صحیح روایات میں راویوں کا گمان غلط بھی ہوسکتا ہے۔

🔴 اہل سنت مؤقف 🔴

اہل سنت ثقہ راویوں کو معصوم نہیں سمجھتے، صحیح روایات میں کوئی راوی مثال کے طور پر باغ فدک میں ناراضگی سیدہ فاطمہ کا گمان کرنے والا راوی مشہور تابعی حضرت ابن شہاب الزہری اپنے قیاس اور ظن سے اگر کوئی بات شامل کرے تو وہ اصل روایت کا جز نہیں بن جاتی ، اس قیاس پر اعتماد دیگر تمام صحیح روایات کی روشنی میں ہی کیا جائے گا۔

♦️ امام زہری حدیث میں ثقہ ہیں لیکن محدثین کے ہاں مشہور و معروف ہے کہ وہ روایتوں میں اپنی طرف سے ایسی باتوں کا ادراج کردیتے ہیں جو روایت کا حصہ نہیں ہوتیں۔

♦️ بڑے بزرگ غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس سے ان کے عادل ثقہ ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔

حضرت عبداللہ بن عمر کی ایک روایت حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کے سامنے پیش کی گئی تو فرمایا

اما انہ یکذب ولکنہ نسی آؤ اخطا

ہاں وہ جھوٹ نہیں بولتے لیکن بھول گئے یا خطا کی۔

♦️ اگر علمائے اہل سنت کا دعوی ہوتا کہ صحیح بخاری کے راوی غلط فہمی سے منزہ ہیں، خطا سے پاک ہیں، لغزش سے مبرا ہیں تو واقعی “راوی کے گمان” والا جواب قابل سماعت نہ ہوتا۔

مگر اس قسم کا دعوی علمائے اہل سنت میں سے کسی نے نہیں کیا۔ پس یہ جواب صحیح ہے کہ اس حدیث میں راوی نے جو گمان پیش کیا ہے وہ درست نہیں ہیں۔

♦️ صحیح بخاری کے صحیح ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کتاب کے اندر جس قدر راوی ہیں وہ ثقہ ہیں، عادل ہیں ، ضابط ہیں، کوئی ان میں وضاع نہیں اور نہ کوئی ان میں کذاب ہے۔

صحیح بخاری کے صحیح ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قرآن پاک کی طرح صحیح ہے۔

♦️ اللہ عزوجل قرآن حکیم کے بارے میں فرماتے ہیں

ذالک الکتاب لاریب فیہ

یہ کتاب ایسی ہے جس میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں۔

معلوم ہوا کہ دنیا میں قرآن حکیم کے علاوہ کوئی کتاب اس شان کی نہیں ہے۔

♦️ اہل سنت نے کبھی بھی اس قسم کا دعوی صحیح بخاری کے متعلق نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ امام بخاری کی کتاب کے اندر کسی راوی کی غلط فہمی دریافت کر لینے سے کتاب کی شان کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔