صحابہ کرامؓ کے بارے میں احتیاط

صحابہ کرامؓ کے بارے میں احتیاط

امت میں حضرات صحابہ کرامؓ کا ایک خاص درجہ و مقام ہے کہ انہیں کے ذریعہ دین ہم تک پہنچا ہے اور ان ہی کی قربانیوں اور جاں نثاریوں سے اسلام کا شجر طوبی پر واں چڑھا ہے ؛ اسی لئے آپ ﷺ نے ان کو امت کا سب سے بہتر طریقہ قراردیا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایاکہ میرے عہد کے مسلمان بہترین مسلمان ہیں ، پھر ان کے بعد آنے والے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں :”خیر القرون قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم” ۔( مجمع الزوائد : ۱۰ / ۲۰ ، مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
” میرے صحابہؓ کو برا بھلا نہ کہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کروتو وہ ان کے ایک مُد بلکہ ا س کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا”۔ (مسلم ، حدیث نمبر : ۲۵۴۰ ، بخاری ، حدیث نمبر : ۳۶۷۳)
ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
” لوگو ! میرے صحابہؓ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ، جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان بغض رکھا ، اس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ، جس نے ان کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑلے “۔
اس لئے حضرات صحابہؓ کے بارے میں بہت احتیاط چاہئے اور ہمیشہ سوءِ کلام اور سوءِ گمان سے بچنا چاہئے ؛ چنانچہ اگر کوئی شخص صحابہؓ کی شان میں بد گوئی کرے تو اس کے فاسق العقیدہ ہونے میں تو کوئی کلام ہی نہیں ؛ لیکن تکفیر میں اختلاف ہے ، فقہاءِ احناف میں عبدالرشید طاہر البخاریؒ نے لکھا ہے کہ ” اگر کوئی شخص رافضی شیخینؓ کی شان میں گستاخی کرے اور لعنت بھیجے تو وہ کافر ہے” ۔(خلاصۃ الفتاوی : ۴/۳۸۱)
ملا علی قاریؒ نے بھی مشائخ سے اس طرح کی بات نقل کی ہے ؛ لیکن اس کو از روئے قواعد مشکل قرار دیا ہے ۔ (شرح فقہ اکبر ، ص : ۲۲۹)
فقہاءِ مالکیہ میں علامہ دردیرؒ نے ایسے شخص کو کافر تو قرار نہیں دیا ہے ؛ لیکن صحابہؓ اور اہل بیتؓ کی تنقیص کرنے والوں کو شدید تعزیر کا مستحق قرار دیا ہے ۔ ( الشرح الصغیر : ۴/۴۴۴)
علامہ صاوی مالکیؒ نے نقل کیا ہے کہ قول معتمد یہ ہے کہ خلفائے اربعہؓ کی اہانت یا تکفیر کی وجہ سے کفر کا فتویٰ تو نہیں لگایا جائے گا ؛البتہ تعزیر کی جائے گی ؛ لیکن سحنون مالکیؒ نے خلفائے اربعہؓ کو کافر کہنے والوں کو مرتد قرار دیا ہے ، نیز صاویؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو تمام صحابہؓ کی تکفیر کرے وہ بالاتفاق کافر ہے ۔ ( حاشیہ صاوی علی الشرح الصغیر : ۴/۴۴۴ – ۴۴۳ (۱۷) نہایۃ السول للأسنوی ، ص : ۳۶۷)
غرض اگر از راہِ احتیاط صحابیؓؓ کی شان میں گستاخی کو کفر قرار نہ دیا جائے تب بھی اس کے قریب بہ کفر ہونے میں شبہ نہیں ؛ اسی لئے سلف نے مشاجرات صحابہؓ پر گفتگو کرنے سے بھی منع کیا ہے ، افسوس کہ گذشتہ نصف صدی میں بعض ایسی کتابیں منظر عام پرآئی ہیں جن میں ناحق صحابہؓ کے اختلاف کو زیر بحث لایاگیا ہے اور آخر یہ بحث کہیں تو ناصبیت کے درجہ کو پہنچ گئی ہے اور کہیں اس کی سرحد تشیع سے جاملی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا عمل خدمت نہیں بلکہ بد خدمتی ہے اور ایک ایسی راہ پر بے احتیاطی سے قدم رکھنا ہے ، جو شیشہ سے زیادہ نازک اور بال سے زیادہ باریک ہے ۔فإلی اللہ المشتکی وبہ التوفیق ۔