شیعہ ‌اعتراض: پیغمبر اسلام ﷺ نے ابوبکر صدیقؓ کے ایمان کی گواہی نہ دی۔(معاذاللہ)

شیعہ ‌اعتراض: 

پیغمبر اسلام  ﷺ نے ابوبکر صدیقؓ  کے ایمان کی گواہی نہ دی۔ (مصفی، شرح موی” العمبرہ) 

الجواب: 

1️⃣ صاف جھوٹ اور واضح دجل ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ان کے ایمان کی تصدیق فرمائی بلکہ زور دار طریقہ سے تصدیق فرمائی ذرا دماغ کے دریچوں پر سے تعصب کا ٹین ہٹا کر اور آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار کر حدیث پاک کے الفاظ پڑھئے ورنہ کسی پڑھنے  والے سے پڑھوا لیجیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا ہم شہداء احد کے بھائی ہیں؟ کہ ہم بھی اسلام لائے جیسے وہ مسلمان ہوئے ہم نے بھی اللہ کی راہ میں جہاد کیا جیسے انہوں نے کیا

” فقال رسول الله بلی۔ 

پس آپ نے فرمایا کیوں نہیں ۔ 

ملاحظہ فرمائیے آپ نے تصدیق فرماتے ہوئے “بلی” کا لفظ ارشاد فرمایا جو حرف تصدیق ہے۔

قرآن پاک میں جہاں وعده الست کا ذکر ہے کہ جہان فانی آباد کیے جانے سے بہت پہلے تمام روحوں کو پیدا فرمانے کے بعد اللہ تعالی نے عہد لیا تھا کہ “الست بر .:

کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ 

تو تمام روحوں نے جواب میں جو تصدیقی لفظ بولا تھا وہ ہے “بلی یعنی کیوں نہیں۔ 

آپ ہی ہمارے رب ہیں اور آپ کے علاوہ ہمارا کوئی رب نہیں۔

ربوبیت الہی کی تصدیق و تصویب کے لیے جو لفظ “بلی” بولا گیا تھا حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ایمان و ایقان کی تصدیق کے لیے بھی رحمت عالم ﷺ نے وہی لفظ بلی بولا ہے۔

2️⃣ لغت کی معروف کتاب المنجد میں ہے. 

بلی حرف تصدیق ہے اور نعم (ہاں) کے معنی دیتا ہے۔ اکثر استفہام کے بعد آتا ہے اور ایجابی معنی کیلئے مخصوص ہے خواہ اس سے پہلے مثبت ھو یا منفی جیسے اقام زید کیا زید کھڑا ہوا” کے جواب میں بلی کے معنی ہیں ہاں یعنی زید کھڑا ھوا اور اقام زید کیا زید کھڑا نہیں؟  کے جواب میں بلی کے معنی ایجاب ہی کے ہیں ، یعنی ہاں ز ید کھڑا ہوا۔ (المنجد صفحہ ۱۰۱)

اس لغوی وضاحت سے یہ بات کتنی واضح ہو جاتی ہے کہ ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ کے اس قول پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی بولا جو آتا  ہی تصدیق کے لیے اور معنی ایجابی کو پیدا کرنے کے لئے ہے حدیث کی اس واضح تصدیق کے بعد بھی شیعہ رافضی کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق نہیں فرمائی دنیا کا بد ترین جھوٹ اور حدیث رسولﷺ کی واضح توہین ہے مگر آج کے دور میں کون پوچھے ایسے بدبختوں کو جو حدیث پاک کا غلط مطلب نکال نکال کر لوگوں کو بہکاتے اور حق سے مناتے ہیں کاش کوئی دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرے دار حاکم امت اسلامیہ کو نصیب ہو جاتا تو جو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس دين کو ظالموں کے پنجہ استبداد سے آزاد کراتا. 

3️⃣ البتہ لکن کے لفظ سے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ آج تک کی حالت تو وہی ہے جو ایمان اسلام جہاد میں شہدائے  احد کی تھی البتہ آئندہ کی فکر کرنی چاہیے اور آنے والے وقت میں کیا ہوتا ہے؟ یہ منجملہ مغیبات میں سے ہے جس کا عالم اللہ ہے لہذا لکن سے فرمایا لكن لا ادري ما بعدی کہ لیکن مجھے علم نہیں کہ میرے بعد تمہارے احوال کیا ہوں گے۔ اس کا علم صرف اللہ جل شانہ کو ہے اور بس۔

اب اگر لیکن سے مستقبل کے احوال سے واقف نہ ہونے کی خبر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے تو اس سے صحابہ کے ایمان سے انکار کہاں سے نکل آیا۔۔؟؟

گویا حدیث مذکورہ بالکل واضح اور صاف صاف ابوبکر رضی اللہ عنہ ومعہ صحابہ کے ایمان کی تصدیق کر رہی ہے اور ساتھ وضاحت عقیدہ کے طور پر یہ اعلان بھی کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں کیا احوال پیش آتے ہیں اس کا علم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں ۔ 

باقی رہا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا خاتمہ باخیر والا ایمان تو یہ اسی اظہر من الشمس بد ہی خبر ہے جس کا انکار ممکن نہیں نہ بغیر ایمان کے جنت میں داخلہ ممکن نہیں اور صدیق اکبرؓ تو جنت میں آرام فرماتے ہیں کہ وہ حدیث نبوی اور پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج بھی مسجد نبوی میں لکھا ہوا چمک رہا ہے کہ 

مابین بیتی و منبرى روضة من رياض الجنة. (مشکوة) 

اور اسی ریاض الجنتہ میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی آرام فرما ہیں ۔

 جس سے کسی کو انکارکی جرات نہیں ۔

قرآن و حديث کے دیگر دلائل اس کے علاوہ ہیں جو ان نفوس قدسیہ کے ایمان پر شاہد ہیں۔

4️⃣ یہاں بھی اللہ کے نبیﷺ نے حضرت صدیق اکبرؓ کے سوال پر تمام صحابہ کو تعلیم دی ہے گویا صدیق اکبرؓ کو 

مخاطب کر کے امت کو تعلیم دی کہ اپنے ایمان کی حفاظت کرنے میں کوئی شخص بھی کسی مرحلہ پر غافل نہ ہو جائے ، اور کسی ایک کو مخاطب کر کے تمام لوگوں کو تعلیم دینا صرف حدیث سے ہی نہیں قرآن سے بھی ثابت ہے۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں۔
وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ

اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے۔ کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے
(سورت الزمر 65)