شیعہ مذہب میں تقیہ کی اہمیت (مولانا علی معاویہ)

[شیعہ مذھب میں تقیہ کی اھمیت]

السلام علیکم دوستو

جیسا کہ پچھلے پوسٹ میں شیعہ مؤرخ مسعودی کا تقیہ باز شیعہ ہونا آپ کے سامنے ثابت کیا گیا، لیکن سیف الاسلام رافضی بار بار یہ کہتا رہا اور ساتھ میں ایک پوسٹ بھی لگا دی کہ اھل السنت علماء نے اس کو معتزلہ لکھا ہے نہ کہ شیعہ۔

حالانکہ میں بار بار یہی کہتا رہا کہ اس نے تقیہ کرکے اپنا مذھب چھپایا ہوا تھا اس لئے اھل السنت علماء کو اس کی حقیقت پتا نہیں چل سکی لیکن یہ باز نہیں آیا۔

اب میں آپ کی سامنے شیعہ مولویوں کی حقیقت انہی کی کتابوں سے کھولنا چاھتا ہوں کہ ان کے نزدیک تقیہ کی کتنی اھمیت ھے اور ان کے مولوی تقیہ کرکے خود کو حنفی، شافعی وغیرہ کہلاکر اھل السنت کو دھوکا دیتے ہیں۔

قارئین اصول کافی باب التقیہ اور باب الکتمان کی روایات سے تو آپ واقف ھونگے جن میں اماموں سے روایات ہیں کہ ’’تقیہ میرے آبا و اجداد کے دین سے ھے،،۔۔ اور یہ بھی ھے کہ ’’جس نے اپنا مذھب چھپایا وہ عزت حاصل کرے گا اور جس نے اپنا دین ظاھر کیا وہ ذلیل ھوگا‘‘ وغیرہ۔۔

(میں پوسٹ کی طوالت کے خوف سے یہاں صرف ترجمہ لکھوں گا، عربی عبارات اسکین پیجز میں قارئین دیکھ سکتے ہیں۔۔ )

لیکن آج میں آپ کے سامنے ان کے شیخ صدوق کی لکھی گئی عقیدے کی کتاب ‘‘کتاب الاعتقادات’’ سے تقیہ کی اھممیت کے بارے میں چند حوالے عرض کرونگا ۔

۱، کتاب الاعتقادات صفحہ 346 پر لکھتا ھے کہ

تقیہ واجب ہے ،قائم (بارہویں غائب) کے نکلنے تک تقیہ چھوڑنا ناجائز ہے، جس نے قائم کے نکلنے سے پہلے تقیہ ترک کیا وہ اللہ اور اماموں کے دین سے خارج ہوگیا، اور اس نے اللہ اور رسول اللہﷺ اور اماموں کے دین کی مخالفت کی۔

نوٹ۔ آج کل جن شیعوں نے تقیہ ترک کرکے اپنا مذھب ظاھر کیا ھے اور صحابہؓ پر تبرا اور لعنتیں شروع کر رکھی ہیں وہ اپنے شیخ کے اس فتوے سے دین امامیہ سے خارج ہیں۔

۲، اسی کتاب الاعتقادات کے صفحہ 359 پر ہےکہ

امام جعفر صادقؒ نے فرمایا ھے کہ جس نے ان (سنیوں) کے پیچھے پہلی صف میں نماز پڑھی گویا کہ اس نے رسول اللہﷺ کے ساتھ پہلی صف میں نماز پڑھی۔۔

قارئین دیکھ لیا آپ نے تقیہ کے بارے مین شیعون کا نظریا

اب آپ کے سامنے ان کے مولویوں کا انہی کی کتب سے تقیہ کرنا دکھاتا ہوں۔

۱، شیعہ کتاب مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 42، 43 پر اپنے مولویوں کے کرتوت بتاتے ہوئے لکھتا ھے کہ

شیعہ علماء تقیہ کرکے خود کو دوسرے مذاھب کی طرف منسوب کرکے خود کو شافعی یاحنفی یا کوئی دوسرے مذھب کا ظاھر کرتے تھے اور اپنے دل میں تقیہ کے گڑے ہوئے بیج کا سہارا لیتے تھے، اور ’’تقیہ میرا اور میرے آبا و اجداد کا دین ہے‘‘ جیسی مشہور روایت کے طریقے پر چلتے تھے۔۔

۲، شیعہ مذھب کے شہید ثالث (تیسرے شھید) نور اللہ شوستری جو کہ تقیہ کرکے سلطان اکبر شاہ کے دور میں سنیوں کا قاضی القضاة (چیف جسٹس) بن گیا تھا لیکن جب اس کے تقیہ کا بھانڈہ کھلا تو اس کو مروا دیا گیا جس کو شیعہ شھید ثالث کے لقب سے یاد کرتے ہیں، انڈیا کے شھر آگرا میں اس کی قبر ہے۔

اس کی کتاب احقاق الحق صفحہ 158 میں اس کے حالات میں لکھا ہے کہ

وہ اپنا مذھب چھپاتا تھا اور ان چار سنی مذاھب میں سے اس قول کو ترجیح دیتا تھا جو شیعہ مذھب کے مطابق ہو۔

۳، اسی تقیہ باز نور اللہ شوستری کی کتاب مجالس المومنین صفحہ 30 پر بھی تقریبا یہی بات لکھی ھے کہ

اپنا مذھب چھپاتا تھا اور مخالفین سے تقیہ کرتا تھا۔

آگے لکھتا ھے کہ

امامیہ مذھب کے مطابق فیصلہ کرتا تھا۔

قارئین تو آپ کے سامنے شیعہ مذھب اور ان کے مولویوں کا حال سامنے ہے کہ کیسے یہ اپنا مذھب چھپا کر خود کو سنی حنفی، شافعی وغیرہ ظاہر کرتے ہیں۔

تو ان حوالاجات کے مطابق یہ ذھن نشین کرلیں کہ جو بھی شخص خود کو سنی کہلا کر شیعہ نظریات کی ترویج کرتا ہو یا کسی صحابی خصوصا سیدنا معاویہؓ ، سیدنا عمرو بن عاص ؓ پر اعتراضات کرتا ہو وہ تقیہ باز شیعہ ہے۔

 اللہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔