمانوں کو نمازِ فجر کے لئے بیدار فرمایا،نماز کے بعد ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس سے مسلمان شوق ِ شہادت سے سرشار ہوگئے۔

📗 [سیرت حلبیہ،2/212]

حضور رحمتِ دو عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے پہلے مسلمانوں کے لشکر کی جانب نظر فرمائی پھر کفار کی طرف دیکھا اور دعا کی کہ یا رب اپنا وعدہ سچ فرما جو تو نے مجھ سے کیا ہے اگر مسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو روئے زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔

📗 [مسلم،ص750،حدیث:4588ملخصاً]

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے پہلے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے،اسکے بعد یہ تعداد بڑھ کر تین ہزار اور پھر پانچ ہزار5000 ہوگئی۔

📗 [پارہ 9،سورہ الانفال9]

[پارہ 4،سورہ اٰل عمران،124،125]

پیارےآقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ و اٰلہٖ وسَلَّم نے کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کفار کی طرف پھینکی جو کفار کی آنکھوں میں پڑی۔

📗 [درمنثور،4/40،پارہ9،الانفال،تحت الآیہ17]

جانثار مسلمان اس دلیری سے لڑے کہ لشکرِ کفار کو عبرتناک شکست ہوئی،70 کفار واصلِ جہنم اور اسی قدر (یعنی70) گرفتار ہوئے-

📗 [مسلم ،ص750،حدیث4588ملخصاً]

جبکہ 14مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

📗 [عمدۃ القاری،ج10،ص122]

★ *شہدائے غزوۂ بدر*★

غزوۂ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمانے والے صحابۂ کرام کے اسمائے مبارک یہ ہیں-

🌹(1) حضرت عبید ہ بن حارِث

🌹(2) حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص

🌹(3) حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمرو

🌹(4) حضرت عاقل بن ابی بکیر

🌹(5) حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب

🌹(6) حضرت صَفْوان بن بیضاء *(یہ 6مہاجرین ہیں)*

🌹(7) حضرت سعد بن خَیْثَمَہ

🌹(8) حضرت مبشر بن عبدالمُنْذِر

🌹(9) حضرت حارِثہ بن سُراقہ

🌹(10) حضرت عوف بن عفراء

🌹(11) حضرت معوذ بن عفراء

🌹(12) حضرت عمیر بن حُمام

🌹(13) حضرت رَافِع بن مُعلّٰی

🌹(14) حضرت یزید بن حارث بن فسحم

*(یہ8 انصار ہیں)* رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔

📗 [سیرت ابنِ ہشام،ص295]

غزوۂ بدر میں مسلمان بظاہر بےسروسامان اور تعداد میں کم تھے مگر ایمان واخلاص کی دولت سے مالامال تھے انکے دل پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے عشق و محبت اور جذبہ ٔاطاعت سے لبریز تھے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد اور پیارےآقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی دعائیں انکے شاملِ حال تھیں۔یہی وہ اسباب تھے جنہوں نے اس معرکے کو یاد گار اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہ بنادیا-

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی محبت اوراطاعت کا جذبہ عطا فرمائے۔

اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم