علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا تفصیلی جواب

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا جواب

انور شاه کشمیری رحمہ الله نے اپنی کتاب ( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں تحریف قرآن کا عقیده اختیار کیا ہے ۰ نعوذ بالله

……………..

الجواب =

یہ باطل وکاذب وسوسہ رافضی شیعوں نے مشہور کیا ہے ، اور عوام کو گمراه کرنے کے لیئے بلا خوف و خطر اس وسوسہ کو استعمال کرتے ہیں ، حقیقت اس وسوسہ کی یہ ہے کہ حضرت علامہ انـورشاه كشميری رحمہ الله ( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں )میں تحریف سے متعلق کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

خوب جان لو کہ تحریف کے بارے میں علماء کے تین مذاہب ہیں ،

….

1 =

ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ کتب سماویہ (آسمانی کتابوں) میں لفظ اورمعنی دونوں کے اعتبار سے تحریف واقع ہوئ ہے ، اور علامہ ابن حزم کی بهی یہی رائے ہے ۰

2 =

ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ تحریف کم واقع ہوئ ہے ، اورحافظ ابن تیمیہ اسی رائے کی طرف گئے ہیں ۰

3 =

اور ایک جماعت نے تحریف لفظی کا بالکل انکارکیا ہے ، پس ان کے نزدیک تحریف سارا کا سارا معنوی ہے ۰

یہ تین مذاہب بیان کرنے کے بعد حضرت علامہ انور شاه کشمیری رحمہ الله اس تیسرے مذہب کے قائلین پر رد کرتے ہیں یعنی جو یہ کہتے ہیں کہ تحریف لفظی نہیں ہے سارا کا سارا معنوی ہے ،

لہذا حضرت علامہ انـورشاه كشميری رحمہ الله بطریق الزام فرماتے ہیں کہ اگر صرف تحریف معنوی ہو لفظی نہ ہو تو اس سے تو لازم آئے گا کہ قرآن بهی محَرَف ہو کیونکہ کتنے لوگوں نےقرآن میں بهی معنوی تحریف کی ہے ،

جیسے لامذہب روافض و شیعہ و قادیانیہ و منکرین حدیث و اہل بدعت وفرق ضالہ نے قرآن میں تحریف معنوی کی ہے، تحریف معنوی کی ایک مشہور مثال یہ ہے ،

مثلا قادیانی امت یہ عقیده رکهتی ہے کہ لفظ (خـَاتـَمُ النَبيين ) کا معنی ہے ( أفضلُ النبيين وخيرُ النبيين ) قادیانی یہ عقیده رکهتے ہیں کہ خاتم کا معنی آخری نہیں ہے ، لہذا یہ قرآن میں تحریف معنوی کی ایک مشہورمثال ہے ۰)

لہذا حضرت کشمیری ؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک تحقیقی بات یہی ہے کہ کتب سماویہ (آسمانی کتابوں ، انجیل ، تورات وغیره) میں تحریف صرف معنوی نہیں ہے بلکہ لفظی تحریف بهی ہوئ ہے ۰

یہ ہے ساری حقیقت و وضاحت حضرت علامہ أنـورشاه كشميری رحمہ الله کے قول کی جیسا کہ مسائل بیان کرتے وقت تمام علماء امت کا طریقہ ہوتا ہے ، کہ پہلے سب اقوال ذکر کرتے ہیں پهر ان میں جو راجح اور تحقیقی قول ہوتا ہے تو اس کو ذکر کرتے ہیں ، تو حضرت علامہ كشميری رحمہ الله سابقہ کتب سماویہ میں تحریف کے بارے کلام کرتے ہیں ، اور اس بارے میں تین مذاہب نقل کرنے کے بعد راجح قول ذکر کرتے ہیں ، لیکن بے وقوف اور جاہل لوگوں نے عوام کو گمراه کرنے کے لیئے اس کو کچھ اور رنگ دے دیا ، اب عوام کو کیا پتہ بلکہ خود یہ وسوسہ پهیلانے والوں کو اس کا کچھ پتہ نہیں کہ (فیضُ الباری شرح بخاری) کیا ہے اورکیسی کتاب ہے ، بس وسوسہ کسی سے سن لیا اوراس کو پلے باندھ لیا ۰

اور یہ مشہورکر دیا کہ انورشاه کشمیری دیوبندی رحمہ الله نے اپنی کتاب ( فیضُ الباری ) میں تحریف قرآن کا عقيده اختيار كيا ہے ،نعوذ بالله عداوت و جہالت و تعصب بڑی بری بلا ہے ، کہ آدمی کو اپنے مخالف کے ضد میں کتنے بڑے بڑے کبائر میں ڈال دیتی ہے ، الله کی پناه الله تعالی اس اندهی عدوات و تعصب سے ہمیں محفوظ رکهے ۰

حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کی عربی عبارت درج ذیل ہے ،

واعلم أنَّ في التحريف ثلاثةُ مذاهبَ: ذهب جماعةٌ إلى أن التحريفَ في الكتب السماوية قد وقع بكُلِّ نحو في اللفظ والمعنى جميعًا، وهو الذي مال إليه ابنُ حَزْم؛ وذهب جماعةٌ إلى أن التحريف قليلٌ، ولعلَّ الحافِظَ ابنَ تيميةَ جنح إليه؛ وذهب جماعةٌ إلى إنكارِ التحريف اللفظي رأسًا، فالتحريفُ عندهم كلُّه معنوي.

قلت: يَلْزَمُ على هذا المذهب أن يكونَ القرآنُ أيضًا مُحرَّفًا، فإِنَّ التحريفَ المعنويِّ غيرُ قليل فيه أيضًا، والذي تحقَق عندي أن التحريفَ فيه لفظيُّ أيضًا، أما إنه عن عمد منهم، لمغلطة. فالله تعالى أعلم به ۰

حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کا قول ( والذي تحقق عندي ) یعنی میرے نزدیک تحقیقی قول یہ ہے ، اب تحقیقی قول کس مسئلہ میں ذکرکر رہے ہیں ؟ وہی سابقہ کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں ) میں تحریف کے متعلق تین مذاہب ذکر کرنے کے بعد اپنا تحقیقی قول پیش کرتے ہیں ۰

حضرت علامہ انور شاہ كشميری رحمہ الله کا قول ( إما أنه عن عمد منهم ) یہ( هُم ) ضمیر راجع ہے اہل كتاب کی طرف اور یہ دراصل ابن عباس رضی الله عنہ کا ایک اثر ہے جس کو حضرت علامہ انور شاہ كشميری رحمہ الله نے مختصرا ذکر کیا ہے ۰

حاصل یہ کہ حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کی رائے یہ ہے کہ کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں ) میں تحریف لفظی و معنوی دونوں طرح ہوئی ہے ، اور یہی بات حضرت نے اپنے اس مذکوره بالا کلام میں بیان کی ہے ، اور حضرت علامہ كشميری رحمہ الله نے اپنی اس رائے و قول کو (فيض الباري) میں ایک دوسرے مقام پر اس طرح پیش کیا ہے ،

قال الإمام العلامة الحافظ الحجة الثقة الثبت المحقق الفقيه المفسر المحدث الشيخ السيد أنـورشاه الكشميري رحمه الله في كتابه العظيم المسمى بــ ” فيض الباري “

قوله: ( قال ابنُ عَبَّاسٍ:… {يُحَرّفُونَ} يُزِيلُونَ، ولَيْسَ أَحَدٌ يُزِيلُ لفْظَ كِتَابٍ مِنْ كُتُبِ اللَّهِ، ولكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ، يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ) واعلم أن أقوالَ العلماء في وقوع التحريف، ودلائلَهمن كلَّها قد قضى عنه الوَطَرَ المُحَشِّي، فراجعه. والذي ينبغي فيه النظرُ ههنا أنه كيف سَاغَ لابن عبَّاس إنكارُ التحريف اللفظيِّ، مع أن شاهد الوجود يُخَالِفُهُ. كيف وقد نعى عليهم القرآن أنَّهم كانوا يَكْتُبُونَ بأيديهم، ثم يقولون {هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ} (آل عمران: ۷۸)، وهل هذا إلاَّ تحريفٌ لفظيٌّ، ولعلَّ مرادَه أنَّهم ما كانوا يُحَرِّفونها قصداً، ولكن سَلَفهم كانوا يَكْتُبُون مرادها كما فَهِمُوه. ثم كان خَلَفُهم يُدْخِلُنَه في نفس التوراة، فكان التفسيرُ يَخْتَلِطُ بالتوراة من هذا الطريق۰

اسی طرح حضرت علامہ كشميری رحمہ الله فرماتے ہیں ،

باب من قال لم يترك النبي صلى الله عليه وسلم الا ما بين الدفتين

رد على الروافض حيث زعم الملاعنة ان عثمان نقص من القرآن ،

فيض الباري شرح صحيح البخاري ج 3 ص 464 یعنی یہ باب جو امام بخاری رحمہ الله نے قائم کیا ہے ، یہ روافض کے رد میں ہے کیونکہ یہ روافض ملعون یہ عقیده رکهتے ہیں کہ حضرت عثمان رض نے قرآن میں کمی (تحریف) کی ہے ۰

اسی طرح حضرت علامہ كشميری رحمہ الله فرماتے ہیں ،

کہ مختار بات یہ ہے کہ روافض کافر ہیں ، کیونکہ جمہور صحابہ کی تکفیر کرنے والا کافر ہے ۰ الخ اور روافض کے کفرکی ایک وجہ تحریف قرآن کا عقیده بهی ہے اور روافض کی مستند کتب اس پر شاہد عدل ہیں ۰

وقال الإمام الكشميري رحمه الله

والمختار تكفيرهم فإن مكفرجمهور الصحابة كافر ، الخ

وللروافض فى القرآن العظيم أقوال

قيل زاد فيه عثمان ونقص ، وقيل : نقص ولم يزد ، وقيل : انه محفوظ ، ولايقولون بصحة أحاديث كتب أهل السنة ، ولهم صحاح أربعة ، وهي سقام ومفتريات ٠

( ألعرف الشذي شرح سنن الترمذي ج 1 ص 82 )

…………………………………………………..

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مولانا یوسف لدھیانوی شہید ؒ کا جواب

سوال… ایک شخص جو خود کو عالم دین کہلاتا ہو، اور خود کو اہل سنت و جماعت ثابت کرتا ہو، وہ قرآن شریف میں تحریفِ لفظی کا قائل ہو، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ جبکہ یہی سنا گیا ہے کہ قرآن شریف میں کسی طرح کوئی تحریف ممکن نہیں کیونکہ اس کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے، امید ہے کہ تحقیقی اور قطعی جواب سے نوازیں گے۔

جواب… اہل سنت میں کوئی شخص قرآن کریم میں تحریفِ لفظی کا قائل نہیں، بلکہ اہل سنت کے نزدیک ایسا شخص اسلام سے خارج ہے۔ اس مسئلہ کو میری کتاب “شیعہ سنی اختلافات اور صراطِ مستقیم” میں دیکھ لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔

……………………………………………………..

سوال… آپ کی خدمت میں ایک سوال قرآن مجید میں تحریفِ لفظی کے قائل کے بارے میں شرعی حکم کے جاننے کے لئے پیش کیا تھا۔ آپ نے جواب کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ: “میرا خیال ہے کہ آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی” اس جملے کے بعد میں نے ضروری سمجھا کہ آپ سے مزید اطمینان کروں تاکہ تحریفِ لفظی کے قائل کے بارے میں مجھے یقین رہے کہ شریعت کا حکم کیا ہے؟ اس لئے آپ کی خدمت میں اس عالم دین کے اصل الفاظ پیش کرتا ہوں، وہ فرماتے ہیں:

“میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ قرآن میں محققانہ طور پر (معنوی ہی نہیں) تحریفِ لفظی بھی ہے، یا تو لوگوں نے جان بوجھ کر کی ہے یا کسی مغالطے کی وجہ سے کی ہے۔”

ان الفاظ میں وہ یہی فرما رہے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریفِ لفظی ہے، جبکہ ہم نے یہی سنا ہے کہ قرآن کریم اپنے نزول سے آج تک ہر طرح کی تحریف سے محفوظ ہے۔ قرآن میں سامنے سے یا پیچھے سے باطل راہ نہیں پاسکتا اور قرآن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے، اور یہی سنا ہے کہ قرآن میں کسی طرح تحریف کا قائل کوئی مسلمان نہیں، اگر کوئی مسلمان کہلانے والا ایسا کہے تو وہ مرتد ہوجاتا ہے۔

اب تک شیعہ فرقہ کے بارے میں سنا تھا کہ وہ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں، لیکن ایک اہل سنت و جماعت کہلانے والے عالم نے تحقیقی طور پر ایسا کیا ہے، اس لئے مجھے بہت تشویش ہوئی کہ قرآن کی ہر طرح حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے، اس کے باوجود قرآن میں تحریف مانی جارہی ہے، اس لئے میں نے حقیقت جاننے کے لئے آپ سے رہنمائی چاہی ہے۔ یہ بھی بتائیے کہ ماضی میں بھی کبھی کوئی سنی عالم قرآن میں تحریفِ معنوی یا تحریفِ لفظی کا قائل رہا ہے؟ امید ہے کہ آپ قطعی شرعی احکام سے آگاہ فرمائیں گے، شکریہ!

جواب … میں پہلے خط میں عرض کرچکا ہوں کہ اہل سنت میں کوئی شخص تحریف فی القرآن کا قائل نہیں، میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ: “آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی” میرا یہ خیال صحیح نکلا، چنانچہ آپ نے جو عبارت ان صاحب سے منسوب کی ہے وہ ان کی عبارت نہیں، بلکہ غلط فہمی سے آپ نے منسوب کردی ہے۔

اس کی شرح یہ ہے کہ فیض الباری (ج:۳ ص:۳۹۵) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کی (جو صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۶۹ میں منقول ہے) کہ: “اللہ تعالیٰ نے تمہیں (مسلمانوں کو) بتادیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ تعالیٰ کے نوشتہ کو بدل ڈالا، اور کتاب میں اپنے ہاتھوں سے تبدیلی پیدا کردی ہے۔” اس کی شرح میں حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:

“جاننا چاہئے کہ تحریف (فی الکتب السابقہ) میں تین مذہب ہیں۔

۱:ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ کتبِ سماویہ میں تحریف ہر طرح کی ہوئی ہے، لفظی بھی اور معنوی بھی۔ ابن حزمؒ اسی کی طرف مائل ہیں۔

۲:ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ تحریف قلیل ہے، شاید حافظ ابن تیمیہؒ کا رجحان اسی طرف ہے۔

۳:اور ایک جماعت تحریفِ لفظی کی سرے سے منکر ہے، پس تحریف ان کے نزدیک سب کی سب معنوی ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اس (موٴخر الذکر) مذہب پر لازم آئے گا کہ (نعوذ باللہ) قرآن بھی محرف ہو، کیونکہ تحریفِ معنوی اس میں بھی کچھ کم نہیں کی گئی (واللازم باطل فالملزوم مثلہ)۔ اور جو چیز میرے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں (یعنی کتبِ سماویہ میں) تحریفِ لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے جان بوجھ کر کی یا غلطی کی وجہ سے؟ پس اللہ تعالیٰ ہی اس کو بہتر جانتے ہیں۔”

یہ حضرت شاہ صاحبؒ کی پوری عبارت کا ترجمہ ہے، اب دو باتوں پر غور فرمائیے:

اوّل:…یہ کہ حضرت ابن عباسؒ کے ارشاد میں اہل کتاب کا اپنی کتاب میں تحریف کردینا مذکور تھا، حضرت شاہ صاحبؒ نے اس سلسلے میں تین مذہب نقل کئے۔ ایک یہ کہ اہل کتاب کی کتاب میں تحریف بکثرت ہے۔ دوم یہ کہ تحریف ہے تو سہی مگر کم ہے۔ سوم یہ کہ تحریفِ لفظی سرے سے نہیں صرف تحریفِ معنوی ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ ان تین اقوال کو نقل کرکے اپنا محققانہ فیصلہ صادر فرماتے ہیں کہ: اہل کتاب کی کتاب میں تحریفِ لفظی موجود ہے، اب رہا یہ کہ یہ تحریف انہوں نے جان بوجھ کر کی ہے یا غلطی کی وجہ سے صادر ہوئی ہے؟ اس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ الغرض گفتگو تمام تر اس میں ہے کہ اہل کتاب کی کتاب میں تحریفِ لفظی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو قلیل ہے یا کثیر؟ اسی کے بارے میں تین مذاہب ذکر فرمائے ہیں اور اسی تحریف فی الکتاب کے بارے میں اپنا محققانہ فیصلہ صادر فرمایا ہے، قرآن کریم کی تحریفِ لفظی کا دور و نزدیک کہیں تذکرہ ہی نہیں کہ اس کے بارے میں حضرت شاہ صاحبؒ یہ فرمائیں کہ: “جو چیز کہ میرے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ کہ اس میں تحریفِ لفظی موجود ہے۔”

دوم:…شاہ صاحبؒ نے تیسرا قول یہ نقل کیا تھا کہ کتبِ سابقہ میں صرف تحریفِ معنوی ہوئی ہے، تحریفِ لفظی نہیں ہوئی، حضرت شاہ صاحبؒ اس کو غلط قرار دیتے ہوئے ان قائلینِ تحریف کو الزام دیتے ہیں کہ اگر صرف تحریفِ معنوی کی وجہ سے ان کتب کو محرف قرار دیا جائے تو اس سے لازم آئے گا کہ قرآن کریم کو بھی محرف کہا جائے -نعوذ باللہ- کیونکہ اس میں بھی لوگوں نے تحریفِ معنوی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس سے دو باتیں صاف طور پر واضح ہوتی ہیں، ایک یہ کہ قرآن کریم کی تحریفِ معنوی کے ساتھ اس مذہب والوں کو الزام دینا، اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تحریفِ لفظی کا کوئی بھی قائل نہیں۔ دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ اگر حضرت شاہ صاحبؒ -نعوذ بالله- قرآن کریم کی تحریفِ لفظی کے قائل ہوتے تو صرف تیسرے مذہب والوں کو الزام نہ دیتے، بلکہ پہلے اور دوسرے قول والوں پر بھی یہی الزام عائد کرتے۔

یہ میں نے صرف اس عبارت کی تشریح کی ہے جس سے آپ کو حضرت شاہ صاحبؒ کی بات سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے، ورنہ قرآن کریم کا تحریفِ لفظی سے پاک ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی بھی منکر نہیں ہوسکتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی کتاب مشکلات القرآن کا مقدمہ ملاحظہ فرمالیا جائے۔

حسنِ اتفاق کہ اسی طرح کا ایک سوال امام اہل سنت حضرت مولانا ابو زاہد محمد سرفراز خان صفدر زید مجدہم سے بھی کیا گیا، انہوں نے فیض الباری کی اس عبارت کی وضاحت فرمائی ہے جس سے شیعہ تحریفِ قرآن پر استدلال کرتے ہوئے اسے مناظروں میں پیش کرتے ہیں۔ شیعہ یہ تأثر دینا چاہتے ہیں کہ -نعوذ بالله- فیض الباری میں ہے کہ امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری اور مولانا بدرعالم میرٹھی قدس اللہ اسرارہما بھی تحریف کے قائل تھے۔

حضرت مولانا محمد سرفراز خان دامت برکاتہم العالیہ نے اس پروپیگنڈا کا جواب اور غلط فہمی کی وضاحت اپنے ایک مسترشد جناب مولانا عبدالحفیظ صاحب کے نام ایک مکتوب میں فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اسے عام کیا جائے۔ جس پر موصوف نے اس کی فوٹواسٹیٹ بھیج کر ہم پر احسان فرمایا ہے۔ چونکہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہؒ کے مکتوبِ سامی میں درج فیض الباری کی عربی عبارتوں کا اردو ترجمہ نہ تھا، اس لئے افادہٴ عام کی غرض سے اس کا اردو ترجمہ کردیا گیا۔

ذیل میں حضرت مولانا ابو زاہد سرفراز خاں صفدر کی وضاحت انہیں کے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔

امامِ اہلِ سنت کا مکتوب”

باسمہ سبحانہ وتعالیٰ

“عزیز القدر جناب حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب دام مجدہم۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، مزاجِ گرامی!

عزیز القدر! فیض الباری ج:۳ ص:۳۹۵ میں ہے:

“واعلم ان فی التحریف ثلاثة مذاھب۔ ذھب جماعة الیٰ ان التحریف فی الکتب السماویة قد وقع بکل نحو فی اللفظ والمعنی جمیعا، وھو الذی مال الیہ ابن حزم۔ وذھب جماعة الیٰ ان التحریف قلیل، ولعل الحافظ ابن تیمیة جنح الیہ۔ وذھب جماعة الیٰ انکار التحریف اللفظی راسًا فالتحریف عندھم کلہ معنوی، قلت یلزم علیٰ ھذا المذھب ان یکون القرآن ایضاً، والذی تحقق عندی ان التحریف فیہ لفظی ایضا اما انہ عن عمد منھم او لمغلطة، فالله تعالیٰ اعلم بہ!”

ترجمہ:…”معلوم ہونا چاہئے کہ تحریف کے بارے میں تین مذہب ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ کتبِ سماویہ میں تحریفِ لفظی اور معنوی دونوں ہوئی ہیں، ابن حزم اسی کے قائل ہیں۔ دوسری جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ کتبِ سماویہ میں تھوڑی سی تحریف ہوئی ہے، غالباً ابن تیمیہؒ کا جھکاوٴ اسی طرف ہے۔ تیسری جمات کی رائے یہ ہے کہ تحریفِ لفظی تو نہیں ہوئی البتہ تحریفِ معنوی ہوئی ہے۔ اس جماعت کے نظریہ کے مطابق لازم آئے گا کہ قرآن مجید بھی تحریف سے خالی نہیں، کیونکہ اس میں بھی تحریفِ معنوی ہوئی ہے۔ لیکن میرے نزدیک محقق بات یہ ہے کہ اس میں تحریفِ لفظی بھی ہوئی ہے، یا تو انہوں نے عمداً ایسا کیا ہے، یا پھر مغالطہ کی بنا پر ایسا ہوا ہے، والله اعلم!”

عزیز القدر! اس عبارت میں “فیھا” کی جگہ “فیہ” لکھا گیا ہے، اصل عبارت یوں ہے:

“ان التحریف فیھا (ای الکتب السماویة کالتوراة والانجیل وغیرھما) لفظی ایضًا۔”

ترجمہ:…”فیھا کی ضمیر کا مرجع کتبِ سماویہ ہیں، یعنی کتبِ سماویہ تورات، زبور و انجیل وغیرہ میں تحریف ہوئی ہے نہ کہ قرآن میں۔ مگر فیہ کی ضمیر مفرد مذکر کی وجہ سے یہ مغالطہ ہوا کہ شاید قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔”

اس کی دلیل فیض الباری ج:۴ ص:۵۳۷ کی یہ عبارت ہے:

“واعلم ان اقوال العلماء فی وقوع التحریف ودلائلھم کلھا قد قضیٰ عنہ الوطر المحشی فراجعہ۔”

بخاری شریف کے پچیس پاروں کا حاشیہ حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ نے لکھا ہے، فالج کے حملے کے بعد بقیہ پانچ پاروں کا حاشیہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے کیا ہے۔ سوانح قاسمی از مولانا محمد یعقوب صاحبؒ اور اس مقام پر حاشیہ میں محشی یعنی حاشیہ لکھنے والے حضرت نانوتویؒ نے حاجت پوری کردی ہے اور مقام کا حق ادا کردیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: بخاری ج:۲ ص:۱۱۲۷ کا حاشیہ نمبر:۱)۔

فیض الباری ہی میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرتؒ نے لکھا ہے:

“والذی ینبغی فیہ النظر ھٰھنا انہ کیف ساغ لابن عباس انکار التحریف اللفظی، مع ان شاہد الوجود یخالفہ، کیف وقد نعی علیھم القرآن انھم کانوا یکتبون بایدیھم ثم یقولون ھو من عند الله وما ھو من عند الله وھل ھذا الا تحریف لفظی ولعل مرادہ انھم ما کانوا یحرفونھا قصدا ولکن سلفھم کانوا یکتبون مرادھا کما فھموہ ثم کان خلفھم یدخلونہ فی نفس التوراة فکان التفسیر یختلط بالتوراة من ھذا الطریق۔ انتہی۔” (ج:۴ ص:۳۷)

ترجمہ:…”یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تحریفِ لفظی کے نہ ہونے کا قول کس بنا پر کیا ہے؟ حالانکہ شواہد اس کے خلاف ہیں۔ پھر تحریفِ لفظی نہ ہونے کا قول کیونکر ممکن ہے، جبکہ قرآن مجید نے ان کے اس فعل قبیح کو ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ: “یہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے!” اور یہی تو تحریف ہے۔ غالباً تحریفِ لفظی نہ ہونے سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ قصداً ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کے اسلاف اپنی کتابوں میں اپنی سمجھ کے مطابق ایک مفہوم لکھ دیتے، لیکن ان کے بعد آنے والوں نے اس (تشریحی نوٹ) کو تورات کے متن میں شامل کرلیا، جس کی وجہ سے اصل اور شرح میں التباس ہوگیا اور یوں تحریفِ لفظی ہوگئی۔”

اس ساری عبارت سے واضح ہوا کہ تحریفِ لفظی توراة وغیرہ کتابوں میں ہوئی ہے نہ کہ قرآن کریم میں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی تشریح بھی حضرت نے کردی کہ سلف اپنی یاد کے لئے کتابوں میں تفسیری الفاظ لکھتے تھے، خلف نے ان کو بھی متن میں شامل کردیا۔

اس تحریر کو غور سے پڑھیں اور اس کی کاپیاں بناکر اپنی طرف سے علماء میں تقسیم کریں، بڑی دین کی خدمت ہوگی۔ اہل خانہ کو درجہ بدرجہ سلام اور دعائیں عرض کریں اور مقبول دعاوٴں میں نہ بھولیں، یہ خاطی بھی داعی ہے۔ والسلام

علامه انور شاه كشميرى كا حواله فيض البارى سے كه وه تحريف كے قائل جو سرا سر خيانت سے كام ليا گيا جواب ملاحظه هو 

انور شاه کشمیری رحمہ الله نے اپنی کتاب ( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں تحریف قرآن کا عقیده اختیار کیا ہے ۰ نعوذ بالله

……………..

الجواب =

 حقیقت اس وسوسہ کی یہ ہے کہ حضرت علامہ انـورشاه كشميری رحمہ الله ( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں )میں تحریف سے متعلق کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

خوب جان لو کہ تحریف کے بارے میں علماء کے تین مذاہب ہیں ،

(1)ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ کتب سماویہ (آسمانی کتابوں) میں لفظ اورمعنی دونوں کے اعتبار سے تحریف واقع ہوئ ہے ، اور علامہ ابن حزم کی بهی یہی رائے ہے ۰

(2)ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ تحریف کم واقع ہوئ ہے ، اورحافظ ابن تیمیہ اسی رائے کی طرف گئے ہیں ۰

(3)اور ایک جماعت نے تحریف لفظی کا بالکل انکارکیا ہے ، پس ان کے نزدیک تحریف سارا کا سارا معنوی ہے ۰

یہ تین مذاہب بیان کرنے کے بعد حضرت علامہ انور شاه کشمیری رحمہ الله اس تیسرے مذہب کے قائلین پر رد کرتے ہیں یعنی جو یہ کہتے ہیں کہ تحریف لفظی نہیں ہے سارا کا سارا معنوی ہے۔

لہذا حضرت علامہ انـورشاه كشميری رحمہ الله بطریق الزام فرماتے ہیں کہ اگر صرف تحریف معنوی ہو لفظی نہ ہو تو اس سے تو لازم آئے گا کہ قرآن بهی محَرَف ہو کیونکہ کتنے لوگوں نےقرآن میں بهی معنوی تحریف کی ہے ،

جیسے لامذہب روافض و شیعہ و قادیانیہ و منکرین حدیث و اہل بدعت وفرق وغيره نے

لہذا حضرت کشمیری ؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک تحقیقی بات یہی ہے کہ کتب سماویہ (آسمانی کتابوں ، انجیل ، تورات وغیره) میں تحریف صرف معنوی نہیں ہے بلکہ لفظی تحریف بهی ہوئ ہے ۰

یہ ہے ساری حقیقت و وضاحت حضرت علامہ أنـورشاه كشميری رحمہ الله کے قول کی جیسا کہ مسائل بیان کرتے وقت تمام علماء امت کا طریقہ ہوتا ہے ، کہ پہلے سب اقوال ذکر کرتے ہیں پهر ان میں جو راجح اور تحقیقی قول ہوتا ہے تو اس کو ذکر کرتے ہیں ، تو حضرت علامہ كشميری رحمہ الله سابقہ کتب سماویہ میں تحریف کے بارے کلام کرتے ہیں ، اور اس بارے میں تین مذاہب نقل کرنے کے بعد راجح قول ذکر کرتے ہیں ، لیکن بے وقوف اور جاہل لوگوں نے عوام کو گمراه کرنے کے لیئے اس کو کچھ اور رنگ دے دیا ، اب عوام کو کیا پتہ بلکہ خود یہ وسوسہ پهیلانے والوں کو اس کا کچھ پتہ نہیں کہ (فیضُ الباری شرح بخاری) کیا ہے اورکیسی کتاب ہے ، بس وسوسہ کسی سے سن لیا اوراس کو پلے باندھ لیا ۰

اور یہ مشہورکر دیا کہ انورشاه کشمیری رحمہ الله نے اپنی کتاب ( فیضُ الباری ) میں تحریف قرآن کا عقيده اختيار كيا ہے ،نعوذ بالله عداوت و جہالت و تعصب بڑی بری بلا ہے ، کہ آدمی کو اپنے مخالف کے ضد میں کتنے بڑے بڑے کبائر میں ڈال دیتی ہے ، الله کی پناه الله تعالی اس اندهی عدوات و تعصب سے ہمیں محفوظ رکهے۔

حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کی عربی عبارت درج ذیل ہے ،

واعلم أنَّ في التحريف ثلاثةُ مذاهبَ: ذهب جماعةٌ إلى أن التحريفَ في الكتب السماوية قد وقع بكُلِّ نحو في اللفظ والمعنى جميعًا، وهو الذي مال إليه ابنُ حَزْم؛ وذهب جماعةٌ إلى أن التحريف قليلٌ، ولعلَّ الحافِظَ ابنَ تيميةَ جنح إليه؛ وذهب جماعةٌ إلى إنكارِ التحريف اللفظي رأسًا، فالتحريفُ عندهم كلُّه معنوي.

قلت: يَلْزَمُ على هذا المذهب أن يكونَ القرآنُ أيضًا مُحرَّفًا، فإِنَّ التحريفَ المعنويِّ غيرُ قليل فيه أيضًا، والذي تحقَق عندي أن التحريفَ فيه لفظيُّ أيضًا، أما إنه عن عمد منهم، لمغلطة. فالله تعالى أعلم به ۰

حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کا قول ( والذي تحقق عندي ) یعنی میرے نزدیک تحقیقی قول یہ ہے ، اب تحقیقی قول کس مسئلہ میں ذکرکر رہے ہیں ؟ وہی سابقہ کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں ) میں تحریف کے متعلق تین مذاہب ذکر کرنے کے بعد اپنا تحقیقی قول پیش کرتے ہیں ۰

حضرت علامہ انور شاہ كشميری رحمہ الله کا قول ( إما أنه عن عمد منهم ) یہ( هُم ) ضمیر راجع ہے اہل كتاب کی طرف اور یہ دراصل ابن عباس رضی الله عنہ کا ایک اثر ہے جس کو حضرت علامہ انور شاہ كشميری رحمہ الله نے مختصرا ذکر کیا ہے ۰

حاصل یہ کہ حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کی رائے یہ ہے کہ کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں ) میں تحریف لفظی و معنوی دونوں طرح ہوئی ہے ، اور یہی بات حضرت نے اپنے اس مذکوره بالا کلام میں بیان کی ہے ، 

 اور حضرت علامہ كشميری رحمہ الله نے اپنی اس رائے و قول کو (فيض الباري) میں ایک دوسرے مقام پر اس طرح پیش کیا ہے ،

قال الإمام العلامة الحافظ الحجة الثقة الثبت المحقق الفقيه المفسر المحدث الشيخ السيد أنـورشاه الكشميري رحمه الله في كتابه العظيم المسمى بــ ” فيض الباري “

قوله: ( قال ابنُ عَبَّاسٍ:… {يُحَرّفُونَ} يُزِيلُونَ، ولَيْسَ أَحَدٌ يُزِيلُ لفْظَ كِتَابٍ مِنْ كُتُبِ اللَّهِ، ولكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ، يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ) واعلم أن أقوالَ العلماء في وقوع التحريف، ودلائلَهمن كلَّها قد قضى عنه الوَطَرَ المُحَشِّي، فراجعه. والذي ينبغي فيه النظرُ ههنا أنه كيف سَاغَ لابن عبَّاس إنكارُ التحريف اللفظيِّ، مع أن شاهد الوجود يُخَالِفُهُ. كيف وقد نعى عليهم القرآن أنَّهم كانوا يَكْتُبُونَ بأيديهم، ثم يقولون {هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ} (آل عمران: ۷۸)، وهل هذا إلاَّ تحريفٌ لفظيٌّ، ولعلَّ مرادَه أنَّهم ما كانوا يُحَرِّفونها قصداً، ولكن سَلَفهم كانوا يَكْتُبُون مرادها كما فَهِمُوه. ثم كان خَلَفُهم يُدْخِلُنَه في نفس التوراة، فكان التفسيرُ يَخْتَلِطُ بالتوراة من هذا الطريق۰

اسی طرح حضرت علامہ كشميری رحمہ الله فرماتے ہیں ،

باب من قال لم يترك النبي صلى الله عليه وسلم الا ما بين الدفتين

رد على الروافض حيث زعم الملاعنة ان عثمان نقص من القرآن ،

فيض الباري شرح صحيح البخاري ج 3 ص 464 یعنی یہ باب جو امام بخاری رحمہ الله نے قائم کیا ہے ، یہ روافض کے رد میں ہے کیونکہ یہ روافض ملعون یہ عقیده رکهتے ہیں کہ حضرت عثمان رض نے قرآن میں کمی (تحریف) کی ہے ۰

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا تفصیلی جواب” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں