عبداللہ ابن سبا حقیقت یا افسانہ (تحقیق)

ایک سوال کا جواب دیں!

کیا شیعہ مذہب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی امامت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے بیزاری، ان کی بدگوئی اور ایمان سے خارج ماننا  ضروری ہے؟؟؟

 اگر یہ باتیں شیعہ کا عین ایمان ہیں تو ان کے موجد حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ نہ تھے بلکہ ایک دشمن یہودی تھا جس کا نام عبداللہ ابن سبا  تھا۔

شیعہ کے معتبر عالم علامہ کشی رقم طراز ہیں!۔

بعض اہل علم کا بیان ہے کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا اور مسلمان بن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے لگا وہ اپنی یہودیت کے دوران بھی غلو سے کہتا تھا کہ حضرت یوشع، موسٰی علیہ السلام کے وصی ہیں تو دوران اسلام، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق وصی وامام (بلافضل) ہونے کا دعوٰی کیا یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت علی کی امامت کو فرض (وجز وایمان) بتایا آپ کے سیاسی مخالفین سے تبرا کیا ان کی خوب توہین کرکے ان کو کافر بتایا یہیں سے مخالفین شیعہ کہتے ہیں۔ 

اصل تشیع والرفض ماخوذ من الیھود

مذہب شیعہ کی بنیاد یہودیت سے لی گئی ہے (رجال کشی صفحہ ٧١)۔ 

صاف اسکینز 1 2 3 4 5

کیا شیعہ اعتقاد کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ مختار کل، عالم الغیب اور اوصآف بشریت سے بالا بہت کچھ ہیں؟؟؟

اگر جواب اثبات میں ہے تو حضرت علی رضی اللہ کے رب ومشکل کشا ہونے کی تعلیم اس یہودی عبداللہ ابن سبا نے دی ہے۔

حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں!

عبداللہ بن سبا پر اللہ کی لعنت ہو اس نے امیر المومنین رضی اللہ عنہ میں اوصاف ربوبیت کا دعوٰی کیا اللہ کی قسم حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے عاجز وطائع بندے تھے جو ہم پر جھوٹ باندھے اس پر تباہی ہو ایک قوم (شیعہ) ہمارے متعلق وہ کچھ کہتے ہیں جو ہم اپنے متعلق نہیں کہتے ہم ان سے بیزار ہیں ہم ان سے بیزار ہیں ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں (رجال کشی صفحہ ٧١)۔۔۔

شیعہ مذہب کی بنیاد ابن سبا نے رکھی اور یہ ابن سبا کون تھا …؟؟

عبداللہ بن سبا کے بارے مین شیعہ و سنی تواریخ میں بہت کچھ  پایا جاتا ہے جو کہ تواتر کی حد سےبھی زیادہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عبداللہ ابن سبا  واقعی ایک حقیقت ہے ۔

آج کل کے شیعہ رافضی عبداللہ ابن سبا کو افسانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اس کی شخصیت کو قبول کرنے کا مطلب شیعہ مذہب کی موت ہے۔!!

آج ہم آپ کو اہل سنت اور اہل تشیع کتب سے ناقابل تردید حقائق دکھاتے ہیں۔

قدیم مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت تک تمام امت متحد و متفق تھی، پھر آہستہ آہستہ انتشار آنا شروع ہوا، اس انتشار پھیلانے والوں کا اصل سرغنہ ایک یہودی عالم عبد اللہ بن سبا  تھا۔

  عبد اللہ بن سبا یہودی یمن کے دار الحکومت صنعاء کا رہنے والا تھا ، اس کا تعلق حمیری قبیلے سے تھا۔  والدہ کا نام جشن تھا ، اس کا باپ سازش، منصوبہ بندی اور پروپیگنڈہ میں اپنی مثال آپ تھا ، یہ ابتداء میں یمن میں تھا، مگر بعد میں 654 ع میں  مدینہ منورہ آگیا اورحضرت عثمان غنی کے عہد میں اسلام قبول کیا۔

عبداللہ ابن سبا  نے سیاسی اور مذہبی دونوں طرح سے اسلام کو کمزور کرنے کی کوششیں کی ۔  ابتداء میں یہ کہنا شروع کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے (آج کے رافضی بھی یہی کہتے ہیں کہ قرب قیامت میں جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو نبی کریم اور سیدنا علی دنیا میں واپس آئیں گے اور سب سے پہلے ان کی بیعت کریں گے!! معاذاللہ ثم معاذاللہ) اس کی تفصیل بمعہ شیعہ کتب سے ثبوت ایک اور پوسٹ میں پیش کی جائے گی۔

یہودی عبد اللہ بن سبا کی شروع کردہ تحریک میں ایک طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں مبالغہ اور دوسری طرف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض اور ساتھ ساتھ یہ نظریہ بھی  شامل تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولاد خلافت کی مستحق ہے ، خوشقسمتی سے حجاز، شام اور عراق والوں نے بالکل اس کی بات کو نہ مانا۔

تاریخی طور پر یہ بات مسلم ہے کہ سب سے پہلے عبداللہ ابن سبا کا ظہور بصرہ میں اس وقت ہوا جب حضرت عبداللہ بن عامر کو بصرہ کا گورنر بنے تین سال گزر چکے تھے، حضرت عبداللہ بن عامر حضرت ابوموسی اشعری کے بعد 29 ھجری میں گورنر بن کر بصرہ آئے تھے، اس طرح گویا عبداللہ بن سبا 32 ھجری کے لگ بھگ بصرہ پہنچا، ابن عامر نے اسے عرفہ کے روز وہاں سے نکال دیا تھا۔

مؤرخین کے مطابق عبداللہ ابن سبا کوفہ بھی گیا، وہاں اس نے اپنی جماعت کو متحرک کیا اور لوگوں کو حضرت امیر معاویہ کے خلاف بھڑکانا شروع کیا۔ اس کے بعد عبداللہ ابن سبا مصر چلا گیا، وہاں اس نے وہی  باتیں کہنا شروع کیں اور ساتھ ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو اور مبالغہ کرنا شروع کردیا اوربدقسمتی سے مصر کے لوگ اس کی باتوں میں آگئے،  اس نے یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈال دی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت کے مستحق تھے ، مگر ان کو یہ حق نہیں دیا گیا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف مختلف شکایات شروع کردیں۔

عبد اللہ بن سبا نے مدینہ، بصرہ، کوفہ، دمشق اور قاہرہ کے تمام مرکزی شہروں میں تھوڑے تھوڑے دن قیام کر کے حضرت عثمان غنی کے خلاف نہایت چالاکی، ہوشیاری اور شرارت سے علی المرتضیٰ کے حقدار خلافت ہونے والی بات کو نو مسلم لوگوں کے ذہنوں میں بٹھادیا ، سادہ لوح نو مسلم مسلمانوں کی اہل بیت سے محبت کا اس ملعون نے بہت فائیدہ اٹھایا ، اس کے علاوہ  بنی امیہ اور بنی ہاشم کی پرانی عداوت اور عصبیت کوجو مردہ ہو چکی تھی پھر زندہ کرنے کی کوشش کی۔  یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت ہوگئی اور پھر اسی انتشار میں اسے کامیابی مل گئی کہ مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ جمل اور جنگ صفین ہوئی اور ہزاروں مسلمان شہید ہوگئے اور آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کردیا گیا ۔

 چند شیعہ مؤرخین نے عبداللہ ابن سبا کو ایک افسانہ قرار دیتے ہوئے اس کی حقیقت کا انکار کیا ہےاور کہا ہے کہ یہ سیف بن عمر تمیمی کا خود ساختہ کردار ہے کیونکہ سیف بن عمر روایت حدیث میں محدثین کے نزدیک مجروح ہے اور ابن سبا کا ذکر بھی یہی کرتا ہے۔

شیعہ مؤرخین کا یہ اعتراض درست نہیں ہے کیونکہ سیف بن عمر مؤرخین کے نزدیک قابل اعتبار ہے اور پھر عبداللہ ابن سبا کی روایات صرف سیف بن عمر سے مروی نہیں ہیں بلکہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہیں، ان میں سے کئی روایات کو شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے سندآ صحیح کہا ہے۔ اس کے علاہ خود شیعہ کی حدیث ، رجال اور مختلف  کتب میں بھی ابن سبا کا تذکرہ ملتا ہے، حالانکہ ان روایات سے سیف بن عمر کا دور سے بھی واسطہ نہیں ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ شیعہ رافضیوں کو ابن سبا کی ذات کا سرے سے انکا کرتے ہوئے ذرا شرم نہیں آتی کہ وہ کس قدر جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں، حالانکہ ابن سبا کے وجود پر تمام مؤرخین اور محدثین متفق ہیں۔

یہ حقائق صرف اہل سنت کی کتب میں نہیں بلکہ شیعوں کی معتبر کتب میں بھی ابن سبا کو رومانوی نہیں بلکہ ایک حقیقی شخصیت تسلیم کیا گیا ہے۔

فتنوں کی خبریں اور ان میں ابن سبا کے کردار کا تذکرہ صرف امام طبری پر منحصر نہیں اور نہ اس کا دارومدار صرف سیف بن عمر تمیمی کی روایات پر ہے، بلاشبہ یہ خبریں متقدمین کی روایات، اسلامی تاریخ اور مختلف فرقوں اور مذاہب کی اس کے بارے میں آراء کو رقم کرنے والی کتابوں میں جابجا بکھری پڑی ہیں۔

955 – وقال أمير المؤمنين عليه السلام: ” إذا فرغ أحدكم من الصلاة فليرفع يديه إلى السماء ولينصب في الدعاء فقال ابن سبا: يا أمير المؤمنين أليس الله عز وجل بكل مكان؟ قال: بلى، قال: فلم يرفع يديه إلى السماء؟ فقال: أو ما تقرا ” وفي السماء رزقكم وما توعدون ” فمن أين يطلب الرزق إلا من موضعه، وموضع الرزق وما وعد الله عز وجل السماء “.

( من لا یحضرہ الفقیہ جلد 1)

(8509) 4 – محمد بن الحسن بإسناده عن أحمد بن أبي عبد الله عن القاسم بن يحيى عن جده الحسن بن راشد عن أبي بصير عن أبي عبد الله (عليه السلام) عن آبائه، أن أمير المؤمنين عليه السلام قال إذا فرغ أحدكم من الصلاة فليرفع يديه إلى السماء ولينصب في الدعاء فقال ابن سبا يا أمير المؤمنين أليس الله في كل مكان؟ قال بلى قال فلم يرفع يديه إلى السماء فقال أما تقرأ ” وفي السماء رزقكم وما توعدون ” (1) فمن أين يطلب الرزق إلا من موضعه وموضع الرزق وما وعد الله السماء ورواه الصدوق مرسلا (2) ورواه في (العلل) عن محمد بن الحسن عن الصفار عن محمد بن عيسى عن القاسم بن يحيى (3).

(وسائل الشیعہ)

انوارالنعانیہ کی عبارت میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ابن سبا یہودی تھا اور محض مقصد آوری کے لیے اوپر سے مسلمان ہوا

اور یہ بات بھی شیعہ کتب میں موجود ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جس نے سب سے پہلے خدا کہا وہ کوئی اور نہیں خود عبد اللہ بن سبا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے جلا دیا تھا یا دیگر روایت میں ہے اسے جلا وطن کر دیا تھا اور امام جعفر صادق رضی اللہ نے بھی ابن سبا پر لعنت اس کے کفریہ عقائد کی بنا پر کی تھی اس کے ساتھ ساتھ جلاءالعیون کی عبارت سے صاف صاف پتا چلتا ہے جو عقائد ابن سبا کے تھے وہی عقائد آج  شیعہ رافضیوں کے ہیں۔

دوسری بات رجال کشی کے مصنف نے جو اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے ابن سبا اور اس کے عقائد سے بیزاری کو اس انداز سے پیش کیا جس سے معلوم ہو جائے  کہ اہل تشیع بہت معصوم ہیں اور ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ مذہب شیعہ عبد اللہ بن سبا کے پیروکار ہے اور شیعہ مذہب دراصل یہودیت کی ایک شاخ ہے یہ غلط ہے ہمارا راستہ اور ہے اور ابن سبا کا راستہ اور ، جب کے جلاءالعیون کی عبارت سے صاف پتا چلتا ہے کہ شیعہ کہ عقائد اور ابن سبا کے عقائد ایک ہیں کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابن سبا خدا مانتا تھا اور آج کے غالی شیعوں کا بھی وہی عقیدہ ہے

اور رجال کشی کی عبارت دراصل اس امر کی تائید کرتی ہے کہ ہمارے مخالفین نے جو کچھ ہمارے متعلق کہا کہ شیعہ عبد اللہ بن سبا کے پیروکار ہے اور مذہب شیعہ دراصل یہودیت کا دوسرا نام ہے یہ بات درست ہے لہذا بانی مذہب شیعہ عبد اللہ بن سبا ہے۔

  المامقانی نے کہا کہ:

عبد اللہ بن سباء کفر کی طرف پلٹ گیا تھا اور اس نے غلو کیا تھا۔

دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

وہ بہت زیادہ غلو کرنے والا اور لعنتی تھا، اسے امیر المؤمنین نے آگ میں جلا دیا تھا اور وہ علی رضی اللہ عنہ کی ربوبیت اور اپنی نبوت کا دعویٰ کرتا تھا۔

(تنقیح المقال فی علم الرجال،جلد2 ،صفحہ 183,184)

المامقانی ( یہ وہی رافضی شیعہ عالم ہے جس نےبرملا اظہار کیا کہ شیعہ مذہب میں سواء تین کے سب صحابہ مرتد ہوگئے! معاذاللہ ) اپنی کتاب تنقیح المقال فی علم الرجال 2-183-184 پر کہتا ہے

عبد الله بن سبأ الذي رجع إلى الكفر وأظهر الغلو … غال ملعون، حرقه أمير المؤمنين عليه السلام بالنار، وكان يزعم أن علياً إله، وأنه نبي

عبداللہ بن سبا جو کہ کفر کی طرف پلٹ گیا اور مشہور غلوباز تھا اور لعنتیوں میں سے تھا امیر المومنین نے اسے آگ میں جلا دیا تھا وہ کہتا تھا کہ علی رضہ خدا ہیں وہ یعنی عبداللہ بن سبا پیغمبر ہے

سعد بن عبداللہ العشری القمی المقالات الفراق ص ۲۰ پر کہتا ہے

السبئية أصحاب عبد الله بن سبأ، وهو عبد الله بن وهب الراسبي الهمداني، وساعده على ذلك عبد الله بن خرسي وابن اسود وهما من أجل أصحابه، وكان أول من أظهر الطعن على أبي بكر وعمر وعثمان والصحابة وتبرأ منهم

السبائیہ جو کہ عبداللہ بن سبا کے اصحاب تھے اور وہ عبداللہ بن وہب الھمدانی ہے اور جو کہ عبداللہ بن خرسی اور ابن اسود اس کی امداد کرتے تھے وہ اس کے ساتھیوں میں سے شاندار تھے یہ پہلا تھا جس نے اعلانیہ ابو بکر عمر و عثمان اور صحابہ پر تبرا کیا اور ان سے بیزاری کا اعلان کیا

ایک اور شیعہ جید عالم نعمت اللہ الجزائری لکھتا ہے

قال عبد الله بن سبأ لعلي عليه السلام: أنت الإله حقاً، فنفاه علي عليه السلام إلى المدائن، وقيل أنه كان يهودياً فأسلم، وكان في اليهودية يقول في يوشع بن نون وفي موسى مثل ما قال في علي

عبداللہ بن سبا نے علی علیہ السلام کو کہا کہ آپ رب ہیں تب علی رضہ نے اس کو مدین کی طرف جلا وطن کردیا کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی تھا اسلام لے آیا جب یہودی تھا تو یوشع بن نون کے بارے میں وہی کہتا تھا جو علی رض کے بارے میں کہتا تھا

سب شیعہ علماء نے ابن سبا  کے عقائد اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ذکر کیا ہے سید قمی جو کہ 301 ہجری میں وفات پاگئے ، شیخ طائفہ الطوسی ، تستری نے قاموس رجال مین ، عباس قمی نے تحفہ الاحباب ، انصاری نے روضات الجنات ، ناسخ تاریخ اور روضات الصفا کے مصنفین نے بھی اس کا ذکر کیا ہے،

اس ساری بحث اور مختلف کتب کے اسکینز سے ہم نے یہ ثابت کردیا کہ عبداللہ بن سبا کا وجود ہے اور یہ یہودی تھا ۔ اس کی جس نے مدد کی یا اس کے عقائد اپنائے ان کو سبائی، رافضی اور شیعہ کہا جاتا ہے ۔

علماء شیعہ اس حقیقت سے بلکل واقف ہیں کہ وہ ہر ثبوت کو رد نہیں کر سکتے جو کہ ہم نے یہاں نقل کئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ الکاشی میں خود شیعہ کے امام اس یھودی ابن سبا پر لعنت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

کیا امام ایک فرضی شخص پر لعنت کر سکتے ہیں ۔ ؟؟

اور جو لوگ جو ابن سبا کے وجود کا انکار کرتے ہیں جن میں یاسر الخبیس ، العسکری ،الوائلی اور دوسرے رافضی ہیں وہ دراصل مضبوط حقائق کا انکار کرتے ہیں،  لیکن آپ نے دیکھا کہ ہم نے ان کے خیال کا رد پیش کیا ہے۔ اب ان کے پاس اس پر کھڑے رہنے کے لئے ٹانگ نہین ہے کیوں وہ ان کے اماموں نے ابن سبا کو لعنت بھیج کر کہ کھینچ لی ہے۔

ایک اور شیعہ مؤقف

ابن سبا کا وجود ہے لیکن شیعت کا بانی یہ نہیں ہے

جو شیعہ یہ بات مانتے ہیں کہ ابن سبا کا وجود ہے وہ یہ نہیں مانتے کہ شیعت کا موجد بھی  یہی  ہے ہم سنی جب یہ کہتے ہیں کہ ابن سبا شیعت کا بانی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ایسی جماعت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو کہ اہل بیت سے محبت کرتی ہے بلکہ ہم اس کی نشاندہی کر رہے ہیں جو رافضی ہیں اور منافقانہ عقائد رکھتے ہیں یعنی ابو بکر و عمر رضوان اللہ علیھم  کو معاذاللہ کافر کہنا ، قیامت سے پہلے امام کا واپس آنا اور ولایت تقوینیہ پر ایمان رکھنا وغیرہ

شیعوں کا یہ ٹولہ کم از کم اس حد تک اپنے بڑوں کی عزت کرتا ہے کہ وہ اپنی کتب میں موجود ابن سبا یہودی کا انکارنہیں کرتا پر وہ اس بات کو رد کرتے ہیں کہ شیعت کا ابن سبا یا سبائی گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اس کے ثبوت میں محمد بن حسن طوسی (رافضیوں کا مشہور عالم متوفی 460) کا حوالہ دیکر کہتے ہیں کہ وہ خود ابن سبا یہودی کو کافر مانتے ہیں

رجال طوسی ص 75 نمبر 718 طوسی کہتا ہے ابن سبا کافر ہوگیا تھا اور وہ غلت میں پڑ گیا تھا

یہ رافضی رجال الکشی کی صحیح روایات بھی پیش کرتے ہیں حوالہ کے طور پر جس میں اماموں نے ابن سبا یہودی پر لعنت کی ہے وہ اسی بنا پر ہی مانتے ہیں کہ ابن سبا یہودی کا وجود تھا لیکن شیعہ مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ابن سبا یہودی ایسا آدمی ہے جس کو لعنت کی گئی ہے اماموں کی طرف سے کیونکہ اس نے امیر المومنین علی رضہ کی امامت کے بجائے ان کے رب ہونے کی پرچار شروع کردی۔

یہ لوگ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ حقیقت کو مسخ کیا جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ شیعہ علماء اس بات کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں کہ ابن سبا نے علی رضہ کے رب ہونے کا پرچار کیا اس کے ساتھ یہ پہلا شخص تھا جس نے شیعوں کے دو بنیادی عقائد کی پرچار بھی کی جو کہ آج بھی صرف شیعوں کے ٹولے میں ہی پائے جاتے ہیں

1۔ ابن سبا یہودی وہ پہلا شخص ہے جس نے اعلانیہ ابو بکر و عمر ، عثمان اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین پر کھلا تبرا کیا بلکہ ان سے بیزاری کا اعلان کیا اور یہ بکواس بھی کی اسے ایسا کرنے کو علی رضہ نے کہا ہے (جیسے آجکے رافضی دعوی کرتے ہیں) علی رضہ اسے قتل کرنے والے تھے لیکن لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے اسے جلاوطن کردیا اس بات کو نوبختی ، الکشی ، سعد بن عبداللہ القمی نے قبول کیا ہے

2۔ ابن سبا وہ پہلا شخص ہے جس نے شہادت دی کہ امامت علی کا ماننا فرض ہے اوراس نے اعلانیہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کی اور انہیں کافر قرار دیا (جو آج کے رافضیوں کے ایمان کا حصہ ہے) یہ شیعہ علماء کی طرف سے ایک اور اقرار ہے جسے آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا

انہی دلائل کے بنیاد پر جس نے بھی شیعوں کی مخالفت کی تو بلاجھجک کہتا ہے  کہ رفض کی بنیاد یہود کے عقائد پر ہے اور یہی بات سب مسلمان مانتے ہیں کہ شیعہ عقائد کی بنیاد ابن سبا یہودی کے عقائد پرہے اور پھر رافضیوں کے بے تکے سوالوں کے جواب میں یہی کہتے ہیں مثال کے طور پر رافضی کہتے ہیں

شیعہ کا کون سا اصول ابن سبا سے لیا گیا ہے ، شیعہ کے کس فقہی مسئلے کو ابن سبا سے  لیا گیا ہے ،کیا ہمارے امام ابن سبا کی تعریف کرتے تھے ، ہم نے ابن سبا سے کتنی احادیث لی ہیں

کیا شیعہ پاگل یا جاہل ہیں کہ 1400 سالوں میں یہ نہین جان سکے کہ ان کے عقائد کی بنیاد جھوٹی روایات پر ہے جو عبداللہ بن سبا کی طرف سے آئی ہیں

اگر ابن سبا یہودی شیعوں کے لئے اتنا اہم ہے تو شیعوں نے اماموں کی طرح اس کی روایات کو کیون نہیں نقل کیا یقینآ اگر ابن سبا ان کا آقا ہوتا تو وہ ضرور اس کی روایات نقل کرتے اور اس پر فخر کرتے

اس قسم کے سوالات کرنے والوں کو سادہ سا جواب 

کسی بھی سنی عالم نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ رافضی ابن سبا کی تقلید کرتے ہیں  یا ابن سبا کی تقلید رافضیوں کے لئے ضروری ہے

وہ صرف یہ لکھتے آئے ہیں کہ رافضی اس یہودی خیالات کی پیروی کر رہے ہیں

مثال کے طور پر آج کے عیسائی کبھی یہ نہیں مانتے کہ  ان کے مذہب کی بنیاد سیدنا مسیح علیہ السلام کے عقائد پر نہیں بلکہ پولوس یہودی کے عقائد پر ہے، بلکہ عیسائی سمجھتے ہیں کہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے شیعہ (پیروکار) ہیں

اسی طرح شیعیت ایک ایسی جماعت ہے جس کی بنیاد رکھنے والا ایک یہودی ہے خاص طور پر صحابہ کرام کی تکفیر اور امامت علی کا فرض ہونے کے عقائد اہل بیت کے نہیں ہیں بلکہ یہ عقائد ابن سبا یہودی کے ہیں جس نے ان عقائد کی بنیاد رکھی اور وہی بقول شیعہ علماء کے پہلا شخص ہے جس نے ان عقائد کی لوگوں میں پرچار کی ،

اسی لئے کہا جاتا ہے اور تا قیامت کہا جائے گا۔

عبداللہ بن سبا رافضیوں کا روحانی باپ ہے اور ایسے عقائد کی بنیاد رکھنے والا ہے جو کسی بھی فرقے میں نہیں ملتے سواء رافضیون کے (خاص اثنا عشریوں میں)

جو بھی کہتے ہیں کہ ابن سبا نے شیعت کی بنیاد رکھی اس کی وجہ ان کے اہم عقائد ہیں خاص کر صحابہ کرام کی تکفیر (تبرہ) ،سیدنا علی رضہ کے بارے میں غلو، اثنا عشریہ تو ان عقائد کی وجہ سے ہی مشہور ہیں۔

شاید کوئی کوشش کرے کہ ایسے عقائد ابن سبا سے پہلے بھی تھے لیکن وہ اس کے لئے تاریخ سے  کوئی بھی چیز نہیں ڈھونڈ سکتا ۔

اگر کوئی کہے کہ ابن سبا نے شیعت کی بنیاد رکھی جس میں شیعت کے سب کے سب عقائد بشمول امامت کے آتے ہیں تو اس بات کا کسی نے بھی دعوی نہیں کیا اور نہ ہی ایسی چیز لکھی جاتی ہے ، مقصد کی بات یہ ہے کہ ابن سبا یہودی نے رفض کی بنیاد رکھی جو کہ اہل بیت کے نام پر کی گئی اور آج تک اثنا عشری فرقہ اس ابن سبا کی تقلید میں صحابہ کرام خاص طور پر حضرت ابو بکر و عمررضوان اللہ علیھم  کی تکفیر کرتا آرہا ہے

 عبداللہ ابن سباء یمنی یہودی کے بانی شیعہ ہونے کا اقرار علمائے شیعہ بھی کرتے ہیں

بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ ابن سبا یہودی تھا اسلام لے آیا اور پھر حضرت علی کی ولایت کا قائل ہوا۔ اس پہلے جب یہ یہودی تھا تو حضرت یوشع کے بارے میں غلو کرتا تھا کہ وہ موسی کے وصی ہیں۔ اسلام لانے کے بعد اس قسم کی بات حضرت علی کے بارے میں کی۔ یہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے حضرت علی کی امامت کا قائل ہونا فرض ہے اور ان کی دشمنوں پر اعلانیہ تبرا کیا۔اور مخالفوں کو کافر کہا یہی بات ہے جس کی وجہ سے مخالفین کہتے ہیں کہ رفض کی بنیاد یہودیوں سے لی گئی ہے۔

معجم رجال الحديث – السيد الخوئي – ج 11 – ص 206 – 207

وقال الكشي : ” ذكر بعض أن عبد الله بن سبأ كان يهوديا ـ

الخوئی نے الکشی کی عبارت نقل کی ہے کہ کچھہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سبا یہودی تھا

تو ہم نے دو شیعہ علماء نوبختی اور کشی کا اقرار دکھا لیا اس فہرست میں اورشیعہ علماء  بھی ہیں جن کے اسکینز اوپر پیش کئے گئے ہیں۔

المامقانی ( یہ وہی کافر شیعہ عالم ہے جس نے اقرار کیا کہ شیعہ مذہب میں سواء تین کے سب صحابہ مرتد ہوگئے معاذاللہ ثم معاذ اللہ) اپنی کتاب تنقیح المقال فی علم الرجال 2-183-184 پر کہتا ہے

عبد الله بن سبأ الذي رجع إلى الكفر وأظهر الغلو … غال ملعون، حرقه أمير المؤمنين عليه السلام بالنار، وكان يزعم أن علياً إله، وأنه نبي

عبداللہ بن سبا جو کہ کفر کی طرف پلٹ گیا اور مشہور غلوباز تھا اور لعنتیوں میں سے تھا امیر المومنین نے اسے آگ میں جلا دیا تھا وہ کہتا تھا کہ علی رضہ خدا ہیں وہ یعنی عبداللہ بن سبا پیغمبر ہے

سعد بن عبداللہ العشری القمی المقالات الفراق ص ۲۰ پر کہتا ہے

السبئية أصحاب عبد الله بن سبأ، وهو عبد الله بن وهب الراسبي الهمداني، وساعده على ذلك عبد الله بن خرسي وابن اسود وهما من أجل أصحابه، وكان أول من أظهر الطعن على أبي بكر وعمر وعثمان والصحابة وتبرأ منهم

السبائیہ جو کہ عبداللہ بن سبا کے اصحاب تھے اور وہ عبداللہ بن وہب الھمدانی ہے اور جو کہ عبداللہ بن خرسی اور ابن اسود اس کی امداد کرتے تھے وہ اس کے ساتھیوں میں سے شاندار تھے یہ پہلا تھا جس نے اعلانیہ ابو بکر عمر و عثمان اور صحابہ پر تبرا کیا اور ان سے بیزاری کا اعلان کیا۔

 ۔ ابن سبا وہ پہلا شخص ہے جس نے شہادت دی کہ امامت علی کا ماننا فرض ہے اوراس نے اعلانیہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کی اور انہیں کافر قرار دیا (جو آج کے رافضیوں کے ایمان کا حصہ ہے) یہ شیعہ علماء کی طرف سے ایک اور اقرار ہے جسے آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا

طلبة الرافضة من زيد ابن علي التبرؤ من أبو بكر و عمر فقال: إنهما وزيرا جدي, فقالوا له: إذا نرفضك, فقال لهم: إذهبوا فأنتم الرافضة

رافضیوں نے زید بن علی جب وہ خروج کئے ہوئے تھے سے کہا کہ ان کو ابوبکر و عمر رضوان اللہ سے جو محبت ہے وہ ترک کرنی پڑے گی تو انہون نے کہا وہ میرے نانا جان کے ساتھی تھے تو ان شیعوں نے کہا پھر ہم آپ کا انکار کرتے ہیں انہوں نے کہا جاؤ تم سب آزاد اے رافضیو۔

(طعان رافضۃ فی اصحابۃ الرسول ص 17 ابو نصر محمد بن عبداللہ الامام اور انہون نے اسے صحیح کہا ہے)

یہی روایت شیعہ کتاب میں بھی ملتی ہے

زید بن علی بن حسین جو کہ شیعوں میں معزز سمجھے جاتے تھے ان سے ابو بکر و عمر رضوان اللہ کے بارے مین پوچھا گیا تو انہون نے کہا میں ہمیشہ ان کو اچھے الفاظ سے یاد کرتا ہوں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کو بھی ان کی برائی کرتے نہین سنا نہ تو انہون نے ہمارا حق چھینا اور نہ ہی کسی شہری پر ظلم کیا وہ دونوں (ابوبکر و عمر رضوان اللہ) قرآن و سنت کے سختی سے پیروکار تھے

یہ سن کر ان لوگوں (شیعوں) نے کہا تو آپ پھر ہمارے ساتھی نہیں ہوسکتے

آپ نے کہا کہ تم لوگوں نے اس دن سے ہمیں چھوڑ دیا ہے اور آج کے بعد تم رافضی کہلاؤ گے۔

(ناسخ التواریخ جلد ۲ ص 590 یہ بک شیعوں کے ہاں مشہور ہے اور مستند مانی جاتی ہے جیسے کہ اعیان الشیعہ جلد 2 ص 132 پر اس کی توثیق ہے)

دوسری روایت

أخرج ابن عساكر عن زيد بن وهب الجهني الكوفي المتوفى عام (90هـ/709م 

قال: قال علي بن أبي طالب: مالي ولهذا الخبيث الأسود-يعني عبد الله بن سبأ- و كان يقع في أبي بكر و عمر

ابن عساكر، مختصر تاريخ دمشق، مرجع سابق، م 12، ص 222

زید بن وہب کہتے ہیں کہ علی ابن ابی طالب نے کہا کہ مجھے اس کالے خبیث کے ساتھ کیا کرنا چاہئے ان کا مطلب عبداللہ بن سبا تھا جو کہ ابو بکر و عمر کی برائی کرتا تھا۔

(یہ روایت تاریخ ابن ابی خثیمہ میں بھی پائی جاتی ہے صحیح سند کے ساتھ)

تیسری روایت

– أخبرنا أبو محمد بن طاوس وأبو يعلى حمزة بن الحسن بن المفرج ، قالا: أنا أبو القاسم بن أبي العلاء ، نا أبو محمد بن أبي نصر ، أنا خيثمة بن سليمان ، نا أحمد بن زهير بن حرب ، نا عمر بن مرزوق أنا شعبة ، عن سلمة بن كهيل عن زيد قال : قال علي بن أبي طالب : مالي ولهذا الحميت الأسود ؟ يعني عبد الله ابن سبأ وكان يقع في أبي بكر وعمر.

زید کہتے ہیں کہ علی ابن ابیطالب نے کہا کہ مجھے اس کالے خبیث کے ساتھ کیا کرنا چاہئے ان کا مطلب عبداللہ بن سبا تھا جو کہ ابی بکر و عمر کی برائی کرتا تھا

(اس حدیث کی سند اچھی ہے جو کہ ثقہ راویون سے آئی ہے)

چوتھی روایت

6- أخبرنا أبو المظفر بن القشيرى ، أنا أبو سعد الجنزروذى ، أنا أبوعمر ابن حمدان ، وأخبرنا أبو سهل محمد بن إبراهيم بن سعدويه ، أنا أبو يعلى الموصلي ، نا أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني , نا محمد أبن الحسن الأسدى ، نا هارون بن صالح الهمداني ، عن الحارث أبن عبد الرحمن عن أبي الجلاس ، قال : سمعت عليا يقول لعبد الله السبئي : ويلك والله ما أفضي إلي بشيء كتمه أحداً من الناس ، ولقد سمعته يقول : أن بين يدي الساعة ثلاثين كذابا وإنك لا حدهم . قالا : وانا أبو يعلى ، نا أبو بكر بن أبي شيبة ، نا محمد أبن الحسن ، زاد أبن المقرىء الأسدي بإسناده مثله .

علی رضہ نے ابن سبا سے کہا کہ تم پر افسوس ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسا کچھ نہیں بتایا جو کہ انہوں نے دوسروں سے مخفی رکھا ہو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آج سے قیامت تک 30 جھوٹے ہونگے اور ان میں سے ایک تو ہے

اس روایت کے کچھ راویوں پر تنقید پائی جاتی ہے پر یہ روایت اور بھی بہت سندوں سے آئی ہے جو کہ مضبوط ہیں

پانچویں روایت

أخبرنا أبو بكر أحمد بن المظفر بن الحسين بن سوسن التمار في كتابة ، وأخبرني أبو طاهر محمد بن محمد بن عبد الله السبخي بمرو ، عنه ، أنا أبو علي بن شاذان ، نا أبو بكر محمد بن عبد الله بن يونس أبو الأحوص عن مغيرة عن سماك قال : بلغ عليا أن ابن السواد ينتقض أبا بكر وعمر ، فدعا به ودعا بالسيف أو قال فهم بقتله فكلم فيه فقال : لايساكني ببلد أنا فيه ، قال : فسير إلى المدائن .

ابن سماک کہتے ہیں کہ علی رضہ تک یہ بات پہنچی کہ ابن اسود (ابن سبا کا نک نیم اسود معنی کالا کی ہیں وہ رنگ کا کالا تھا) ابو بکر و عمر کے خلاف باتیں کرتا ہے تو انہون نے اس کو بلایا اور پھر تلوار بھی منگوائی پھر لوگوں نے ان سے بات کی اس کے قتل کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا  یہ اور میں ایک جگہ پر نہیں رہ سکتے پھر اس کو مدین جلاوطن کردیا۔

اس روایت کے سارے راوی ثقہ ہیں لیکن ابن سماک نے یہ روایت سیدھی علی رضہ سے نہیں سنی۔

چھٹی روایت

8 – أنبأنا أبو بكر محمد بن طرخان بن بلتكين بن يحكم ، أنا أبو الفضائل محمد أبن أحمد بن عبد الباقي بن طوق ، قال : قرىء على أبي القاسم عبيدالله ابن علي أبن عبيد الله الرقي ، نا أبو أحمد عبيد الله بن محمد أبن أبى مسلم ، أنا أبو عمر محمد بن عبد الواحد ، أخبرني الغطافي ، عن رجاله ، عن الصادق عن آبائه الطاهرين عن جابر قال : لما بويع علي خطب الناس فقام إليه عبد الله بن سبأ فقال له : أنت دابة الأرض ، قال فقال له : اتق الله ، فقال له : أنت الملك ، فقال له : اتق الله ، فقال له : أنت خلقت الخلق ، وبسطت الرزق ، فأمر بقتله ، فاجتمعت الرافضة فقالت : دعه وانفه إلى ساباط المدائن فإنك إن قتلته بالمدينة خرجت أصحابه علينا وشيعته ، فنفاه إلي ساباط المدائن فثم القرامطة والرافضة ، قال : ثم قامت إليه طائفة وهم السبئية وكانوا أحد عشر رجلا فقال أرجعوا فإني علي بن أبي طالب أبي مشهور وأمي مشهورة ، وانا أبن عم محمد صلي الله عليه وسلم فقالوا لا نرجع ، دع داعيك فأحرقهم بالنار ، وقبورهم في صحراء أحد عشر مشهورة فقال من بقي ممن لم يكشف رأسه منهم علينا : أنه إله ، واحتجوا بقول ابن عباس : ” لا يعذب بالنار إلا خالقها ” . قال ثعلب : وقد عذب بالنار قبل علي أبو بكر الصديق شيخ الإسلام رضي الله عنه وذاك أنه رفع إليه رجل يقال له : الفجأة وقالوا إنه شتم النبي صلي الله عليه وسلم بعد وفاته ، فأخرجه إلى الصحراء فأحرقه بالنار . قال فقال ابن عباس : قد عذب أبو بكر بالنار فاعبدوه أيضا.

علی رضہ خطبہ دینے کے واسطے کھڑے ہوئے بیعت کے بعد عبداللہ بن سبا ان کے پاس آیا اور کہا کہ آپ دابہ الارض ہیں،  آپ رضہ نے کہا اللہ سے ڈرو پھر ابن سبا نے کہا کہ تم مالک ہو آپ نے کہا اللہ سے ڈرو اس کے بعد ابن سبا نے کہا کہ آپ نے ہی مخلوق خلقی ہے اور اس کا رزق دیا ہے آپ رضہ نے حکم دیا کہ اس کو قتل کیا جائے تو رافضیو ں نے کہا کہ بہتر ہے آپ اسے مدین کی طرف جلاوطن کردیں نہین تو اس کے لوگ ہمارے خلاف بغاوت کریں گے

سنیون کی کتب میں چھ روایات ہیں او ایسی ہیں جو کہ سیف بن عمر کے علاوہ ہیں،  شیخ سلیمان بن الحماد نے ان روایات کی تخریج کی ہے اپنی کتاب عبد الله بن سبأ و أثره في أحداث الفتنة في صدر الإسلام انہوں نے کل 8 روایات نقل کین ہیں جو کہ سیف بن عمر کی روایات کو مضبوط کرتی ہیں۔

کتاب الملل و النحل میں امام شہرستانی لکھتے ہیں کہ ابن سباء اور اس کی جماعت نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا کہنا شروع کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مدائن میں قید کردیا اور اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کہنا شروع کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید نہیں ہوئے بلکہ وہ تو نورِ الٰہی کا حصہ تھے ، وہ تو بادلوں میں زندگی گذار رہے ہیں ۔ بادلوں کی گرج یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امارت ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چمک ان کا کوڑا ہے ، وہ جب زمین میں دوبارہ آئیں گے تو دنیا کے مظالم کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف کا بول بالا کریں گے ۔

(الملل و النحل:۱/۲۰۴ )

وفات :

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بعد عبداللہ ابن سبا کا انتقال ہوا ۔