عظیم تر ہے مقام ان کا

عظیم تر ہے مقام ان کا

نبیﷺ کے یاروں کے کیا ہی کہنے، عظیم تر ہے مقام ان کا

فلک سے اونچا، سحر سے اجلا، قمر سے روشن ہے نام ان کا

وہ حق کی ناؤ کے بادباں تھے، وہ گلشنِ دیں کے باغباں تھے

کتاب و سنت کے پاسباں تھے، عظیم کتنا ہے کام ان کا

اٹھا کے بچے نکل رہے ہیں، وہ دیکھو جنگل کے سب درندے

زمانہ حیراں، ہے وحشیوں کے دلوں میں بھی احترام ان کا

ابھی تلک نیل کی روانی، عمرؓ کی عظمت بتا رہی ہے

عیاں ہے یاساریہ سے دوشِ صبا پہ پہنچاپیام ان کا

وہ بحر و بر کے، عرب عجم کے عظیم فاتح مثالی حاکم

رہے گا معیار تا قیامت، مزاج ان کا، نظام ان کا

وہ دن کو میداں کے تھے مجاہد، وہ شب میں ہوتے تھے رشکِ زاہد

زہے یہ رتبہ کہ بارگاہِ خدا سے آتا سلام ان کا

علوم و تقویٰ میں تھے وہ یکتا، وہ زہد وطاعت میں بھی یگانہ

ہیں قابلِ رشک ان کے سجدے، رکوع ان کے، قیام ان کا

فلک پہ اللہ ان سے راضی، زمیں پہ آقاﷺ بھی ان سے خوش تھے

زمیں پہ شہرت تھی عام ان کی، فلک پہ چرچا تھا عام ان کا

خدایا پھر سے، دکھا وہ منظر کہ قوم سوئے، خلیفہ جاگے

ہوں اپنی باری پہ آقا پیدل، سواری پر ہو غلام ان کا

مرے نبیﷺ کے سبھی صحابہؓ ہیں راہِ حق کے چراغِ روشن

جمیلؔ جنت اگرہے جاناتوبڑھ کے دامن تو تھام ان کا