صحیح بخاری اور سنن ابو داؤد میں ایک حدیث 12 خلفاء سے متعلق ہے جو قریش میں‌ سے ہونگے۔ عموما اس کا اطلاق کرتے ہوئے بنو امیہ کے بعض ظالم حکمرانوں کو بھی شمار کیا جاتا ہے یہ تصریح کیونکر درست ہو سکتی ہے؟

 جواب:

یہ حدیث پاک اکثر کتب احادیث میں منقول ہے۔

12 کے عدد میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ آیا اس سے مراد پے در پے خلفائے راشدین کے بعد مراد ہیں یا قیامت تک آنے والے خلفاء مراد ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک خلفائے راشدین کے بعد پے در پے 12 خلفاء مراد ہیں اور بعض کے نزدیک اس سے مراد صرف پاک سیرت اور عادل اسلام پسند خلفاء مراد ہیں اور یہ زیادہ صحیح ہے۔

تاريخ الخلفاء، ص : 9، 10، 11

صواعق المحرقة، ص : 20

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جس حدیث میں بارہ اماموں کا ذکر ہے، وہ کونسی کتاب میں ہے اور اس کی اگر تھوڑی وضاحت کردیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته! الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی حدیث شریف میں بارہ اماموں کی صراحت نہیں ہے، البتہ بارہ خلفاء کا تذکرہ ضرور موجود ہے:

’’عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ 🙁 إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَنْقَضِي حَتَّى يَمْضِيَ فِيهِمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً . قَالَ : ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ . قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي : مَا قَالَ ؟ قَالَ : كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ )رواه البخاري (رقم/7222) ومسلم واللفظ له (رقم/1821).

سیدنا جابر بن سمرہ سے روایت ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریمﷺ کے پاس داخل ہوا۔ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ امر اسلام اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک ان میں بارہ خلفاء نہ آ جائیں، راوی فرماتے ہیں ۔ پھر آپ نے سیدنا علی سے مخفی کلام کی۔ جابر فرماتے ہیں ،میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ نبی کریمﷺ نے کیا کہا ہے۔؟ تو انہوں نے بتلایا: کہ تمام خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔

اہل علم نے اس حدیث کی متعدد شروح بیان فرمائی ہیں:

امام نووی فرماتے ہیں:

” ويحتمل أن يكون المراد مستحقي الخلافة العادلين ، وقد مضى منهم من عُلم ، ولا بد مِن تمام هذا العدد قبل قيام الساعة ” انتهى.

ممکن ہے اس حدیث سے مراد خلافت کے ایسے حقدار ہوں،جو عادل و انصاف پسند ہونگے،جن میں سے کچھ معلوم ہیں اور باقی قیامت تک مکمل ہونگے۔ “شرح مسلم” (12/202

.امام قرطبی فرماتے ہیں:

” هم خلفاء العَدْلِ ؛ كالخلفاء الأربعة ، وعمر بن عبد العزيز ، ولا بُدَّ من ظهور من يَتَنَزَّلُ مَنْزِلَتهم في إظهار الحق والعدل ، حتى يَكْمُل ذلك العدد ، وهو أولى الأقوال عندي ” انتهى. “المفهم” (4/8)

اس سے عادل خلفاء مراد ہیں،جیسے خلفاء اربعہ،اور عمر بن عبد العزیز،اور ہر وہ خلیفہ جو اظہار حق اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو گا وہ اس حدیث کا مصداق بنے گا،حتی کہ یہ تعداد پوری ہو جائے۔

اس حدیث سے شیعہ اپنے عقیدے کے مطابق جو یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس سے مراد بارہ امام ہیں،باطل اور فاسد ہے۔،جو تعصب،جہالت اور خواہشات نفس پر مبنی ہے۔کیونکہ:

نبی کریمﷺ نے (اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً) کہا ہے (اثْنَا عَشَرَ اماما ) نہیں کہا، نیز شیعہ کے بارہ اماموں میں سے متعدد کا خلافت کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہ تھا۔

ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

” ومن ظن أن هؤلاء الاثنى عشر هم الذين تعتقد الرافضة إمامتهم فهو في غاية الجهل “منهاج السنة” (8/173-174)

جو شخص روافض کی مانند ان بارہ خلفاء سے مراد بارہ اماموں کا عقیدہ رکھتا ہے وہ انتہائی جہالت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بارہ عادل خُلفاء میں سے ہیں

جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بارہ خلیفوں کے گزرنے تک اسلام غالب رہے گا اور وہ قریش سے ہوں گے۔

( صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب باب الامارۃ)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں:

اس سے مراد وہ خُلفاء ہیں کہ والیانِ اُمّت ہوں اور عدل و شریعت کےمطابق حکم کریں، ان کا متصل مسلسل ہونا ضرور نہیں۔ نہ حدیث میں کوئی لفظ اس پر دال ہے، اُن میں سے خلفائے اربعہ وامام حسن مجتبٰے و امیر معاویہ و حضرت عبداللہ بن زبیر و حضرت عمر بن عبدالعزیز معلوم ہیں اور آخر زمانہ میں حضرت سیدنا امام مہدی ہوں گے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔

یہ نو ہوئے باقی تین کی تعین پر کوئی یقین نہیں۔

واللہ تعالٰی اعلم۔

(فتاوی رضویہ ، جلد 27)

سوال: *اہل سنت کی کتابوں میں* “” *بارہ خلیفہ*”” والی حدیث کس طرح نقل ہویی ہے ؟

تفصیلی جواب: رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد بارہ امام اور خلیفہ والی احادیث کو اہل سنت نے اپنی صحاح اور مساندی میںجابر، سمره اور دیگرروات سے نقل کیا ہے ۔ یہ حدیثیں اسلامی فرقوں کے نزدیک اس قدر مشہور ہوییں کہ ان میں کویی شک و شبہ باقی نہیں رہ گیا ہے ، ہم یہاں پر ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

١۔ بخاری نے اپنی سند کے ساتھ جابر بن سمره سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: “”یکون اثنا عشر امیرا، فقال کلمه لم اسمعھافقال ابی : انہ قال : کلھم من قریش “” ۔ میرے بعد امیر ہوں گے ، اس کے بعد آپ نے ایک بات کہی جو میں نے نہیں سنی، میرے والد نے کہا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : وہ سب قریش سے ہوں گے (١) ۔

٢۔ مسلم نے اپنی سند کے ساتھ جابر بن سمره سے نقل کیا ہے کہ جابر نے کہا : میں اپنے والد کے ساتھ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں گیا تومیں نے سنا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرمارہے ہیں : “”ان ھذا الامر لا ینقضی حتی یمضی فیھم اثناعشر خلیفہ : قال : ثم تکلم بکلام خفی علی ، قال : فقلت لابی ما قال ؟ قال : کلھم من قریش “” ۔ یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا یہاں تک کہ ان کے درمیان بارہ خلیفہ آییں گے ، اس کے بعد آپ نے کچھ کہا جو میں سن نہیں سکا تو میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کیا کہا : میرے والد نے جواب میں کہا : وہ بارہ خلیفہ قریش سے ہوں گے (٢) ۔

٣۔ مسلم نے جابر سے نقل کیا ہے کہ جابر کہتے ہیں میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو فرماتے ہویے سنا: لا یزال امر الناس ماضیا ما ولیھم اثنا عشر رجلا، ثم تکلم النبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بلکمه خفیت علی فسالت ابی ماذا قال رسول اللہ ؟ فقال : کلھم من قریش “” ۔ لوگوں کے کام جاری و ساری رہیںگے یہاں تک کہ بارہ امام ان کے اوپر حاکم ہوں گے ، اس کے بعد انہوں نے ایک کلمہ کہا جس کو میں سن نہیں سکا میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کیا فرمایا ہے : انہوں نے کہا کہ سب کے سب قریش سے ہوں گے (٣) ۔

٤۔ جابر سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: “”لایزال الاسلام عزیزا الی اثنی عشر خلیفه، ثم قال کلمه لم افھمھا فقلت لابی ما قال؟ فقال : کلھم من قریش”” اسلام عزیز باقی رہے گا یہاں تک کہ اس پر بارہ خلیفہ حاکم ہوں گے ، اس کے بعد آپ نے ایک کلمہ کہا جس کو میں نہیں سمجھ سکا ، میں نے اپنے والد سے پوچھا رسول خدا نے کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے : وہ سب قریش سے ہوں گے (٤) ۔

٥۔ نیز جابر سے نقل ہوا ہے کہ جابر نے کہا : میں اپنے والد کے ساتھ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا ، میں نے سنا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرمارہے ہیں : “”لایزال ھذا الدین عزیزا منیعا الی اثنی عشر خلیفہ، فقال کلمه صمنیھا الناس فقلت لابی ما قال ؟ قال : کلھم من قریش “” ۔ یہ دین اس وقت تک باقی اور قایم ہے جب تکہ بارہ خلیفہ نہ آجاییں ، اس کے بعد آپ نے ایک بات کہی ، لوگوں کے شور کی وجہ سے میںاس بات کو سن نہیں سکا ، میں نے اپنے والد سے عرض کیا : آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کیا فرمایا ہے : میرے والد نے کہا ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ وہ سب قریش سے ہوں گے (٥) ۔

٦۔ سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں : میں نے جابر بن سمره کو لکھا کہ مجھے ان باتوں کی خبر دو جن کو تم نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا ہے ، انہوں نے مجھے لکھا : جمعہ کے روز جس رات میں اسلمی کو رجم کیا گیا تھا میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے سنا کہ آپ نے فرمایا: “” لا یزال الدین قایما حتی تقوم الساعه او یکون علیکم اثنا عشر خلیفه کلھم من قریش”” ۔ دین ہمیشہ دایم و قایم ہے یہاں تک کہ بارہ خلیفہ تم پر حکومت کریں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے (٦) ۔

٧۔ طبرانی نے جابر سے نقل کیا ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس تھا ، آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : “” یکون لھذہ الامه اثنا عشر قیما، لا یضرھم من خذلھم، ثم ھمس رسول اللہ بکلمه لم اسمعھا فقلت لابی : ماالکلمه التی ھمس بھا النبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ؟ قال : کلھم من قریش “” ۔ میری امت کے بارہ امیر ہیں اور لوگوں کی برایی ان کو کویی نقصان نہیں پہنچایے گی اس کے بعد آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جس کو میں سن نہیں سکا ، میں نے اپنے والد سے کہا : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے آہستہ سے کیا فرمایا ہے : انہوں نے کہا : آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے : وہ سب قریش سے ہوں گے (٧) ۔

٨۔

جابر سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : “” لا یزال ھذا الامر ظاھرا علی من ناواہ لا یضر مخالف و لا مفارق حتی یمضی من امتی اثنا عشر خلیفه من قریش”” ۔ ہمیشہ یہ دین اپنے مخالفین پر غالب اور اپنی جگہ پر قایم و دایم ہے ، یہاں تک کہ اس کے بارہ خلیفہ مالک ہوں گے ، پھر لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا جس کی وجہ سے میں یہ نہیں سن سکا کہ آپ نے “”کلھم”” کے بعد کیا فرمایا ہے میں نے اپنے والد سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے (٨) ۔

٩۔ احمد بن حنبل نے بھی جابر بن سمرہ سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ہمارے سامنے جو خطبہ ارشاد فرمایا اس میں کہا :””لا یزال ھذا الامر عزیزا منیعا ظاھرا علی من ناواہ حتی یملک اثنا عشر کلھم۔ قال فلم افھم ما بعد قال: فقلت لابی ما قال؟ قال کلھم من قریش “” ۔ یہ دین ہمیشہ قایم و دایم ہے یہاں تک کہ میرے بارہ خلیفہ آییں گے اس کے بعد آپ نے کچھ فرمایا جس کو میں نہیں سن سکا کیونکہ لوگوں نے شوروغل کردیا تھا ، میں نے اپنے والد سے کہا : آنحضرت نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: کلھم من قریش (٩) ۔

١٠۔ دوسری حدیث میں جابر کہتے ہیں : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کلام کے بعد لوگوں نے تکبیر کہی اور چیخ ماری ….(١٠) ۔

١١۔ نیز جابر نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے عرفات میں اور ایک قول کی بناء پر منی میں خطبہ دیا اور فرمایا : لن یزال ھذا الامر عزیزا ظاھرا حتی یملک اثنا عشر، کلھم، ثم لغط القوم و تکلموا فلم افھم قولہ بعد (کلھم) ۔ فقلت لابی : یا ابتاہ ! ما بعد کلھم ؟ قال کلھم من قریش””۔ ہمیشہ یہ دین نافذ اورغالب ہے یہاں تک کہ بارہ نفر حاکم ہوںگے ، اس وقت سب لوگوں نے شورکرنا شروع کردیا اور بہت زیادہ شور وغل ہوگیا لہذا میں یہ نہیں سن سکا کہ “”کلھم”” کے بعد کیا فرمایا، میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کیا فرمایا : انہوں نے کہا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے (١١) ۔

١٢۔ نیز پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : “”لایزال ھذا الدین عزیزا منیعا …”” الی اثنی عشر خلیفه۔ قال : فجعل الناس یقومون و یقعدون”” یہ دین قایم و دایم ہے … یہاں تک کہ بارہ خلیفہ آییں گے ، پھر لوگوں نے کھڑے ہونا اور بیٹھنا شروع کردیا (١٢) ۔ (١٣) ۔

حوالہ جات:

١۔ صحیح بخاری ، ج ٨، ص ١٢٧، کتب الاحکام، باب الاستخلاف، ح ٧٢٢٣۔

٢۔ صحیح مسلم، ج ٦، ص ٣، شرح صحیح مسلم، ج ١٢، ص ٢٠١۔

٣۔ صحیح مسلم، ج ٦، ص ٣، شرح صحیح مسلم، ج ١٢، ص ٢٠١۔

٤۔ صحیح مسلم، ج ٦، ص ٣۔

٥۔ صحیح مسلم، ج ٦، ص ٣۔

٦۔ صحیح مسلم، ج ٦، ص ٣۔

٧۔ المعجم الکبیر، ج٢، ص ١٩٦، ح ١٧٩٤۔

٨۔ المعجم الکبیر، ج٢، ص ١٩٦، ح ١٧٩٦۔

٩۔ مسند احمد ، ج ٥، ص ٩٣، ح ٢٠٩٢٣۔

١٠۔ مسند احمد ، ج ٥، ص ٩٣، ح ٢٠٩٢٣۔

١١۔ مسند احمد ، ج ٥، ص ٩٩۔

١٢۔ مسند احمد ، ج ٥، ص ٩٩۔

١٣۔ علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبھات (٢) ، ص ٢٥٣)