شیعیت کا پہلا اصول: توحید (توقیر احمد)

💚اہلتشیع کا اصول الدین

التوحید

توقیر احمد

بنام مفتی عبدالعزیزعزیزی دامت براکاتھم

👈فہرست

👈اہل اسلام کی توحید

👈عبادت کا مفہوم

👈ہر قسم کی عبادت صرف اللہ کے لئے ہے

👈غیبی مدد کے لیے پکار صرف اللہ کے

👈عبادت کی طرح پکار بھی صرف اللہ کے لئے ہے

👈مصیبت کے وقت ہر دور کے رسول اور مومنین اللہ ہی کو پکارتے تھے

👈منت صرف اللہ کا حق ہے

👈پریشان حال کی پکار کو قبول کر کے اللہ ہی مصیبت دور کرتا ہے

👈غیبی مدد کے لیے پکار صرف الل

👈درباروں کا حج بیت اللہ کے حج سے بڑا عمل ہے

👈عرفات کے دن کربلا کی زیارت

👈قبرے حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت تمام اعمال سے افضل ہے

👈بقول شیعہ کربلا کعبہ سے افضل ہے

👈حسین رضی اللہ عنہ کے زائرین کے پاس فرشتے آتے ہیں اور ان سے اللہ تعالی سرگوشیاں کرتا ہے

👈قبروں کا طواف

👈ترجمہ۔ کھڑے ہو کر پانی نہ پئیں اور نہ قبر پر طواف کر جس نے ایسا کام کیا وہ اپنا  سوا کسی کو ملامت نہ کرے

👈قبرکے پاس نماز

👈قبروں پر اوندھا گرنا

👈ترجمہ۔ اس بات کے بیان میں باب کے اس کی قبر کے پاس کونسا فعل بجالانا مستحب ہے

ْ👈خلاصہ عنوانات

👈شیعہ کا نقوش و رموز کے ساتھ پکارنا اور نامعلوم سے فریاد رسی کرنا

👈شیعہ کا جاہلیت کے تیروں سے مشابہ اشیاء کے ساتھ استخارہ کرنا

👈اثبات میں غلو کی گمراہی جسے تجسیم وتعطیل کہا جاتا ہے

👈نوٹ۔

👈تعطیل

👈نوٹ۔

👈نتیجہ۔

👈شیعہ مذہب کا پہلا اصل توحید

👈اہل اسلام کی توحید

اسلام میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ذات و صفات میں وحدہٗ لاشریک ہے یعنی نہ اس کی ذات کے برابر کوئی ذات ہے اور نہ ہی اس کی صفات میں کوئی ذاتی یا عطائی طور پر اس کا شریک ہے

وہی الحی القیوم یعنی ہمیشہ زندہ اور قائم ذات ہے ۔السمیع ہر آواز سننے والا البصیر کائنات کی ہر چیز دیکھنے والا العلیم کائنات کی ہر چیز جاننے والا

اور مخلوق کی ہر زبان سمجھنے والا یعنی حاضر ناظر اور عالم الغیب وہی ہے القادر جو چا ہے کرنے والا الصمد بےنیاز یعنی کسی کا حاجت مند نہیں ہے اس لئے وہی عبادت کے لائق ہے اور اس کے سوا مخلوقات میں سے کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے کیونکہ عبادت اس ذات کی برحق ہے جس میں غیبی طاقت یعنی مافوق الاسباب طاقت موجود ہو اور وہ ذات کسی بھی ظاہری سبب کی محتاج نہ ہو وہ ذات اپنی غیبی طاقت یعنی مافوق الاسباب طاقت سے ہی ہر حاجت مند کی حاجت روائی مشکل زدہ کی مشکل کشائی کر سکتی ہو اور وہی ذات غیبی مدد گار ہے جس کی وجہ سے اس کی عبادت کی جاتی ہو

👈👈عبادت کا مفہوم

عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی ذات میں غیبی طاقت یعنی مافوق الاسباب طاقت تصور کرکے اس کو غیبی مدد گار سمجھ کر اور اس کو

👈الحی ہمیشہ زندہ

👈السمیع ہر آواز سننے والا

👈القیوم موجود

👈البصیر ہر چیز دیکھنے والا

👈العلیم ہرایک کے حال اور اور ہر زبان کو جاننے والا

👈القادر مراد پوری کرنے کی طاقت رکھنے والا ۔سمجھ کر اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار کرنا عبادت ہے

👈اور اس کو غیبی مدد کے لیے پکارنا لسانی عبادت ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے👈 الدعاء مخع العبادة۔ دعا عبادت کا مغز ہے

👈اسی کے سامنے سجدہ رکوع کرنا اس کے حکم کے مطابق اس کے لئے سجدہ رکوع کرنا جسمانی عبادت ہے

👈اس کے نام پر مال تقسیم کرنا مثلا اسی کے نام کا نذرونیاز سبیل کرنا اسی کے نام پر کوئی جانور نامزد کرنا اور پھل  میں سے حصہ نکالنا دودھ یا مٹھائی تقسیم کرنا اس کے نام پر دیگ پکانا یہ مالی عبادت ہے

اور اشہد اللہ الہ الا اللہ اللہ کہنے والا اعلان کرتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں یعنی پکی بات کرتا ہوں کے میری عبادت کا اللہ کے سوا کوئی لائق نہیں ہے

👈ہر قسم کی عبادت صرف اللہ کے لئے ہے

Surat No 6 : Ayat No 162

👈قُلۡ  اِنَّ صَلَاتِیۡ  وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ   لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙ

آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے ۔

👈غیبی مدد کے لیے پکار صرف اللہ کے لئے ہے

Surat No 13 : Ayat No 14

👈لَہٗ  دَعۡوَۃُ   الۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ  یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَجِیۡبُوۡنَ لَہُمۡ بِشَیۡءٍ  اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُغَ فَاہُ وَ مَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ وَ مَا دُعَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ  اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۱۴﴾

اسی کو پکارنا حق ہے  ، جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان  ( کی پکار ) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں پڑ جائے حالانکہ وہ پانی اس کے منہ میں پہنچنے والا نہیں  ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے ۔

👈ترجمہ مقبول۔مصیبت کے وقت اس کا پکارنا ٹھیک پکارنا ہے اور جو لوگ اسے چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں وہ تو انکی کچھ سنتے تک نہیں مگر جس طرح کوئی شخص اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائیں تاکہ پانی اس کے منہ میں خود پہنچ جائے حالانکہ وہ اسی طرح پہنچنے والا نہیں اور اسی طرح کافروں کی دعا گمراہی میں پڑی بہکی فراق کرتی ہے

👈ترجمہ فرمان علی شیعہ

👈عبادت کی طرح پکار بھی صرف اللہ کے لئے ہے

Surat No 1 : Ayat No 4

👈اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾

ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں  ۔

👈Surat No 8 : Ayat No 10

وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ  اِلَّا بُشۡرٰی وَ لِتَطۡمَئِنَّ بِہٖ قُلُوۡبُکُمۡ ۚ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ  اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾ 15

اور اللہ تعالٰی نے یہ امداد محض اس لئے کی کہ بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہو جائے اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے  جو کہ زبردست حکمت والا ہے ۔

👈👈مصیبت کے وقت ہر دور کے رسول اور مومنین اللہ ہی کو پکارتے تھے

مثال

👈Surat No 2 : Ayat No 214

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ  اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ  وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ  قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾

کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے  انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سُن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے ۔

👈منت صرف اللہ کا حق ہے

Surat No 2 : Ayat No 270

👈وَ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ اَوۡ نَذَرۡتُمۡ مِّنۡ نَّذۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُہٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ  اَنۡصَارٍ ﴿۲۷۰﴾

تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو  اسے اللہ تعالٰی بخوبی جانتا ہے ، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔

👈ترجمہ فرمان علی شیعہ ۔اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو یا کوئی منت مانو خدا اس کو ضرور جانتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ ظالموں کا یعنی جو خدا کا حق مار کر اوروں کی نزر کرتے ہیں قیامت میں کوئی مددگار نہ ہو گا

👈پریشان حال کی پکار کو قبول کر کے اللہ ہی مصیبت دور کرتا ہے

👈   Surat No 27 : Ayat No 62

👈اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ  خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾

بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے  کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے ؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنانا ہے  کیا اللہ تعالٰی کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو ۔

ترجمہ فرمان علی شیعہ۔ بھلا وہ کون ہے کہ جب مضطر پریشان حال اسے پکارے تو وہ دعا قبول کرتا ہے اور مصیبت کو دور کرتا ہے اور تم لوگوں کو زمین میں ایک دوسرے کا نائب بناتا ہے تو خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ہرگز نہیں اس پر بھی تم لوگ بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو

👈👈خلاصہ

👈غیبی مدد کے لیے پکار صرف اللہ کا حق ہے

👈پریشان حال کی پکار کو قبول کرکے اللہ مصیبت دور کرتا ہے

👈منت صرف اللہ ہی کا حق ہے

👈ہر دور کے ہر رسول اور تمام مومنین نے غیبی مدد کے لئے صرف اللہ ہی کو پکارا ہے

👈اللہ کے سوا کسی سے غیبی مدد ہو ہی نہیں سکتی

👈غیبی مدد کے لیے مخلوق میں سے کسی کو پکارنا پانی کو پکارنے کی طرح ہے طرح پانی کسی کی پکار پوری نہیں کر سکتا اسی طرح مخلوق میں سے کوئی بھی غیبی مدد کے لیے پکارنے والے کی پکار کو پورا نہیں کر سکتے

اسلام میں توحید کے مفہوم کو سمجھنے کے بعد اب ہم مذہب شیعہ کی کتابوں سے کچھ عبارتیں نقل کرکے دیکھتے ہیں کہ شیعہ مصنفین نے توحید باری تعالیٰ کا کتنا لحاظ رکھا ہے

👈شیعہ مذہب کا پہلا اصول توحید

👈👈۔توحید کی وہ آیات جو شیعہ نے ولایت ائمہ پر محمول کی ہیں

١👈سب سے پہلے ہم وہ قرآنی آیات جو خدا واحد کی عبادت کا حکم دیتے ہیں انہوں نے ان کا معنی حضرت علی اور ائمہ کی امامت میں تبدیل کر دیا ہے اور وہ نصوص جو شرکت سے منع کرتی ہیں انہوں نے ان سے مقصود آئمہ کی ولایت میں شرکت ٹہرانہ قرار دیا ہے

👈١۔ ۔پہلی آیت

وَ لَقَدۡ  اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ  اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾

یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے  ( کے تمام نبیوں ) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو ضیاع کاروں میں سے ہو جائے گا ۔

👈البرہان کے مصنف نے تفسیر قرآن میں اس سابقہ آیت کی تفسیر میں اس مذکورہ مفہوم کی چار روایات درج کی ہیں

👈البرہان جلد 4 صفحہ 83

👈اس آیت کا شان نزول شیعہ مفسرین نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے

اللہ تعالی نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے لئے ولی متعین کیا تو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر چغلی لگائی کہ اس کی ولایت میں پہلے اور دوسرے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو بھی شریک کر لیں تاکہ لوگ آپ کی بات سے مطمئن ہوجائے اور آپ کی تصدیق کریں پھر جب اللہ تعالی نے یہ آیت

👈یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ۔۔۔

👈اے رسول پہنچا دے جو کچھ تیری طرف  تیرے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے

نازل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے شکایت کی کہ لوگ میری تکذیب کرتے ہیں اور میری بات نہیں مانتے تو پھر اللہ تعالی نے یہ آیت

👈لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین ۔۔

👈بلاشبہ اگر تونے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا

👈البرھان جلد 4 صفحہ 83

👈ہم اس آیت کا سیاق و سباق اور تفسیر ذکر کرتے ہیں تاکہ قاری ان کے قرآن کریم میں تحریف کی حدود اور دین کی عظیم بنیاد توحید میں تبدیلی کرکے دین اسلام میں تحریف کی سازش کا ادراک کر سکے

Surat No 39 : Ayat No 64

👈قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ  تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ  اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾

آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو ۔

👈  Surat No 39 : Ayat No 65

وَ لَقَدۡ  اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ  اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾

یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے  ( کے تمام نبیوں ) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیا کاروں میں سے ہو جائے گا ۔

Surat No 39 : Ayat No 66

👈بَلِ اللّٰہَ  فَاعۡبُدۡ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۶﴾

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر  اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا ۔

👈مشرکین نےجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتوں کی پوجا پر مبنی اپنے دین کی دعوت دی اور کہا گیا تیرے آباواجداد کا دین ہے تو اللہ تعالی نے اپنے نبی سے کہا کہ مشرکوں کو یہ جواب دیں

👈تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 8

👈تفسیر البغوی جلد 4 صفحہ 283

👈تفسیر طبری جلد 24 صفحہ 24

👈تفسیر قرطبی جلد 15 صفحہ 276۔277

👈البحر المحیط ۔جلد 7 صفحہ 438

👈فتح القدیر جلد 4 صفحہ 473

👈روح المعانی جلد 24 صفحہ 23 24

👈اس آیت کا معنیٰ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بالکل واضح ہے اور یہ صرف اس شخص پر مشتبہ ہوسکتا ہے جو ہوائے نفس کا غلام اور خود غرض اور اس کی خواہش پرستی نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہو اور وہ حق کو دیکھنے سے قاصر ہوں اس کا سب سے بڑا مقصد اور اہم فکر اپنے دعوی امامت کی سند تلاش کرنا تھی اس لیے یہ اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارتے رہے اور دین اور شریعت تو ایک طرف رہی ان کا استدلال لغت یا عقل کی کسی دلیل پر بھی مبنی نہیں

👈👈دوسری آیت

👈 Surat No 40 : Ayat No 12

ذٰلِکُمۡ  بِاَنَّہٗۤ  اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ  وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ  لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾

یہ  ( عذاب )  تمہیں اس لئے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے  تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے ۔

آیت کی تفسیر میں ابو جعفر سے مروی ہے کہ تم علی کی ولایت کا انکار کرتے ہو اور جس کی ولایت نہیں اس کو اس کی ولایت میں شریک کرتے ہو اور اس پر ایمان رکھتے ہو بس حکم تو بلند و بالا اور بہت بڑے اللہ ہی کے لیے ہے

👈کنز جامع الفوائد صفحہ 277

👈بحارالانوار جلد 23 صفحہ 363

👈تفسیر القمی جلد 2 صفحہ 256

👈اصول الکافی جلد 1 صفحہ 461

👈البرھان جلد 4 صفحہ 93 94

👈تفسیر الصافی جلد 4 صفحہ 337

👈 Surat No 40 : Ayat No 12

ذٰلِکُمۡ  بِاَنَّہٗۤ  اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ  وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ  لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾

یہ  ( عذاب )  تمہیں اس لئے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے  تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے ۔

👈سیاق آیت واضح ہے مشرکین ایک اللہ کی عبادت سے اعراض کرتے ہیں دراصل یہ الفاظ مشرکین کی بات کا جواب ہے جب انہوں نے جہنم سے نکالنے اور دوبارہ دنیا میں بھیجنے کی درخواست کی اور کہا

👈فھل الی خروج من سبیل  کیا اس سے نکلنے کی کوئی راہ ہے تو ان کو یہ جواب دیا گیا

Surat No 40 : Ayat No 12

ذٰلِکُمۡ  بِاَنَّہٗۤ  اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ  وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ  لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾

یہ  ( عذاب )  تمہیں اس لئے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے  تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے ۔

👈یہ آیت ماقبل آیات سے ملکر آخرت میں مشرکوں کی سزا کی خبر دیتی ہے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے وہ اس سے کبہی نہیں نکلیں گے اور وہ دنیا میں لوٹ جانے کی درخواست کریں گے لیکن ان کے اللہ تعالی کی عبادت میں شرک کرنے کی وجہ سے ان کی درخواست قبول نہیں ہوگی

👈تفسیر الطبری جلد 24 صفحہ 48

👈تفسیر البغوی جلد 4 صفحہ 93

👈تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 79 80

👈فتح القدیر جلد 4 ص 484

👈تفسیر القاسمی جلد 14 صفحہ 227

👈تیسیر الکریم الرحمن جلد 6 صفحہ 512

👈👈تیسری آیت

👈Surat No 27 : Ayat No 60

اَمَّنۡ  خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ  لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ ﴿ؕ۶۰﴾

بھلا بتاؤ تو؟  کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دئیے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہرگز نہ اگا سکتے ،   کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں ( سیدھی راہ سے ) ۔

👈اس آیت کی تفسیر میں بھی ان کی روایات اس گمراہ منہج اور تاویل فاسد کی راہ پر گامزن ہے ابو عبداللہ سے مروی ہے

( جس طرح یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں)

کیا انہوں نے کہا یعنی کیا ایک ہی صدی میں امام ہدایت کے ساتھ امام ضلالت بھی موجود ہے

👈بحارالانوار جلد 23 صفحہ 391

👈کنز جامع الفوائد صفحہ 207

👈یہ اور اس جیسی دیگر روایات انفال رجحانات کی نشونما کے لیے بڑی زرخیز مٹی ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو الٰہ قرار دیتے ہیں اور جو ان کے گھروں میں وقتا فوقتا ظاہر ہوتے رہتے ہیں وگرنہ اس آیت کا ان کے امام کے ساتھ قطعا کوئی تعلق نہیں

👈اللہ تعالی آیت کے آخر میں فرماتے ہیں👈 ءَ اِلٰہٌ  مَّعَ اللّٰہِ ؕیعنی کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جس نے یہ کیا ہے یہ استفہام انکاری ہے جو اس کی نفی پر مشتمل ہے وہ لوگ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ یہ کام اللہ کے علاوہ کسی دوسرے نے نہیں کئے تو اللہ تعالی نے اس بات کو ان کے خلاف بطور حجت پیش کیا اور اس کا یہ تقاضہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے

👈شرح الطحاویہ صفحہ25

👈👈چوتھی آیت

👈Surat No 21 : Ayat No 25

وَ مَاۤ  اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ  اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ  اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۲۵﴾

تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو ۔

👈اس آیت کی تفسیر میں شیعہ روایات وضع کرنے والے گروہوں نے جو معنی وضع کیے

👈ما بعث اللہ من نبیا  الا بولایتناوالبراة من اعدائنا

👈اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر ہمارے ولایت کے ساتھ اور ہمارے دشمنوں سے برات کے ساتھ

👈البرھان جلد 2 صفحہ 368

👈تفسیر العیاشی

👈تفسیر الصافی جلد 3 صفحہ 137

👈دوسری روایت

ولایتناولایةاللہ التی لم ینعث نبیاقط الا بھا

👈ہمارے ولایت اللہ تعالی کی وہ ولایت ہے کہ اس نے جو نبی بھی بھیجا اس کو یہ دیکھ کر بھیجا

👈الکافی جلد 1 صفحہ 437

👈 ان آیات کے علاوہ اور بہت ساری ایسی آیات ہیں جن میں شیعہ مفسروں نے اپنے ائمہ کو اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے

👈 Surat No 2 : Ayat No 165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ

اس کی وہ اس طرح معنوی تحریف کرتے ہیں  فلاں فلاں کے اولیاء ہے جنکو انہوں نے اس امام کے سوا امام بنا لیا جس کو اللہ تعالی نے لوگوں کےلیے امام بنایا تھا

👈الغیبۃ للنعمانی صفحہ 83

👈بحارالانوار جلد 23 ص 360

👈البرھان جلد 3 صفحہ 172

👈👈فاقم وجھک للدین حنیفا۔

👈الروم 30

👈اس آیت میں ولایت مراد ہے

👈تفسیر القمی جلد 2 صفحہ 153

👈الکافی جلد 1 صفحہ 418 419

👈کنز جامع الفوائد صفحہ 224

👈بحارالانوار جلد 23 صفحہ 365

👈البرھان جلد 3 صفحہ 261

👈👈وویل للمشرکین۔الذین لایوتون ۔۔۔

👈فصلت۔ 6۔7

👈ان مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے جنہوں نے امام اول کے ساتھ شرک کیا اور وہ دیگر ائمہ کا انکار کرنے والے ہیں

👈تفسیر القمی جلد 2 صفحہ 262

👈بحارالانوار جلد 23 صفحہ 83 84

👈البرھان جلد 4 صفحہ 106

👈تفسیر الصافی جلد 4 صفحہ353

👈👈روایت

👈ہر وہ آیت جس کا ظاہری مفہوم ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے اللہ کے ساتھ غیروں کو رب بنایا اور بتوں کو شریک بنایا جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنائے ۔پھر ان کی تعظیم کی ان کے ساتھ محبت رکھی ان کی عبادت کا التزام کیا ان کو اپنے رب کا شریک بنا دیا اور اپنی آراء اور خواہشات کی پیروی میں نہ کے اللہ کے حکم کے ساتھ کہا کہ وہ ہمارے اللہ کے ہاں سفارش کرنے والے ہیں اس کا باطنی معنی ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے آئمہ نصب کیے ان کی تعظیم کی ان سے محبت کی ان کی فرمانبرداری کا التزام کیا اور ان کو اپنے اس امام کا شریک بنا دیا جس کو اللہ نے ان کے لیے متعین کیا تھا

👈مراۃالانوار صفحہ۔ 58 اور100

👈👈روایت

اللہ تعالی کے ساتھ شرک اور اس کی عبادت میں شرک کی تاویل ولایت اور امامت میں شرک کے ساتھ کرنے کے متعلق روایات کثیر تعداد میں موجود ہیں یعنی امام کے ساتھ اس کو شریک کرنا جو اہل امامت سے نہیں اور آل محمد یعنی بارہ اماموں کی ولایت کے ساتھ غیر کی ولایت اختیار کرنا

👈مراۃ الانوار صفحہ 202

👈👈نوٹ

👈تاویل کے فساد اور اس کے سبب امت کو جو مصائب جھیلنے پڑے اس کے متعلق امام ابن قیم نے بڑی عمدہ گفتگو فرمائی ہے ان کا کہنا ہے کہ دین اور دنیا کی خرابی کی اصل جڑ وہ تاویل ہے جو اللہ تعالی اور اس کے رسول نے اپنے کلام سے مراد نہ لی ہو نہ کوئی ایسی دلیل ہو جو اس پر دلالت کرے کہ اس سے مراد وہی تاویل معنی ہے

👈اعلام الموقعین جلد 4 صفحہ 250 ۔ 253

👈نتیجہ۔

ان کے علاوہ بھی اس سلسلے میں بہت زیادہ آیات موجود ہیں لیکن بارہ اماموں کی امامت کا قرآن کریم میں مطلقاً کہیں کوئی ذکر نہیں شیعہ اپنی روایات اور عبارات میں بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں جیسے کہ ہم ماقبل عبداللہ ابن سبا کے ذکر میں مذکور کرآئے ہیں۔لہذا یہ خطرناک تحریفات اور تاویلات دین میں بہت بڑی بدعت سازی دین کی عظیمت سے توجہ ہٹانے شرک کے دروازے کھولنے اور وسائل شریک مہیا کرنے کی بہت بڑی جسارت ہے

👈شیعہ کتب کی کچھ عبارت

👈عبارت نمبر1

شیعوں کا سید الواعظین رئیس المتقین زبدۃ العلماء فاضل جلیل جناب ابوالبیان سید ظہور الحسن صاحب

باقر مجلسی کی کتاب جلاء العیون جلد نمبر 2 کے مقدمہ میں لکھتا ہے کہ فرمان صادق آل محمد علیہ السلام ہے کہ

👈لنا مع اللہ حالة نحن فیہا ھو و ھوفیہانحن مع ذالک ھو ھوونحن نحن

👈ترجمہ۔ ۔۔ہمارے اللہ کے ساتھ ایسے حالات ہیں جس میں ہم وہ یعنی اللہ ہوتے ہیں اور وہ ہم ہوتا ہے اس طور پر ہونے کے باوجود وہ وہی اللہ ہے اور ہم آئمہ ہم ہی ہے

👈جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ نمبر 63

👈عبارت  نمبر 2

خطبة البیان

وقال (علیه السلام): اناالذی عندی مفاتیح‏الغیب لا یعلمها بعد محمد (صلی الله علیه و آله و سلم) غیری‏

وقال (علیه السلام): انا بکل شی‏ء علیم.

وقال (علیه السلام): انا الذی قال خیر رسول الله: انا مدینة العلم وعلی بابها.

وقال (علیه السلام): انا ذوالقرنین المذکور فی الصحف الاولی.

وقال (علیه السلام): انا الحجرالمکرم التی(152) یتفجر منه اثنتا عشرة عیناً.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی خاتم سلیمان.

وقال (علیه السلام): انا الذی اتولی حساب الخلایق.

وقال (علیه السلام): انا اللوح المحفوظ.

وقال (علیه السلام): انا مقلب القلوب والابصار (ان الینا ایابهم ثم ان علینا حسابهم).(181)

وقال (علیه السلام): انا الذی قال رسول الله(189) (صلی الله علیه و آله و سلم): یا علی، الصراط صراطک والموقف موقفک.

وقال (علیه السلام): انا الذی عنده علم الکتاب علی ما کان وما یکون.

وقال (علیه السلام): انا آدم الاول، انا نوح الاول. انا ابراهیم الخلیل حین القی(198) فی النار. انا موسی مونس المومنین.

وقال (علیه السلام): انا مفجر العیون، انا مطرد الانهار.

وقال (علیه السلام): انا داحی الارضین، انا سماک السموات.

وقال (علیه السلام): اناالذی عندی فصل الخطاب، انا قسیم الجنة والنار.

وقال (علیه السلام): انا ترجمان وحی الله، انا معصوم من(231) عندالله.

وقال (علیه السلام): انا حجة الله علی من فی السموات وعلی من فی الارضین.

وقال (علیه السلام): انا خازن علم الله، انا قائم بالقسط.

وقال (علیه السلام): انا دابة الارض.(246)

وقال (علیه السلام): انا الراجفة وانا الرادفة.(249)

وقال (علیه السلام): انا الصحیحة بالحق یوم الخروج الذی لا یکتم عنه(254) خلق السموات والارض.

وقال (علیه السلام): انا اول(261) ما خلق الله حجة وکتب علی حواشیه لااله الا الله، محمد رسول الله، (صلی الله علیه و آله و سلم) علی ولی الله ووصیه (علیه السلام).

وقال علیه السلام:(277) ثم خلق الارضین فکتب اطرافها لا اله الا الله محمد رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) وعلی وصیه (ع).

وقال علیه السلام: ثم خلق اللوح فکتب علی حدوده لا اله الا الله، محمد رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) علی وصیه (ع).

وقال (علیه السلام): انا الساعة التی(279) اعتد لمن کذب بها سعیراً.

وقال (علیه السلام): انا (ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین).(294)

وقال (علیه السلام): انا اسماء الله الحسنی التی امر الله ان یدعی بها.

وقال (علیه السلام): انا النور الذی اقتبس منه موسی فهدی.

وقال (علیه السلام): انا هادم القصور.

وقال (علیه السلام): انا مخرج المومنین من القبور.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی الف کتاب من کتب الانبیاء.

وقال (علیه السلام): انا المتکلم بکل لغة فی الدنیا.

وقال (علیه السلام): انا صاحب نوح ومنجیه، انا صاحب ایوب المبتلی ومنجیه وشافیه،(311) انا صاحب یونس و منجیه.

وقال (علیه السلام): انا اقمت السموات السبع بنور ربی وقدرته الکاملة.

وقال (علیه السلام): انا الغفور الرحیم وان عذابی هو العذاب الالیم.(318)

وقال (علیه السلام): اناالذی(327) بی اسلم ابراهیم الخلیل لرب العالمین أقر بفضله.

وقال (علیه السلام): انا عصاء الکلیم وبه آخذ بناصیة الخلق اجمیعن.

وقال (علیه السلام): انا الذی نظرت فی عالم الملکوت(334) فلم نجد غیری شی‏ء وقد غاب.

وقال (علیه السلام): انا الذی أحصی هذا الخلق وان کثروا حتی أردهم الی الله‏

وقال (علیه السلام): انا الذی (ما یبدل القول لدی وما أنا بضلام للعبید)(346)

وقال (علیه السلام): انا ولی الله فی الارض والمفوض الیه امره و(353)[ حاکم ]فی عباده.

وقال (علیه السلام): انا الذی بعثت النبیین والمرسلین.

وقال (علیه السلام): انا الذی دعوت الشمس والقمر فأجابونی.

وقال (علیه السلام): انا فطرت العالمین.

وقال (علیه السلام): انا داحی الارضین وعالم بالاقالیم.

وقال (علیه السلام): انا امر الله والروح.

وقال (علیه السلام): انا الذی قال الله لنبیه: (ألقیا فی جهنم کل کفار عنید)(413)

وقال (علیه السلام): انا الذی ارسیت الجبال وبسطت الارضین، انا مخرج العیون ومنبت الزروع(421) ومغرس الشجار ومخرج الثمار.

وقال (علیه السلام): انا الذی اقدر اقواتها ومنزل المطر ومسمع الرعد ومسرق البرق.

وقال (علیه السلام): انا الذی اقوم الساعة، انا الذی ان امت فلم امت وان قتلب فلم اقتل.

وقال (علیه السلام) : انا الذی أعلم ما یحدث آناً بعد آن وساعة بعد ساعة، انا الذی أعلم خطرات القلوب ولمح العیون وما تخفی الصدور(445)

وقال (علیه السلام) : انا صلوة المومنین وزکوتهم وحجهم وجهادهم.

وقال (علیه السلام): انا الناقور الذی قال الله تعالی: (فاذا نقر فی الناقور)(456) وانا صاحب النشر الاول والاخر، انا اول ما خلق الله نوری وانا وعلی من نور واحد.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الکواکب ومزیل الدول، انا الذی هو صاحب الزلازل والرجفة، انا صاحب المنایا وصاحب البلایا ویا فصل الخطاب.

وقال (علیه السلام): انا صاحب ارم ذات العماد، التی لم یخلق مثلها فی البلاد ونازلها بما فیها وانا المنفق الباذل بما فیها.

وقال (علیه السلام): انا الذی اهلکت الجبارین والفراعنة المتقدمین بسیفی ذی‏الفقار.

وقال (علیه السلام): انا الذی حملت النوح فی السفینة التی عملها، انا الذی انجیت ابراهیم من ناز نمرود ومونسه، وانا مونس یوسف الصدیق فی الجب ومخرجه، انا صاحب موسی والخضر ومعلمها.

وقال (علیه السلام): انا منشأ الملکوت فی الکون‏

وقال (علیه السلام): انا الباری‏ء، انا المصور فی الأرحام.

وقال (علیه السلام): انا الذی ابرء الأکمه وادفع الأبرص واعلم الضمایر، انا انبئکم بما تأکلون وماتدخرون فی بیوتکم.

وقال (علیه السلام): انا البعوضه التی ضرب الله بها مثلا.

وقال (علیه السلام): انا الذی قرر الله اطاعنی فی الظلمة.

وقال (علیه السلام): انا الذی کسوت العظام لحماً، ثم أنشأته بقدره الله.

وقال (علیه السلام): انا الذی هو حامل عرش الله مع الابرار من ولدی وحامل العلم، انا الذی اعلم بتأویل القرآن والکتب السالفة، انا المرسوخ فی العلم.

وقال (علیه السلام): انا وجه الله فی السموات والارضین، کمال قال الله: (کل شی‏ء هالک الا وجهه)(487) انا صاحب الجبت والطاغوت ومحرقهما.

وقال (علیه السلام): انا باب الله الذی قال الله تعالی: (ان الذین کذبوا بایاتنا واستکبروا عنها لا تفتح لهم ابواب السماء ولا یدخلون الجنة حتی یلج الجمل فی سم الخیاط وکذلک نجزی المجرمین)(490)

وقال (علیه السلام): انا الذی خدمنی جبرئیل ومیکائیل، انا الذی ردت علی الشمس مرتین، اناالذی خص الله جبرئیل ومیکائیل بالطاعة لی.

وقال (علیه السلام): انا اسم من اسماء الله الحسنی وهو الاعظم الاعلی.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الطور وانا صاحب الکتاب المسطور وانا بیت الله المعمور وانا الحرث والنسل وانا الذی فرض الله طاعتی علی کل قلب ذی روح متنفس من خلق الله.

وقال (علیه السلام): انا الذی انشر الاولین والاخرین، انا قاتل الاشقیاء بسیفی ذی‏الفقار ومحرقهم(500) بناری‏

وقال (علیه السلام): انا الذی اظهرنی الله علی الدین، انا منتقم من الظالمین، انا الذی أری دعوة الامم کلها، انا الذی ارد المنافقین عن حوض رسول الله.

وقال (علیه السلام): انا باب فتح الله لعباده من دخله کان آمنا ومن خرج منه کان کافراً، انا الذی بیده مفاتیح الجنان ومقالید النیران‏

وقال (علیه السلام): انا الذین جهد(505) الجبابره باطفاء نور الله وادحاض حجة فیابی الله الا ان یتم نوره وولایته اعطی الله نبیه نهر الکوثر واعطانی نهر الحیوة، انا مع رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) فی الارض فعرفنی الله من یشاء

وقال (علیه السلام): انا قائم فی ظلمة خضر(508) حیث لا روح یتحرک ولا نفس یتنفس غیری‏

وقال (علیه السلام): انا علم صامت ومحمد علم ناطق‏

وقال (علیه السلام): انا صاحب القرون الاولی، انا جاوزت موسی الکلیم واغرقت فرعون، انا عذاب یوم الظلة

وقال (علیه السلام): انا آیات الله وامین الله، انا احیی وامیت، انا الخلق وارزق، انا السمیع، انا العلیم، انا البصیر، انا الذی اجود السموات السبع والارضین السبع فی طرفة عین، انا الاول وانا الثانی.

وقال (علیه السلام): انا ذوالقرنین هذة الامة.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الناقة التی اخرجها الله لنبیه صالح.

وقال (علیه السلام): انا الذی انفخ (فی الناقور فذلک یومئذ یوم عسیر علی الکافرین غیر یسیر.(519)

وقال (علیه السلام): انا الاسم الاعظم و هو (کهیعص).(520)

وقال (علیه السلام): انا المتکلم علی لسان عیسی (فی المهد صبیاً)(526) انا یوسف الصدیق، انا المتقلب فی الصور.

وقال (علیه السلام): انااالاخرة والاولی، انا أبدی وأعید، انا فرع من فروع الزیتون وقندیل من قنادیل النبوة.

وقال (علیه السلام): انا مظهر کیف الاشیاء.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال العباد لایعزب عنی شی‏ء فی الارض ولافی السماء.

وقال (علیه السلام): انا مصباح الهدی، انا مشکوة الذی فیها نور المصطفی، انا الذی لیس عمل عامل الا به معرفتی.

وقال (علیه السلام): اناخازن(532) السموات وخازن الارض، اناقائم بالقسط، انا عالم بتغیر الزمان وحدثانه، انا الذی

اعلم عدد النمل ووزنها وخفتها ومقدار الجبال ووزنها وعدد قطرات الامطار.

وقال (علیه السلام): انا آیة الکبری التی اراها الله فرعون وعصی.

وقال (علیه السلام): انا اقتل القتلتین احیی مرتین واظهر الاشیاء کیف شئت‏

وقال (علیه السلام): انا الذی رمیت وجه الکفار وبکف تراب فرجعوا هلکی، انا الذی جحدوا ولایتی الف امة فمسخوهم.

وقال (علیه السلام): انا المذکور فی سالف الزمان وخارج وظاهر فی آخرالزمان.

وقال (علیه السلام): انا قاصم فراعنة الاولین ومخرجهم ومعذبهم فی الاخرین، انا معذب الجبت والطاغوت ومحرقهم ومعذبهم یغوث ویعوق ونسراً.

وقال (علیه السلام): انا متکلم بسبعین لساناً ومفتی کل شی‏ء علی سبعین وجهاً، انا الذی اعلم ما یحدث فی اللیل والنهار أمراً بعد امر وشیئاً بعد شی‏ء الی یوم القیمة.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی اثنان وسبعون اسماً من اسماء العظام.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال الخلایق فی مشارق الارض ومغاربها لایخفی علی منهم شی‏ء.

وقال (علیه السلام): انا الکعبة والبیت الحرام والبیت العتیق، انا الذی یملکنی الله شرق الارض وغربها فی طرفة عین ولمح البصر.

وقال (علیه السلام): انا محمد المصطفی، انا علی المرتض کما قال النبی (صلی الله علیه و آله و سلم): علی ظهر منی، انا الممدوح بروح القدس، انا المعنی الذی لایقع علیه اسم ولا شبه.

وقال (علیه السلام): انا اظهر الاشیاء الوجودیة کیف اشاء، انا باب حطتهم(537) التی یدخلون فیها.

👈مختصرترجمہ۔ ۔۔۔

جناب علی علیہ السلام نے اپنے بعض خطبات میں ارشاد فرمایا ہے میں وہ ہوں جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں بعد رسول میرے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔میں وہ ذوالقرنین ہوں جس کا ذکر صحف اولی میں ہے ۔۔میں خاتم سلیمان کا مالک ہوں  میں یوم حساب کا مالک ہوں میں صراط اور میدان حشر کا مالک ہوں میں قاسم جنت و نار ہوں میں اول آدم ہوں میں اول نوح ہوں میں جبار کی آیت ہوں میں اسرار کی حقیقت ہوں میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں میں پھلوں کا پکانے والا ہوں میں چشموں کا جاری کرنے والا ہوں  نہروں کو بہانے والا ہوں میں علم کا خزانہ ہوں میں حلم کا پہاڑ ہوں میں امیرالمومنین ہوں چشمہ یقین ہوں میں زمین وآسمان میں حجت خدا ہوں میں متزلزل کرنے والا ہوں میں بجلی کی کڑک ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ نور ہو جس سے موسی علیہ السلام نے ہدایت کا اقتباس کیا ۔۔

صور کا مالک ہوں میں قبروں سے مردوں کو نکال کر زندہ کرنے والا ہوں میں یوم النشور کا مالک ہوں ۔میں ایوب بلا رسیدہ کا صاحب اور اس کو شفا دینے والا ہوںں

آسمانوں کو قائم کرنے والا ہوں ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ حی ہوں جسے موت نہیں میں تمام مخلوقات پر ولی حق ہوں میں وہ ہوں جس کے سامنے بات نہیں بدل سکتی مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے میں وہ ہوں جسے امر مخلوق تفویض کیا گیا

میں خلیفة اللہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈آگے شیعہ مصنف لکھتا ہے کہ مولیٰ کائنات کا یہ فرمان خلاف قرآن اور اسلام نہیں بلکہ عین اسلام ہے

👈شیعہ مصنف سید ظہور الحسن خطیب شیعہ ملتان جلاءالعیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 61 ۔60

👈عبارت نمبر 3

👈👈انبیاءؑ نے علیؑ کو پکارا

آدم سے لے کر آج تک اور تا قیامت ہر زمانے میں انبیاء صلحا رسول مومنین یا جس نے بھی پکار کی محمدوآل محمد نے ان کی مدد کی ماقبل میں علی رضی اللہ عنہ کے خطبات کے الفاظ گزرے

نوح کو نجات دینے والا اور ایوب کو شفا دینے والا میں ہوں (جب کہ ابھی تو یہ حضرات مکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے تو مددکیسے کرتے تھے)

👈کیا انبیاء نے ان کو پکارا ؟؟

👈کیا انہوں نے ان کی مدد کی ؟؟

👈قرآن کیا کہتا ہے ؟؟؟

لہٰذا ملاحظہ ہو رحمان رحیم قابض عادل عالم حی مدرک باعث خالق رب رازق ناصر معین ولی وغیرہ یہ اللہ کے نام ہیں

اور ماقبل یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ یہ اللہ تعالی کے نام صفات محمد و آل محمد ہیں ۔۔

اب یہ اللہ نہیں بلکہ یا اللہ کی صفات یا اللہ کے نام ہیں ۔اپنے اپنے دور میں مصائب میں انبیاء نے پکارا ہے اللہ کو رب کے نام سے اللہ اور رب دونوں ایک نہیں ہیں 👈بلکہ اللہ اور ہے 👈اور رب اور ہے

حضرت آدم سے لے کر جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تک انبیاء کرام نے پرچار کیا ہے اللہ کا اور جب ان پر مصائب پڑے تو پکارا ہے انہوں نے رب کو

👈جناب جناب آدم اور حوا علیہ الصلاۃ والسلام نے کہا

👈 رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

👈حضرت نوح نے آواز دی

👈وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ

👈حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا

👈انی ذاھب الٰی ربی سیھدین

👈اور ایوب علیہ الصلاۃ والسلام جب مصائب سے دوچار ہوئے اولاد وفات پا گئے گھر تباہ ہوگیا خود بیماری میں لاغر اور نحیف ہوگئے

👈وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ۸۳

👈حضرت زکریا نے پکارا

👈وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ

👈موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے پکارا

👈قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ۖ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (25)

👈صالح صلوۃوسلام نے قوم کے مقابل اور زندان میں جس ذات کو پکارا وہ ہے رب

👈خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جنگ اور ہر مقام مشکل میں اگر فرمایا ہے تو

👈وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا (80)

مطلب یہ کہ ہر ایک نبی نے مصائب میں پکارا ہے رب کو

👈اب قرآن میں دیکھتے ہیں کہ رب سے کون مراد ہے

👈۔۔۔۔۔۔۔وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا۔

انکا رب ان کو خوشبودار ٹھنڈا پانی پلائے گا اور میٹھے پانی کا چشمہ حوض کوثر ہے اور ساقی حوض کوثر مولا علیہ السلام ہیں یعنی قرآن نے جس کو رب کہا وہ ساقی کوثر علی علیہ السلام ہے

انبیاء نے تبلیغ فرمائی توحید کی معبود کی اور اللہ کی لیکن جب آفات آئیں تو پکارا ہے رب علیؑ کو

👈جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ نمبر 63 تا 66

👈👈تبصرہ۔ ۔۔

شیعہ مصنف نے جلی الفاظ میں عنوان دیا👈 انبیاء نے علی کو پکارا۔اور دلیل یہ دی کہ رحمان اور رحیم قابض قادر حی خالق رب رازق ناصر وغیرہ  اللہ کے نام ہے اور یہ اللہ کے نام محمد و آل محمد اور یہ اللہ نہیں بلکہ اللہ کی صفات ہیں

👈👈جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 64

ظاہر ہے کہ ایسا عقیدہ کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا کیونکہ جس طرح اللہ قدیم ہے اس طرح کی ہر صفت بھی قدیم ہے کوئی صفت بھی اس کی ذات سے جدا نہیں۔

اور دوسری طرف حضرت محمد اور آل محمد حادث ہیں قدیم نہیں کیوں کہ مخلوق ہیں خالق نہیں۔اور مغلوب ہیں غالب نہیں اور مرزوق ہیں رازق نہیں۔اور ہر وقت اللہ کے سامنے عاجز اور مجبور ہیں خود اپنی ذات کے لئے بیماری اور تندرستی فتح اور شکست مالداری اور تنگدستی خوشی اور غمی زندگی اور موت پر بھی قادر نہیں ۔

شیعہ مصنف کا ان حضرات کو اللہ تعالی کی  صفات کہنا سراسر غلط ہے اور توحید باری تعالی کے خلاف ہے اور دوسری بات یہ کہ شیعہ مصنف نے انبیاء علیہ السلام کی وہ دعائیں جن میں انہوں نے اپنے رب یعنی اللہ کو پکارا ہے ان دعاؤں کو نقل کرکے واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ رب علیؑ ہے  ۔

شیعہ مصنف کا یہ بھی سراسر جھوٹ ہے اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام پر تہمت ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اس حقیقت کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے

👈۔۔۔۔حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ

(214)

اس آیت میں اللہ تعالی نے انبیاء کی پکار کو واضح کردیا کہ انہوں نے مصائب میں رب کو پکارا تھا یعنی اللہ کو پکارا تھا نہ کہ انہوں نے حضرت علی کو پکارا

لہذا اللہ تعالی کی خبر کے انبیاء نے رب یعنی اللہ کو پکارا سچ ہے اور شیعوں کا کہنا کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے رب یعنی علی کو پکارا یہ سراسر جھوٹ ہے

شیعہ مصنف کا یہ کہنا کے👈 وسقاھم ربھم شراباًطھورا آیت کریمہ میں رب سے مراد حضرت علی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ حوض کوثر کو مومنین کے لئے اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہےاس بنا پر حوض کوثر پلانے والا حقیقی طور پر مافوق الاسباب کے لحاظ سے اللہ تعالی ہی ہے باقی مجازی طور پر ماتحت الاسباب کے لحاظ سے رسول اللہ کی نگرانی میں حوض کوثر سے بھر کر پلانے والے فرشتے ہوں گے ظاہر ہے کہ شیعہ مصنف نے فرعون کی طرح اپنے آپ کو تو رب نہ کہہ سکا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو انبیاء کارب کہہ کر توحید اور انبیاء علیہ الصلاۃ کی دشمنی کی بھڑاس نکالی۔۔

👈👈ظاہری پیدائش سے قبل وجود

محمد و آل محمد علیہ السلام علین ہیں اور تخلیق عالمین سے قبل تخلیق کے ساتھ اور نیز بعد میں ہر زمانے میں ہر نبی کے ساتھ ان علیین کا وجود رہا ہے (یہ رب ہیں) لفظ رب بتاتا ہے کہ یہ موجود تھے جناب عبداللہ اور جناب ابوطالب کے گھر سرزمین مکہ میں تو یہ لوگ لباس بستر میں آئے ہیں

👈سوال  کیا یہ صرف انبیاء کی مدد کرتے رہے یا تمام مخلوق کی ؟؟

👈تمام مخلوق کی جس نے پکارا اس کی اور جس نے نہیں پکارا اس کی بھی مدد کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔

👈جلاء العیون جلد 2 صفحہ 66 اردو مقدمہ ثانی

👈حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو مولا علی علیہ السلام نے فرمایا اے سلمان یہ دنیا عالم اسباب ہے یہاں آنا بھی اسباب کے تحت اور جانا بھی اسباب کے تحت ہے اور رہنا بھی اسباب کے تحت ہے مگر ہم محمدوآل محمد اسباب کے محتاج نہیں بلکہ اسباب ہمارے محتاج ہیں ہمارے متعلق کبھی بھی کسی طرح کا شک نہ کرنا

👈جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 68

👈👈تبصرہ۔ ۔۔

ان عبارات میں شیعہ مصنف نے محمد و آل محمد کو تخلیق عالمین سے قبل ان کا وجود کے ساتھ موجود ہونا بتایا اور صاف کہا کہ یہ حضرات تمام انبیاء کے مددگار ہی نہیں بلکہ تمام مخلوق کی مدد کیا کرتے تھے کوئی پکارے یا نہ پکارے سب کے مددگار تھے لیکن شیعہ مصنف نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی تو ظاہر ہے یہ عقیدہ من گھڑت ہونے کے ساتھ ساتھ شرکیہ عقیدہ بھی ہے کیوں کہ قرآن مقدس میں واضح طور پر موجود ہے کہ تمام انبیاء علیہ السلام نے مصائب کے وقت اللہ کو پکارا اور اللہ تعالی نے ان کی غیبی مدد فرمائی پرشیعہ مصنف نے محمد و آل محمد کو ظاہری پیدائش سے قبل وجود کے ساتھ موجود ہونے کا عقیدہ رکھ کر خود ان حضرات کی توہین کی ہے

کیونکہ کسی کو اپنے ماں باپ سے پہلے موجود ماننا یہ اس کی توہین بلکہ یہ ایک قسم کی گالی ہے کہ یہ اپنے ماں باپ سے بھی پہلے کا ہے اور دوسری عبارت میں شیعہ مصنف نے صاف لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کہا کہ ہم اسباب کے محتاج نہیں اس کا مطلب ہوا کہ وہ اپنے ماں باپ کے اسباب سے پیدا ہونے کے محتاج نہیں تھے یعنی ان کو والدین کی ضرورت ہی نہیں تھی اور آگے لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کے اسباب ہمارے محتاج ہیں ۔تو ظاہر ہے کہ یہ شان صرف اللہ تعالی کی ہے کیونکہ وہ خود مسبب الاسباب ہے باقی تمام مخلوق اسباب کے ماتحت ہیں مخلوق میں سے کسی کو اسباب سے فوق سمجھنا یہ خالص شرک ہے

👈ایک وقت میں سب آوازوں کی سماعت

👈ایک وقت میں عالمین میں مختلف آوازیں امداد کے لیے پکار رہی ہیں بلند آواز سے اور آہستہ بھی اور بعض گونگے بھی اور بعض دل ہی دل میں پکار رہے ہیں ان تمام آوازوں میں یہ شناخت کیسے کرتے ہیں کہ یہ فلاں کی آواز ہے اور یہ فلاں کی ہے یہ سوال اور خیال اگرچہ بہت وزنی ہے مگر لایعنی ہے

👈جواب۔ ۔کیوں کہ محمد و آل محمد مظہر صفات واجب الوجود ہیں

(پہلے لکھا تھا کہ یہ اللہ تعالی کی صفات ہیں صفحہ نمبر64 جلاءالعیون )

👈ان پر نہ نیند طاری ہوتی ہے اور نہ آونگھ ان پر خوف طاری نہیں ہوتا ہر لمحہ اور ہر گھڑی مخلوق کی آواز کو سن رہے ہیں ۔۔،۔۔۔۔۔۔۔ہر اواز کو علیحدہ علیحدہ شناخت بھی کر رہے ہیں اور جواب بھی دے رہے ہیں

👈جلاء العیون جلد 2 صفحہ نمبر 68۔69مقدمہ ثانی

👈تکلیف خدا نہیں دیتا

انسانوں کا مصائب میں مبتلا ہونا حالات کا خراب ہونا بیماری کا پیدا ہونا اور جو بھی تکالیف انسان کو آتی ہیں وہ اللہ تعالی نہیں دیتا ماں جو اپنی اولاد سے پیار کرے یا ان کی حرکات نازیبہ سے ان سے پیار نہ کرے مگر وہ یہ کوشش و ارادہ نہیں کرتی ہے کہ اولاد میں کوئی تکلیف پیدا ہو یا مصیبت میں مبتلا ہو جائے بلکہ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو ناراض ماں اس کے لیے صحت کی تمنا رکھتی اور دعا کرتی ہے کہ یہ بیماری دور ہوجائے ۔

تو اللہ تعالی تو والدین سے زیادہ مخلوق پر مہربان ہے وہ کب چاہتا ہے کہ مرے بندےتکلیف میں مبتلا کر دیئے جائیں بلکہ وہ تو ماں کی طرح یہ تمنا رکھے گا کہ مخلوق کو مصائب سے نکال دیا جائے لہٰذا مصائب کا نزول اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ انسانوں کے اپنے افعال و اعمال سے پیدا کردہ ہے

👈جلاءالعیون اردو صفحہ نمبر 77 جلد نمبر 2 مقدمہ ثانی

👈تبصرہ۔

شیعہ مصنف نے صفحہ نمبر 68.69پر محمد و آل محمد کے بارے میں من گھڑت عقیدہ ذکر کیا کہ ان حضرات پر نیند طاری ہو سکتی ہے نہ اونگھ وہ  تمام مخلوق کی آواز کو سنتے سمجھتے ان آوازوں کی شناخت بھی کرتے ہیں جو سراسر شرکیہ عقیدہ ہیں اور صفحہ نمبر 77 پر اس نے لکھا کہ تکالیف خدا نہیں دیتا اس کی یہ عبارت بھی سراسر قرآن مجید کے خلاف ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے

👈 مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (11)

👈ترجمہ۔کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آسکتی

👈ترجمہ فرمان علی شیعہ

👈 وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (107)

👈ترجمہ۔ اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کو اللہ کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں

کبھی اپنے بندوں کو آزمانے کے لئے اللہ تعالی ان کو طرح طرح کی تکالیف اور مصائب میں مبتلا کرتا ہے تاکہ صابرین اور ماتمیین کا خود ان کے عمل سے ظہور ہو جائے

👈Surat No 2 : Ayat No 155

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ

اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ،  دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔

👈Surat No 4 : Ayat No 78

اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ  فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا ﴿۷۸﴾

تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ پکڑے گی  ، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے  انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں ۔

👈ان تمام آیات میں بتایا گیا ہے کہ تکالیف اور مصائب اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں لہٰذا اللہ کی بات سچی ہے اور شیعہ مصنف کا عقیدہ قرآن کے خلاف ہے اس لیے جھوٹ اور باطل ہے قرآن مقدس کی تعلیم یہ ہے کہ ہر قسم کا نفع و نقصان بیماری اور تندرستی خوشحالی اور غم حالی فتح اور شکست خوشی اور غمی صرف اور صرف اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے وہ اپنی حکمت کی بنا پر اپنے مقبول بندوں کو آزمانے کے لیے اور ان کو ان کی استقامت کو ظاہر کرنے کے لئے ان حضرات کو مصائب و مشکلات تنگدستی بیماری اور دوسری تکلیف وغیرہ میں مبتلا کرتا ہے جیسا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو بہت ساری تکلیف پہنچی بلاخر جسمانی بیماری سے آزمایا گیا اور بالآخر صبرواستقامت کے بدلے اللہ تعالی نے اس کو کامیابی کا تمغا دے کر ایک ہی لحظہ میں بیماری سے شفا دے کر پہلے سے زیادہ مال اور اولاد بھی عطا فرمائے اور بعض اوقات اللہ تعالی انسان کی بد اعمالی کی وجہ سے بھی اس کو مصائب اور مشکلات میں ڈالتا ہے تاکہ وہ اپنی بد اعمالی سے باز آجائے ایسے لوگوں کی تکلیف کا سبب اگرچہ ان کی بد اعمالی ہوتی ہے لیکن تکالیف اور مصائب کا پہنچنا اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے یہی قرآن کی تعلیم ہے اس کا منکر مسلمان نہیں ہو سکتا

👈وجود رسول و آل رسول قبل مخلوق تھا

حضرت امام باقرعلیہ السلام نے ابو بصیر سے فرمایا

👈یاابا البصیر منا رب العرش والکرسی منا رب السماوات والارض ومنا رب الشمس والقمر والکواکب والحجب والسرادق ونحن ارباب ذالک الاسباب وان اللہ ھو الارباب

👈ترجمہ ۔ہم ہیں رب عرش و کرسی کے اور ہم ہیں رب آسمان و زمین کے اور ہم ہیں رب انبیاء و ملائکہ کے اور ہم ہیں رب لوح و قلم کے اور ہم ہیں رب جہانوں کے اور ہم ہی ہیں رب  شمس و قمر وکواکب اور حجاب ہائے قدس وجلال وصادق عظمت و کمال کے اور ہم ہی ہیں رب چیزوں کے رب اور خداوندکریم رب الارباب ہے

👈اور امام باقر نے فرمایا کہ ہم ہیں افضل کائنات اور اشرف موجودات ہیں جملہ ماسوااللہ پر حاکم و متصرف ہیں اور جناب علی علیہ السلام کے نورانی قطرات سے انبیاء و ملائکہ  پیدا ہوئے پس وہ جمیع انبیاء و ملائکہ سے افضل ہیں اور انکی تدبیر و ترتیب ان یعنی علی علیہ السلام کے سپرد ہوئی اس لیے وہ علی رب انبیاءو ملائکہ ہیں اے ابو البصیر جناب سید النساء کے نورانی قطرات سے خداوندنے آسمان و زمین کو پیدا کیا ۔۔۔۔بس وہ معصومہ تمام زمین و آسمان واہل زمین و آسمان سے افضل ہیں اس لئے تدبیر وترتیب آسمان و زمین کی ان فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سپرد ہوئی اور وہ رب السموات والارض ہیں

👈جلاء العیون جلد 2 صفحہ 23 تا 26 مقدمہ اول

👈درجہ ولایت مطلقہ

فوق درجہ نبوت و رسالت و امامت درجہ ولایت ہے

👈جلاءالعیون اردو جلد 2 صفحہ نمبر 19 مقدمہ اول

👈اہل بیت کے سوا کوئی ولی نہیں

یہ پہلے ثابت ہو چکا کہ فوق درجہ ولایت مطلقہ کوئی اور درجہ نہیں اور ولایت  صرف غلبہ حکومت بادشاہی ہدایت حفاظت ہےپس خدا کے بعد رسول اور اس کے بعد اہل بیت ہی جملہ ماسوااللہ پر تصرف و غالب حاکم و بادشاہ اور ہادی و حافظ ہیں اور وہ اس لئے کہ میعاد ولایت ان کو حاصل ہے باقی انبیاء اور ملائکہ یہ منصب نہیں رکھتے

👈جلاءالعیون اردو جلد نمبر 2 صفحہ 29 مقدمہ اول

👈تبصرہ۔ ۔۔

شیعہ مصنفین اپنے ائمہ معصومین کے لیے ایسا عقیدہ (کے جملہ ماسوااللہ پر متصرف و غالب وحاکم و بادشاہ اور حافظ  )رکھنے کے بعد بھی اگر چیختے اور چلاتے رہے کہ ان سے خلافت چھینی گئی اور یہ حضرات مجبور مقہورمغلوب اور مظلوم تھے تو اس کہنے پر شیعوں کو شرم آنی چاہیے لیکن سچ کہتے ہیں کہ 👈دروغ گوہ راحافظہ نباشد

یعنی جھوٹا بات بھول جاتا ہے

👈حاضر و ناظر ہونا

سوال۔ اب یہ کہنا کہ ایک وقت میں کروڑوں مخلوق پکار رہی ہے یہ کیسے سن رہے ہیں اور وہاں ہر جگہ جا کر ان کی مشکل کو دور کر رہے ہیں

👈جواب۔پہلے میں عرض کرچکا ہوں کا جیسے خدا سن رہا ہے یہ سن رہے ہیں جیسے وہ ہر جگہ ہے ایسے یہ ہر جگہ ہیں ۔۔۔لہذا خداوند عالم نے تمام عالمین میں محمد و آل محمد کو علم غیب ۔حاجت روائی ۔مشکل کشائی بادشاہی حاضروناظر مدبر عدل و انصاف اور عصمت میں بلند دیکھا تو نبوت امامت خلافت و ولایت شہادت کے عہدے دے دیئے اور اپنی حکومت کا مختار بنا کر اپنا نائب اعظم اور وزیر اعظم بنا دیا اب جو یہ چاہیں وہ چاہے اور جو وہ چاہے یہ چاہیں انکا کرنا اس کا کرنا اور ان کا قول اس کا قول ہے

👈جلاء العیون صفحہ نمبر 80 اور 81 جلد 2 مقدمہ ثانی

جناب مولا امیر المومنین نے فرمایا ہے کہ مومن منافق کافر مشرک کوئی آدمی نہیں مرتا جب تک میں اس کے سرہانے جاکر حکم نہ دو

جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی  صفحہ نمبر 85

جناب فاطمہ زہرا سلام علیہا ہمارے تمام رونے والوں کے ساتھ ہے اور ان کے آنسو اپنے رومال میں لیتی ہیں لہٰذا محمد و آل محمد علیہ السلام کے حاضر و ناظر ہونے کا انکار قرآن کا انکار اسلام توحید کا انکار ہے کیونکہ۔ ۔۔۔۔۔۔

👈جلاء العیون مترجم اردو صفحہ 86 جلد 2 مقدمہ ثانی

👈👈👈بقیۃ اللہ

سوال۔ کیا خداوندکریم نے محمد و آل محمد علیہ السلام کے متعلق یہ حکم دیا ہے کہ صاحبان ایمان اپنی تکالیف مصائب و مشکلات میں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب فاطمہ زہرا اور جناب علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ معصومین کو پکاریں آواز دیں مدد مانگیں اور حاجت طلب کریں ؟؟؟جبکہ اس نے فرمایا ہے کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین ؟؟؟

👈جواب

لہذا کسی کو مددگار حاجت روا مشکل کشا ماننا واقعتا گناہ اور شرک ہے مگر ہاں ان کو مشکل کشا حاجت روا مانو اور مدد کے لئے پکارو جن کو ان کاموں کے لیے اللہ نے مقرر کیا ہے ۔لہذا سرکار رسالت اور ائمہ معصومین نے  اپنے خطبات میں فرمایا ہے

👈نحن وجہ اللہ ۔نحن باب اللہ نحن نفس اللہ نحن ایات اللہ نحن عین اللہ نحن ہیبت اللہ نحن لسان اللہ نحن صبغت اللہ

نحن بقیة اللہ نحن صراط اللہ

لہذا اب قرآن پاک میں آئے اور حکم خداوندی کو پڑھ کر ایمان کو درست کرکے جلاءالعیون سے جلاءالعیون حاصل کیجیے

👈بقیة اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین

👈ترجمہ۔ بقیہ اللہ تمہارے لئے خیر ہے اگر تم  مومن ہو اور میں تمہارے اوپر نگہبان نہیں ہوں

بقیہ اللہ نگران نگہبان محافظ ہے ہر طرح سے بیماری بے روزگاری بےاولادی بےعزتی پریشانی حیرانی گھبراہٹ غرض یہ کہ ہر کام میں اللہ نے صاحبان ایمان پر محافظ بنایا ہے بقیہ اللہ کو اور خود فرمایا کہ میں تمہارے اوپر محافظ نہیں یعنی مصائب میں مشکلات پریشانیوں میں مقدمات غربت ہو رزق نہ ہو بیماری ہو تو میں نے تمہارے اوپر آئمہ صاحبان ایمان بقیہ اللہ کو مقرر کر دیا ہے اب تم لوگ اس ہی کو پکارنا وہ تمہاری ہر طرح سے مدد کرے گا تو مانگو گے وہ دے گا وہ ہم سے جدا نہیں ہم اس سے علیحدہ نہیں اس کا فعل ہمارا فعل اس کا قول ہمارا قول اس کا دینا ہمارا دینا اس کا انکار ہمارا انکار جو بھی مومن ہے وہ بقیۃاللہ سے مانگے اور بقیة اللہ سے مراد ہے جو اللہ نے باقی رکھا یعنی جس کو بقا ہے فنا نہیں موت نہیں اور کائنات میں جن کو موت نہیں فنا نہیں وہ ہے محمد و آل محمد علیہ السلام

👈جلاءالعیون اردو جلد 2 صفحہ 87 86 مقدمہ ثانی

👈👈تبصرہ

شیعہ مصنف نے اس آیت کریمہ کو ذکر کرکے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مشکلات کو دور کرنے کے لیے صاحب بقیت اللہ کو صاحب ایمان پر نگہبان بنایا ہے اور خود فرمایا کہ میں اب تمہارے اوپر محافظ نہیں ہوں جبکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے 👈اللہ حفیظ علیہم ۔انکاحافظ اللہ ہے

👈وما انت علیہم بوکیل ۔ اللہ ان کا محافظ ہے اے رسول تم ان کے نگہبان نہیں ہوں

👈شوری آیت نمبر 6

👈ماارسلناک علیہم حفیظا

اے رسول ہم نے تم کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا 👈شوریٰ آیت نمبر 48

👈وسع کرسیہ السموات والارض ولایودہ جفظہما۔ ۔اللہ کی کرسی سب آسمانوں اور زمینوں کو گھیرے ہوئے ہے اور ان دونوں آسمان و زمین کی نگہداشت اس پر کچھ بھی گراں نہیں اور وہ بڑاعالیشان بزرگ مرتبہ ہے 👈البقرہ آیت نمبر 255

👈وما یعلم جنود ربک الا ہو ۔اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا

👈سورہ مدثر آیت نمبر 31

ان تمام آیات میں فرمایا گیا کہ تمام کائنات کا نگہبان صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا گیا کہ آپ ان پر نگہبان نہیں ہیں لیکن باوجود اس حقیقت کے شیعہ مصنف کا یہ کہنا کہ اب تمام مشکلات کو حل کرنے کے لئے بقیۃ اللہ کو پکارو یہی تمہارے نگہبان ہے اور خود اللہ بھی تمہارے اوپر نگہبان نہیں تو یہ سراسر جھوٹ اور کھلا شرک اور صریح کفر ہے

👈آیت کریمہ کی حقیقت

یہ آیت کریمہ جو شیعہ مصنف نے لکھی ہے یعنی بقیہ اللہ خیر لکم ۔۔۔

درحقیقت یہ حضرت شعیب علیہ السلام کا قول ہے جو اس نے اپنی قوم کو فرمایا تھا اللہ تعالی نے اس کا قول نقل کیا ہے

👈وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ وَلَا تَنقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ۚ إِنِّي أَرَاكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ (84) وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (85) بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ (86)

👈ترجمہ۔ اور ہم نے مدین والوں کے پاس ان کے بھائی شعیب کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے کہا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں اور  تول میں کمی نہ کیا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔اے میری قوم پیمانہ اور ترازو انصاف کے ساتھ پورا پورا رکھا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور روئے زمین میں فساد نہ پھیلاتےپھرو اگر تم سچے مومن ہو تو خدا کا بقیہ تمہارے واسطے کہیں اچھا ہے اور میں تو کچھ  تمہارا نگہبان نہیں ہوں

👈یہ تھا شعیب علیہ سلام کا وعظ جس میں انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا کہ ناپ تول کی کمی کرنے سے کمایا ہوا مال تمہارے لیے اچھا نہیں بلکہ اس کے علاوہ باقی اللہ یعنی اللہ تعالی کا دیا ہوا باقی مال اور فساد پھیلانے کے علاوہ امن اور اصلاح والےاعمال تمہارے لیے بہتر ہیں اگر تم مومن ہو تو میری بات مان لو وماانا علیکم بحفیظ۔ یعنی اگر تم نہیں مانو گے تو میں تمہارے اوپر نگہبان نہیں ہوں یہ شعیب علیہ السلام کا قول اللہ تعالی نے نقل کیا ہے مگر شیعہ مصنف نے قرآن مجید کی آیت کو بگاڑ کر نتیجہ نکالا کہ اب اللہ تعالی بھی تمہارا نگہبان نہیں اب محمد وآل محمد تمہاری نگہبانی کریں گے اور تمہاری ضروریات کو پورا کرتے رہیں گے اس قسم کا عقیدہ رکھنا اللہ پر جھوٹ باندھنا صریح کفر ہے

👈کلید مناظرہ کی عبارات

ایک اور شیعہ مصنف سید برکت علی شاہ گوشہ نشین نے اپنی کتاب کلید مناظرہ میں برگ سبز کا عنوان لکھا ہے کہ جن پر تمام کمالات اور فضائل کا خاتمہ ہوا وہ چاردہ معصوم علیہ السلام کی ذوات مبارکہ ہے👈 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان پر ارضی اور سماوی حالات اس طرح ظاہر ہیں جس طرح اپنے ہاتھ کی ہتھیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دنیا میں نعمات دنیا تقسیم کرنے والے اور آخرت میں بہشت و دوزخ کے بانٹنے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ماں کے پیٹ میں ہی اتنے عالم اور عارف تھے جتنے بلوغت میں یہ ہر جگہ ہر آن واحد میں بفضلہ حاضروناظر ہو سکتے ہیں اور ہم کو ہر وقت دیکھتے ہیں اور ہماری ہر بات کو سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

قضاء وقدر لوح و قلم اور اور حیات اورممات پر بحکم خدا مختار ہیں ۔۔۔۔

گذشتہ حال و مستقبل سے بفضلہ تعالی آگاہ ہیں

👈کلید مناظرہ صفحہ 15 16

👈چودہ ستارے کی عبارات

ایک اور شیعہ مصنف سید نجم الحسن کراروی نے اپنی کتاب چودہ ستارے کے پیش لفظ کے ماتحت لکھا ہے کہ چودہ ستارے سے مراد حضرات چہاردہ معصومین علیہ السلام ہیں۔۔۔۔۔۔۔

یہ وہ ذوات ہیں جو خالق کائنات کی طرح بے مثل و بے نظیر ہیں ۔۔۔۔۔۔

یہ جب عالم نور میں تھے انہوں نے ملائکہ کو تسبیح و تحمید کا سبق دیا ۔۔۔جبرائیل کو علم معرفت سے بہرور کیاآدم و حوا جوگرے ہوئے آنسوؤں کی طرح بے وقعت ہو چکے تھے (نعوذباللہ) ان کو شرف انسانیت میں توبہ کے ذریعہ سے عروج و فروغ بخشا

👈14 ستارہ صفحہ نمبر 2 👈انوارالنعمانیہ کی عبارات

ایک اور شیعہ مصنف سید نعمت اللہ الموسوی الجزائری نے اپنی کتاب الانوارالنعمانیہ عربی میں نور علوی کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا

👈یاعلی ان اللہ تعالی قال یامحمدبعث علیا مع الانبیاء باطنا ومعک ظاہرا۔ ۔۔۔۔۔۔

👈ترجمہ۔۔اے علی اللہ تعالی نے مجھے فرمایا کہ میں نے علی کو دوسرے انبیاء کے ساتھ باطنی طور پر بھیجا تھا اور تیرے ساتھ ظاہری طور پر بھیجا ہے

مصنف کہتا ہے کہ اس قسم کا مضمون اہلبیت رضی اللہ عنہ کی روایتوں میں خود علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے بھی ملتا ہے مثلا

👈وھو انہ قدروی عنہ علیہ السلام انہ قال فی جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفضل من تقدمہ من الانبیاءمع انھم حاذواغایة الاعجاز۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔فقال واللہ قدکنت مع ابراھیم فی النار۔ ۔۔۔۔مع کنت نوح فی السفینة فانجیتہ من الغرق۔ ۔۔۔۔مع موسی۔ ۔۔۔۔۔والنطقت عیسی فی المھد۔ ۔۔۔۔۔مع یوسف فی الجب ۔۔۔۔۔۔۔۔

👈ترجمہ حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ جو انبیاء علیہ السلام گزر چکے ہیں وہ آپ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں یا آپ کی فضیلت ان سے زیادہ ہے باوجود اس کے کہ وہ انتہائی معجزات والے تھےبہرحال ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے نارے نمرود سے نجات دی اور نمرود کی آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا اور نوح کو اللہ تعالی نے غرق ہونے سے بچا دیا اور موسی کو اللہ تعالی نے فرعون سے نجات دے کر اس کو تورات کی تعلیمات عطا فرمائی اور عیسیٰ کو اللہ تعالی نے جھولے میں نبوت عطا کر کے اس کو حکمت سے بات کرنا سکھایا اور سلیمان کے لئے اللہ تعالی نے جن جمیع مخلوق اور عوام کو مسخر کردیا ان معجزات کے باوجود وہ انبیاء علیہ السلام زیادہ فضیلت والے ہیں یا آپ تو علی علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی قسم ابراہیم کی آگ کو ٹھنڈا کرکے اور سلامتی والا کرکے اس کو نجات دینے والا میں تھا اور نوح کو غرق ہونے سے بچانے والا میں تھا اور موسی کو فرعون سے نجات دے کر تورات کی تعلیم دینے والا میں تھا اور عیسی  کو جھولے میں نجات دے کر انجیل کی تعلیم دینے والا میں تھا اور یوسف کو اپنے بھائیوں کے مکر سے اور کنویں سے نجات دینے والا میں تھا اور سلیمان کے لئے تخت پر ہواؤں کو مسخر کرنے والا میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 41

👈روایت

وان الامام لایخفی علیہ شی فی الارض ولافی السماء وانہ ینظرفی ملکوت السموات فلایخفی علیہ شی ۔۔۔۔۔۔ومن لم یکن بھذہ الصفات فلیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈ترجمہ۔ ۔۔۔۔یعنی آسمان اور زمین کی کوئی چیز امام سے مخفی نہیں ہوسکتی اور جس میں یہ صفات نہیں وہ امام ہی نہیں

👈انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 33

نور علوی

👈امام با اختیار خود مرتے ہیں

علي بن إبراهيم، عن محمد بن عيسى، عن بعض أصحابنا، عن أبي الحسن

موسى عليه السلام قال: إن الله عز وجل غضب على الشيعة فخيرني نفسي أوهم،

فوقيتهم والله بنفسي.

👈ترجمہ ۔یعنی اللہ تعالی غضبناک ہوا  ہمارے شیعوں پر بسب ترک تقیہ پس اختیار دیا مجھے اپنے اور ان کے قتل ہونے کے درمیان پس میں نے اپنی جان دے کر ان کو بچا لیا

👈الکافی جلد 1 صفحہ 260

👈روایت

– عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن محمد بن سنان، عن يونس بن

يعقوب، عن الحارث بن المغيرة، وعدة من أصحابنا منهم عبد الاعلى وأبو عبيدة وعبد الله

ابن بشر الخثعمي سمعوا أبا عبد الله عليه السلام يقول: إني لاعلم ما في السماوات وما في الأرض

وأعلم ما في الجنة وأعلم ما في النار، وأعلم ما كان وما يكون، قال: ثم مكث هنيئة فرأى

أن ذلك كبر على من سمعه منه فقال: علمت ذلك من كتاب الله عز وجل، إن الله

عز وجل يقول فيه تبيان كل شئ

👈ترجمہ۔ ۔فرمایا ابوعبداللہ علیہ السلام نے میں جانتا ہوں جو آسمان و زمین میں ہے اور جانتا ہوں جو جنت میں ہے اور جانتا ہوں جو جہنم میں ہے اور جو ہوچکا اور جو ہونے والا ہے پھر کچھ دیر سکوت کیا اور غور کیا اس امر پر کے جو اس کو سنے گا اس پر شاق گزرے گاپھر فرمایا یہ میں نے جانا ہے کتاب خدا سے جس میں خدا فرماتا ہے اس میں ہر شے کا بیان ہے

الکافی صفحہ نمبر 261 جلد 1

👈👈تبصرہ۔ ۔شیعہ مصنفین نے اپنے مصنوعی عقائد کو ائمہ حضرات کی طرف منسوب کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ ان کے عقائد آئمہ حضرات سے ثابت ہیں حالانکہ ایسے شرکیہ عقیدہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا ان کی اولاد میں سے کوئی بھی اس قسم کی بات کیسے کرے گا جو توحید باری تعالی کے سراسر خلاف ہو اس سے ظاہر ہے کہ اس قسم کے عقائد شیعہ مصنفین کے من گھڑت ہیں

👈خلاصہ روایات

👈١۔میں یوم حساب کا مالک ہوں

👈میرے پاس غیب کی کنجیاں ہیں

👈میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہوں

👈میں جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والا ہوں

👈میں چشموں کو جاری کرنے والا ہوں

👈میں پھلوں کو پکانے والا ہوں

👈میں نہروں کو بہانے والا ہوں

👈صور کا مالک ہوں

👈میں قبروں سے مردوں کو نکالنے والا ہوں

👈میں نوح کو نجات دینے والا ہوں

👈میں ایوب کو شفا دینے والا ہو

👈ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی آگ کو ٹھنڈا کرنے والا اور نجات دینے والا میں تھا

👈موسی علیہ السلام کو فرعون سے بچاکر تورات پڑھانے والا میں تھا

👈عیسی علیہ السلام کو جھولے میں بات کروآنے والا اور انجیل کی تعلیم دینے والا میں تھا

👈یوسف علیہ والسلام کی مدد کرنے والا میں تھا

👈سلیمان علیہ السلام کے لئے ہواؤں کو مسخر کرنے والا میں تھا

👈میں وہ ہوں جس کے سامنے بات بدل نہیں سکتی

👈میں وہ حی ہوں جس پر موت نہیں

👈مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے

👈میں وہ ہوں جس کو امر مخلوق تفویض کیا گیا ہے

👈جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 61 تا 65

👈دوسرے آئمہ کے بارے۔ ۔۔

👈ہمارے اللہ کے ساتھ مختلف حالات ہوتے ہیں کبھی ہم اللہ بن جاتے ہیں اور کبھی وہ اللہ اور ہم مخلوق بن جاتے ہیں

👈جلال اور مقدمہ ثانی جلد2 صفحہ 67

👈محمد وآل محمد اسباب کے محتاج نہیں بلکہ  اسباب ان کے محتاج ہیں

👈جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 68

👈محمد وآل محمد پر نیند طاری ہو سکتی ہے نہ اونگھ

👈جلاءالعیون مقدمہ ثانی جلد 2 صفحہ 69

👈محمد وآل محمد ہر لمحہ ہر گھڑی تمام مخلوق کی آواز کو سنتے ہیں اور ہر ایک کی آواز پہچان کر اس کی مشکل کشائی کرتے ہیں

👈جلاءالعیون مقدمہ  جلد 2 صفحہ 69

👈محمد و آل محمد عالم الغیب حاجت روا مشکل کشا حاضر ناظر اور اللہ کی حکومت کے وزیراعظم ہیں اب جووہ چاہتے ہیں اللہ بھی وہی چاہتا ہے اور ان کا قول اللہ کا قول ہے

👈جلاء العیون مقدمہ ثانی جلد 2صفحہ 81 80

👈تمام انبیاء نے مصائب و مشکلات میں جس رب کو پکارا وہ علی علیہ السلام ہے

👈جلاء العیون جلد 2 صفحہ 66 مقدمہ ثانی

👈ان حضرات پر ارضی و سماوی حالات اس طرح ظاہر ہیں جس طرح ہاتھ کی ہتھیلی

👈کلید مناظرہ صفحہ-16 15

👈دنیا کو نعمتوں کو تقسیم کرنے والے اور آخرت میں بہشت و دوزخ بانٹنے والے یہی حضرات ہیں

👈کلید مناظرہ صفحہ-16 15

👈یہ حضرات ماں کے پیٹ میں ہی اتنے ہی عالم و عارف تھے جتنے بلوغت کے بعد

👈کلید مناظرہ صفحہ-16 15

👈یہ حضرات خالق کائنات کے طرح بے مثل و بے نظیر ہیں

👈چودہ ستارے صفحہ 2

👈یہ حضرات اللہ تعالی کے سوا ہر چیز پر متصرف غالب حاکم ہیں

👈جلاءالعیون مقدمہ اول جلد 2 صفحہ 29

👈جناب علی کے نورانی قطرات سے انبیاؤں ملائکہ پیدا کیے گئے ہیں اس لئے علی ان کا رب ہے

👈جلاء العیون جلد 2 صفحہ 26 27

👈آئمہ حضرات جمیع انبیاء وملائکہ سے افضل ہیں اور انبیاء و ملائکہ کے رب ہیں

👈جلاءالعیون مقدمہ اول جلد 2 صفحہ 24

👈محمد و آل محمد کو موت نہیں فنا نہیں اب ایمان والوں کے یہی مددگار ہیں اب اللہ بھی نگہبان نہیں ہے

👈جلاءالعیون مقدمہ آسان جلد 2 صفحہ 87 86

👈 عقیدہ :اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتاہے ۔(معاذ اللہ

👈اصولِ کافی جلد 1صفحہ نمبر 328یعقوب کلینی

👈تمام روئے زمین کے مالک امام ہیں

👈اصول کافی جلد 1 صفحہ 503 باب 104

👈نا ہم اس رب کو مانتے ہیں اور نہ اس رب کے نبی کو مانتے ہیں جس کا خلیفہ ابوبکر ہو

👈انوار النعمانیہ جلد 2 صفحہ 278

👈بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات خدائے پاک کو تیس سالہ نوجوان کی صورت میں دیکھا یہاں تک خدا پاک کا ناف تک کا حصہ خالی تھا اور اس کے نیچے سخت اور ٹھوس تھا

👈اصول کافی صفحہ 100جلد١

👈👈تبصرہ۔۔۔

شیعہ مصنفین نے اللہ تعالی کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں بھی اللہ تعالی کو وحدہ و لاشریک لہٗ رہنے نہیں دیا بلکہ تمام صفات میں ائمہ حضرات کو اللہ تعالی کا شریک بنا کر دکھایا باوجود اس کے کہ اپنے آپ کو توحید کا ماننے والا مواحد کہنا سراسر جھوٹ ہے جبکہ مشرکین مکہ بھی حضرت ابراہیم خلیل اللہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ حضرت عزیر نبی اللہ حضرت عیسیٰ روح اللہ کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالی کے مقبول بندے ہیں اور اس کی عطائی طاقت سے وہ مشکل کشا عالم الغیب حاضروناظر اور غیبی مدد گار ہیں اس لیے انہوں نے ان حضرات کے نام پر تصویریں بنا کر چسپاں کردی تھی اور ان کے سامنے سجدہ رکوع کر کے ان سے غیبی مدد طلب کرتے تھے اور انہی حضرات کے ناموں کی سبیل کرتے تھے اور منت مانتے تھے اور انہی حضرات کا نذرونیاز کر کے تقرب الی اللہ کا عقیدہ رکھتے تھے

جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کا عقیدہ نقل کرتے ہوئے فرمایا

Surat No 39 : Ayat No 3

👈اَلَا لِلّٰہِ الدِّیۡنُ الۡخَالِصُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ  اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ  ۬ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ ﴿۳﴾

👈ترجمہ۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کے سوا اوروں کو اپنا سرپرست بنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی پرستش اس لئے کرتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں ہمارا تقرب بڑھا دیں گے

👈ترجمہ فرمان علی شیعہ

👈اوریہ لوگ ان کو  اللہ کی بارگاہ میں سفارشی تصور کرتے تھے

👈Surat No 10 : Ayat No 18

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ اَتُنَبِّئُوۡنَ اللّٰہَ بِمَا  لَا یَعۡلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۸﴾

👈ترجمہ۔ ۔اور خدا کو چھوڑ کر جو لوگ ایسی چیز کی پرستش یعنی سجدہ رکوع نذر نیاز منت کرتے ہیں جو نہ ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اور کہتے ہیں کہ خدا کے ہاں یہی لوگ ہمارے سفارشی ہوں گے اے رسول تم ان سے کہو تو کیا تم خدا کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جس کو وہ نہ تو آسمانوں میں کہیں پاتا ہے نہ زمین میں درحقیقت یہ لوگ جس چیز کو اس اللہ کا شریک بناتے ہیں اس سے وہ پاک صاف اور برتر ہے

👈ترجمہ فرمان علی شیعہ

اس آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کے عقیدے اور عمل کی تردید کی گئی اور بتایا گیا کہ جو شخص مخلوق میں سے کسی کو اللہ کے دربار میں سفارشی سمجھ کر اس کا سجدہ رکوع یعنی بدنی عبادت اور اس کو غیبی مدد گار سمجھ کر اس سے مشکل کشائی کے لیے دعا کرنا یعنی لسانیت عبادت اور اس کے لئے نذر و نیاز کرنا یا اس کی سبیل میں مال خرچ کرنا یا اس میں منت ماننا یا مالی عبادت کرنا یہ سارا کچھ شرک ہے اور اللہ تعالی شراکت سے پاک صاف اور برتر ہے

ان عقائد کی وجہ سے اگر مکہ کے لوگ مشرک ہو سکتے ہیں اور اللہ اور رسول نے ان کو مشرک کہا ہے تو شیعہ انہی کی طرح اپنے اماموں میں غیبی طاقت کا عقیدہ رکھ کر ان کو مشکل کشائی کے لیے غیبی مدد کے لئے پکارے اور ان کے نام پر کال کریں اور ان کی منت مانیں اور نذر ونیاز کریں اور ان کے لیے جانور ذبح کریں تو شیعہ مشرکین مکہ کی طرح کیوں کر مشرک نہیں ہو سکتے

👈👈نتیجہ۔ ۔

مشرکین مکہ کی طرح شرک کرنے کی وجہ سے شیعہ بھی مشرک ہیں ان کا توحید باری تعالی پر ایمان ہرگز نہیں ہے لہذا شیعہ مذہب کی ایمانیات میں توحید کو شامل کرنا برائے نام ہے ان کا توحید باری تعالی پر ذرہ برابر ایمان نہیں ہے بھلا جس قوم کی ایمانیات میں خود کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کو شامل نہ کیا گیا ہو تو اس قوم کی توحیدقرآنی توحید کے مطابق کیسے ہو سکتی ہے

👈درباروں کا حج بیت اللہ کے حج سے بڑا عمل ہے

👈ترجمہ۔ حسین کی قبر کی زیارت بھی بیس حج کے برابر ہے اور بیس حج اور عمرہ سے افضل ہیں

👈الکافی جلد 1 صفحہ 324

👈ثواب الاعمال صفحہ 52

👈تہذیب الاحکام جلد 2 صفحہ 16

👈کامل الزیارات صحرا 161

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 348

👈بحارالانوار جلد 101 صفحہ 38

👈روایت

👈ترجمہ۔ ایک شیعہ نے جب اپنے امام سے کہا۔میں نے انیس حج اور انیس عمرہ کیے ہیں تو امام نے استہزاء کے اسلوب میں کہا ایک اور حج اور عمرہ کرتا کہ تجھے قبر حسین کی زیارت کا ثواب مل جائے

👈تہذیب الاحکام جلد 2 صفحہ 16

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 348

👈بحارالانوار جلد 101۔38

👈روایت۔

👈ترجمہ۔ ایک دیہاتی نے یمن سے زیارت حسین کے لیے رخت سفر باندھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرزند رسول میرے لیے اضافہ فرمائے انہوں نے کہا ابوعبداللہ( اپنی ذات )کی زیارت رسول اللہ کے ساتھ ایک پاک اور مقبول حج کے برابر ہے اس نے اس بات سے تعجب کیا تو انہوں نے اس سے کہا خدا کی قسم رسول اللہ کے ساتھ دو مقبول اور پاک حج ۔۔۔۔۔۔یہاں تک  کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھ تیس مقبول اور پاک حجوں کے برابر

👈سوال الصفہ 52

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 350 351

👈روایت

👈ترجمہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک دن حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی گود میں بیٹھے تھے اور آپ ان کو کھلااور ہنسا رہے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اے اللہ کے رسول آپ اس بچے کو کس قدر زیادہ پسند کرتے ہیں تو آپ نے ان سے کہا میں اس سے محبت اور اس کو پسندیدہ کیوں نہ رکھوں جبکہ یہ میرے دل کا ثمرہ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے لیکن میری امت اس کو قتل کر دے گی جس نے اس کی وفات کے بعد اس کی زیارت کی اللہ اس کے نامہ اعمال میں میرے ساتھ ایک حج کا ثواب لکھ دے گا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کے ساتھ حج میں سے ایک حج  آپ نے فرمایا ہاں دو حج ۔۔۔۔۔۔پاک رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے حجوں میں سے ان کے عمروں سمیت70 حج تک پہنچ گئے۔

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 351 352

👈روایت

👈ترجمہ۔ جس نے ابو عبداللہ کی قبر کی زیارت کی اللہ تعالی اس کے لیے اسی مقبول حج لکھ دے گا

👈ثواب الاعمال صفحہ 52

👈کامل الزیارات صفحہ 162

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 350

👈روایت

👈ترجمہ۔ ۔جو حسین کی قبر پر اس کا حق پہچانتے ہوئے آیا وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھ سو حج کیے

👈ثواب الاعمال صفحہ 52

👈وسائل الشیعہ جلد صفحہ 350

👈روایت۔ ۔

👈ترجمہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک منادی اعلان کر رہا ہوگا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے جذب و شوق کے ساتھ حسین کی زیارت کی تھی تو قیامت کے دن کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہوگا جس کی یہ تمنا نہ ہوگی کہ کاش وہ بھی حسین کے زائرین میں سے ہوتا

👈کامل الزیارات صفحہ 143

👈وسائل الشیعہ جلد 1 صفحہ 353

👈بحارالانوار جلد 100 1 صفحہ 18

👈روایت

👈ترجمہ۔ ۔۔تم میں سے ایک آدمی فرات میں غسل کرتا ہے پھر حسین کی قبر کے پاس اس کا حق پہچانتے ہوئے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ہر قدم کے بدلے ایک سو مقبول حج 100 مقبول عامر اور نبی مرسل یا امام عادل کے ساتھ 100 غزوات کا اجر دے گا

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 380

👈کامل الزیارات صفحہ 185

👈روایت

👈ترجمہ۔ ۔۔جس نے عاشورا کے دن حسین کی زیارت کی اور اس کے پاس روتا رہا تو قیامت کے دن وہ اللہ تعالی کو بیس لاکھ حج اور بیس لاکھ عمرہ اور بیس لاکھ غزوات کے ثواب کے ساتھ ملے گا اور ہر حج عمرے اور غزوے کا ثواب اس شخص کے ثواب کے برابر ہوگا جس نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم اور ائمہ راشدین کی معیت میں حج عمرے اور غزوات میں شرکت کی

یہ ساری فضیلت اسی شخص کو بھی حاصل ہوگی جو اس دن قبر حسین کی زیارت تو نہ کر سکا لیکن اپنے گھر کی چھت پر چڑھ کر اس نے اشارہ کے ساتھ ان کو سلام کیا پھر ان کے قاتل کو بدعا دی حسین کے لیے روتا رہا اورنوحہ کرتا رہا اور اپنے اس دن میں اپنا کوئی کام نہ کیا

👈بحارالانوار جلد 101 صفحہ 290

👈کامل الزیارات صفحہ 176 👈عرفات کے دن کربلا کی زیارت

👈روایت

👈ترجمہ۔ ۔۔۔جو عید کے دن کے علاوہ کسی دوسرے دن حضرت حسین کا حق پہچانتے ہوئے ان کی قبر کی زیارت کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے بیس مقبول حجوں اور بیس مقبول عمروں کا ثواب لکھ دیتے ہیں اور جو عید کے دن ان کی قبر کی زیارت کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالی سو حج اور عمرہ کا ثواب لکھ دیتے ہیں اور جو عرفات کے دن ان کا حق پہچانتے ہوئے ان کی قبر کی زیارت کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک ہزار مقبول حج اور 1000 مقبول عمرہ اور کسی نبی مرسل یا امام عادل کی معیت میں 1000 غزوات کا ثواب لکھ دیتے ہیں

👈الکافی جلد 1 صفحہ 324

👈الفقیہ جلد 1 صفحہ 182

👈التہذیب جلد 2 صفحہ 16

👈کامل الزیارات صفحہ 170

👈ثواب الاعمال صفحہ50

👈وسائل الشیعہ جلد صفحہ  360

👈روایت

👈ترجمہ۔ ۔۔اگر میں تم کو اس کی زیارت کی فضیلت اور اسکی قبر کی فضیلت بیان کر دوں تو تم حج کو اصلا چھوڑ ہی دو اور تم میں سے کوئی بھی حج نہ کرے تو ہلاک ہو کیا تجھے علم نہیں کہ اللہ تعالی نے مکہ کو حرم بنانے سے پہلے کربلا کو امن اور برکت والا حرم بنایا ہے

اللہ تعالی عرفات کے دوسرے پر عرفات میں موجود حاجیوں پر نظر ڈالتے ہیں پہلے قبر حسین کے زائرین پر نظر ڈالتے ہیں (راوی نے پوچھایہ کس طرح ہوتا ہے )تو ابو عبداللہ نے کہا جس طرح ان لوگوں کا دعوی ہے کیونکہ ان میں کئی زنا کی پیداوار ہے لیکن ان میں کوئی زنا کی پیداوار نہیں

👈الوافی مجھے لگ ثانی جلد 8 صفحہ 222

👈بحارالانوار جلد 101 صفحہ 33

👈کامل الزیارات صفحہ 266

👈تہمت زنا کی تفصیل دیکھیے

👈تفسیر العیاشی جلد 2 صفحہ 218

👈البرھان جلد 2 صفحہ 139

👈تفسیر نورالثقلین جلد 2 صفہ 513

👈بحار الانوار باب۔ انہ یدعی الناس باسماءامھاتھم الاالشیعة

👈روایت۔

👈ترجمہ۔ ۔۔۔۔راوی نے جعفر کی زائرین حسین کے لیے دعا سن کر کہا

خدا کی قسم میں نے یہ تمنا کی کہ کاش میں نے اس کی زیارت کی ہوتی اور حج نہ کیا ہوتا

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 321

👈ثواب الاعمال صفحہ 35

👈قبرے حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت تمام اعمال سے افضل ہے

👈روایت

👈ترجمہ۔ قبر حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت جو اعمال بھی ہوسکتے ہیں ان سب سے افضل ہیں

👈کامل الزیارات صفحہ 146

👈بحار الانوار جلد 1 صفحہ 39

👈روایت

👈ترجمہ۔ تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ عمل قبر حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت ہے

👈کامل الزیارات صفحہ 146

👈بحارالانوار جلد 1 صفحہ 49

👈بحارالانوار جلد 1 صفحہ 49 پر ایک باب قائم کیا گیا ہے 👈باب ان زیارتہ علیہ السلام من افضل الاعمال

👈بقول شیعہ کربلا کعبہ سے افضل ہے

👈روایت ۔

👈ترجمہ۔ کوفہ اللہ اس کے رسول اور امیرالمومنین کا حرم ہے اس میں ایک نماز ایک ہزار نماز کے برابر ہے اور ایک درہم ایک ہزار درہم کے برابر ہے

👈الوافی باب فضل الکوفة ومساجدھا۔ المجلد الثانی ۔جلد 8 صفحہ 215

👈روایت۔

👈ترجمہ۔ اللہ کا حرم مکہ ہے اس کے رسول کا حرم مدینہ ہے امیرالمومنین کا حرم کوفہ ہے اور ہمارا حرم قم ہے ۔اس میں میری نسل سے ایک فاطمہ نامی عورت(امام موسی بن جعفر کی بیٹی فاطمہ کی قبر ہے ) دفن کی جائے گی جس نے اس کی زیارت کی اس کے لیے جنت واجب ہو گی

👈معجم البلدان صفحہ 397 جلد 4

👈مشاہدات العترہ۔ صفحہ 162

👈بحارالانوار جلد 102 صفحہ 267

👈روایت

👈ترجمہ۔ علی بن حسین نے فرمایا اللہ تعالی نے کعبہ کی زمین پیدا کرنے اور اس کو حرم بنانے سے چوبیس ہزار سال پہلے سر زمین کربلا کو برکت اور امن والا حرم بنایا اللہ نے اس کو مقدس بنایا اور اس میں برکت ڈالیں یہ اللہ تعالی کے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہی سے مقدس اور مبارک تھا اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا حتیٰ کہ اللہ اس کو جنت میں افضل زمین اور افضل گھر دے گا جس میں اس کے اولیاء جنت میں رہیں گے

👈بحارالانوار جلد 101 صفحہ 107

👈حسین رضی اللہ عنہ کے زائرین کے پاس فرشتے آتے ہیں اور ان سے اللہ تعالی سرگوشیاں کرتا ہے

👈روایت

👈ترجمہ۔ جو اپنے گھر سے زیارت حسین کی نیت سے نکلا اللہ تعالی اس کے ہر قدم کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں جو اپنے مناسک پورے کرلیتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو اس سے کہتا ہے میں اللہ کا ایلچی ہوں تیرا رب تجھے سلام پیش کرتا ہے اور کہتا ہے اب نئی زندگی شروع کر کیوں کے میں نے تیرے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دیے ہیں

👈 التہذیب جلد 2 صفحہ 14

👈کامل الزیارات صفحہ 132

👈ثواب الاعمال صفحہ 51

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 341 ۔

👈روایت

👈ترجمہ۔ جب زائر قبر کے پاس آتا ہے تو اللہ تعالی اس سے سرگوشی کرتے ہوئے کہتے ہیں میرے بندے مجھ سے مانگ میں تمہیں عطا کروں گا مجھ سے مانگ میں تیری مانگ پوری کروں گا

👈کامل الزیارات صفحہ 132

👈وسائل الشیعہ جلد 10 صفحہ 342

👈ثواب الاعمال صفحہ 51

👈قبروں کا طواف

👈روایت

👈ترجمہ۔ مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ بیت اللہ کے سوا کسی جگہ کا طواف جائز اور مشروع نہیں

👈مجموعہ فتاوی شیخ الاسلام جلد 4 صفحہ 521

👈لیکن شیعہ علماء نے اپنے پیروکاروں کے لئے اپنے اماموں کی قبروں کا طواف مشروع قرار دیا ہے اور اس شعر کی سند کے لیے انہوں نے آل بیت کے نام پر جھوٹی روایات وضع کی ہیں

مجلسی کہتاہے کہ آئمہ کی زیارت کی بعض روایات منقول ہیں ہم تمہارے مزاروں کے گرد طواف کریں گے اور بعض روایات میں ہے قبر کے اطراف کو بوسہ دے

جس طرح اس نے کہا کہ امام رضا رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی قبر کی زیارت کرتا تھا

👈بحارالانوار جلد سوم صفحہ 126

اس سے ان کے مذہب میں اس بت پرستی کی عبادت کے جواز کی دلیل لی گئی ہے لیکن شرک سے منع کرنے والی اور شرک کے لئے جہنم کے عقائد پر مشتمل صریح و واضح قرآنی آیات کی طرف اس کی نظر نہیں گئی لیکن وہ روایات اس کے لیے باعث اشکال ہوتی ہیں جو  رواج و عادت کے مطابق مزاروں کے متعلق ان کے مذہب کی مخالفت کرتی ہیں اور ان کے آئمہ سے مروی ہیں لیکن اس نے ان کی تاویل کرکے ان سے خلاصی حاصل کرلی ہے

👈روایت

👈ترجمہ۔ کھڑے ہو کر پانی نہ پئی اور نہ قبر پر طواف کر جس نے ایسا کام کیا وہ اپنا  سوا کسی کو ملامت نہ کرے جس نے اس میں سے کوئی کام بھی کیا وہ اس کو چھوڑ نہیں سکے گا اللہ یہ کہ جو اللہ چاہے

👈علل الشرائع صفحہ 283

👈بحارالانوار جلد سوم صفحہ 126

👈ان روایات کے تاویل میں مجلسی نے لکھا ہے کے احتمال ہے کہ اس تعداد کے ساتھ طواف سے منع کیا ہو جو تعداد بیت اللہ کے طواف کے لیے مخصوص ہے

👈بحارالانوار ج ،100/۔ 126

👈دوسری تاویل ۔احتمال بھی ہے کہ جس طواف کی نفی کی گئی ہے وہ یہاں پاخانہ کرنا ہے

👈بحارالانوار جلد سوم صفحہ 127

👈قبرکے پاس نماز

👈روایت

👈ترجمہ۔ حسین رضی اللہ عنہ کے حرم میں نماز تمہارے لئے حرکت کے بدلے جو تم وہاں ادا کرتے ہو ایک ہزار حج ایک ہزار عمرے اور 1000 گردنوں کو آزاد کروانے کے ثواب کے برابر ہے اور گویا کسی نبی مرسل کے ساتھ ہزاروں مرتبہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر ہے

👈الوافی المجلد الثانی جلد 8 صفحہ 234

👈روایت

👈ترجمہ۔ ۔اس نے امام رضاعلیہ السلام کی زیارت کیا کسی امام کی اور اس کے پاس نماز پڑھی تو اس کے لئے( مذکورہ ثواب لکھا جائے گا )

پھر وہ اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہتاہے اس کو ہر قدم کے بدلے ایک سو حج 100 عمرے اور اللہ کی راہ میں ایک سو غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لئے سونیکی لکھی جاتی ہے اور اس کی سو غلطیاں مٹا دی جاتی ہیں

👈بحارالانوار جلد سوم صفحہ 137 38

👈👈قبروں پر اوندھا گرنا

شیعہ کے ہاں مزارات کے مناسک اور عبادات میں قبر پر اوندھے منہ گرنا اس پر اپنا رخسار رکھنا چوکھٹ کو بوسہ دینا اور صاحب قبر سے سانس منقطع ہونے تک جس طرح یہ کہتے ہیں مناجات کرنا بھی شامل ہے

👈روایت

👈ترجمہ۔ اس بات کے بیان میں باب حسین کی قبر کے پاس کونسا فعل بجالانا مستحب ہے

اس کے بعد اس نے ذکر کیا کہ شیعہ عالم طوسی نے جمعے کے دن زیارت کے اعمال بیان کرتے ہوئے کہا ہے پھر تم قبر پر اوندھے منہ گرجاو اور کہو میرے مولا میرا امام مظلوم ہے اس پر ظلم کرنے والے کے خلاف مدد مدد پکار حتی کہ سانس منقطع ہو جائے

👈بحارالانوار جلد 1 صفحہ 285

👈روایت

👈ترجمہ۔ حضرت جعفر نے وصیت کی اور اس زیارت کو شروع کرنے سے تین دن پہلے روزہ رکھنے۔ پھر غسل کرنے دو پاک کپڑے پہننے پھر دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم دیاپھر جب تم دروازے کے پاس آؤ تو گنبد سے باہر کھڑے ہو جاؤ اپنی آنکھ سے قبر کی طرف اشارہ کرو اور کہو اے میرے مولا اے ابوعبداللہ اے فرزند رسول تیرا غلام تیرے غلام کا بیٹاتیری لونڈی کا بیٹا تمہارے سامنے ذلیل تمہارے بلند شان میں تقصیر کرنے والا تمھارے حق کا معترف تمہارے پاس تمہارے ذمے کے ساتھ پناہ مانگتے ہوئے تمہارے حرم کا قصد کرتے ہوئے اور تمہارے مقام کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے آیا ہے ۔پھر اس نے کہا پھر اس کی قبر پر اوندھے منہ گر جا اور اے میرے آقا میں تمہارے پاس ڈرا ہوا آیا ہوں مجھے امن دے تمہارے پاس پناہ مانگتے ہوئے آیا ہوں مجھے پناہ دے پھر دوسری مرتبہ قبر پر اوندھے منہ گرجا

👈بحارالانوار جلد101 ایک صفحہ 258۔261

👈ان المزار الکبیر المحمد المشہدی

صفحہ 143 144

👈روایت۔

👈ترجمہ۔مفید کہتا ہے

جب تم قبرپر نکلنے لگتےہو تو قبر پر اوندھے منہ گر جائے اورپھر حسین کے مزار کی طرف واپس ہواور کہ اے ابوعبداللہ تجھ پر سلامتی ہو تم میرے لئے عذاب سے ڈھال ہو

👈بحارالنوار جلد 1 صفحہ257۔

261

ْ👈خلاصہ عنوانات

مزاروں کی زیارت شیعہ کے مذہبی فرائض میں سے ایک فرض ہے ۔جن کا تارک  کافر ہے

👈تہذیب الاحکام جلد 2 صفحہ 14

👈کامل الزیارات لابن قولویہ صفحہ 193

👈وسائل الشیعہ جلد صفحہ 333 ۔337مجلسی نے عنوان دیا ہے حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت واجب فرض اور مامور ہے اور اس کے ترک کرنے پر وارد ہونے والی مذمت اور عتاب کا ذکر ۔کے ساتھ ایک باب قائم کیا ہے اور اس میں 40 روایات ذکر کی ہیں

👈بحارالانوار جلد101

مجلسی نے بحار الانوار میں ایک مستقل کتاب ہے جس کا اس نے کتاب المزار رکھا ہے جو بہت زیادہ ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب سینکڑوں روایات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے یہ بحار کی جدید طباعت میں تقریبا تین جلدوں پر مشتمل ہے جلد 100 101 اور 102

کی طرح حر عاملی کی وسائل الشیعہ میں ابواب المزار جلد 10 صفحہ 251 سے 106 ابواب ہیں

کاشانی نے وافی میں جوان کے اصول اربعہ کی جامع ہے ابواب المزارعۃ والمشاہدۃ کے عنوان سے 33 ابواب قائم کئے  ہیں الوافی المجلدالثانی جلد 8 صفحہ 193 سے الفقیہ تہذیب الاحکام مزارات اور قبروں کی تعظیم نیز ایسی دعاؤں کے ساتھ ائمہ سے مناجات کرنے پر مشتمل ہے جو انہیں خدا کا درجہ دیتی ہیں تہذیب الاحکام جلد 6 صفحہ 3 مستدرک الوسائل میں 86 ابواب ہیں جو 275 روایات پر مشتمل ہیں

مستدرک الوسائل جلد 2 صفحہ 179 سے ابن بابویہ وغیرہ کی کتاب ثواب الاعمال ابن قولویہ کی کامل الزیارات

عباس قمی کی مفاتح الجنان  حیدرحسین کی عمدة الزائر جوہری کی ضیاءالصالحین۔یہ ساری کتابیں ائمہ کی قبروں کی زیارت کے لئے رخت سفر باندھنے والے پھر وہاں جاکر طواف کرنے ان کے آستانوں پر دعا مانگنے اور ان سے فریاد رسی کرنے کے فضائل کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں اور یہ کتاب ایسی سینکڑوں دعائیں ذکر کرتے ہیں جو ائمہ کے متعلق اتنے زیادہ غزلوں پر مبنی ہیں کہ یہ انہیں خالق کائنات کے مقام تک پہنچا دیتی ہیں اور ان میں جتنا شرک ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے

👈نتیجہ۔ شیعہ نے توحید کو جو دین کی اصل اور اساس ہے اس کے بگاڑ میں ان نظریات نے اہم کرداراداکیاہے بوجہ جو اتنی زیادہ اہمیت دی ہے تو اس کا دیار شیعہ پر گہرا اثر ہے انہوں نے شرک کے اڈوں کو جنہیں یہ مزارات سادات کا نام لیتے ہی آباد کیا ہے اور توحید کے گھروں کو جو مساجد ہیں برباد و ویران کر دیا ہے اور ان کی یہ دلچسپی اور اہتمام آج تک قائم ہے۔

👈👈شیعہ کا نقوش و رموز کے ساتھ پکارنا اور نامعلوم سے فریاد رسی کرنا

👈روایت۔ بحارالانوار میں بعض بڑے بڑے عجیب وغریب لکیروں کے ساتھ نقوش کی تصویریں بھی بنائی ہیں اور ان کے متعلق یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ائمہ کا شفا کے لئے ایک طریقہ ہے ان نقوش اور طلاسم کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے امیرالمومنین کا جادو زدہ توابع وہ جن جو انسان کے ساتھ رہتے ہیں مرگی زدہ زہر سلطان شیطان اور انسان کو ڈرانے والی تمام اشیاء کے لیے ورد

👈۔بسم اللہ الرحمن الرحیم

ای کنوش ای کنوش ارشش اتنی عطنیطنیطح۔ یا مطیطرون فریالسون

ماوما ساما سویاطیطشا لوش۔خیطوش۔الخ۔ ۔   پھر اس نے باہم ملی ہوئی لکیروں کی طرح کے عجیب وغریب رموز بنائے ہیں

👈بحارالانوار جلد 94صفحہ 193 ہے

👈اعوذہ بیاآھیا شراھیا۔ ۔۔۔۔۔۔الخ

👈نورالانوار جلد 94 صفحہ 229 صفحہ265 صفحہ 297 صفحہ 372

صفحہ373

پر عجیب و غریب نقوش اور طلاسم کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں

👈نوٹ۔جبکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں

👈وللہ الاسماء الحسنی۔ ۔۔

👈مافرطنا فی الکتاب۔ ۔۔۔

👈ایاک نعبد و ایاک۔ ۔ ۔

👈قضی ربک الاتعبدوا۔ ۔۔۔

👈روایت۔ ابو بصیر سے مروی ہے وہ ابوعبداللہ سے بیان کرتا ہے کہ انہوں نے کہا جب تم راستہ کھو دو تو یہ آواز لگاؤں ایصال ہے یا اباصالح مجھے راستہ بتاؤ اللہ تم پر رحم کرے

👈الفقہ جلد 2 صفحہ 195

👈المحاسن صفحہ 362

👈وسائل الشیعہ جلد 8 صفحہ 325

👈روایت۔ تم میں سے جو سفر میں راستہ خود اور اس کو اپنی جان کے لالے پڑ جائیں تو وہی آواز لگائی صالح میری فریاد سن تمہارے جن بھائیوں میں سے ایک صالح نامی جن ہے جو تمہارے لئے ثواب سمجھتے ہوئے زمین پر گھومتا رہتا ہے جب وہ آواز سنتا ہے تو جواب دیتا ہے اور تم میں سے گم گشتہ راہ بتاتا ہے اور

👈الخصال جلد 2 صفحہ 618

👈وسائل الشیعہ جلد 8 صفحہ 325

👈نوٹ۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کی عادت تھی کہ جب وہ کسی جگہ ٹھہرے تو اس جگہ کے سربراہ جن سے پناہ مانگتا ہے کہ انہیں ان کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے جس طرح اور ان میں جب کوئی اپنے دشمن کے علاقے میں جاتا تو کسی بڑے آدمی کی پناہ اور ذمہ داری میں آجاتا اب جنوں نے دیکھا کہ انسان ان سے خوف کھاتے ہوئے ان کی پناہ طلب کرتے ہیں تو انھوں نے ان کو مزید خوفناک اور دہشتناک کرنا شروع کر دیا ان سے زیادہ ڈرنے لگے اور ان کی زیادہ پناہ مانگنے لگا

👈آیت وانہ کان رجال من الانس۔ ۔۔۔

اور یہ کہ بلاشبہ بات یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے بعض لوگوں کی پناہ پکڑتے تھے تو انھوں نے ان دنوں کو سرکشی میں زیادہ کر دیا

حضرت قتادہ نے فرمایا یعنی انہوں نے ان کو گناہ میں زیادہ کر دیا اور جنوں کی جرات میں اضافہ ہوگیا جب وہ اللہ کے سوا ان سے پناہ مانگتے تو جن اس وقت ان کو زیادہ اذیت پہنچاتا

👈تفسیر ابن کثیر جلد 4/454

👈تفسیر الطبری جلد 29 صفحہ 108

👈فتح القدیر جلد 5 صفحہ 305

👈شیعہ تفسیر البرھان جلد 4 صفحہ 391

👈تفسیر صافی جلد 5 صفحہ 234

👈👈شیعہ کا جاہلیت کے تیروں سے مشابہ اشیاء کے ساتھ استخارہ کرنا

👈زمانہ جاہلیت میں جب کوئی عربی شخص سفر یہ جنگ یا اس جیسے کسی کام کا ارادہ کرتا تو تیر گھماتا یہ تین تیر تین باتوں پر مشتمل ہوتے

👈ایک پر لکھا ہوتا کرلو

👈دوسرے پر لکھا ہوتا نہ کرو

👈اور تیسرا خالی ہوتا

جب وہ انہی کلمات اور اگر حکم کا تیر نکل آتا تو وہ کام کر گزرتا اگر منع کا تیر نکل آتا تو اسکو چھوڑ دیتا

اگر خالی تیر نکل آتا تو دوبارہ تیر گھماتا

👈تفسیر ابن کثیر جلد 2 صفحہ 12

👈تفسیر طبری جلد 9 صفحہ 510

اللہ رب العزت کا دین قرآن شریعت ان کاموں کے خلاف ہے

👈شیعہ نے تیروں سے قسمت آزمائی پر مشتمل استخارے کو اپنے دین میں شامل کرلیا ہے اور اس پر بعض اضافے بھی کیے ہیں جنہیں یہ رقاع

کہتے ہیں چنانچہ شیعہ عالم حرالعاملی نے اس مقصد کے لیے اس عنوان کے ساتھ استخارہ کے استحباب اور کیفیت کا باب کے ساتھ ایک باب قائم کیا ہے

👈وسائل الشیعہ جلد 5 صفحہ 260 صفحہ 213

مجلسی نے تین ابواب قائم کیے ہیں

👈باب الاستخارہ بالرقاع۔

👈باب الاستخارة بالبنادق

👈الاستخارة بالسبحة والحصی

ان استخاروں کے شیعہ کتب جو کیفیت بیان کرتی ہیں وہ شرع میں تو اہل جاہلیت کے طور پر ہی کیونکہ وہ نماز اور دعا پر مشتمل ہے اور نماز بھی بدعت طریقے کے مطابق پر ایک مخصوص دعا لیکن امر اختتام جاہلیت کے عمل کے مشابہ ہی ہوتا ہے

کیوں کہ ان میں تسبیح گھما کر یا مخصوص رقعوں پر کر یا نہ کر لکھ کر اور اس کو بار بار آزما کر خیر تلاش کی جاتی ہے

👈الکافی جلد 1 صفحہ 131

👈تہذیب جلد 1 صفحہ 306

👈وسائل الشیعہ جلد 5 صفحہ 208

👈المقنعة۔ ص36

👈المصباح۔ ص372

👈نوٹ۔ اہل تشیع نےبہت سارے طریقے استخارہ کے نقل کیے ہیں اپنی کتابوں میں ۔

جو کہ تمام کے تمام دور جاہلیت کے طریقوں سے ملتے جلتے ہیں اور شرک و بدعت ہیں جن کو قرآن وشریعت نے منع کیا ہے

Surat No 5 : Ayat No 3

حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الۡمُنۡخَنِقَۃُ وَ الۡمَوۡقُوۡذَۃُ وَ الۡمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیۡحَۃُ وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمۡ ۟ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ ؕ اَلۡیَوۡمَ  یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِ ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِیۡ مَخۡمَصَۃٍ غَیۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳﴾

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو ،   اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو ، اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو  ، اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو ، لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں ، اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو ، اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری ہو ،   یہ سب بدترین گناہ ہیں ، آج کفار تمھارے دین سے ناآمید ہوگئے ، خبردار تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا ، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام   بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا ۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قر ار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالٰی معاف کرنے والا ہے اور بہت بڑا مہربان ہے

👈 جاہلیت کے زمانے میں ایک طریقہ یہ تھا کہ ایک مشترک اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کرتے تھے اور قرعہ اندازی کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف تیروں پر حصوں کے نام لکھ کر ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے، پھر جس شخص کے نام جو حصہ نکل آیا، اسے گوشت میں سے اتنا حصہ دے دیا جاتا تھا، اور کسی کے نام پر کوئی ایسا تیر نکل آیا جس پر کوئی حصہ مقرر نہیں ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ اسی طرح ایک اور طریقہ یہ تھا کہ جب کسی اہم معاملے کا فیصلہ کرنا ہوتا تو تیروں کے ذریعے فال نکالتے تھے۔ اور اس فال میں جو بات نکل آئے اس کی پیروی لازم سمجھتے تھے۔ ان تمام طریقوں کو آیت کریمہ نے ناجائز قرار دیا ہے، کیونکہ پہلی صورت میں یہ جوا ہے، اور دوسری صورت میں یا علم غیب کا دعویٰ ہے، یا کسی معقول وجہ کے بغیر کسی بات کو لازم سمجھنے کی خرابی ہے۔ بعض حضرات نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ : اور یہ بات بھی (تمہارے لیے حرام ہے) کہ تم تیروں سے قسمت کا حال معلوم کرو۔ یہ دوسرے طریقے کی طرف اشارہ ہے اور آیت کے الفاظ میں اس ترجمے کی بھی گنجائش ہے۔

صحیح احادیث میں آیا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔

👈اثبات میں غلو کی گمراہی جسے تجسیم وتعطیل کہا جاتا ہے

👈۔تجسیم کی گمراہ یہود میں مشہور اور منتشر تھی

👈سفر تقویم فصل 23 آیت 22 سفر تثنیہ فصل 24 آیت 10 ر0 قضات فصل 6 آیت 11سفر الخروج فصل 24 آیت 4

لیکن مسلمانوں میں سب سے پہلے اس گمراہی کا آغاز روافض نے کیا اسلئے امام رازی نے کہا ہے

👈یہودیوں کی اکثریت اللہ تعالی کو بندوں کے ساتھ تشبیہ دینے والی تھی اور اسلام میں تشبیہ کے ظہور کا آغاز ہشام بن حکم ۔ہشام بن سالم جوالیقی ۔یونس بن عبدالرحمن قمی۔

اور ابو جعفر الاحول جیسے رافضیوں نے کیا

👈 اعتقادات فرق المسلمین والمشرکین صفحہ 97

یہ تمام مذکورہ لوگ وہ ہیں جن کو شیعہ علماء کا ہراول دستہ اور اپنے مذہب کے ناقلین میں سے ثقہ شمار کرتے ہیں

👈اعیان الشیعہ جلد 1 صفحہ 106

👈مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 106 ۔صفحہ 110 صفحہ 109

👈شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے جھوٹ کو پھیلانے والے سب سے پہلے شخص کی تعین کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلا وہ شخص جس نے یہ کہا کہ اللہ تعالی جسم ہے وہ ہشام بن حکم ہے

👈منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 20

👈ان سے پہلے امام ابو حسن اشعری نے مقالات الاسلامیین میں ذکر کیا ہے کہ اوائل شیعہ مجسمہ اللہ کا جسم قرار دینے والا فرقہ تھے پھر انہوں نے ان کا تجسیم کے بارے میں مذہب بیان کیا اور ان کے اس ضمن میں بعض اقوال نقل کئے لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے متاخرین میں کچھ لوگ تجسیم کا قول چھوڑ کر تعطیل اللہ کی صفات معطل کرنا کے قائل ہوگئے تھے

👈مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 106 تا 109

یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شیعہ کا تعطیل کی طرف رجحان بالکل ابتدائی زمانے میں ہوچکافرق و عقائد کی کتابوں کے مصنفین نے تشبیہ اور تعطیل کے متعلق ہشام بن حکم اور اس کے پیروکاروں کی طرف غلو میں ڈوبے ہوئے ایسے کلمات نقل کیے ہیں جنہیں سن کر مومنوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں عبدالقاہر بغدادی کہتے ہیں

ہشام بن حکم نے یہ دعوی کیا کہ اس کا معبود ایک طویل و عریض اور عمیق ایک محدود جسم ہے اس کی لمبائی اس کی چوڑائی کے برابر ہے

👈فرق بین الفرق صفحات 95

وہ مزیدکہتےہیں ہشام بن سالم جوایلقی کی تجسیم اور تشبیہ میں انتہائی زیادہ افراط کا شکار ہے کیونکہ اس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا معبود انسان کی صورت پر ہے اور اس کے انسان کی طرح کے حواس خمسہ ہیں

👈الفرق بین الفرق صفحہ-28 اور صفحہ 69

یونس بن عبدالرحمن بھی تشبیہ کے باب میں افراط میں مبتلا ہے

👈الفرق بین الفرق صفحہ 70

پھر انہوں نے اس کے اسی سلسلے میں چند اقوال نقل کئے ہیں

👈ہشام نے کہا اس کا رب اپنی سات بالشتوں کے برابر ہے

👈الفصل جلد 5 صفحہ 40

اسفراینی نے بھی ہشام بن حکم ہشام جوالقینی اور اس کے پیروکاروں کا تجسیم کے متعلق نظریہ نقل کرتے ہوئے کہا ہے صاحب دانش پہلی نظر ہی میں جان جاتا ہے جس کا یہ نظریہ ہو اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں

👈التبصیر فی الدین صفحہ-24

صرف نظریات کی کتابوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ ہشام بن حکم اور اس کے اعتبار سے تجسیم کے متعلق نظریات پر روشنی ڈالی ہے

👈التنبیہ والرد صفحہ-24

👈الملل والنحل جلد 1 صفحہ 183 صفحہ 187 دفعہ 188

👈السکسکی البرھان صفحہ 41

👈المیزان صف جلد 6 صفحہ 194

👈الفرق الاسلامیۃ صفا 57

👈تاریخ الفرق الاسلامیہ صفحہ 300

اس کے متعلق بعض معتزلہ اور زیدیہ کی کتابوں نے بھی گفتگو کی معتزلہ میں سے جاحظ نے یہ بات نقل کی ہے

رافضہ نے کلام کیا اور اس کی صورت اور جسم قرار دیا اور ہر اس شخص کو کافر قرار دیا جس نے تجسیم اور تصویر کے بغیر رؤیت کا قول اختیار ہے

👈رسالہ الجاحظ فی بنی امیہ صفحہ 90

اسی طرح ابن الخیاط اور قاضی عبدالجبار نے بھی کہا ہے زیدیہ میں سے ابن المرتضی یمانی نے کہا ہے روافض کی اکثریت ان کے سوا جن کا معتزلہ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا تجسیم کے قائل ہے

👈المنیة والعمل صفحہ 19

👈الحورالعین صفحہ 148 149

👈الانتصار صفحہ 14

👈تثبیت دلائل النبوۃ جلد 1 صفحہ 225

👈الملل والنحل جلد 11 صفحہ 162

👈العلم الشامخ صفحہ 319

لہذا اللہ تعالی سبحانہ کو اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دینا یہود کا نظریہ تھا جو شیعیت میں سرایت کر گیا کیونکہ شیعیت ہر اس شخص کے لیے اپنی باہیں پھیلا دیتی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف کوئی سازش کرنا چاہتا ہوں چنانچہ سب سے پہلے اس کام کا بیڑہ ہشام بن حکم نے اٹھایا پھر اس کا اثر ان لوگوں تک پھیل گیا جو عقائد اور نظریات کی کتابوں میں گمراہ اور غالی مذاہب کے سربرآوردہ تھے کے نام کی طرف یہ مذاہب منسوب تھے

لیکن شیعہ علماء گمراہیوں کا دفاع کرتے ہیں جن کے فتنے کے خبر عام ہو چکی ہیں اور ان کا شر ہر طرف پھیل چکا ہے لہذا وہ ان کی طرف منسوب ہر شر کی تاویل یا تقدیر کا تکلف کرتے ہیں

مجلسی کہتاہے

شاید مخالفین نے ان دونوں یعنی ہشام بن حکم اور ہشام بن سالم جوالیقی کی طرف یہ دونوں اقوال تجسیم اور تصور کا قول ان دونوں کے ساتھ عناد رکھتے ہوئے منسوب کر دیے ہیں

👈بحار الانوار جلد 3 صفحہ 290 صفحہ 292 صفحہ 288

👈نوٹ۔ مسلمانوں میں اس بدعت کے پھیلانے میں اصلاہاتھ اس شخص جو شخص شیعہ کا اس سے انکار کرتا ہے اس کے ذہن میں یہ بات پیدا ہوسکتی ہے کہ ان کی طرف تجسیم کی نسبت حریف کی طرف سے کی گئی ہے جس کے شیعہ کی کتابوں سے کوئی دلیل نہیں لیکن یہ بات خلاف حقیقت ہے کیونکہ ان کے معتبر کتابوں میں ایسی روایات ذکر ہوئی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شیعہ کے ہشام بن حکم ہشام بن سالم اور یونس بن عبدالرحمن جیسے متکلمین نے قرآن و سنت کی دلالت کے مطابق صفات کا اثبات کرنے ہی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ انہوں نے اثبات اور تجسیم میں غلو کی بدعت بھی ایجاد کی ہے

کلینی کی الکافی اور ابن بابویہ وغیرہ کی توحید میں ایسی باتیں منقول ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ شیعہ اندھیرے صحرا میں ہاتھ پاؤں مارتے رہے ہیں کیونکہ وہ تجسیم کے مسئلہ میں اختلاف کی گہرائی میں غرق ہو چکے تھے کوئی کہتا ہے کہ وہ تصویر ہے کوئی کہتا ہے وہ جسم ہے انہوں نے یہ صورتحال اپنے امام کے سامنے پیش کی تو اس نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ توحید سے بہت دور ہے

👈روایت کہتی ہے جس طرح شیعہ کا صدوق قمی سہل سے روایت کرتا ہے کہ اس نے کہا میں نے 255 ہجری کو ابو محمد کے نام یہ لکھا ۔

👈اے جناب توحید کے مسئلے میں ہمارے حساب میں اختلاف ہو چکا ہے کوئی کہتا ہے کہ وہ جسم ہے تو کوئی کہتا ہے وہ صورت ہے اگر آپ بہتر سمجھیں تو مجھےاس کی تعلیم دے دیں جس سے میں اس پر واقف ہو جاؤں اور اس کو جائز قرار نہ دو تو آپ اپنے بندہ ناچیز پر احسان کریں گے چنانچہ اس یعنی امام منتظر نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر یہ جواب دیا کہ تم نے توحید کے بارے میں سوال کیا ہے یہ تم سے الگ ہے اللہ تعالی واحد ہے احد ہےصمد ہے اس نے کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا نہ کوئی اس کے برابر ہی ہے وہ خالق ہے مخلوق نہیں جو اقسام وہ چاہے پیدا کرسکتا ہے اور جو صورت وہ چاہے تخلیق کر سکتا ہے وہ مصور نہیں اس کی تعریف بلند ہے اور اس کے اسماء مقدس ہیں وہ شبیہ سے بلند ہے اس جیسا کوئی نہیں وہ سمیع اور بصیر ہے

👈الکافی جلد 1 صفحہ 103

👈التوحید صفحہ 101 102

👈بحارالانوار جلد 2 صفحہ 261

👈نوٹ۔ شیعہ کے ہاں تجسیم کے رجحان میں بڑا ظاہر کردار ہے جس طرح کہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہیں

الکافی التوحید امالی الصدوق بحارالانوار الفصول المہمہ وغیرہ میں بکثرت یہ روایات ملتی ہیں

چنانچہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہ ان کے بڑے بڑے متکلمین نے اثبات جسم میں غلو کیا ہے حتی کہ انہوں نے اللہ کو اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اللہ کے ساتھ کفر اور اس کے اس فرمان 👈لیس کمثلہ شئی کے سراسر تکذیب اور تکفیر ہے

👈عقیدہ تعطیل

👈روایت۔ شیعہ عالم محمد حسینی قزوینی جس کو یہ تیرہویں امام کا لقب دیتے ہیں کیونکہ اس نے ان کے مظلوم امام زمانہ سے تین مرتبہ ملاقات کی اللہ تعالی کے وصف میں کہتا ہے

👈اس کا کوئی جز نہیں جس کا کوئی جز نہیں اس میں کوئی ترکیب نہیں ہوتی جو مرکب نہ ہو وہ جوہر اور عرض نہیں ہوتا جو جوہر نہ ہو وہ عقل  نفس معدہ صورت اور جسم نہیں ہوتا اور جو جسم نہ ہو وہ مکان زمان جہت اور وقت میں نہیں ہوتا جو کسی جہت میں نہ ہو اس کی مقدار ہوتی ہے نہ کیفیت نہ رتبہ۔جس کی مقدار کیفیت اور جہت نا ہو اس کی کوئی وضع نہیں ہوتی اور جس کی وقت اور جگہ میں وضع نہ ہو اس کی نسبت اور اس کی طرف کسی چیز کی اضافت نہیں ہوتی لہذا جس کی نسبت نہ ہو اس کا کوئی فعل و انفعال نہیں ہوتا جس کا کوئی جسم ہونا رنگ نہ مکان ناجہت وہ دیکھا جا سکتا ہے نہ اس کا کوئی ادراک کیا جاسکتا ہے

👈قلائد الخرائد فی اصول عقائد صفحہ50

👈نہج  المسترشدین صفحہ 45۔47

👈مجالس المواحدین فی اصول الدین صفحہ-21

👈نوٹ۔

آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہیں حنفیہ محض جو اس نے فلسفا کی گندگی کے ڈھیر اور ملحدوں کے تلچھٹ سے اخذ کی ہے وجودہ کی نفی پر مشتمل ہے

👈نتیجہ۔

تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ شیعہ کا عقیدہ تشبیہ اور تعطیل یہ قرآن کریم کی صریح قطعی الدلالہ آیات کے خلاف ہے جو کہ سراسر کفر اور تکذیب خداوندی ہے ملاحظہ فرمائیے آیات قرآنی میں 👇

👈Surat No 59 : Ayat No 22

ہُوَ اللّٰہُ  الَّذِیۡ لَاۤ  اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ۚ ہُوَ  الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ ﴿۲۲﴾وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں چھپے  کھلے کا جاننے والا مہربان اور رحم کرنے والا ۔

👈Surat No 59 : Ayat No 23

ہُوَ اللّٰہُ  الَّذِیۡ لَاۤ  اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ اَلۡمَلِکُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ  الۡمُؤۡمِنُ الۡمُہَیۡمِنُ الۡعَزِیۡزُ الۡجَبَّارُ الۡمُتَکَبِّرُ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا  یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۲۳﴾

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ  نہایت پاک سب عیبوں سے صاف امن دینے والا نگہبان  غالب زورآور اور بڑائی والا پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں ۔

👈  Surat No 59 : Ayat No 24

ہُوَ اللّٰہُ  الۡخَالِقُ الۡبَارِئُ  الۡمُصَوِّرُ لَہُ الۡاَسۡمَآءُ  الۡحُسۡنٰی ؕ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۲۴﴾

وہی  اللہ ہے پیدا کرنے والا وجود بخشنے والا  صورت بنانے والا اسی کے لئے ( نہایت ) اچھے نام ہیں  ہرچیز خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے  اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔

Surat No 37 : Ayat No 180

👈سُبۡحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الۡعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۸۰﴾ۚ

پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے  ( جو مشرک ) بیان کرتے ہیں ۔

Surat No 37 : Ayat No 181

👈وَ  سَلٰمٌ  عَلَی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۸۱﴾ۚ

پیغمبروں پر سلام ہے ۔

👈Surat No 37 : Ayat No 182

وَ الۡحَمۡدُ  لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۸۲﴾٪

اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے ۔