صحابہؓ میں مراتب

صحابہؓ میں مراتب

اہلسنت والجماعت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکرؓؓ اور آپؓ کے بعد حضرت عمرؓ تمام امت میں افضل ہیں، حضرت عمرؓ کے بعد حضرت عثمانؓ و علیؓ کا درجہ ہے ، اکثر علماء نے حضرت عثمانؓ کو افضل قرار دیا ہے اور علماء کوفہ نے حضرت علیؓ کو ۔ (مقدمہ ابن الصلاح ، ص : ۱۲۸)
امام ابو حنیفہؒ کا رجحان بھی اسی طرف بتایا جاتا ہے ؛ اسی لئے آپ نے اہلسنّت والجماعت کی علامات میں حضرات شیخینؓ کی فضیلت اور حضرت عثمانؓ وعلیؓ کی محبت کو شمار کیا ہے ۔ ( خلاصۃ الفتاوی : ۴/۳۸۱)
امام مالکؒؒ سے اس سلسلہ میں توقف منقول ہے ، نیز مشہور محدث محمد بن اسحاق بن خزیمہؒ اور خطابیؒ نے بھی حضرت علیؓ کو افضل مانا ہے ۔
خلفائے اربعہؓ کے بعد پھر ان چھ صحابہؓ کا درجہ ہے جو عشرۂ مبشرہؓ میں ہیں ،ا ن کے بعد اصحابِِ بدرؓ ، ان کے بعد اصحابِ احدؓ اور ان کے بعد حدیبیہ میں بیعت رضوان کے شرکاء کا شمار ہے ، آخر درجہ فتح مکہ اور اس کے بعد ہونے والے مسلمانوں کا ہے ، جن میں حضرت ابو سفیانؓ اور حضرت معاویہؓ وغیرہ ہیں ۔
امام حاکمؒ نیشاپوریؒ نے صحابہؓ کے بارہ طبقات بیان کئے ہیں :
۱)مکہ میں ابتداء ً اسلام قبول کرنے والے جن میں خلفائے اربعہؓ بھی داخل ہیں ۔
۲) دار الندوہ کے اصحابؓ ، یعنی جب حضرت عمرؓ اسلام لائے اور اپنے اسلام کا عام اعلان واظہار کیا تو وہ آپﷺ کو دار الندوہ لے گئے ، جہاں اہل مکہ کی ایک جماعت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ، ان حضرات کو اصحابؓ دار الندوہ کہتے ہیں ۔
۳) حبش ہجرت کرنے والے صحابہؓ ؓ۔
۴)بیعت عقبہ اول میں شریک رہنے والے صحابہؓ ۔
۵)بیعت عقبہ ثانی میں شریک رہنے والے صحابہؓ ۔
۶) وہ مہاجرینؓ جو آپ کے قباء میں رہتے ہوئے پہونچ چکے تھے ۔
۷)غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابہؓ ۔
۸)غزوۂ بدر ، صلح حدیبیہ کے درمیان ہجرت کرنے والے صحابہؓ ۔
۹)وہ صحابہؓ جو بیعت رضوان میں شریک رہے ، جن کے بارے میں قرآن مجید میں آیت نازل ہوئی:
لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْْہِمْ وَأَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاo
(الفتح :۱۸)
“اللہ ایمان والوں سے خوش ہوا جب تجھ سے بیعت کرنے لگے اس درخت کے نیچے” ۔
۱۰)صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان ہجرت کرنے والے صحابہؓ ، ان ہی میں حضرت خالد بن ولید ، حضرت عمرؓو بن العاص اور حضرت ابو ہریرہ وغیرہ ہیں ۔
۱۱)جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے ۔
۱۲)وہ کم سن صحابہؓ جنہوں نے فتح مکہ اور حجۃ الوداع وغیرہ کے موقع سے آپ کی زیارت کی ہے ، حضرت سائب بن یزید ، عبد اللہ بن ثعلبہ ، ابو الطفیل ، عامر بن واصلہ اور حضرت ابو جحیفہ وغیرہ کا شمار اسی طبقہ میں ہے ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ، ص : ۲۹ – ۳۱)
روایت کے اعتبار سے درجات
باعتبار روایت حدیث کے صحابہؓ کے تین درجات کئے گئے ہیں ، اول مکثرین جن کی روایات ہزار سے اوپرہوں ، دوسرے مقسطین جن کی روایات ہزار سے کم اور سو سے زیادہ ہوں ، تیسرے مقلین جن سے سو سے کم حدیثیں منقول ہیں، مقسطین اور مقلین کی تعداد تو بہت ہے ؛ البتہ مکثرین سات ہیں ، اور ان کے نام اور مرویات کی تعداد اس طرح ہے :
حضرت ابوہریرہؓ ۵۳۷۴
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ۲۶۳۰
حضرت انس بن مالکؓ ۲۲۸۶
حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا ۲۲۱۰
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ۱۶۶۰
حضرت جابر بن عبد اللہؓ ۱۵۴۰
حضرت ابو سعید خدریؓ ۱۱۷۰
فقہی اعتبار سے بھی بعض صحابہؓ مکثرین شمار کئے گئے ہیں ، تاہم مسروق سے منقول ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہؓ کا علم چھ صحابہؓ میں جمع ہوگیا ہے ، حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت ابی بن کعبؓ ، زید بن ثابتؓ ، ابو الدرداءؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ، بعض نے ابوالدرداءؓ کی جگہ ابو موسی اشعریؓ کا ذکر کیا ہے اور پھر ان چھ کا علم دو میں جمع ہوگیا ، حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ، امام شعبیؒ ؒسے مروی ہے کہ ان میں حضرت عمرؓ ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت ابو موسی اشعریؓ اور ابی بن کعبؓ کی آراء میں زیادہ موافقت پائی جاتی تھی ۔ (مقدمہ ابن صلاح ، ص : ۱۲۷)