شیعہ کا شرکیہ عقیدہ: تمام انبیاء کرام نے جب بھی رب کو پکارا تو اس سے مراد سیدنا علی ہیں، قرآن میں بھی رب سے مراد سیدنا علی ہیں. معاذاللہ

(1)۔ عقیدہ شیعانِ علی       🔷یا علی مدد🔷

     اہل تشیع کہتے ہیں “آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک اور تا قیامت ہر زمانے میں انبیاء، صلحاء، رُسل، مؤمنین جس نے پکارا علی کو پکارا۔ چونکہ خدا تعالیٰ کا ذاتی نام ہے۔ باقی صفاتی نام معصومین کے ہیں۔ لہذا رب کے معنیٰ علی ابن طالب ہیں۔ لٰہذا قرآن میں آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، ایوب علیہ السلام، زکریا علیہ السلام، موسی علیہ السلام، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کو مدد کے لئے پکارا۔ بلکہ قرآن میں جہاں بھی لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد علی رضی اللہ عنہ ہی لیا جائے گا۔

(جلاء العیون ج2ص63 تا 66 خلاصہ)

♦️جواب اہلسنّت♦️

 قارئین کرام اس سے گمراہ کن عقیدہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس باطل عقیدے کے رد میں ہزاروں محکم دلائل لکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن کیوں نہ شیعہ کتاب نہج البلاغہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی  حقیقت حال دریافت کر لی جاۓ۔

 ⭕چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ  اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ کو فرماتے ہیں:-

 واعلم ان النصر من عند اللہ سبحانہ

 ترجمہ:- اور یقین رکھنا کہ مدد اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔( نہج البلاغہ ص128)

⭕ پھر فرماتے ہیں:-

 الحمد للہ الذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واستعینہ قاھر قادر

 ترجمہ:- سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔۔۔ اور اسی سے مدد چاہتا ہوں۔( ایضا ص241)

   ⭕پھر فرماتے ہیں:-

 الحمداللہ الذی۔۔۔۔۔ ولا استطیع ان اخذ الا ما اعطیتی

 ترجمہ:- سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔۔۔۔ مجھ میں کسی چیز کو حاصل کرنے کی  قوت نہیں سوائے اس کے جو تو اللہ مجھے عطا کر دے(ایضا ص603)

 ⭕اللہ سے مدد کے خواستگار رہو اور اس سے ہی توفیق و تائید کی دعا کرو۔(ایضا ص706)

⭕ تمہیں پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے اگر انہیں حاصل کرنے کے لئے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنگاؤ تو وہ اسی قابل ہوں گی۔

 نمبر 1:-

 تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے۔۔(ایضا ص833)

 نمبر 2:- 

والاکثر الاستعانۃ با اللہ یکفیک۔۔۔ انشاءاللہ

 ترجمہ:- اور زیادہ سے زیادہ اللہ سے مدد مانگو کہ وہ تمہاری مہمات میں کفایت کرے گا اور جو مصیبتوں میں مدد کرے گا۔ انشاءاللہ(ایضاً ص725)

 نمبر 3:-

 اذا کانت لک الی اللہ۔۔۔فان اللہ۔۔۔۔الخ

 جب اللہ سے کوئی حاجت طلب کرو پہلے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو پھر اپنی حاجت مانگو کیونکہ خداوند عالم اس سے بر تر ہے کہ اس سے دوحاجتیں طلب کی جائیں تو وہ ایک کو پوری کردے اور ایک کو رد کردیں۔(ایضاً ص 923)

 📌صاحبانِ بصیرت؛ 

خود اندازہ کریں کہ حضرت علی رضی اللہ انہوں نے جہاں بھی مدد طلب کی یا طلب کرنے کی نصیحت فرمائی ہے وہ لفظ اللہ اسم خاص استعمال کر کے فرمایا ہیےتاکہ تعفن زدہ عقیدہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور کسی غلیظ دماغ میں رب کے معنیٰ علی ہوں بھی تو اسے پتہ چل جائے کی مدد صرف اللہ ہی سے مانگنی چاہیے۔

چنانچہ شیعانِ علی کا یہ عقیدہ ریت کی دیوار سے بھی کمزور ثابت ہوا اور شیر خدا کی ایک ہی ضرب نےاسے مسمار کر کے رکھ دیا۔

خلاصہ:-

 حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبات سے معلوم ہوا کہ رب اللہ ہے اور اللہ رب ہے اور مدد صرف اور صرف اللہ ہی سے مانگنی چاہیے علی  رضی اللہ عنہ یا کسی اور سے مدد مانگنا شرک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں