عدل و وفا کی شان حسینؓ و عمرؓ کو مان

منقبت فاروقؓ وحسینؓ

عدل و وفا کی شان حسینؓ و عمرؓ کو مان

جرات کا آسمان حسینؓ و عمرؓ کو مان

زندہ دلانِ شہرِ وفا پر ہے اب بھی راج

ذیشان حکمران حسینؓ و عمرؓ کو مان

ہم مانتے ہیں ناز شہِ دیںؐ کے دین کا

تُو بھی تٙو فخر و مان حسینؓ و عمرؓ کو مان

گر تُو یہ چاہتا ہے کریں پیار سب تجھے

میری یہ بات مان ۔ حسینؓ و عمرؓ کو مان

سرکارؐ کے چمن میں ہیں بن کر مہک رہے

خوشبوئے زعفران ۔ حسینؓ و عمرؓ کو مان

قہر و غضب کِیا ہے بفضلِ خدا بپا

باطل کے درمیان ۔ حسینؓ و عمرؓ کو مان

لو آج سرخروئےحضورِ خدا ہوئے

آقاؐ کے پاسبان ۔ حسینؓ و عمرؓ کو مان

صائم کو اہلِ دل کی دعائیں عطا ہُوئیں

دی جب بھی یہ اذان، حسینؓ و عمرؓ کو مان

ملک مبشرصائم علوی