شیعہ کی تعریف اور زمانہ قدیم کے شیعہ اور عصر حاضر کے شیعہ (رافضہ) میں فرق

   1۔تشیع کا لغوی معنی: نصرت اور پیروی ہے۔

یہ معنی اور مفہوم آج تشیع کے دعوے داروں میں نہیں پایا جاتا۔ یہ رافضه ہیں، جس طرح ان کو سلف صالحین نے یہ نام دیا ہے یا یہ لوگ شیع کی طرف منسوب ہیں حقیقی شیعہ نہیں.

2: لفظ تشیع قرآن کریم میں بالعموم مذموم معنی میں ذکر ہوا ہے۔ احادیث میں خصوصیت کے ساتھ اس فرقے کا ذکر نہیں ہوا، ما سوائے چند ضعیف روایات کے، ان میں بھی رافضہ کا ذکر بہ طور مذمت ہی ہوا ہے۔

 3۔ شیعہ کے کئی ارتقائی مراحل، فرقے اور درجات ہیں، جن میں کچھ غلو میں مکمل طور پر ڈوبے ہوئے ہیں تو کچھ اس میں اعتدال پسند ہیں۔ اسی لیے تشیع میں پہلے لوگوں کے ہاں غلو کا مفہوم، بعد والے لوگوں میں رائج مفہوم سے مختلف ہے، بلکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عصر حاضر کے شیعہ کے جملہ عقائد ان کے چوتھی صدی کے بزرگوں کے نزدیک شیعیت میں غلو خیال کیے جاتے تھے، تو پہلے شیعہ کے نزدیک وہ کیا ہوں گے؟

لہذا شیعہ کی تعریف ان کے آغاز کے مختلف ادوار و اطوار اور ان کے اعتقادی ارتقائی مراحل کے ساتھ منسلک ہے۔ ماضی میں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر فوقیت دیتا تھا، وہ شیعہ کہلاتا تھا لیکن جب شیعہ کے علماء نے کلینی، قمی، مجلسی اور ان کی طرح کے لوگوں کی کتابوں کو اپنے معتبر مصادر ومراجع قرار دیا تو شیعیت میں غلو پھیل گیا اور اس کا سفینہ انتہا پسندی اور تفریط کے ساحل پر لنگر انداز ہو گیا، حتی کہ ہم نے دیکھا کہ عصر حاضر کا ان کا سب سے بڑا مرجع تقلید خوئی، ابراہیم قمی، کی اپنی تفسیر میں ذکر کردہ روایات کو ثقہ قرار دیتا ہے، حالاں کہ وہ کفریات پرمشتمل ہیں۔

آج جو شخص شیعہ کے معاملے میں کسی شک اور تردد کا شکار ہے، اس کے لیے اتنا ہی کافی ہوگا کہ وہ اس کتاب کو ملاحظہ کر لے، جو شیعہ کے نزدیک معتبر کتاب ہے، تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ عصر حاضر کے شیعہ نے اپنے لیے جو دین پسند کیا ہے، وہ اسلام نہیں، بلکہ کوئی دوسرا دین ہے!!

  4۔ نام کے شیعہ علماء نے ایرانیوں، رومیوں، یونانیوں، عیسائیوں، یہودیوں اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ادیان و مذاہب سے بہت سارے امور لیے اور ان کو تشیع کے رنگ میں رنگ دیا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مصداق ہو گئے کہ اس امت کے بعض لوگ سابقہ امتوں کی سنتوں اور طریقوں کی پیروی کریں گے۔

شیعہ کے بعض اصول اور نظریات کو اسلامی معاشروں میں پھیلانے کا آغاز ابن سباء اور اس کے پیروکاروں کے ہاتھوں ہوا، لیکن کوفہ کے ایک چھوٹے سے گروہ کے سوا باقی کسی اسلامی علاقے میں ان کو پذیرائی مل سکی، پھر حضرت علیؓ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت جیسے واقعات کی وجہ سے ان کے لیے تشیع کی آڑ عالم اسلام میں اپنا کام اور مذہب پھیلانا آسان ہوگیا۔


مزید پڑھیں

عبداللھ ابن سبا کون تھا؟

عبداللہ ابن سبا حقیقت یا افسانہ (تحقیق)

بانی مذہب شیعہ عبداللہ بن سباء کی حقیقت ایک سابقہ شیعہ عالم کی زبانی


5۔ شیعہ بہت زیادہ فرقوں میں تقسیم ہو گئے ۔ بعض نے ذکر کیا ہے کہ ان کی تعداد تین سو تک پہنچ گئی۔ یہ آج تین رجحانات میں منقسم ہیں:

1.اسماعیلی

2.زیدیہ

3.اثناء عشریہ۔

اثناء عشریہ یہ سب سے بڑا فرقہ ہے اور ان کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔

ایک بات غور طلب ہے، جو ایک مستقل بحث کے لائق ہے کہ تاریخ کے مختلف مراحل میں ظاہر ہونے والے کسی بھی شیعہ فرقے نے جو بھی رائے اور نظریہ قائم کیا، آپ کو آج اثنا عشریہ کے ماخذ میں غالباً اس کی دلیل اور شاہد مل جائے گا حتی کہ ابن سبا، مختار بن عبید ثقفی، بیان بن سمعان اور مغیرہ بن سعید جیسے غالیوں کے پنڈتوں کی آرا بھی آپ کو ان کے مصادر میں مل جائیں گی۔

  6۔ اثناعشریہ، رافضہ جعفریہ اور امامیہ کے القاب سے پکارے جاتے ہیں، ان کو قطعیہ اور موسویہ بھی کہا جاتا تھا۔ ایک جماعت کا یہ موقف ہے کہ آج جب شیعہ کی اصطلاح مطلقا بولی جائے تو اس سے یہی مراد ہوتے ہیں۔ پھر اثناعشریہ کی کوکھ سے کئی فرقوں نے جنم لیا ، جیسے : شیخنیہ ، کشفیہ اور بابیہ وغیرہ ہیں۔ :

  7۔ شیعہ اپنے شذوز اور انحراف پر استدلال کرنے کے لیے ہر رجحان اور جہت پر چل نکلتے ہیں۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ان کے مذہب پر دلالت کرنے والی قرآنی آیات کو صحابہ کرام نے حذف کر دیا تھا، تو کسی وقت یہ باطنی تاویلات کا سہارا لیتے ہیں، جن کی کوئی دلیل نہیں ہوتی اور کبھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے مذہب پر دلالت کرنے کے لیے ان کے ائمہ پر الٰہی کتابیں نازل ہوتی ہیں۔

کسی موقع پر اہل سنت کی اسناد سے مروی روایات کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں، جو یا جھوٹی ہوتی ہیں یا صحیح ہوتی ہیں تو ان کے مذموم دعوے پر دلالت ہی نہیں کرتیں۔

یہاں ان کے پاس اتنے مکارانہ حیلے ہیں کہ یہودی بھی جن کا عشر عشیر نہیں جانتے۔ یہ تمام مکاریاں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ فرقہ اپنے مذہب کو شرعی اصول کے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے سے عاجز ہے۔

 8۔ شیعہ 260ھ سے لے کر ایک معدوم کی پیروی کر رہے ہیں، جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ لوگ اپنے علماء کے شیعہ اور پیرو کار ہیں، اہل بیت کے شیعہ نہیں ، بلکہ یہ شیطانوں کی پیروی کرتے ہیں، جو ان کے سامنے امام غائب کی صورت میں حاضر ہوتے ہیں، جس طرح ان کی روایات مشہور ہیں، جو اس معدوم کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرتی ہیں۔