شیعہ مذہب قدیم فلسفوں کی اماجگاہ(توقیر احمد)

👁‍🗨شیعہ مذہب قدیم فلسفوں کی اماجگاہ

💗فہرست

👈بداء

👈تجسیم الہی

👈تعطیل الہی

👈حلول الہی

👈تناسخ ارواح

👈نظریه وصیت

👈نظریه امامت 

👈عصمت آئمہ

👈رجعت

👈متعہ۔ 

💖تمہید

حدیث نمبر: 7319

حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن المقبري، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:”  لا تقوم الساعة حتى تأخذ أمتي باخذ القرون قبلها شبرا بشبر وذراعا بذراع، فقيل: يا رسول الله، كفارس، والروم، فقال: ومن الناس إلا اولئك”.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں، پارسی اور نصرانی؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اور کون۔“

8642 – 7319

👈حدیث نمبر: 3456

حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال: حدثني زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد رضي الله عنه، أن النبي  صلى الله عليه وسلم، قال:” لتتبعن سنن من قبلكم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى لو سلكوا جحر ضب لسلكتموه، قلنا: يا رسول الله اليهود والنصارى، قال: فمن”.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ”تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی ساہنہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کی مراد پہلی امتوں سے یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا پھر کون ہو سکتا ہے؟“

4131 – 3456

👈حدیث نمبر: 7320

حدثنا محمد بن عبد العزيز، حدثنا ابو عمر الصنعاني من اليمن، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:” لتتبعن سنن من كان قبلكم شبرا شبرا، وذراعا بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتموهم، قلنا: يا رسول الله، اليهود، والنصارى، قال: فمن”.

ہم سے محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے یمن کے ابوعمر صنعانی بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔“ ہم نے پوچھا: یا رسول  اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔

8643 – 7320

💟مقدمہ

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ) [آل عمران: 19].

ترجمہ: بیشک دین (حق) اللہ کے نزدیک صرف  اسلام ہی ہے۔

اور اللہ اس (دین اسلام) کی جگہ کوئی دوسرا قبول نہیں کرے گا۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

(وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ) [آل عمران: 855].

ترجمہ: جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش  کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا ۔

(هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ) [التوبة: 33].

ترجمہ: اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دےاگرچہ مشرک بُرا مانیں۔

شیعت اپنے آپ کو اسلام اور دین اسلام سے جوڑتی ہے اور ہر گزرتے دور کے ساتھ ان کے عقائدونظریات بدلتے جارہیے ہیں اور یہ قرآن وحدیث سے اپنے باطل عقائد کی باطل تاویلات کے زریعے سےاپنے آپ کو مسلمان اور اسلامی اقدارکے حامل ہونے کے کا پروپیگنڈا کرتے ہیں تو کیوں نا ہم ان کے باطل عقائد ونظریات کی مختصر جانچ پڑتال کریں کہ یہ ماقبل 👆ذکر کیے   

گیےعقاید و نظریات کی بنیاد کیا ہے 

اور یہ کس مزہب کی اساس تھے جن کو شیعت نے اپنا کر ان کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی 

ہے 

واللہ اعلم بالصواب طالب دعا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💌بداء

عقیدہ بداء ماقبل الاسلام دوسرے مزاہب میں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس طرح اہل تشیع بداء کی نسبت اللہ کی طرف کرتےہیں اسی طرح یہ منکر اور قابل مذمت مفہوم یہودیوں کی کتابوں میں پایا جاتا ہے تورات میں جس میں یہودیوں نے اپنی خواہشات کے مطابق جس طرح چاہا تحریف کی صریح اور صاف صاف عبارت ذکر ہوئی ہیں جو بداء کے مفہوم کی اللہ تعالی کی طرف نسبت کرنے پر مشتمل ہیں 

👈تورات میں ذکر ہوا ہے رب نے دیکھا کہ زمین پر لوگوں کی برائی بہت زیادہ ہوگئی ہے تو اوررب زمین پر انسان کو پیدا کرنے پر نادم ہوااور اس نے اپنے دل میں بڑا دکھ محسوس کیا رب نے کہا میں انسان کو ضرور زمین سے مٹا دوں گا جس کو میں نے پیدا کیا ہے 

👈کتاب التکوین چھٹی فصل آیت نمبر 5 

👈کتاب الخروج فصل 32 آیت 12 اور 14   

👈کتاب قضاۃ دوسری فصل آیت 18 

👈صموئیل کی پہلی کتاب فصل 15 آیه 10 آیت 34 

👈صموئیل کی دوسری کتاب فصل 24 آیه 16 

👈کتاب اخبار الاول الایام فصل 21 آیت 1 

👈کتاب ارمیا فصل 42 آیت 10 

👈کتاب عاموس فصل 17 آیه 3 

👈کتاب یونان فصل 3 آیه 10 

💌نتیجہ۔۔۔۔۔

مذکورہ مفہوم یہودیوں کی تورات میں ذکر ہوا ہے جبکہ وہ نسخ کا انکار کرتے ہیں کیونکہ ان کے گمان کے مطابق نسخ بداء کو مستلزم ہے یوں لگتا ہے کہ ابن سبا یہودی نے اس نظریہ کا جس کا دودھ اس نے اپنی تورات سے پیا تھا اسلامی معاشرے میں پھیلانے کی کوشش کی اور شیعیت نےولایت علی وصیت ولایت اور رجعت جیسے عقائد کی طرح بداء کو بھی یہودیت سے ہی لیاہے اسی لیے اس سبائی فرقہ کے تمام افراد بداءکے قائل اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے لیے کئی بداءظاہر ہوتے ہیں  

👈ملطی التنبیه والرد صفحه 19

💟تجسیم الہی 

👈۔تجسیم کی گمراہ یہود میں مشہور اور منتشر تھی

👈کتاب تقویم فصل 23 آیت 22 

👈کتاب تثنیه فصل 24 آیه 10 

👈کتاب قضاة فصل 6 آیه 11 

👈کتاب الخروج فصل 24 آیه 4   

 لیکن مسلمانوں میں سب سے پہلے اس گمراہی کا آغاز روافض نے کیا اسلئے امام رازی نے کہا ہے 

👈یہودیوں کی اکثریت اللہ تعالی کو بندوں کے ساتھ تشبیہ دینے والی تھی اور اسلام میں تشبیہ کے ظہور کا آغاز ہشام بن حکم ۔ہشام بن سالم جوالیقی ۔یونس بن عبدالرحمن قمی۔

اور ابو جعفر الاحول جیسے رافضیوں نے کیا 

👈 اعتقادات فرق المسلمین و المشرکین صفحہ 97 

یہ تمام مذکورہ لوگ وہ ہیں جن کو شیعہ علماء کا ہراول دستہ اور اپنے مذہب کے ناقلین میں سے ثقہ شمار کرتے ہیں 

👈اعیان الشیعہ جلد 1 صفحہ 106 

👈مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 106 ۔صفحہ 110 صفحہ 109 

👈شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے جھوٹ کو پھیلانے والے سب سے پہلے شخص کی تعین کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلا وہ شخص جس نے یہ کہا کہ اللہ تعالی جسم ہے وہ ہشام بن حکم ہے 

👈منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 20 

👈ان سے پہلے امام ابو حسن اشعری نے مقالات الاسلامیین میں ذکر کیا ہے کہ اوائل شیعہ مجسمہ اللہ کا جسم کرا دینے والا فرقہ تھے پھر انہوں نے ان کا تجسیم کے بارے میں مذہب بیان کیا اور ان کے اس ضمن میں بعض اقوال نقل کئے لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے متاخرین میں کچھ لوگ تجسیم کا قول چھوڑ کر تعطیل الہی کی صفات معطل کرنا کے قائل ہوگئے تھے 

👈مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحه 106 تا 109 

یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ شیعہ کا تعطیل کی طرف رجحان بالکل ابتدائی زمانے میں ہوچکا فرق و عقائد کی کتابوں کے مصنفین نے تشبیہ اور تعطیل کے متعلق ہشام بن حکم اور اس کے پیروکاروں کی طرف غلوں میں ڈوبے ہوئے ایسے کلمات نقل کیے ہیں جنہیں سن کر مومنوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں عبدالقاہر بغدادی کہتے ہیں 

ہشام بن حکم نے یہ دعوی کیا کہ اس کا معبود ایک طویل و عریض اور عمیق ایک محدود جسم ہے اس کی لمبائی اس کی چوڑائی کے برابر ہے 

👈فرق بین الفرق صفحات 95 

وہ مزیدکہتےہیں ہشام بن سالم جوالیقی کی تجسیم اور تشبیہ میں انتہائی زیادہ افراط کا شکار ہے کیونکہ اس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا معبود انسان کی صورت پر ہے اور اس کے انسان کے طرح کے حواس خمسہ ہیں 

👈الفرق بین الفرق صفحہ-28 اور صفحہ 69

یونس بن عبدالرحمن بھی تشبیہ کے باب میں افراط میں مبتلا ہے 

👈الفرق بین الفرق صفحہ 70 

پھر انہوں نے اس کے اسی سلسلے میں چند اقوال نقل کئے ہیں

👈ہشام نے کہا اس کا رب اپنی سات بالشتوں کے برابر ہے 

👈الفصل جلد 5 صفحہ 40 

اسفراینی نے بھی ہشام بن حکم  اور اس کے پیروکاروں کا تجسیم کے متعلق نظریہ نقل کرتے ہوئے کہا ہے صاحب دانش پہلی نظر ہی میں جان جاتا ہے جس کا یہ نظریہ ہو اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں 

👈التبصیر فی الدین صفحہ-24 

صرف نظریات کی کتابوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ ہشام بن حکم اور اس کے اعتبار سے تقسیم کے متعلق نظریات پر روشنی ڈالی ہے 

👈التنبیہ والرد صفحہ-24  

👈الملل والنحل جلد 1 صفحہ 183 صفحہ 187 دفعہ 188 

👈السکسکی البرھان صفحہ 41 

👈المیزان صف جلد 6 صفحه 194 

👈الفرق الاسلامیۃ صفا 57 

👈تاریخ الفرق الاسلامیه صفحہ 300 

💟نتیجہ۔۔۔۔

شیعہ کا اکابر علماء وفقہاء۔ محققین وکا نظریہ تجسیم بھی ماخوذ ازیہود ہے 

💗تعطیل الہی

👈 اہل کتاب صابئہ اللہ تعالی کو سلوب کے ساتھ موصوف کرتے تھےالبیرونی نے حران کے صابئہ کے متعلق ذکر کیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کو سلب کے ساتھ موصوف کرتے ہیں ایجاب کے ساتھ نہیں۔یعنی وہ کہتے ہیں اس کی کوئی حد بندی ہوسکتی ہے نہ وہ دیکھا جاسکتا ہے اور وہ ظلم و زیادتی نہیں کرتا اس کو وہ مجازا اسماء حسنی کا نام دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک حقیقت میں کوئی بھی صفت نہیں وہ تدبیر کو فلک اور اجرام فلکی کی طرف منسوب کرتے ہیں 

👈الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ صفحہ 205  

👈صابئہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان ایک قوم ہے جس کا کوئی مذہب نہیں 

👈تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 146 

👈ابن کثیر  جلد 1 صفحه 107 

👈امام رازی فرماتے ہیں صابئہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ستاروں کی پوجا کرنے والی قوم تھی 

👈اعتقادات فرق المسلمین و المشرکین صفحہ 144 

👈شہرستان ذکر کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں دو فرقے تھے ایک صابئہ دوسرا حنفا تھا 

👈الملل والنحل جلد 1 صفحہ 234 

👈التبصیر فی الدین صفحہ 89 

👈الخطط للمقریزی جلد 2 صفحہ 344 

👈الرد علی المنطقیین صفحه 278 279 

👈روایت۔ شیعہ عالم محمد حسینی قزوینی جس کو یہ تیرہویں امام کا لقب دیتے ہیں کیونکہ اس نے ان کے مظلوم امام زمانہ سے تین مرتبہ ملاقات کی اللہ تعالی کے وصف میں کہتا ہے 

👈اس کا کوئی جز نہیں جس کا کوئی جز نہیں اس میں کوئی ترکیب نہیں ہوتی جو مرکب نہ ہو وہ جوہر اور عرض نہیں ہوتا جو جوہر نہ ہو وہ عقل  نفس معدہ صورت اور جسم نہیں ہوتا اور جو جسم نہ ہو وہ مکان زمان جہت اور وقت میں نہیں ہوتا جو کسی جہت میں نہ ہو اس کی مقدار ہوتی ہے نہ کیفیت نہ رتبہ۔جس کی مقدار کیفیت اور جہت نا ہو اس کی کوئی وضع نہیں ہوتی اور جس کے وقت اور جگہ میں وضع نہ ہو اس کی نسبت اور اس کی طرف کسی چیز کی اضافت نہیں ہوتی لہذا جس کی نسبت نہ ہو اس کا کوئی فعل و انفعال نہیں ہوتا جس کا کوئی جسم ہونا رنگ نہ مکان ناجہت وہ دیکھا جا سکتا ہے نہ اس کا کوئی ادراک نہیں کیا جاسکتا ہے 

👈قلائد الخرائد في اصول عقائد صفحہ50 

👈نهج  المسترشدین صفحه 45۔47

👈مجالس الموحدین فی اصول الدین صفحہ-21 

👈نتیجہ۔۔۔۔۔ 

اہل تشیع لوگ اللہ سبحان و تعالیٰ کو تفصیلا سلبی صفات کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور صرف ایک مطلق وجود ثابت کرتے ہیں جسکی نتیجتا کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی جیسا کہ شیعہ کا نظریہ  توحید میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو رب کہا گیا ہے اور خطبۃ البیان کی نسبت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف کی جاتی ہے اور تمام خدائی صفات کو حضرت علی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اسی طرح اہل تشیع اللہ تعالی کی صفات کو ائمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں تو نظریہ ضرورت کے تحت ان کو نظریہ تعطیل الہی کی ضرورت پیش آئی 

💝حلول الہی۔۔۔۔۔

   انسان اللہ کی ذات کا جزء اور حصہ ہے یہ عقیدہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا، ہندومت کے عقیدہ اوتار بدھ مت کے عقیدہ نرواں اور جین مت کے ہاں بت پرستی کی بنیاد یہی فلسفہ  وحدت الوجود اور حلول ہے۔ (یہودی اسی فلسفہ حلول کے تحت عزیر کو اور مسیحی عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا (جزء) قرار دیا دیکھیں [سورۃ التوبۃ:30) اہل تصوف کے عقائد کی بنیاد بھی یہی فلسفہ وحدت الوجود اور حلول ہے۔

👈مولانا اقبال کیلانی۔ کتاب التوحید۔ حدیث پبلیکیشنز،2شیش محل روڈ لاہور۔ صفحہ 70-71 

👈لنا مع اللہ حالة نحن فیہاھووھوفیہانحن مع ذالک ھو ھوونحن نحن

👈ترجمہ۔ ۔۔ہمارے اللہ کے ساتھ ایسے حالات ہیں جس میں ہم وہ یعنی اللہ ہوتے ہیں اور وہ ہم ہوتا ہے اس طور پر ہونے کے باوجود وہ وہی اللہ ہے اور ہم آئمہ ہم ہی ہے 

👈جلاء العیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ نمبر 63 

👈خطبة البیان۔۔۔۔

وقال (علیه السلام): اناالذی عندی مفاتیح‏الغیب لا یعلمها بعد محمد (صلی الله علیه و آله و سلم) غیری‏

وقال (علیه السلام): انا بکل شی‏ء علیم.

وقال (علیه السلام): انا الذی قال خیر رسول الله: انا مدینة العلم وعلی بابها.

وقال (علیه السلام): انا ذوالقرنین المذکور فی الصحف الاولی.

وقال (علیه السلام): انا الحجرالمکرم التی(152) یتفجر منه اثنتا عشرة عیناً.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی خاتم سلیمان.

وقال (علیه السلام): انا الذی اتولی حساب الخلایق.

وقال (علیه السلام): انا اللوح المحفوظ.

وقال (علیه السلام): انا مقلب القلوب والابصار (ان الینا ایابهم ثم ان علینا حسابهم).(181)

وقال (علیه السلام): انا الذی قال رسول الله(189) (صلی الله علیه و آله و سلم): یا علی، الصراط صراطک والموقف موقفک.

وقال (علیه السلام): انا الذی عنده علم الکتاب علی ما کان وما یکون.

وقال (علیه السلام): انا آدم الاول، انا نوح الاول. انا ابراهیم الخلیل حین القی(198) فی النار. انا موسی مونس المومنین.

وقال (علیه السلام): انا مفجر العیون، انا مطرد الانهار.

وقال (علیه السلام): انا داحی الارضین، انا سماک السموات.

وقال (علیه السلام): اناالذی عندی فصل الخطاب، انا قسیم الجنة والنار.

وقال (علیه السلام): انا ترجمان وحی الله، انا معصوم من(231) عندالله.

وقال (علیه السلام): انا حجة الله علی من فی السموات وعلی من فی الارضین.

وقال (علیه السلام): انا خازن علم الله، انا قائم بالقسط.

وقال (علیه السلام): انا دابة الارض.(246)

وقال (علیه السلام): انا الراجفة وانا الرادفة.(249)

وقال (علیه السلام): انا الصحیحة بالحق یوم الخروج الذی لا یکتم عنه(254) خلق السموات والارض.

وقال (علیه السلام): انا اول(261) ما خلق الله حجة وکتب علی حواشیه لااله الا الله، محمد رسول الله، (صلی الله علیه و آله و سلم) علی ولی الله ووصیه (علیه السلام).

وقال علیه السلام:(277) ثم خلق الارضین فکتب اطرافها لا اله الا الله محمد رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) وعلی وصیه (ع).

وقال علیه السلام: ثم خلق اللوح فکتب علی حدوده لا اله الا الله، محمد رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) علی وصیه (ع).

وقال (علیه السلام): انا الساعة التی(279) اعتد لمن کذب بها سعیراً.

وقال (علیه السلام): انا (ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین).(294)

وقال (علیه السلام): انا اسماء الله الحسنی التی امر الله ان یدعی بها.

وقال (علیه السلام): انا النور الذی اقتبس منه موسی فهدی.

وقال (علیه السلام): انا هادم القصور.

وقال (علیه السلام): انا مخرج المومنین من القبور.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی الف کتاب من کتب الانبیاء.

وقال (علیه السلام): انا المتکلم بکل لغة فی الدنیا.

وقال (علیه السلام): انا صاحب نوح ومنجیه، انا صاحب ایوب المبتلی ومنجیه وشافیه،(311) انا صاحب یونس و منجیه.

وقال (علیه السلام): انا اقمت السموات السبع بنور ربی وقدرته الکاملة.

وقال (علیه السلام): انا الغفور الرحیم وان عذابی هو العذاب الالیم.(318)

وقال (علیه السلام): اناالذی(327) بی اسلم ابراهیم الخلیل لرب العالمین أقر بفضله.

وقال (علیه السلام): انا عصاء الکلیم وبه آخذ بناصیة الخلق اجمیعن.

وقال (علیه السلام): انا الذی نظرت فی عالم الملکوت(334) فلم نجد غیری شی‏ء وقد غاب.

وقال (علیه السلام): انا الذی أحصی هذا الخلق وان کثروا حتی أردهم الی الله‏

وقال (علیه السلام): انا الذی (ما یبدل القول لدی وما أنا بضلام للعبید)(346)

وقال (علیه السلام): انا ولی الله فی الارض والمفوض الیه امره و(353)[ حاکم ]فی عباده.

وقال (علیه السلام): انا الذی بعثت النبیین والمرسلین.

وقال (علیه السلام): انا الذی دعوت الشمس والقمر فأجابونی.

وقال (علیه السلام): انا فطرت العالمین.

وقال (علیه السلام): انا داحی الارضین وعالم بالاقالیم.

وقال (علیه السلام): انا امر الله والروح.

وقال (علیه السلام): انا الذی قال الله لنبیه: (ألقیا فی جهنم کل کفار عنید)(413)

وقال (علیه السلام): انا الذی ارسیت الجبال وبسطت الارضین، انا مخرج العیون ومنبت الزروع(421) ومغرس الشجار ومخرج الثمار.

وقال (علیه السلام): انا الذی اقدر اقواتها ومنزل المطر ومسمع الرعد ومسرق البرق.

وقال (علیه السلام): انا الذی اقوم الساعة، انا الذی ان امت فلم امت وان قتلب فلم اقتل.

وقال (علیه السلام) : انا الذی أعلم ما یحدث آناً بعد آن وساعة بعد ساعة، انا الذی أعلم خطرات القلوب ولمح العیون وما تخفی الصدور(445)

وقال (علیه السلام) : انا صلوة المومنین وزکوتهم وحجهم وجهادهم.

وقال (علیه السلام): انا الناقور الذی قال الله تعالی: (فاذا نقر فی الناقور)(456) وانا صاحب النشر الاول والاخر، انا اول ما خلق الله نوری وانا وعلی من نور واحد.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الکواکب ومزیل الدول، انا الذی هو صاحب الزلازل والرجفة، انا صاحب المنایا وصاحب البلایا ویا فصل الخطاب.

وقال (علیه السلام): انا صاحب ارم ذات العماد، التی لم یخلق مثلها فی البلاد ونازلها بما فیها وانا المنفق الباذل بما فیها.

وقال (علیه السلام): انا الذی اهلکت الجبارین والفراعنة المتقدمین بسیفی ذی‏الفقار.

وقال (علیه السلام): انا الذی حملت النوح فی السفینة التی عملها، انا الذی انجیت ابراهیم من ناز نمرود ومونسه، وانا مونس یوسف الصدیق فی الجب ومخرجه، انا صاحب موسی والخضر ومعلمها.

وقال (علیه السلام): انا منشأ الملکوت فی الکون‏

وقال (علیه السلام): انا الباری‏ء، انا المصور فی الأرحام.

وقال (علیه السلام): انا الذی ابرء الأکمه وادفع الأبرص واعلم الضمایر، انا انبئکم بما تأکلون وماتدخرون فی بیوتکم.

وقال (علیه السلام): انا البعوضه التی ضرب الله بها مثلا.

وقال (علیه السلام): انا الذی قرر الله اطاعنی فی الظلمة.

وقال (علیه السلام): انا الذی کسوت العظام لحماً، ثم أنشأته بقدره الله.

وقال (علیه السلام): انا الذی هو حامل عرش الله مع الابرار من ولدی وحامل العلم، انا الذی اعلم بتأویل القرآن والکتب السالفة، انا المرسوخ فی العلم.

وقال (علیه السلام): انا وجه الله فی السموات والارضین، کمال قال الله: (کل شی‏ء هالک الا وجهه)(487) انا صاحب الجبت والطاغوت ومحرقهما.

وقال (علیه السلام): انا باب الله الذی قال الله تعالی: (ان الذین کذبوا بایاتنا واستکبروا عنها لا تفتح لهم ابواب السماء ولا یدخلون الجنة حتی یلج الجمل فی سم الخیاط وکذلک نجزی المجرمین)(490)

وقال (علیه السلام): انا الذی خدمنی جبرئیل ومیکائیل، انا الذی ردت علی الشمس مرتین، اناالذی خص الله جبرئیل ومیکائیل بالطاعة لی.

وقال (علیه السلام): انا اسم من اسماء الله الحسنی وهو الاعظم الاعلی.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الطور وانا صاحب الکتاب المسطور وانا بیت الله المعمور وانا الحرث والنسل وانا الذی فرض الله طاعتی علی کل قلب ذی روح متنفس من خلق الله.

وقال (علیه السلام): انا الذی انشر الاولین والاخرین، انا قاتل الاشقیاء بسیفی ذی‏الفقار ومحرقهم(500) بناری‏

وقال (علیه السلام): انا الذی اظهرنی الله علی الدین، انا منتقم من الظالمین، انا الذی أری دعوة الامم کلها، انا الذی ارد المنافقین عن حوض رسول الله.

وقال (علیه السلام): انا باب فتح الله لعباده من دخله کان آمنا ومن خرج منه کان کافراً، انا الذی بیده مفاتیح الجنان ومقالید النیران‏

وقال (علیه السلام): انا الذین جهد(505) الجبابره باطفاء نور الله وادحاض حجة فیابی الله الا ان یتم نوره وولایته اعطی الله نبیه نهر الکوثر واعطانی نهر الحیوة، انا مع رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) فی الارض فعرفنی الله من یشاء

وقال (علیه السلام): انا قائم فی ظلمة خضر(508) حیث لا روح یتحرک ولا نفس یتنفس غیری‏

وقال (علیه السلام): انا علم صامت ومحمد علم ناطق‏

وقال (علیه السلام): انا صاحب القرون الاولی، انا جاوزت موسی الکلیم واغرقت فرعون، انا عذاب یوم الظلة

وقال (علیه السلام): انا آیات الله وامین الله، انا احیی وامیت، انا الخلق وارزق، انا السمیع، انا العلیم، انا البصیر، انا الذی اجود السموات السبع والارضین السبع فی طرفة عین، انا الاول وانا الثانی.

وقال (علیه السلام): انا ذوالقرنین هذة الامة.

وقال (علیه السلام): انا صاحب الناقة التی اخرجها الله لنبیه صالح.

وقال (علیه السلام): انا الذی انفخ (فی الناقور فذلک یومئذ یوم عسیر علی الکافرین غیر یسیر.(519)

وقال (علیه السلام): انا الاسم الاعظم و هو (کهیعص).(520)

وقال (علیه السلام): انا المتکلم علی لسان عیسی (فی المهد صبیاً)(526) انا یوسف الصدیق، انا المتقلب فی الصور.

وقال (علیه السلام): انااالاخرة والاولی، انا أبدی وأعید، انا فرع من فروع الزیتون وقندیل من قنادیل النبوة.

وقال (علیه السلام): انا مظهر کیف الاشیاء.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال العباد لایعزب عنی شی‏ء فی الارض ولافی السماء.

وقال (علیه السلام): انا مصباح الهدی، انا مشکوة الذی فیها نور المصطفی، انا الذی لیس عمل عامل الا به معرفتی.

وقال (علیه السلام): اناخازن(532) السموات وخازن الارض، اناقائم بالقسط، انا عالم بتغیر الزمان وحدثانه، انا الذی

اعلم عدد النمل ووزنها وخفتها ومقدار الجبال ووزنها وعدد قطرات الامطار.

وقال (علیه السلام): انا آیة الکبری التی اراها الله فرعون وعصی.

وقال (علیه السلام): انا اقتل القتلتین احیی مرتین واظهر الاشیاء کیف شئت‏

وقال (علیه السلام): انا الذی رمیت وجه الکفار وبکف تراب فرجعوا هلکی، انا الذی جحدوا ولایتی الف امة فمسخوهم.

وقال (علیه السلام): انا المذکور فی سالف الزمان وخارج وظاهر فی آخرالزمان.

وقال (علیه السلام): انا قاصم فراعنة الاولین ومخرجهم ومعذبهم فی الاخرین، انا معذب الجبت والطاغوت ومحرقهم ومعذبهم یغوث ویعوق ونسراً.

وقال (علیه السلام): انا متکلم بسبعین لساناً ومفتی کل شی‏ء علی سبعین وجهاً، انا الذی اعلم ما یحدث فی اللیل والنهار أمراً بعد امر وشیئاً بعد شی‏ء الی یوم القیمة.

وقال (علیه السلام): انا الذی عندی اثنان وسبعون اسماً من اسماء العظام.

وقال (علیه السلام): انا الذی اری اعمال الخلایق فی مشارق الارض ومغاربها لایخفی علی منهم شی‏ء.

وقال (علیه السلام): انا الکعبة والبیت الحرام والبیت العتیق، انا الذی یملکنی الله شرق الارض وغربها فی طرفة عین ولمح البصر.

وقال (علیه السلام): انا محمد المصطفی، انا علی المرتض کما قال النبی (صلی الله علیه و آله و سلم): علی ظهر منی، انا الممدوح بروح القدس، انا المعنی الذی لایقع علیه اسم ولا شبه.

وقال (علیه السلام): انا اظهر الاشیاء الوجودیة کیف اشاء، انا باب حطتهم(537) التی یدخلون فیها. 

👈مختصرترجمہ۔ ۔۔۔

جناب علی علیہ السلام نے اپنے بعض خطبات میں ارشاد فرمایا ہے میں وہ ہوں جس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں بعد رسول میرے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔میں وہ ذوالقرنین ہو جس کا ذکر صحف اولی میں ہے ۔۔میں خاتم سلیمان کا مالک ہوں  میں یوم حساب کا مالک ہوں میں صراط اور میدان حشر کا مالک ہوں میں قاسم جنت و نار ہوں میں اول آدم ہوں میں اول نوح ہوں میں جبار کی آیت ہوں میں اسرار کی حقیقت ہوں میں درختوں کو پتوں کا لباس دینے والا ہو ں میں پھلوں کا پکانے والا ہوں میں چشموں کا جاری کرنے والا ہوں  نہرو کو بہانے والا ہوں میں علم کا خزانہ ہوں میں حلم کا پہاڑ ہوں میں امیرالمومنین ہوں چشمہ یقین ہو میں زمین وآسمان میں حجت خدا ہوں میں متزلزل کرنے والا ہوں میں بجلی کی کڑک ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ نور ہو جس سے موسی علیہ السلام نے ہدایت کا اقتباس کیا ۔۔

صور کا مالک ہوں میں قبروں سے مردوں کو نکال کر زندہ کرنے والا ہوں میں یو م النشور کا مالک ہوں ۔میں ایوب بلا رسیدہ کا صاحب اور اس کو شفا دینے والا ہوںں

آسمانوں کو قائم کرنے والا ہوں ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ حی ہوں جسے موت نہیں میں تمام مخلوقات پر ولی حق ہوں میں وہ ہوں جس کے سامنے بات نہیں بدل سکتی مخلوق کا حساب میری طرف سے ہے میں وہ ہوں جسے امر مخلوق تفویض کیا گیا    

میں خلیفة اللہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈آگے شیعہ مصنف لکھتا ہے کہ مولیٰ کائنات کا یہ فرمان خلاف قرآن اور اسلام نہیں بلکہ عین اسلام ہے 

👈شیعہ مصنف سید ظہور الحسن خطیب شیعہ ملتان جلاءالعیون جلد 2 مقدمہ ثانی صفحہ 61 ۔60

👈ہم معنی روایات کےمختلف حوالہ جات 

👈الکافی جلد 1 صفحہ 440 

👈الکافی جلد 1 صفحہ 441 442 

👈الکافی جلد 1 صفحہ 435 

👈بحار الانوار باب جوامع معجزات 

جلد42صفحہ 17۔ 50 

👈بحار الانوار باب ماورد من غرایب معجزاتہ جلد 42 صفحہ 50 تا 56 

👈بحارالانوار ماظہرعندالضریح المقدس من المعجزات والکرامات 

جلد 42 صفحہ 311 تا 339 

👈الکافی جلد 1 صفحہ 457 

👈بحارالانوار جلد 39 صفحہ 192 

👈بصائر الدرجات صفحہ 76 

👈بحارالنوار جلد 39 صفحہ 194 

👈خراج والجرائح صفحہ 82 

💝نتیجہ۔۔۔۔۔

اہل تشیع کا نظریہ حلول یعنی جزوالہی جو آئمہ میں حلول کر گیا 

ماخوذ از ماقبل الاسلام مذاہب ہے

💖تناسخ ارواح ۔۔۔۔۔۔۔۔

👈روح کے بارے بحث وتمحیث سے منع کیا گیا ہے۔

👈وارث سرہندی لکھتے ہیں : “تناسخ: روح کا ایک جسم سے دوسرے جسم میں آنا ۔ (ہندوؤں کے عقیدہ کے مطابق) بار بار جنم لینا، جون بدلنا، چولا بدلنا، آواگون۔”

👈جامع علمی اردو لغت469

 نیز ملاحظہ فرمائیں : رابعہ اردو لغت جدید (ص 260

 👈سید قاسم محمود صاحب تناسخ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : “آواگون! جو ن بدلنا بقول مولانا اشرف علی تھانوی ایک بدن سے دوسرے بدن کی طرف نفس ناطقہ کا انتقال۔”

  ہندوستان میں اس اعتقاد کےلو گ عام ہیں۔ بقول البیرونی”جس طرح شہادت بہ کلمۂ اخلاص مسلمانوں کے ایمان کا شعار ہے ، تثلیت علامت نصرانیت ہے اور سبت منانا علامت یہودیت ، اسی طرح تناسخ ہندو مذہب کی نمایاں علامت ہے ” 

موصوف مزید لکھتے ہیں:”عقیدہ تناسخ روح کے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کے معنی میں متعدد شیعی فرقوں میں بھی پایا جاتا ہے ” موصوف آخر میں لکھتے ہیں: “تناسخ کا عقیدہ ہندومت اورشیعہ فرقوں  کے علاوہ بدھ مت ، قدیم یونانیوں اور دنیا کے دیگر مذاہب و اقوام کے ہاں بھی پایا جاتا ہے ۔ اسلام کی صحیح تعلیمات اس عقیدے کے مخالف ہیں اور واضح طور پر اس کی تردید کرتی ہیں”

 👈شاہکار اسلامی انسائیکلوپیڈیا ص534 

👈یہ روایت بطور دلیل ہے شیعت میں تناسخ ارواح کا عقیدہ پھیل چکاتھا

👈علامہﻣﺠﻠﺴﯽ 

ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ؐ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﻤﮧ ﺍﻃﮭﺎﺭ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ

ﮐﻮ ﺭﺏ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎﻣﻌﺒﻮﺩﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺯﻕ ﺩﯾﻨﮯ

ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺷﺮﯾﮏ ﭨﮭﺮﺍﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ،ﯾﺎﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻥ

ﻣﯿﮟ ﺣﻠﻮﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮨﺴﺘﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ

ﯾﮧ ﮨﺴﺘﯿﺎﮞ ﺧﺪﺍﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻟﮩﺎﻡ ﻭﻭﺣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻋﻠﻢ ﻏﯿﺐ

ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﯾﺎ ﺁﺋﻤﮧ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﮐﮩﻨﺎ ﯾﺎ ﺗﻨﺎﺳﺦ ﺍﺭﻭﺍﺡ

ﮐﺎﻗﺎﺋﻞ ﮨﻮﻧﺎ ‏( ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﺳﺎﺑﻘﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ‏)ﯾﺎ

ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ

ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻣﻌﺮﻓﺖ

ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻌﺼﯿﺖ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

‏( ﯾﻌﻨﯽ ﻣﻌﺼﯿﺖ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‏) ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﺍﻭﺭ

ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﻔﺮﻭﺍﻟﺤﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻋﻘﻠﯽ

ﺩﻟﯿﻠﻮﮞ ﻭﺁﯾﺎﺕ ﻭﺭﻭﺍﯾﺖ ﻧﮯ ﺩﻻﻟﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﭖ ﮐﻮ

ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺋﻤﮧ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺮﺍﺋﺖ

ﮐﺎﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ،ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻔﺮ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺎ

ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ۔ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻭﮨﻢ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ

ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﻭﯾﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﯾﺎﻭﮦ ﻏﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﯽ

ﻣﻦ ﮔﮭﮍﺕ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮨﯿﮟ۔ )

👈ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭ : ﺝ۔25/346

👈

علامہ قرطبی نے رافضیہ کے فرقوں میں سے ایک فرقہ تناسخیہ شمار کیا جن کا عقیدہ ہے کہ

 👈ارواح میں تناسخ ہوتا رہتا ہے پس جو کوئی محسن اور نیکو کار ہو اس کی روح نکلتی ہے اور ایسی مخلوق میں داخل ہوجاتی ہے جو اپنی زندگی کے ساتھ سعادت اندوز ہو رہی ہوتی ہے

👈تفسیر قرطبی،ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی،آل عمران،103

👈حافظ ابن حزم اندلسیؒ کا فتویٰ عقیدۂ تناسخ کے حاملین پر

حافظ ابن حزمؒ نے اصحاب التناسخ پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنا تمام اہل اسلام کے نزدیک کفر ہے ۔ اور انہوں نے اس مسئلہ کو عقیدۂ توحید کے عنوان کے تحت ذکرکیا ہے چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:

 👈مسألۃ: و أن الأنفس حیث رآھا رسول اللہ ﷺ لیلۃ أسریٰ بہ أرواح أھل السعادۃ عن یمین آدم علیہ السلام، و أرواح أھل الشقاء عن شمالہ عند سماء الدنیاء لا تفني ولا تنتقل إلیٰ أجسام أخر، لکنھا باقیۃ حیۃ حساسۃ عاقلۃ في نعیم أونکد إلیٰ یوم القیامۃ فترد إلیٰ أجسادھا للحساب و للجزاء بالجنۃ أو النار؟ حاشی أرواح الأنبیاء علیھم السلام و أرواح الشھداء فإنھا الآن ترزق و تنعم۔ ومن قال بإنتقال الأنفس إلی أجسام أخر بعد مفارقتھا ھٰذہ الأجساد فقد کفر.

برھان ھٰذا ما حدثناہ عبداللہ بن یوسف: ثنا أحمد بن فتح: ثنا عبدالوھاب بن… کان من أھل النار فالنار؛ ثم یقال لہ: ھذا مقعدک الذي تبعث إلیہ یوم القیامۃ. ففي ھذا الحدیث إن الأرواح حساسۃ عالمۃ ممیزۃ بعد فراقھا الأجساد. وأما من زعم أن الأرواح تنقل إلی أجساد أخر فھو قول أصحاب التناسخ: وھو کفر عند جمیع أھل الإسلام. وباللہ تعالی التوفیق“

👈ارواح نہ تو فنا ہوتی ہیں اور نہ ہی دوسرے جسموں (برزخی) کی طرف منتقل ہوتی ہیں وہ باقی رہتی ہیں ، زندہ رہتی ہیں آرام و آسائش اور اذیت و تکلیف کو برداشت کرنے میں حساس و عاقل  ہوتی ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا پھر اچھے اعمال اور جنت و جہنم کے بدلے کے لئے ان کو ان کے جسموں کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے سوائے انبیائے کرام علیہم السلام اور شہدائے کرام کی ارواح کے ، کہ وہ اب بھی رزق اور نعمتوں سے سر شار ہیں اور جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ روحیں ان جسموں سے جدا ہونے کے بعد دوسرے جسموں میں منتقل کردی جاتی ہیں (یا بالفاظ دیگر ان ارواح کو برزخی اجسام دیئے جاتے ہیں) تو یقیناً یہ کفر ہے او راس پر یہ دلیل ہے۔” 👈المحلّٰی جلد1صفحہ24..26

اس کے بعد انہوں نے سیدنا انسؓ کی معراج کے سلسلہ والی مشہور حدیث جو انہوں نے ابو ذر غفاریؓ سے روایت کی ہے ، بیان کی ہے ، او رآخر میں ایک اور حدیث ذکر کرکے فرماتے ہیں:

          “یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ارواح اپنے جسموں سے مفارقت کے بعد  حساس ہوتی ہیں جانتی اور پہچانتی ہیں اور جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ روحیں دوسرے جسموں میں منتقل ہوجاتی ہیں تو یہ قول اصحاب التناسخ کا ہے اور تمام اہل اسلام کی نگاہ میں (ایسا عقیدہ رکھنا) کفر ہے ” (ایضاً)

(1)۔  تمام مذاہب میں  انسانی باطن (روح و نفس) کا تصور پایا جاتا ہے۔

(2)۔  مذاہب نے  روح کی انفرادی شناخت اور تعریف کی ہے۔

(3)۔  مذاہب نے  نفس کی بھی انفرادی شناخت اور تعریف کی ہے  لیکن آج تک نفس کی انفرادی تعریف موجود نہیں اور اسے  روح کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے۔

(4)۔  مذاہب میں  ترمیم و اضافوں  سے روح و نفس کی تعریفیں  متاثر ہوئی ہیں۔

(5)۔  روح و نفس کی مذہبی اطلاعات کو سمجھنے  میں غلطی کی گئی ہے جس سے مختلف عقیدوں  نے جنم لیا ہے۔

(6)۔  روح کو حصوں  میں تقسیم کیا گیا ہے۔

(7)۔  روح و رب کو ایک ہی شے  تصور کیا گیا ہے۔

(8)۔  اکثر مذاہب میں  ارواح کی پوجا کا رواج ہے۔

(9)۔  جب کہ قرآن میں  یہ مذہبی معلومات اپنی صحیح حالت میں  موجود ہیں لہذا قرآن نے نہ صرف روح و نفس، جسم کی انفرادی تعریف کی ہے  بلکہ ان کی تخلیقی و فنائی ترتیب کو بھی بیان کیا ہے لیکن اسے آج تک سمجھا نہیں  گیا یا اس علمی ذخیرے سے استفادے کی کوشش نہیں کی گئی۔

(10)۔  آواگون یا  کرما کے غلط نظریے  نے بنیادی عقیدے کی شکل اختیار کر لی ہے  جب کہ اس غلط نظریے نے بھی مذاہب کی صحیح اطلاعات کو سمجھنے  کی غلطی سے جنم لیا ہے۔ در حقیقت یہ بھی آفاقی نظریہ نہیں ہے۔

👈نتیجہ۔۔۔۔۔۔۔

اہل تشیع نے اس تناسخ ارواح کے عقیدے کو بھی دیگر عقائد کی طرح دیگر دوسرے مذاہب سے لیا ہے جو ماقبل الاسلام تھے ۔

💕وصیت۔امامت ۔عصمت۔

👈اس نظریے کا سب سے پہلا بانی ایک یہودی النسل عبداللہ بن سباء تھا اس کوبھی ہم شیعہ کتب سے کھوجتے ہیں 

  👈👈شیعہ کتب کی روشنی میں عبداللہ بن سباءکے  عقائد 

شیعہ مذہب کا نامور عالم اور فقیہ سعد بن عبداللہ القمی  ابن سبا کے وجود کا اعتراف اور اس کے چند ساتھیوں کا نام تک ذکر کرتا ہے جو اس کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے تھے پھر اسکے فرقہ کو سبائیہ نام سے ملقب کرتا اور کہتا ہے کہ دین اسلام میں سب سے پہلے غلو کا اظہار کرنے والا یہی فرق تھا اور بعدازاں ابن سبا کو وہ پہلا شخص قرار دیتا ہے جس نے ابو بکر عمر عثمان اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر اعلانیہ طعن وتشنیع کا اظہار کیا اور ان سے برات ظاہر کی اور دعوی کیا کہ علی رضی اللہ عنہ  نے اسے اس کام کاحکم دیا ہے پھر سعد قمی ذکر کرتا ہے کہ جب علی رضی اللہ عنہ کو اس کے عقائد کی خبر ہوئی تو انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا لیکن پھر چھوڑ دیا اور صرف اسے مدائن کی طرف جلاوطن کرنے پر اکتفا کیا جس طرح اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے 

👈المقالات والفرق ص20

عبداللہ ابن سبا یہودی تھا پھر اس نے اسلام قبول کیا اور علی سے محبت کا اظہار کیا جب وہ یہودی تھا یوشع بن نون سے متعلق یہی کہتا تھا کہ وہ موسی علیہ السلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد اسلام قبول کرکے یہی بات علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اس شخص نے سب سے پہلے علی بن ابی طالب کی امامت کے لزوم کا قول ذکر کیا اور ان کے دشمنوں سے براة ظاہر کی اور انہیں کافر قرار دیااور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ان کی رجعت کا سب سے پہلا قائل ہوا اسی بنیاد پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رافضی مذہب دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے 

👈المقالات والفرق صفحہ-20 

پھر قمی ذکر کرتا ہے کہ جب ابن سبا کو علی رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ملی تو اس نے دعوی کیا کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ دوبارہ دنیا میں واپس آکر اپنے دشمنوں سے لڑیں گےپھر وہ اس عقیدہ و نظریہ میں غلو کرنے لگا 

👈المقالات والفرق صفحہ-21 

یہ ہےوہ حقیقت جووہ ابن سبا سے متعلق بیان کرتا ہے یہ قمی شیعہ کے نزدیک ثقہ اور معرفت روایات میں وسیع النظر ہے 

👈الفہرست صفحہ 105 

جامع روایات جلد 1 صفحه 352 

ان کے نزدیک اس کی معلومات نہایت اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ ایک تو وہ زمانے کے اعتبار سے متقدم ہے اور دوسرا  جیسا کہ شیعہ المصدوق بیان کرتا ہے کہ یہ شیعہ کے امام معصوم حسن عسکری سے ملا اور اس نے اس سے سماع کیا ہے 

👈اکمال الدین صفحہ 425 435 

اسی طرح ایک اور شیعہ عالم نوبختی ابن سبا سے متعلق گفتگو کرتا ہے اور اس کے بارے میں قمی کے الفاظ سے حرف بحرف اتفاق کرتا ہے

👈فرق الشیعۃ صفحہ 22 23 

نوبختی بھی شیعہ کے نزدیک ثقہ اور معتبر عالم ہے  

👈الفہرست صفحہ 75 

👈جامع روایات جلد 1 صفحه 228 

👈الکنی و الالقاب جلد 1 صفحه 141 

👈مقتبس الأثر جلد 16 صفحہ 125 

ایک تیسرا علم شیعہ الکشی اپنی معروف کتاب رجال الکشی میں جوشیعہ کی قدیم ترین اور علم رجال میں مواقع المدد کتاب ہے ابن سباءکے ذکر میں چھ روایات نقل کرتا ہے 

👈رجال الکشی صفحہ 106 ۔108 ۔305

الروایات۔ 170۔ 171۔ 172۔ 173 174۔ 

یہ شیعہ کے نزدیک ثقہ اور اخبار و رجال شیعہ پر بہترین نظر رکھنے والا عالم ہے 

👈الفرق صفحہ 171 

یہ روایات بیان کرتے ہیں کہ ابن سبا نے نبوت کا دعوی کیا اور یہ نظریہ اپنایا کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ہی خدا ہیں نیز ان روایات میں منقول ہے کہ علی رضی اللہ  نے ابن سبا کو ان عقائد سے توبہ کرنے کا حکم دیا لیکن وہ تائب نہ ہوا تو انہوں نے اس کو آگ میں جلا دیا اسی طرح الکشی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وہ ائمہ و خلفاء پر لعنت کرتا اور علی رضی اللہ عنہ  پر جھوٹ بولا کرتا تھا 

جیسے علی بن حسین فرماتے ہیں ہم پر جھوٹ گھڑنے والے پر اللہ کی لعنت ہو جب مجھے عبداللہ ابن سبا کا خیال آیا تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ اس نے بہت خطرناک دعویٰ کیا ہے نہ جانے کیوں اس نے ایسا کہا ہے اس پر اللہ کی لعنت اللہ کی قسم علی رضی اللہ عنہٗ تو محض ایک اللہ کے نیک بندے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے انہیں اللہ تعالی کی طرف سے جتنی بھی عزت و کرامت ملی ہے وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری کی  بدولت نصیب ہوئی ہے 

👈رجال کشی صفحه 108 

پھر الکشی ان روایات کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے 

اہل علم نے ذکر کیاہے کہ عبداللہ بن سبا یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اور علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار کرنے لگا جب وہ یہودی تھا تو یوشع بن نون کے حق میں غلو کرتے ہوئے کہتا تھا کہ موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد مسلمان ہوکر علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی بات کہنے لگا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اسی نے سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے لزوم کی بات کی ان کے دشمنوں سے براة کااظہار کیا ان کے مخالفین سے دشمنی کا اظہار کیااور انہیں کافر کہا اسی بنا پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رفض و تشیع دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے

👈رجال کشی صفحه 108

  رجال الکشی کی تصحیح وتشریح طوسی نےےکی ہے جو شیعہ کے نزدیک صحاح اربع میں سے دو کتابوں کا مصنف ہے اور ایسے ہی شیعہ کی کتب رجال میں ںسے بھی دو کتابوں کا مولف ہے  

👈مقدمہ رجال الکشی صفحہ 18 صفحہ 17 

👈لوءلوء البحرین صفحہ 403 

اس کے علاوہ اور شیعہ کتب رجال کی کتابوں میں عبداللہ بن سبا کا ذکر موجود ہے 

👈مسائل الإمامة صفحہ22 ۔23

👈وفیات الاعیان ص 91۔92

👈انباءالرواة 2/128/129

👈منتھی المقال 

👈منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال

👈جامع الرواة 1/476

👈الحلي ۔الرجال ص 2/71

👈قاموس الرجال ص 5/461

👈رجال الطوسی ص 51

👈من لایحضرالفقیہ 1/213

👈الخصال ص 628

👈تهذیب الاحکام 2/322

👈بحار الأنوار 25/286

👈تنقيح المقال 2/183

👈مقتبس الأثر 21/230

👈الشیعة فی التاریخ ص 213

 👈👈راجح قول 

ماقبل ہم نے شیعہ مذہب کے آغاز کے متعلق اہم آراء ذکر کی ہیں اور ان پر حسب ضرورت نقد و تبصرہ بھی کیا ہے شیعہ مذہب ایک نظریہ اور عقیدہ بن کر اچانک ہی نمودار نہیں ہوا بلکہ یہ کئی وقتی تبدیلیوں سے دوچار ہوا اور مختلف مراحل سے گزرا ہے البتہ شیعہ مذہب کے ابتدائی افعال اور اس کے بنیادی اصول فرقہ سبائیہ کے ہاتھ پر ظہور پذیر ہوئے تھےجیسا کہ کتب شیعہ بھی اس حقیقت کا اعتراف و اقرار کرتی ہیں کہ عبداللہ ابن سباءنے سب سے پہلے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت ضروری ہےاور یہ کہ علی رضی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں جیساکہ گزرچکا ہے بعینہ یہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منصوص من اللہ  امامت کا عقیدہ ہے جو شیعہ مذہب کی اساس ہے جیسا کہ شیعہ مذہب کی تعریف کے زمن میں ہم شیعہ عالم کا نظریہ ذکر کر چکے ہیں پھرسب کو یہ بھی معلوم ہوچکا کہ ابن سبا اور اس کی جماعت نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور سسر نسبی رشتے دار خلفاء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی ساتھیوں ابوبکر و عمر عثمان اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبان طعن دراز کی تھی اور شیعہ بھی صحابہ کرام کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں جیسا کہ ان کی کتب میں مرقوم ہے نیز ابن سباء ہی سب سے پہلے رجعت علی رضی اللہ عنہ کا قائل تھا اور اب یہی رجعت شیعہ مذہب کا بنیادی اصول ہے مزید برآں ابن سبا ہی نے یہ بات کہی تھی کہ علی اور اہل بیت کے پاس چند مخصوص مخفی علوم ہے جیسا کہ حسن بن محمد بن حنفیہ نے رسالہ الارجاء میں کہاں ہے اب یہ مسئلہ شیعہ کے بنیادی عقیدے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے 

👈مقالات والفرق صفحہ 21 

👈فرق الشیعۃ  صفحہ 23 

👈مسائل إمامة صفحہ 22 23 

👈مقالہ الاسلامیین جلد 1 صفحہ 86 

👈التمبیہ والرد صفحہ 18 

👈الفرق بین الفرق صفحہ 234 

👈التبصیر فی الدین  صفحه 76 

👈محصل افکار المتقدمین و المتاخرین صفحه 242 

👈المواقف صفحہ 419 

👈تہذیب التہذیب جلد 2 صفحہ 32 

👈رسالة الإرجاء ص 249۔250

 صحیح بخاری میں بھی ایک اثر مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظریہ بہت پہلے ظاہر ہوگیا تھا اور علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس کے متعلق سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں یا لوگوں کے پاس نہیں ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مکمل طور پر اس کی حتمی تردید کی تھی 

 👈بخاری کتاب العلم جلد 1 صفحہ 204 

باب حرم المدينة۔باب فکاک الاسیر۔باب ذمة المسلمین و جوار ہم  ۔باب اثم من عاھد ثم عذر ۔باب اثم من تبرأ من موالیہ ۔باب العاقلہ۔ باب لا یقتل مسلم بکافر ۔باب من یکرہ من التعمق والتنازع والغلو

مسلم مع النووي 9/143/144/13/141

👈نسائی المجتبی ،8/19

👈ترمذی 4/668

👈امام احمد 1/100

یہی شیعہ مذہب کا اہم دینی اصول ہیں جو یقینا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں معرض وجود میں آئے تھے لیکن لوگوں میں ایک مخصوص فرقے کی صورت میں متعارف نہیں ہوئے تھے بلکہ فرقہ سبائیہ نے جیسے ہی اپنا سر نکالا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسےنابود کردیالیکن اس کے متصل بعد رونما ہونے والے واقعات معرکہ صفین واقعہ تحکیم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت وغیرہ نے ان عقائد کے ظہور اور انہیں جماعتی قالب میں ڈھالنے کے لئے مناسب فضا مہیا کر دیں  

👈مجموع الفتاوی ابن تیمیہ جلد 20 صفحه 466 

👈منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 219 

👈فتح الباری جلد 2 صفحہ 270 

👈التنبیہ والرد صفحہ 18 

👈التبصیر فی الدین صفحہ 70 

👈منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 219 220 

👈👈نتیجہ ۔۔۔امامت منصوص من اللہ مفترضة الطاعة کا نظریہ پیش کرنے والا سب سے پہلا شخص عبداللہ بن سباء یہودی تھا جس کو شیعت نے اپنا بنیادی عقیدہ بنایا 

💔رجعت۔۔۔۔۔

👈👈رجعت دیگر ادیان میں
عہد عتیق میں رجعت کے موضوع کی طرف اشارہ ہوا ہے منجملہ حزقیال نے بنی اسرائیل کے زندہ ہوجانے اور آخر الزمان میں داؤد(ع) کی حکومت کی طرف اشارہ کئے ہیں

 👈عهد عتیق 37: 21-27

 امو دانیال نے بھی کہا ہے: آخر الزمان میں ـ وہ جو مٹی میں سو چکے ہیں ـ جاگ اٹھیں گے

 👈عهد عتیق 12: 1-3

عہد جدید میں بھی قیامت ثانیہ سے پہلے، مسیح کی  حکومت اور ان کے آباء و اجداد کے زندہ ہوجانے کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔

👈مکاشفه یوحنا 20: 4-6

👈اللہ نے آئمہ کو خلیفہ بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ رجعت کے بعد کا ہے نبوت کے بعد بلافصل نہیں ہے   

👈رجعت ۔۔ شیعہ کے عقائد خاصہ میں سے ہے جس کے تحت بعض صالحین موت کے بعد مہدی موعود(ع) کی مدد کے  لئے زندہ ہونگے نیز بعض بدکار افراد دنیاوی زندگی میں پلٹ کر آئیں گے تاکہ اپنی سزا پائیں اور اپنے کئے ہوئے مظالم کے بدلے انتقام کا سامنا کریں۔

👈ملاں باقر مجلسی لکھتے ہیں 

بداںکہ الرجعة اجماعیات شیعہ بلکہ ضروریات مزہب فریضہ حجة دراثبات رجعت است 

👈توجان لے کہ عقیدہ رجعت شیعہ مزہب کے اجتماعی عقیدے میں سےبلکہ ضروریات مزہب میں سے عقیدہ رجعت ہے

👈حق الیقین ص354 

👈اعتقادنافی الرجعت انھا حق

رجعت کے حق ہونے پر ہمارا یقین ہے 

👈عقائد اثنا عشریہ ص49

عقیدہ رجعت شیعہ کے مشہور عقائد میں سے ہے 

👈تفسیر نمونہ ج8/726 

👈رجعت کے لغوی معنی
لفظ “رجعت” مصدر ہے جو مادہ “ر ـ ج ـ ع” سے مشتق ہے اور اس کے لغوی معنی بازگشت (= لوٹنے اور پلٹنے) کے ہیں۔

 👈المعجم الوسیط، ذیل ماده رجع

 اس اعتقادی اصول کے لئے آیات قرآن اور احادیث  میں مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں جیسے: “رجعت”، “کرّۃ”، “ردّ” اور “حشر”؛ تاہم لفظ “رجعت” زیادہ مشہور ہے۔ لفظ “مصدر مَرَہ” ہے اور اس کے معنی ایک بار پلٹنے اور واپس ہونے کے ہیں؛ جیسا کہ اما لفظ رجعت مشهورتر است۔ رجعت مصدر مرّه به معنی یکبار بازگشتن است، چنانکه در لسان العرب آمده است: رجعت مصدر مرّه از ماده رجوع است۔

👈ابن منظور، لسان العرب ج8، ص114

 👈فیومی کہتا ہے: رجعت بفتح عین  بمعنی رجوع کرنے اور لوٹ آنے کے ہیں اور جو رجعت پر یقین رکھتا ہے وہ دنیا میں پلٹ آنے پر ایمان رکھتا ہے

👈فیومی مصباح المبین ص84

👈👈اصطلاحی معنی ۔

اصطلاح میں رجعت کے معنی یہ ہیں خداوند متعال ظہور امام مہدی(ع) کے وقت آپ(عج) کے بعض شیعوں کو زندہ  کرے گا اور دنیا میں پلٹا دے گا تا کہ آپ(عج) کی مدد کریں اور آپ(عج) کی حکومت کا مشاہدہ کرنے کی سعادت پائیں۔ نیز آپ(عج) کے بعض دشمنوں کو پلٹا دے گا تا کہ دنیا کا عذاب چکھ لیں اور امام مہدی(عج) کی طاقت و شوکت کو دیکھ لیں اور جان لیں۔

👈طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص406

👈علامہ طباطبائی اپنی تفسیر المیزان میں لکھتے ہیں: غیر شیعہ فرقے ـ عامۃ المسلمین ـ اگرچہ ظہور مہدی(عج) پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے سلسلے میں احادیث کو تواتر  کے ساتھ نقل کرچکے ہیں لیکن وہ مسئلۂ رجعت کے منکر ہوئے ہیں اور اس کو شیعہ اعتقادی خصوصیات کا جزو سمجھے ہیں۔

👈الطباطبائي، المیزان، ج2، ص106

شیعہ فرقوں میں رجعت کا پس منظر
بعض تاریخی واقعات کے ضمن میں عراق کے بعض لوگوں کی طرف اشارہ ہوا ہے جو امام علی(ع) کی شہادت کے  فورا بعد آپ(ع) کی دنیا میں رجعت اورواپس آنے پر یقین رکھتے تھے

👈طبری، جامع البیان عن تاویل القرآن، ج14، ص140

👈محمد بن حنفیہ کی وفات کے بعدامام موسی کاظم(ع) کی شہادت اور امام عسکری(ع) کی شہادت کے بعد بھی بعض شیعہ فرقے ان کی دنیا میں رجعت اور پلٹ آنے پر یقین رکھتے تھے۔

اسی طرح تقریباتمام اماموں کے صاحبزادوں بارے یہی اختلاف شیعہ فرقوں میں ہے 

👈نوبختی، فرقة الشیعه، ص25
👈نوبختی، فرقة الشیعہ، ص67۔
👈نوبختی، فرقة الشیعہ، ص79-80

رجعت کی اسناد متواتر ہیں
رجعت کے بارے میں احادیث و اسناد اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر قسم کے شک و شبہے کی نفی ہوجاتی ہے۔ علامہ مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں 1600 رجعت کے  سلسلے می نازل اور وارد ہونے والی آیات و روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: “ان لوگوں کے لئے ـ جو ائمہ(ع) کے کلام پر یقین رکھتے ہیں ـ شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ مسئلۂ رجعت حق ہے، اور اس باب میں ائمہ(ع) سے وارد روایات متواتر ہیں اور تقریبا 2000 روایات وارد ہوئی ہیں جو اس امر پر تصریح کرتی ہیں اور ان روایات کو 40 سے زائد اکابرین علماء اور محدثّین نے 50 سے زائد معتبر کتب میں ثبت و ضبط کیا ہے۔ :جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:
👈شیخ صدوق،
👈کلینی رازی،
👈شیخ طوسی،
👈سید مرتضی علم الہدی،
👈احمد بن علی نجاشی،
👈محمد بن عمر کشی،
👈محمد بن مسعود سمرقندی عیاشی،
👈علی بن ابراہیم قمی،
👈شیخ مفید،
👈ابوالفتح کراجکی،
👈محمد بن ابراہیم نعمانی،
👈محمد بن حسن صفار قمی،
👈ابن قولویہ،
👈سید ابن طاؤس،
👈فضل بن حسن طبرسی،
👈ابن شہر آشوب اور
👈سعید بن ہبۃ اللہ راوندی۔
مجلسی بعدازاں ان کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مسئلۂ رجعت پر تالیف ہوئی ہیں۔

👈مجلسی، بحارالانوار، ج53، ص96 و 122
👈علاوہ ازیں بہت سی زیارات اور دعاؤں میں بھی رجعت کے عقیدے پر تاکید ہوئی ہے جیسے زیارت جامعہ، زیارت وارث، زیارت اربعین، زیارت آل یاسین، زیارت رجبیہ و دعائے وداع اور دعائے عہد

قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، زیارت جامعه کبیره، آل یس و دعای عهد
نکتہ: شیعہ رجعت پر یقین و اعتقاد راسخ رکھنے کے باوجود رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے؛ کیونکہ رجعت مذہب شیعہ کی ضروریات و مسلمات میں سے ہے ۔۔۔  اور جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے رجعت پر ایمان، ایمان کامل اور حقیقی اسلام کی شروط میں سے ہے۔

👈 مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج15، ص593

💔نتیجہ۔۔۔۔۔

نظریہ امامت کے ضمن میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ اسلام میں اس نظریہ رجعت کو پیش کرنے والا سب سے پہلے عبداللہ ابن سبا یہودی تھا اس کے علاوہ 👈یہ نظریہ عرب کے ایک گروہ کا بھی مزہب تھا جو معروف ومشہور تھا 

👈البدایہ والنہایہ۔ جلد3۔ صفحہ202

💙متعہ۔۔۔۔۔

شیعہ کتابوں سے جو متعةالنساء ثابت ہے اس کی کوئی دلیل کسی بھی مزہبی  آسمانی کتاب میں موجود نہیں ہے سواء بائبل کے اور بائبل کے آسمانی کتاب ہونے میں اختلاف ہے اور جوروایت بائیبل میں موجود ہے یہودی مربی اس روایت کوخود تحریف کا نتیجہ بتاتے ہیں 

👈روایت۔۔۔۔۔۔۔  

“If a man seduces a virgin who is not engaged to be married and lies with her, he shall give THE BRIDE-PRICE for her and make her HIS WIFE. If her father utterly refuses to give her to him, he shall pay money equal to THE BRIDE-PRICE for virgins.” Exodus 22:16-17 

💙نتیجہ۔۔۔۔۔ نظریہ متعة النساء بھی یہودیت کی پیداوار ہے  

❤تبصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

١۔۔۔۔۔بعض محققین کی رائے ہے شیعہ مذہب کی بنیاد یہودیت پر قائم ہے 👈القمی مقالات والفرق صفحہ-20 👈نوبختی فرق الشیعہ الصفحہ22  👈رجال الکشی صفحہ 108 ان متقدمین شیعہ علماء نے ابن سبا کے نظریات (وصیت امامت رجعت) کا تذکرہ کیا جو کہ بعد میں شیعہ کے عقائد بن گئے۔

پہلا اور جامع ترین بیان امام شعبی سے مروی ہے 👈تہذیب التہذیب جلد 5 صفحہ 5 👈السنہ میں روایت موجودہے۔کہ شیعہ  اور یہود کے فکری و نظریاتی اصولوں میں بڑی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ابن حزم 👈الفصل جلد 5 صفحہ 37 شیعہ بھی یہود کے نقش قدم پر گامزن ہے جو کہتے ہیں کہ یقینا الیاس علیہ السلام اور فنحاس علیہ السلام من العازار بن ہارون علیہ السلام آج تک زندہ ہیں امام ابن تیمیہ👈منہاج السنۃ جلد 1 صفحہ 6  فرماتے ہیں شیعہ میں جہالت غلو اور خواہش کی پیروی جیسی خصلتیں موجود ہیں جن کے سبب ایک اعتبار سے وہ نصاری سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ایک مستشرق عالم گولڈ زہیر👈العقیدۃ والشریعۃ صفحہ 215 کہتا ہے کہ شیعہ میں رجعت کا عقیدہ یہودیت اور نصرانیت کے زیر اثر پیدا ہوا ہے ایک مشتشر ق فریڈلینڈر عالم👈العقیدۃ والشریعۃ صفحہ 100 کہتا ہے شیعوں نے اپنے بنیادی عقائد یہودیت سے اخذ کیے ہیں مستشرق فلہوزن👈احذابالمعارض صفحہ 170  بھی شیعیت کو یہودیت سے ماخوذ بتاتا اور ان دونوں کے درمیان فکری مشابہت کا تذکرہ کرتا ہے   

 پروفیسر احمد امین کہتے ہیں 👈فجر الاسلام صفحہ 276 شیعہ کا رجعت کا عقیدہ یہودیت کے زیر اثر ہےشیعہ کہتے ہیں کہ شیعہ شخص پر تھوڑی مدت کے سوا آگ حرام  کی گئی ہے یہی بات بعینی ہیں یہود کہتے ہیں تھے اسی طرح امام کی نسبت اللہ تعالی کی طرف مسیح کی نسبت کے مانند ہے یہ عیسائی اثرات کا نتیجہ ہے  

٢۔۔۔۔۔بعض محققین شیعہ مذہب کو فارسی اثرات کی پیداوار قرار دیتے ہیں ابن حزم اور مقریزی👈الفصل جلد 2 صفحہ 273 👈المقریزی الخطط جلد 2 صفحہ 262  کہتے ہیں اہل فارس وسعت سلطنت دوسری اقوام پر غلبے اور ان کے دلوں میں رعب و دبدبہ کے سبب اپنے آپ کو احرار اور اسیاد کہا کرتے تھےاور دوسرے تمام لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے تھےلیکن جب عرب کے ہاتھوں زوال حکومت کی آزمائش سے دوچار ہوئے جبکہ عرب اہل فارس کی نظر میں سب سے کم وقعت کے حامل تھےانہوں نے مختلف اوقات میں جنگ و جدال کے ذریعے اسلام کو مٹانا چاہا لیکن ہر بار اللہ نے اپنے دین کو غالب کیا تو ان لوگوں نے سوچا کے سازشی طریقہ کار سے کامیابی کی امید زیادہ ہے اس بنا پر ان میں سے ایک گروہ نے بظاہر اسلام قبول کرلیا اور اہل بیت کی محبت اور علی رضی اللہ عنہ پر ظلم کا پروپیگنڈاکیا اس طرح شیعہ نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی طرف مائل کیا اور ان کو مختلف راستوں پر چلاتےرہے حتی کہ انہیں راہ ہدایت سے برگشتہ کر دیا۔بعض محققین 👈تاریخ المذاہب الاسلامیہ جلد 1 صفحہ 37 👈فجر الاسلام صفحہ 277 👈دراسات فی الفرق صفحہ 23 👈احزاب المعارضات وسیاست صفحہ 168 👈السیاسۃ العربیہ صفحہ 72 کہتے ہیں کہ اہل عرب کا شیوہ زندگی آزادی اور حریت تھاجبکہ اہل فارس کا نظام زندگی بادشاہت وملوکیت پر قائم تھا بادشاہ بادشاہی کے خاندان سے بنتا تھا اور وہ لوگ خلیفہ کے لیے انتخاب کے معنی سے بھی ناآشنا تھے چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور اپنے پیچھے جانشینی کے لیے کوئی اولاد نہ چھوڑی تو اب لوگوں میں آپ صلی اللہ وسلم کے سب سے قریبی رشتہ دار آپ کے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہی تھے لہذا اگر خلافت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جیسے کسی شخص نے حاصل کی ہے تو اس نے اصل حقدار سے یہ منصب کیا ہے۔جبکہ اہل فارس بادشاہت اور شاہی خاندان میں اس کی مورثیت کو دین کی حد تک مقدس سمجھا کرتے تھے لہذا انہوں نے علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کو بھی اسی نظریے سے دیکھا اور کہا کہ امام کی فرمابرداری ضروری ہے اور اس کی اطاعت گزاری درحقیقت اللہ کی اطاعت گزاری  ہےفارس کے لوگ بہت بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے لیکن اپنے قدیم عقائد سے کلیتاً چھٹکارانا پا سکے اور گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ آپنے انہیں قدیم نظریات کو اسلامی رنگ میں بنا سنوار کر پیش کرتے رہےاسی بنا پر شیعہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کی طرف انہیں نظروں سے دیکھتے ہیں جن نظروں سے وہ فارسی اپنے اولین آباواجداد ساسانی حکمرانوں کو دیکھا کرتے تھے شیخ ابوزہرہ 👈تاریخ المذاہب الاسلامیہ جلد 1 صفحہ 38 فرماتے ہیں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ بادشاہ اور اس کی موروثیت سے متعلق فارسی افکار سے متاثر ہیں اسی لئے شیعہ مذہب اور اہل فارس کے بادشاہی نظام کے درمیان بڑی واضح مشابہت پائی جاتی ہے جس کی مزید تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ اہل فارس شیعہ ہیں اور اولین شیعہ فارسی النسل تھے     

جب مسلمانوں کے ہاتھوں ملک ایران فتح ھوا تو قیدیوں میں ایک ایرانی بادشاہ یزدگرد کی بیٹی بھی تھی جس سے حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے شادی کی ۔اور ان سے اس کا بیٹا علی بن حسین تولد ہوا فارسیوں نے اپنے بادشاہ کی بیٹی سے پیدا ہونے والی اولاد کو اپنے قدیم بادشاہوں کا وارث خیال کیا اور سمجھا کہ علی بن حسین اور ان کی اولاد کی رگوں میں فارسی حکمران یزدگرد کی بیٹی سے تولد پذیر ہونے کے ناطے ایرانی اور ان کے مقدس ساسانی بادشاہوں کا خون دوڑتا ہے

👈تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 248 

👈الکافی جلد 1 صفحہ 53 

👈سمیر اللیثی الزندقہ والثعوبیة صفحہ 52    

👈عبداللہ الغریب وجاءدورالمجوس صفحہ 77 

👈النشار نشاۃ  الفکر الفلسفی جلد 2 صفحہ 111 

👈عبدالرزاق الحصان المھدی المہدویہ صفحہ 82 

👈فاطمہ نام فارسیوں کے نزدیک بڑا مقدس نام ہے کیونکہ ان کی قدیم تاریخ میں فاطمہ کا مقام ومرتبہ نہایت قابل تعریف ہےفارسیوں کے خیال کےمطابق فاطمہ ہی کی بدولت سمردیس مجوسی کہ جو کیسا نیوں کے پایہ تخت پر قابض ہوگیا تھا متعلق حقیقت حال کا انکشاف ہوا تھا چنانچہ فاطمہ بڑی بہادر اور مقدس خاتون تھیں اگر وہ نہ ہوتے تو سمر دیس مجوسی کے متعلق کچھ پتہ نہیں چلتا اور اگر وہ نہ ہوتے تو اس کا باپ اوتاس اور اس کے ساتھی سمردیس کے مقابلے میں مناسب تدبیر اختیار نہیں کر سکتے تھے 

👈المہدی والمہدویہ صفحہ 84 

👈عنھیرودوتس۔صفحہ 462 

👈المقدس بداء التاریخ جلد 4 صفحہ 133 جلد 6 صفحہ 95 

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو ایسی خصوصیات اور صفات سے متصف کرتے ہیں جو بشری طاقت سے ماوراء ہیں یہاں تک کہ ان کو الہ قرار دیتے ہیں 

👈رجال کشی صفحہ 15 صفحہ 16 صفحہ 19 صفحہ 6 صفحہ 7 

👈مقالات الجسلامین جلد 1 صفحہ 80 

ابولولو فیروز مجوسی جس نے خلیفہ راشد عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا اسے یہ لوگ بابا شجاع الدین کہا کرتے تھے اور جس دن عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ والمجوسی کے ہاتھوں مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے تھے اس دن کو شیعہ لوگ عید مناتے ہیں الجزائری نے کئی روایات نقل کی ہیں

👈الکنی والالقاب جلد 2 صفحہ 55 

👈انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 108 

کی طرح یہ لوگ مجوسیت حواریوں مینی روز کی بھی مجوسیوں کی طرح تعظیم کرتے ہیں روایات میں یہ اعتراف و اقرار موجود ہے کہ یوم نیروز مجوسیوں کا تہوار اور ان کی عید ہے 

👈معتبس الاثر جلد 29 صفحہ 202 203  

👈المجلسی بحار الانوار باب عمل یوم النیروز جلد 98 صفحہ419 

👈وسائل الشیعۃ باب استحباب صوم یوم نیروز والغسل فیہ لبس انظف الثیاب والطیب جلد 7 صفحہ 346 

👈بحارالانوار جلد 39 صفحہ 108 

٣۔۔۔۔بعض محققین نے شیعہ مذہب کوقدیم ایشیائی مذاہب بدھ مت وغیرہ کے عقائد پر مبنی ہےقراردیاہے

شیعیت ہی کےزیرسایہ تناسخ ارواح تجسیم الہی اور حلول جیسے دیگر عقائد جو زمانہ قبل از اسلام میں براہمہ فلاسفہ اور مجوس کے ہی معروف تھے مسلمانوں میں پھیل گئے بعض مستشرقین بھی شیعہ میں بہت سی غیر اسلامی عقائد کے سرایت کرنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں شیعہ میں یہ عقائد مجوسیت مانویت اور بدھ مت وغیرہ مذاہب سے منتقل ہوئے ہیں جو ظہور اسلام سے قبل ایشیا میں رائج تھے

👈تاریخ المذاہب الاسلامیہ لابی زہرہ جلد 1 صفحہ 37    

👈المعجم الفلسفی صفحہ 55 

👈التعریفات للجرجانی صفحہ93 

👈التدمیر یہ صفحہ 32 ضمن مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ جلد 3 

👈منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 97 تا145 

👈درءتعارض العقل والنقل جلد 1 صفحہ 118 119 

👈التعریفات للجرجانی صفحہ 103 

👈الملل والنحل جلد 1 صفحہ 232 

👈الرازی اعتقادات فرق المسلمین والمشرکین ۔صفحہ 137 

👈فجر الاسلام صفحہ 277 

👈المنیة والعمل صفحہ 60 

👈شرح الطحاویہ صفحہ 18 

مختصر تحفہ اثنا عشریہ مولف فرماتے ہیں کہ شیعہ مذہب کی یہودونصاری اور مجوس و مشرکین کے فرقوں کے ساتھ مکلمل مشابہت پائی جاتی ہےپھر انہوں نے ان مذاہب کے تمام فرقوں کے ساتھ شیعہ مذہب کی مشابہت کی وجوہات ذکر کی ہیں 

اسی طرح بعض محققین کا کہنا ہے کہ جب ہم نے شیعہ فرقوں پر تحقیق اور ان کا مطالعہ کیا تو ان میں تمام مذاہب و ادیان کے عقائد موجود تھے جن کو مٹانے کے لئے اسلام دنیا میں آیا تھا 

👈 برکات عبدالفتاح الوحدانیہ صفحہ 125 

💙نتیجہ۔۔۔۔۔۔۔شیعہ کا ہر عقیدہ ماخوذ از ماقبل الاسلام مذاہب ہےواللہ اعلم بالصواب تمت💗

❤ کوئی بھی بندائے خدا شیعہ مزہب قدیم فلسفوں کی اماجگاہ

💕آئمہ کو بارہ کی تعداد میں محصور کرنا۔
شیعہ بارہ آئمہ کی امامت کے دعویدار ہیں حقیقت میں اس قدیم یہودی خیال کی طرف لوٹتی ہے جس کا دانیال کی کتاب میں ذکر ہوا ہے
👈کتاب دانیال میں یہ لکھا ہوا ہیں جب مہدی وفات پا جائے گا تو اس کے بعد سبط اکبر کی اولاد سے پانچ لوگ بادشاہ بنیں گے پھر پانچ سبط اصغر کی اولاد سے ہوں گے پھر ان میں سے آخری خلیفہ سبط اکبر کی اولاد میں سے کسی کے نام خلافت کی وصیت کرے گا اس کے بعد اس کا لڑکا بادشاہ بن جائے گا اس طرح 12 بادشاہ ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک امام مہدی ہوگا۔

👈فتح الباری جلد 13 صفحه 213

💕نتیجہ ۔۔۔۔شیعہ کا بارہ آئمہ کو محصور کرنے کا نظریہ بھی یہود سے لیا گیا ہے