صحابہ اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

صحابہ اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

صحابہ کے نزدیک آپ ﷺ اپنی جان،اپنے مال ومتاع ،اپنی عزت وآبرو اوراپنی اولاد،عزیزواقارب سے زیادہ محبوب وعزیز تھے،جس کی متعدد مثالیں موجود ہیں،جن میں سے دو مثالوں کو یہاں نقل کیا جارہا ہے:
حضرت ابوبکر صدیق ؓرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب العمر صحابی ہیں،اسلام قبول کرنے اور اس کی نشر واشاعت کی محنت میں جان توڑ کوششوں کے کرنے کو دیکھ کر مکہ کے سرداروں کو چپ نہ رہا گیا،حتی کہ ایک دن آپ کو خوب زدوکوب کیا گیا ،عقبہ بن ربیعہ ان کے پاس آکر اپنے پیوند والے جوتوں سے انھیں مارنا شروع کیا،حالت یہ ہوئی کہ ناک پر گہرا زخم آیا،چہرہ پہچانانہ جاتا تھا۔
بہت دیر بعد ان کے قبیلہ بنو تمیم کوعلم ہوا،کپڑے میں لپیٹ کر گھر لایا گیا، صحت یابی کی امید یں ٹوٹ چکی تھیں،اللہ کے فضل نے دستگیری کی اور آپؓ دن کے آخری حصہ میں باہوش ہوئے،آنکھ کھلی اور زبان بولنے کے لائق ہوئی تو سب سے پہلا بول یہی تھا کہ:رسول اللہﷺ کیسے ہیں؟پاس بیٹھے لوگوں نے کوسنا اور برا بھلا کہنا شروع کیا کہ:جن کی وجہ سے یہ مصیبت آئی ہے،ہوش آیا توپھران ہی کا تذکرہ؟ان کی والدہ “امّ خیر” سے یہ کہتے ہوئے :صبح سے کچھ نہیں کھائے ہیں ،کچھ کھلا پلا دینا،لوگ اٹھ کر چلے گئے،جب گھر میں کوئی نہ رہا تو اماں نے کھانے کے لیے اصرار کیا؛لیکن حضرت ابوبکرؓکی بس ایک رٹ تھی کہ :رسول اللہﷺ کیسے ہیں؟جب والدہ نے ام جمیل بن خطاب ؓ کو بلالائیں انھوں نے بتایا کہ آپﷺ بہ خیر وعافیت ہیں،پوچھا کہاں پر ہیں؟ کہا:دار ابن ارقم میں تشریف فرماں ہیں،یہ سن کرحضرت ابو بکر ؓنے فرمایا:بخدا! میں اس وقت تک کچھ کھا پی نہیں سکتا جب تک کہ رسول اللہﷺ سے ملاقات نہ کرلوں،جب سارے لو گ اپنے اپنے گھر جاچکے ،تو دونوں نے سہارا دے کر رسول اللہ کی خدمت میں پہنچایا۔
(البدایہ:۳/۳۰)
حضرت عروہ بن زبیر ؓکی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ قریش نے حضرت خبیبؓ کو خریدا؛ تاکہ جنگ بدر میں اپنے مقتول آباء کے بدلے میں ان کو قتل کریں؛پھر جب پھانسی دینے کے لیے تختۂ دار پر چڑھا یا اور پوچھا کیا تم یہ گواراکرو گے کہ محمدﷺ تمھاری جگہ ہوں،حضرت خبیب ؓ بول پڑے :خدائے عظیم کی قسم ! مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے قتل کے بدلےمیں میرے آقا کے قدمِ مبارک میں کوئی کانٹا چبھے ۔