شیعہ مذہب کی نماز

شیعہ مذہب میں عورتوں کو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کا حکم ہے اور ہاتھ باندھ کر پڑھتی ہیں اور مرد ہاتھ کھول کر پڑھتے ہیں (اگر اتفاقاً پڑھنی پڑے) ۔

۔معلوم ہوا کہ شیعہ نماز رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم سے ماخوذ نہیں ورنہ یہ اختلاف نہ ہوتا

ملاحظہ شیعہ کے معتبر کتاب الکافی طبع نولکشور لکھنو

“عن حریز قال اذاقامت المراة فی الصلواة جمعت بین قدمیھا و تفرج بینھا و تضم یدیھا الٰی صدرھا لمکان ثدیھا”

حریز کہتا ہے عورت جب نماز میں کھڑی ہو تو دونوں قدموں کو جمع کرکے رکھے اور ان میں فراخی نہ کرے اور دونوں ہاتھوں کو اپنے سینے پر دونوں پستانوں کی جگہ رکھے

 دو اماموں یعنی باپ بیٹے میں اختلاف

الاستبصار صفحہ 145 پر مرقوم ہے ابو بصیر سے روایت ہے امام صادق سے کہ میں نے عرض کی کہ فجر کی سنتیں کس وقت پڑھیں تو امام نے جواب دیا طلوع فجر کے بعد

اور ابوبصیر کہتا ہے کہ میں نے امام صادق سے کہا کہ آپ کے والد بزرگوار امام باقر نے مجھے حکم دیا تھا کہ طلوع فجر سے پہلے پڑھیں

بس فرمایا امام صادق نے کہا اے ابو محمد تحقیق شیعہ میرے والد کے پاس طالب ہدایت ہو کر آتے تھے تو مسئلہ حق ان کو بتاتے تھے

۔اور میرے پاس شیعہ شک لے کر آتے ہیں میں ان کو تقیہ کر کے فتوی دیتا ہوں

اب اگر کوئی کہے کہ امام نے تقیہ کر کے کلمہ پڑھا تھا تو شیعہ اس کی تردید کیوں کر کریں گے؟

صاف ظاہر ہے کہ شیعہ مذہب رسول خدا سے ماخوذ نہیں بلکہ شیعہ اماموں اور شیعہ کے درمیان ایک دنگل کا سماں پیش کرتا ہے

عن ابی عبداللہ انہ قال اتکلم علی سبعین وجھالی کلھا المخرج وایضا عن

امام جعفر نے فرمایا کہ میں ایسی گفتگو کرتا ہوں جس کے 70 پہلو نکلتے ہیں اور ہر پہلو میں میرے نکلنے کا راستہ ہوتا ہے

ابی بصیر سمعت ابا عبداللہ انی تکلم بالکلمة الواحدة لھا سبعون وجھاوان شئت کذا وان شئت کذا

نیز ابو بصیر سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر سے سنا فرماتے ہیں میں ایسی بات کہتا ہوں جس کے ستر معنی نکل سکتے ہیں چاہو تو یہ معنی لو چاہو تو وہ معنی لو

اساس الاصول صفحہ٦۵ علامہ دلدار علی شیعہ مجتہد

اب کون کہے کہ شیعہ مذہب رسول خدا سے ماخوذ ہے

حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے کا معمول اظہر من الشمس ہے۔  محل کا ثبوت حضور سے منقول نہیں اس میں تو سیع ہے ہاتھ رکھ کے جہاں چاہے مگر باندھے ضرور

شیعہ مجتہد علی اظہر کہتا کہ “معلوم ہوا کہ بغرض تفریق جماعت اور فرقہ بندی قائم کرنے کے لئے ایک ایک امام نے ایک ایک خاص صورت نکالی کہ مسلمانوں کی جماعت میں متفرق ہوئی

جواب میں فاتح رافضیت مولانا اللہ یار خاں رحمہ اللہ نے فرمایا “

کسی امام نے کوئی صورت اپنی طرف سے تجویز نہیں کی، نہ بنائی ہر ایک نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کیا۔ اسی پر اہلبیت عظام عمل پیرا رہے اور یہی مذہب ائمہ ۔اربعہ اہلسنت کا ہے اس پر امام مالک رحمہ اللہ عمل کرتے رہے اور حکم دیتے رہے