غزوہ احد اور صحابہ کرام پر رافضی خیر طلب کے اعتراضات (مولانا علی معاویہ)

جنگ احد اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

السلام علیکم دوستو۔

جنگ بدر والی پوسٹ کے بعد اب آتے ہین جنگ احد کی طرف۔

عمران خان صاحب کی الفاظ کے دفاع میں خیر طلب صاحب نے اپنے اندر کے بغض کو ظاہر کرکے جنگ بدر والی پوسٹ میں ادھورا واقعہ نقل کرکے اپنے مذھب کے مطابق ثواب کمایا ، یہی حرکت انہوں نے یہاں بھی کی ہے اور کتمان کا ثواب کمانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ انہوں نے اللہ کی نازل کردہ آیات کو چھپا کر قرانی حکم کے مطابق لعنت کمائی ھے

سورہ بقرہ آیت 159 پر اللہ فرماتے ہیں کہ

انَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ

یعنی جو اللہ نے لوگوں کی ھدایت کے لئے دلائل نازل کی ہیں، ان کو چھپانے والے پر اللہ کی لعنت اور لعنت کرنے والوں کی لعنت۔۔

تو خیر طلب صاحب آدھی بات بتا کرکے اور آدھی بات چھپا کر اس حکم کے مستحق بنے۔

اب آتے ہیں ان کی دوسری پوسٹ کی طرف۔

دوسری پوسٹ مین جنگ احد کا ذکر کیا ہے انہوں نے اور کتب سیرت، کتب حدیث وغیرہ کے حوالے دئے جن کا خلاصہ یہ ھے کہ

تیر اندازوں نے مال غنیمت کی خاطر اپنی جگہ چھوڑ دی اور دنیا میں لگ گئےجس کی وجہ سے فتح شکست میں تبدیل ہوگئی اور مسلماں شہید ہوئے، یہاں تک کہ رسول اللہﷺ بھی زخمی ہوئے۔۔

الجواب۔

۱، یہاں بھی انہوں نے ادھوری بات نقل کرکے صحابہ کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے، اگر یہ پوری بات کرتے تو ان کا کوئی اعتراض ہی نہیں بنتا کسی صحابی پر۔

اس کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا کہ صحابہ کرامؓ سے یہ غلطی ہوئی، لیکن اللہ نے ان کی اس غلطی پر ان کی کوئی پکڑ کی؟؟ ان کو سزا دی؟؟

یا ان کے معافی کا اعلان کلام پاک میں بھیج دیا؟؟

سورہ آل عمران آیت 152 میں ہے کہ

وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ۔

اور اللہ نے تم کو معاف کردیا بیشک اللہ مومنوں پر فضل کرنے والا ہے۔

آگے اللہ آیت 159 میں فرماتے ہیں کہ

فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ۔

( اے نبیﷺ) آپ ان کو معاف کردیں اور ان کے لئے استغفار کریں اور ان سے معاملات میں مشورہ لیں۔۔۔

دیکھیں اللہ نے خود بھی ان کو معاف کردیا اور نبی کریم ﷺ کو بھی حکم دیا کہ ان کو معاف کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور ان سےمشورہ بھی لیا کریں۔

لیکن ان کو ابھی تک غصہ ھے اور اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں ہیں یہ رافضی۔۔

۲، خیر طلب صاحب نے جو اسکین دیے ہیں خود انہی میں واضح موجود ہے کہ اللہ نےان کو معاف کردیا ہے۔

تفسیر ثنائی، تبیان القران کا اسکین دیکھ سکتے ہیں آپ۔

۳، تیسری بات یہ کہ صحابہ کا اصل مقصد اور چاھت مال نہیں بلکہ فتح تھا، مال غنیمت تو ثانوی چیز تھی نہ کہ اصل مقصد۔

جیسا کہ تفسیر ابن کثیر جلد 2 صفحہ 133 پر ہے کہ

مَا أَراكُمْ مَا تُحِبُّونَ وَهُوَ الظَّفَرُ

یعنی تم نے جو دیکھا وہ فتح تھی۔

اس کے علاوہ تفسير القرطبي جلد 4 صفحہ 236 پر ھے کہ

(مَا أَراكُمْ مَا تُحِبُّونَ) يَعْنِي مِنَ الْغَلَبَةِ الَّتِي كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُد

جو تم نے دیکھا یعنی غلبہ جو مسلمانوں کو احد کے دن حاصل ہوا تھا۔

تفسير النسفي = مدارك التنزيل وحقائق التأويل جلد 1 صفحہ 300

{مَآ أَرَاكُمْ مَّا تُحِبُّونَ} من الظفر وقهر الكفار

جو تم نے دیکھا فتح اور کفار کی شکست۔

اس کے علاوہ آپ ہی کے پیش کردہ تفسیر انوارالبیان کے اسکین میں بھی یہی بات موجود ہے۔

اور آپ کے پیش کردہ تفسیر ثنائی میں بھی واضح موجود ہے کہ

تمھارا یہ قصور عناد اور سرکشی سے نہیں تھا بلکہ ایک غلط فھمی کی وجہ سے تھا۔

اتنی واضح دلائل کی موجودگی مین بھی ان صحابہؓ پر تنقید کرنا بغض کے سواء کچھ نہیں۔

اب ذرا شیعوں کے گھر کی خبر لیتے ہیں۔

شیعہ صحابہ کرامؓ پر تو دنیا اور مال کے طالب ہونے کا اعتراض کرتے ہیں لیکن اپنی گھر کی خبر نہیں لیتے کہ انہوں نے سیدہ فاطمہ ؓ جیسی بتول اور تارک دنیا کی شخصیت کو کیسا بنا کر پیش کیا ہے، ان کو نعوذ باللہ مال اور دنیا کا لالچی بنا کر پیش کیا ہے کہ انہوں نے دنیا و مال کی وجہ سے نہ شریعت کا خیال کیا اور نہ اپنے شوہر سیدنا علیؓ کی عزت و احترام کا خیال رکھا۔

شیعہ کتاب الاحتجاج الطبرسی جلد 1 صفحہ 175 واقعہ لکھا ھے کہ وہ کیسے غیر محرم مردوں کے درمیان گئیں (معاذ اللہ) اوران کے سامنے لمبا خطبہ دیا (اسکین دیا گیا ہے)۔

کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے؟؟

اس کے علاوہ سیدنا علیؓ کے لئے جو الفاظ کھے وہ بھی دیکھ لیں۔

حق الیقین جلد 1 صفحہ 229 پر ھے کہ

آپ اس جنین (بچے) کی مانند جو رحم میں ہوتا ہے پردہ نشین ھوگئے اور اور خوفزدہ لوگوں کی طرح گھر میں بھاگ آئے ۔

دیکھ لیں دوستو یہ ہے شیعوں کےنزدیک سیدہ فاطمہؓ جیسی بتول (تارک دنیا) کا کردار کہ مال و دنیا کی وجہ سے نہ غیر محرم کے سامنے پردے کا خیال رہا اور نہ سیدنا علیؓ جیسے شوہر کا ادب و احترام۔

 اللہ ان کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔