عقیدہ بداء اور رافضی

عقیدہ بداء اور رافضی

بداء شیعوں کا مشہور عقیدہ ہے تقیہ کی طرح اس عقیدہ کی ایجاد بھی مذہبی تضادات کا جواب دینے کے لئے کی گئی ہے بداء کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اللہ سے بھی ایسا ہونا ممکن ہے کہ وہ ایک فیصلہ کردے اور بعد میں اسے یہ لگے کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں سو دوسرا فیصلہ کرے۔ ظاہر ہے اللہ کی شان میں ایسا عقیدہ صریح گستاخی ہے اس مضمون میں مختصرا اسی عقیدہ پر گفتگو کی گئی ہے ۔
بداء کا معنیٰ و مفہوم :
لغت میں اس کے دو معانی ہیں۔اول:

’’الظہور بعد الخفاء‘‘
یعنی کوئی چیز چھپی ہوئی ہو پھر ظاہر ہو جائے ۔کہا جاتا ہے:’
’ بدا سور المدینہ‘‘
، یعنی شہر کی دیواردکھنے لگی ۔دوم:
’’نشاۃ الرأی الجدید‘‘
، یعنی رائے نئی ہو جائے پہلے کچھ اور تھی اور بعد میں کچھ اور ہو جائے ۔ فراء کہتے ہیں:
’’بدأ لی ‘‘
، مجھے بداء ہوا۔ یعنی:
’’ظہر لی رأی آخر‘‘
، میرے لئے ایک دوسری رائے ظاہر ہوئی، جوہری کہتے ہیں:
’’بدأ لہ فی الأمر بداء، ای نشا فیہ راى‘‘
، یعنی اس بارے میں ایک رائے پیدا ہوئی۔ دیکھیں: (الصحاح: ۶؍۲۲۷۸، لسان العرب:۱۴؍۶۶)۔

یہی معنی شیعی کتب میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جیسے:(مجمع البحرین للطریحی:۱؍۴۵)۔

قرآن میں یہ دونوں معنی وارد ہوئے ہیں، پہلا معنی اس آیت میں ملاحظہ کیجئے:

{ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ }(البقرہ:۲۸۴)۔
’’تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا‘‘۔

دوسرا معنی اس آیت میں ملاحظہ کریں :
{ ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَأَوُا الْآيَاتِ لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍﮩ}(يوسف: ۳۵)۔
’’پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد انہیں یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قیدخانے میں رکھیں‘‘۔

پہلی آیت میں
’’وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ‘‘
آیا ہے یہاں’’تبدو‘‘ معنی ہے ظاہر کرنا۔

دوسری آیت میں
’’ ثُمَّ بَدَا لَهُمْ ‘‘
آیا ہے یعنی پھر ان کے لئے نشانیاں دیکھنے کے بعد یہ رائے ظاہر ہوئی کہ ۔۔۔۔۔۔جس کا ترجمہ مصلحت سے کیا گیا ہے۔

عقیدہ’’بداء‘‘ کا موجد:

’’بداء‘‘ امامیہ شیعہ کا ایک ایسا باطل عقیدہ ہے جس کی جڑ یہودیت سے ملتی ہے، یہ خالص یہودی عقیدہ ہے، ان کی تحریف شدہ تورات میں ہے کہ

’’…فرأى الرب انہ کثر سوء الناس على الأرض, فندم الرب خلقہ الانسان على الأرض…‘‘

’’پھر رب نے دیکھا کہ زمین میں لوگوں کا گناہ بہت بڑھ گیا ہے تورب زمین پر انسانوں کو پیدا کر کے پشیمان ہوا…‘‘

(سفر التکوین، الفصل السادس، الفقرہ:۵، بحوالہ، أصول مذہب الشیعہ الاثنی عشریہ للقفاری:۲؍۹۳۹)۔

سفر الخروج میں ہے کہ

’’اللہ نے موسیٰ سے موسیٰ کی قوم کی ہلاکت کا وعدہ کیا لیکن اس فیصلے پر اسے بڑی ندامت ہوئی اور اس نے رجوع کر لیا‘‘۔

(سفر الخروج، الفقرات:۹۔۱۴)۔

مسلمانوں میں اس کا بیج عبد اللہ بن سبا یہودی نے بویا اور مختار بن عبید ثقفی نے اس کی گند پھیلانے کا بیڑا اٹھایا،( جو خود کو معصوم عن الخطابتاتا اور علمِ غیب کادعویٰ کرتا تھا)اس شمارے میں عبد اللہ بن سبا کا نام اور اس کی حقیقت کا ذکر آپ بارہا پڑھیں گے۔

مختار بن عبید ثقفی شیعوں کے ملحد فرقے کیسانیہ کا بانی تھا جن کا ماننا تھا کہ امام معصوم اور گناہوں سے پاک ہوتا ہے ۔ اس فرقے کے لوگ برخلاف اثنا عشریہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد جناب محمد بن علی الحنفیہ رضی اللہ عنہ کو امام معصوم مانتے تھے اور ان کے متعلق رجعت کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ اس فرقے کے بنیادی عقائد میں بداء کا عقیدہ بھی شامل ہے یعنی اللہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور نئے حالات کے پیش نظر قضائے الہٰی بدلتی رہتی ہے ۔

علامہ شہرستانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ مختار بن عبید ثقفی نے بداء کا عقیدہ اس لئے اختیار کیا تھا کہ وہ خود پر نازل ہونے والی وحی کے زیر اثر یا امام کے پیغام کی وجہ سے اپنے متبعین کے سامنے ہونے والے واقعات کا دعویٰ کرتا ہے اور اگر وہ واقعات اسی طور سے ظہور پذیر ہوجاتے ہیں تو وہ انہیں اپنے دعویٰ کی دلیل قرار دیتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کہتا تھا کہ اللہ نے اپنا ارادہ بدل لیا ۔ (المحلل و النحل) ۔

شیعوں کے نزدیک عقیدہ بداء:

بداء امامی شیعہ کے یہاں ایک مبالغہ آمیز اصولی عقیدہ ہے اور ان کی مستند کتابوں میں اسے سب سے بڑی عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ چنانچہ شیعوں کے شیخ الکل اور ثقۃ الاسلام امام کلینی(ت:۳۲۹ھ) نے اپنی کتاب الکافی میں نہ صرف باقاعدہ اس عقیدہ کو جگہ دی بلکہ بداء کا باب کتاب التوحید میں ذکر کیا اور اپنے ائمہ کی طرف منسوب قریب ۱۶ حدیثیں اس ضمن میں بیان کیا اور کہا:

’’ما عُبد اللہ بشی مثل البداءۃ‘‘

’’کسی بھی چیز سے اللہ کی عبادت اس طرح نہیں کی گئی جس طرح بداء کا عقیدہ مان کر کی گئی‘‘۔

(أصول الکافی، کتاب التوحید، باب البداء:۱؍۱۴۶)۔
’’وما بعث اللہ نبیا قط الا بتحریم الخمر وان یقر للہ البداءۃ‘‘

’’اللہ نے ہر نبی کو شراب کی حرمت اور اپنے لئے بداء کو ثابت کرنے کے لئے مبعوث فرمایا ہے‘‘۔
(أصول الکافی:۱؍۱۴۸)۔

’’وما عظم اللہ عزوجل بمثل البداءۃ‘‘

’’بداء کی طرح کسی بھی چیز سے اللہ کی عظمت بیان نہیں ہوئی‘‘۔

(اصول الکافی: ۱؍۱۴۶، بحار الانوار: ۴؍۱۰۷)۔

اس عقیدے کا خصوصی اہتمام کرنے والوں میں ابن بابویہ (ت:۳۸۱ھ) کا بھی نام آتا ہے اس نے اپنی کتاب ’’الاعتقادات‘‘ میں بداء کا باب قائم کیا ہے۔ اس کے بعد ان کے ایک مشہور شیخ المجلسی (ت:۱۱۱۱ھ) نے تو اور غضب ڈھایا اور باب النسخ والبداء کے تحت ۷۰ بے سرو پا حدیثیں بے محل پیش کر ڈالا۔دیکھئے: (بحار الانوار:۴؍۹۲-۱۲۹)۔

معاصر شیعہ نے عقیدے کے ضمن میں بداء کی خوب تشہیر کی ہے، بلکہ ان کے مشائخ نے اس پر درجنوں کتابیں بھی لکھی ہیں۔

دیکھئے: (أصول مذہب الشیعہ الامامیہ الاثنی عشریہ-عرض ونقد- للشیخ ناصر القفاری: ط۱، ۱۴۱۴ھ)۔

عقیدہ بداء کا سبب:

شیعہ اپنے ائمہ کے بارے میں انتہائی درجے کا غلو کرتے ہیں، ان کا گمان ہے کہ ان کے ائمہ معصوم عن الخطا ہیں، موت وحیات کے علم سے واقف ہیں، رزق، بلاء، بیماری اور مصیبت وغیرہ کا پورا علم رکھتے ہیں، ماضی ومستقبل کے سارے حوادث سےباخبر ہیںتفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: (اصول الکافی، باب ان الائمہ یعلمون علم ما کان وما یکون۱:؍۲۶۰)۔ ظاہر ہے یہ ایک پر فریب دعویٰ ہے، غیب کا علم اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ خاص ہے اس میں کسی ملا مولوی کا بھلا کیا حصہ؟ لیکن صد حیف! اس کے باوجود بھی ان کے ائمہ دھڑلے سے غیب کی خبریں دیتے اور پیشین گوئیاں کرتے تھے، اور جب دعوائے غیب دانی جھوٹے ثابت ہوتے تو ان کی بڑی فضیحت ہوتی تھی لہٰذا، ان کے شاطر ائمہ نے ایک چال چلی اور عقیدہ بداء وتقیہ ایجاد کر لیا، جس کے آڑ میں ما کان وما یکون کا دعویٰ کرنے والے ان کے ائمہ اب جی بھر کے جھوٹ بولیں ، من چاہی پیشین گوئیاں کریں کبھی ان پر انگلی نہیں اٹھ سکتی اور نہ ہی انہیں کوئی جھوٹا ثابت کر سکتا ہے۔
مصعب بن زبیر نےمختار بن عبید ثقفی اور اس کے متبعین سے لڑائی کے لئے ایک لشکر روانہ کیا اور مختار نے ان سے مقابلے کے لئے احمد بن شمیط کی سرکردگی میں تین ہزار جنگجو اس بشارت کے ساتھ ارسال کیا کہ مجھے وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ جیت تمہاری ہو گی ۔ لیکن اس کا لشکر پسپا ہو کر آیاپھر شکشت خوردہ لوگوں نے جب الٹی وحی کا حال پوچھا تو مختار نے کہا: مجھ سے خدا کا وعدہ تو یہی تھا لیکن اسے بداء ہو گیا اورکہا

{يَمْحُو اللّٰهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ}(الرعد:۳۹)

۔’’اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے برقرار رکھے لوحِ محفوظ اسی کے پاس ہے‘‘۔

دیکھئے:(الفرق بین الفرق للبغدادی: ص:۵۰۔۵۲)۔

بحار الانوار باب البداء میں ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہےانہوں نے کہا کہ ابو جعفر اور ابو عبد اللہ علیہما السلام نے فرمایا : اے ابو حمزہ!ہم اگر تمہیں کوئی بات بتائیں کہ یوں ہوگا لیکن اس کے الٹا ہو جائےتو جان لوکہ اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔ اگر ہم آج تم سے کچھ کہیں اور کل کچھ،تو بیشک اللہ جسے چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے۔اس روایت کا مطلب یہ ہوا کہ جو باتیں ہم اللہ کی طرف سے تمہیں بتاتے ہیں وہ ثابت نہ ہوں تو سمجھ لو کہ اسے بداء ہوا ہے۔(بحار الانوار:۴؍۱۱۹)۔شیعوں کے مطابق امام جعفر کی وفات کے بعد امامت ان کے بیٹے اسماعیل کا حق تھا، لیکن اللہ پاک کا کرنا ایسا ہو ا کہ باپ کی زندگی ہی میں بیٹے اسماعیل کا انتقال ہو گیا، اس وجہ سے شیعوں میں بڑی بے چینی پیدا ہوئی سو انہوں نے امام جعفر کی طرف ایک روایت منسوب کر کے بات بنالی کہ انہوں نے فرمایا:

’’ما بداللہ بداء مثل ما بدافی اسماعیل ابنی‘‘(التوحید لابن بابویہ، ص:۳۳۶)۔

کہ جیسا بداء اللہ کو میرے بیٹے کے بارے میں ہوا ویسا بداء کبھی نہ ہوا مطلب یہ ہے کہ امامت میرے بیٹے کے لئے طے تو اللہ نے ہی کی تھی مگر اللہ کو نسیان ہو گیا تھا کہ اس نے فیصلہ اس کی موت کاکیا ہوا ہے ۔

ملانِ شیعہ، جی کو خوش رکھنے کے لئے اپنے متبعین کو بتاتےپھرتے تھے کہ ستر سال کے اندر ہی ہماری قیادت وسیادت آجائے گی، لیکن ستر برس گزرنے کے بعد بھی جب یہ وحی شدہ وعدہ وفا نہ ہوا اور متبعین نے گریبان پکڑلیا تو دھرم کے ان ٹھیکیداروں نے بداء کا سہارا لیا، اللہ کو متہم کیا اور اپنی پاک دامنی کی آسان راہ نکال لی۔ملاحظہ ہو :

( اصول الشیعہ الاثنی عشریہ للقفاری: ۲؍۹۴۱)۔

بداء کو’’نسخ‘‘ سے خلط ملط کرنے کی نا تمام کوشش:

کچھ شیعہ علماء نے کافی فضیحت کے بعدبداء پر نسخ کا پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے ، ادھر ادھر کی تاویل کا سہارا لیا ہے اور بدا ء کی شناعت کم کرنے کی لاحاصل سعی کی ہے۔ حالانکہ بداء کا نسخ سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے بداء سے احاطہ بالعلم کی نفی ہوتی ہے۔ جبکہ نسخ اللہ کے حکمِ ثانی کا بیان ہوتا ہےکیونکہ اللہ پاک کے ازلی وابدی علم میں ہر حکم کی میقات ومیعاد مقرر ہوتی ہے، پھر وقتِ معینہ ختم ہونے پراللہ کا دوسرا حکم صادر ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

{مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}(البقرۃ: ۱۰۶)۔

’’جس آیت کو ہم منسوخ کردیں، یا بھلا دیں، اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

(احسن البیان)۔

بداء کو نسخ بنانے کی کوشش بعض شیعہ سنی قربتوں کے وکیلوں نے بھی کی ہے لیکن اس کھینچ تان میں وہ مکمل ناکام رہے کیونکہ بداء میں اللہ کے علم کی نفی ہے ۔ جبکہ نسخ یہ ہے کہ اللہ بندوں پر اپنا ایک حکم جاری کرتا ہے پھر مصلحت کا تقاضا پورا ہوجانے کے بعد اپنا دوسراحکم جاری کرتا ہے اور دونوں حکم اللہ کے علم میں ہوتے ہیں ۔

بداء کی کچھ اور مثالیں :

(۱) امام مہدی کے ظہور میں بداء :

جناب باقر کے حوالہ سے بیان کیا جاتا ہے : ’’ کہ اللہ تعالیٰ نے ظہور امام مہدی کا وقت پہلے ۷۰؁ھ مقرر فرمایا تھا ، لیکن جب امام حسین شہید ہو گئے تو زمین والوں پر اللہ سخت ناراض ہوا۔ اور اس نے ظہور مہدی کے وقت کو ٹال کر ۱۴۰؁ھ متعین کردیا ‘‘۔

امام باقر آگے فرماتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے ظہور مہدی کے لئے ۱۴۰؁ھ مقرر کیا تھا لیکن تم شیعوں نے اس راز کو فاش کردیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے ۱۴۰؁ھ میں بھی ظہو رمہدی کو ملتوی کردیا ، اور کوئی وقت ہمارے لئے مقرر نہیں کیا ‘‘۔ (اصول کافی : ۲۳۲)
غور فرمائیے اماموں کے بارے میں ماکان وما یکون کا علم بتلانے والے اپنا تضاددور کرنے کی خاطر کس طرح اللہ پر ہی الزام باندھ رہے ہیں ۔

(۲) حضرت محمد بن امام علی نقی کی امامت میں بداء:

’’عن ابی ھشام الجعفری قال: کنت عند ابی الحسن العسکری علیہ السلام وقت وفاتہ ابنہ ابی جعفر ،
وقد کان اشار الیہ ودل علیہ وانی لاکفر فی نفسی ، واقول ھذہ قصۃ ابی ابراہیم وقصۃ اسماعیل فاقبل علی ابو الحسن

علیہ الصلاۃ والسلام وقال نعم یا ابا ھاشم ! بد اء اللہ فی ابی جعفر وصیر مکانہ ابا محمد کما بداء لہ فی اسماعیل بعد ما

دل علیہ ابو عبد اللہ ونصبہ وھو کما حدثتک نفسل وان کرہ المبطلون ‘‘ ۔

(بحار الانوار :ص: ۲۱۴، ج: ۵۰، اصول الکافی : ص: ۳۲۷، ج:۱)

’’ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں کہ میں امام ابو الحسن ( علی نقوی) کے پا س تھا جب ان کے بیٹے ابو جعفر ( محمد ) کا انتقال ہوا ، امام علی نقوی نے اپنے بیٹے ابو جعفر کو اپنے بعد امام بنایا تھا ، اور لوگوں کو ان کی طرف رہنمائی کی تھی ، لیکن ابو جعفر ( کا انتقال باپ کی زندگی میں ہوگیا ، میں ان کے ) انتقال کے وقت امام علی نقی کے پاس بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ تو وہی قصہ ہوا کہ پہلے اسماعیل کو امام بنایا گیا ،پھر ان کی جگہ موسیٰ کاظم کو امام بنایا گیا تھا ۔ امام میر ی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ہاں ابو ہاشم ۔ اللہ کو ابو جعفر کے سلسلہ میں بدا ہوگیا ،یعنی اللہ کی رائے بدل گئی او ران کی جگہ امام محمد کو امام بنادیا ، جیساکہ اسماعیل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رائے بدل گئی تھی حالانکہ امام صادق نے اسماعیل کو اپنا جانشین مقرر کردیا تھا ۔ بات وہی ہے جو تمہارے دل میں گزری ، اگر چہ باطل پرستوں کو ناگوار ہو‘‘۔
دیکھئے امام کو بچانے کے لئے اللہ پر کس طرح نشانہ سادھ لیا ان کا عقیدہ ہے کہ امام کو ہر غیب کی خبر رہتی ہے اب بیٹے کو امام بنانے کے بعد جب بیٹا فوت ہوگیا تو اس سے یہ لازم آیا کہ گویا امام کو علم غیب نہیں سو اس تضاد کو دور کرنے کے لئے کہا کہ اللہ کو بداء ہو گیا یعنی اس کی رائے بدل گئی جبکہ سچائی یہ ہے کہ اللہ کی رائے تبدیل نہیں ہوتی۔
(بشکریہ: مصطفیٰ  بشیرمدنی)