شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران تحقیقی مقالہ ( ترجمہ:ابو عبداللہ زبیر بن حسین)

Loader Loading...
EAD Logo Taking too long?

Reload Reload document
| Open Open in new tab

ڈاؤن لوڈ لنک 2

شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران پر بحث
(ناخوشگوار طویل المیعاد عارضہ )ترجمہ : ابو عبداللہ زبیر بن حسین
تمہید

اس مختصر تحقیقی مقالے کا مقصد اثنا عشری شیعوں کا کتاب اللہ کے متعلق عقیدہ دکھانا ہے، اور ساتھ میں یہ بھی دکھانا ہے کہ کس طرح ان کے یہ عقائد ان کو اللہ تعالی کی کتاب سے دور کرتے ہیں۔ شیعہ علماء اور قرآن کریم کے بیچ بحران موجود ہے، ایک ایسا بحران جس کا اظہار وہ کسی بھی بحث میں یا کسی تقریر میں نہیں کریں گے کیوں کہ ا ن کا مقصد صرف لوگوں کے سامنے جیتنا اور جتنا ہوسکے، خود کو اچھا ظاہر کرنا ہے ۔ یہ مقالہ اس بحران کی اصل جڑ کو سامنے لاکر اس کا پردہ فاش کرے گا۔اور ان گندے عقائد کو ظاہر کرے گا جن کو شیعہ علماء اپنے عقائد کے طور پر مانتے آرہے ہیں جن کو وہ اہلبیت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

شروع کرنے سے پہلے میں یہ بات صاف کردینا چاہتا ہوں کہ اس مضمون کا مقصد صرف سچ کو ظاہر کرنا ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ عام دنیادار شیعہ لوگ ہر اس بات کو مانتے ہیں جو کہ اللہ تعالی کی کتاب میں ہے اور اس کی قدر کرتے ہیں، ان لوگوں کے برخلاف جو کہ کالی پگڑی پہنے ہوتے ہیں ۔البتہ عام شیعہ آدمی اللہ تعالی کی کتاب کے ساتھ ایک سنی مسلمان کے مقابلے میں بہت ہی کم وقت کذارتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے علماء انہیں قرآن کریم کے مقابلہ میں نوحہ ، ماتم اور امام حسین رضی اللہ عنہ پر رونے زیارات پڑھنے اور کربلا کا ذکر کرنے میں مصروف رکھتے ہیں ۔ یہ ہر شیعہ عام آدمی کو ایک ایماندارانہ اور درمندانہ انتباہ ہے ،ان خطرناک عقائد سے جو کہ ان کے علماء رکھتے آرہے ہیں ، ایسے عقائد جو کہ انہیں اللہ تعالی کی کتاب سے دور کر رہے ہیں جو ان عام شیعوں کو کتاب اللہ سے الگ کردیتے ہیں ۔یہ زہریلے عقائد عام شیعہ کے دل میں راسخ نہیں ہونے چاہئے۔
تعارف
وہ لوگ جو کہ شیعہ کے قرآن کریم کے بارے میں عقائد سے خوب واقف ہیں جو کہ ان کی روایات اور ان کے علماء اور مُدَرِّسِین کے بیانات پر مبنی ہیں، جان لیں گے کہ شیعوں اور قرآن کریم کے درمیان ایک نفسیاتی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے وہ خود کو قرآن کریم سے بہت دور کر لیتے ہیں ۔ اس سب کا سبب ان کے عقائد ہیں جن کا انہوں نے انتخاب کر رکھا ہے۔ البتہ جب بات اس کتاب قران کی تحریف سے حفاظت اور جمع کی آتی ہے تو یہ لوگ اس پر دو گروہوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ اس کے باجود ان کے اور قرآن کریم کے درمیان جو بحران ہے ،وہ دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ جہاں تک دوسرے گروہ کی بات ہے یہ وہ ہیں جو کہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب قرآن کریم کسی بھی قسم کے اضافہ اور حذف سے بالکل ہی محفوظ ہے ۔ یہ ایک مثبت صورت ہے جو کہ کسی محقق کو کچھ ساعتوں کے لئے ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ گروہ اس بحران سے متاثر نہیں ہے ، بدقسمتی سے یہ مختصر تحقیق پڑھنے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اس بیماری کے اثرات کس طرح اس دوسرے گروہ کے عقائد میں بھی گھر کر چکا ہے اور مجھ پر یہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کی اصل وجہ بیان کروں اور ساتھ میں یہ بھی وضاحت کروں کہ یہ کیوں ضروری ہے۔

پہلا باب : قرآن کریم کی طرف بحران کا سبب بننے والی بیماری کو بے نقاب کرنا
غور سے پڑھنے والا یہ جلد ہی محسوس کرے گا کہ شیعوں کے عقیدہ میں اس بیماری کی جڑ اصل میں ان کا عقیدہ امامت ہے اہل بیت کا اللہ تعالی کی طرف سے حکمران مقرر ہونا) جو کہ انہیں اس بات کوماننے پر مجبور کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عموماََ اور پہلے تین( ابو بکر عمر ، عثمان رضوان اللہ علیھم) خلفاء راشدین نے خصوصاََ خیانت کی۔کیوں کہ انہوں نے حضور علیہ السلام کی اولاد سے اللہ تعالی کےمقرر کردہ بارہ اماموں کا حق غصب کیا- اس بنیا د پر شیعوں کے سینوں میں موجود صحابہ کی تصویر ان کے عقیدہ کے کے مطابق سیاہ اور بدصورت ہے کیوں کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ جن پر اللہ تعالی نے اعتماد کیا، صحابہ نے اس سے غداری کی۔اور علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کو اللہ کی طرف سے مقرر کردہ خلافت نہیں دی۔ اس کے بر عکس انہوں نے ان پر ظلم کیا ان پر تشدد کیا ان کو قتل کیا اور ان کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے پر مجبور کیا ۔
وہ لوگ جنھوں نے شیعہ کے اس عقیدہ کا بہت سا حصہ اپنایا وہ یقیناََ اس حد تک پہنچ جاتے ہیں جہاں پر وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ صحابہ اسلام کے لئے کچھ مثبت بھی کر سکتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ شیعہ علماء اپنے طور پر بہت کوشش کرتے ہیں کہ صحابہ کی چھوٹی سی فضلیت یا پھر اچھے عمل کو ایک جرم اور ایک منفی عمل بنا کر پیش کرتے ہیں ، چاہے وہ صاف طور پر اس کے بر عکس ہو۔ میں مندرجہ ذیل مثالوں میں اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ ذکر کرتا ہوں۔

۱- نبی (ﷺ) کے ساتھ ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کی سعادت

یہ ایک ایسی سعادت ہے جس کو اللہ تعالی نے اپنی ابدی کتاب میں محفوظ کردیا ہے جہاں پر اللہ تعالی فرماتے ہیں :
إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے
سورۃ التوبہ ، آیت 40
شیعہ علماء اپنی ساری توانائی اس کوشش میں ضائع کرتے ہیں کہ اس عظیم سعادت کو ایک بڑے جرم میں تبدیل کردیا جائے۔ شیعوں کے علماء اور ان کے فرقہ کے رہنما شیخ طوسی اپنی تفسیر التبيان الجامع لعلوم القرآن” میں اللہ تعالی کے اس ارشاد لَا تَحْزَنْ (غم نہ کرو ) کی تفسیر میں کہتا ہے اگر یہ اہانت نہیں ہے تو اس میں کوئی سعادت کی بات بھی نہیں ہے۔اس میں صرف ڈرنے سے منع کیا جا رہا ہے۔
مطلب کہ یہ الفاظ سیدنا ابو بکر الصدیق کے مرتبے کو گراتے ہیں یا کم سے کم سعادت کے طور پر نہیں لئے جا سکتے۔ اس کے آگے اللہ تعالی کے ارشاد ” یقینا اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے ” کی تفسیر میں لکھتے ہیں:-
” یہاں پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔ بالفرض اگر ابو بکر مراد بھی ہیں تو یہ کوئی ان کے لئے سعادت نہیں ہے بلکہ یہ ان کے لئے مضر ہوسکتا ہے ۔ بالکل اس کی طرح جو ایک آدمی کو برا فعل کرتا دیکھے تو اسے کہے کہ یہ مت کرو اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہیں ،مطلب اللہ تعالی ہمیں دیکھ رہے ہیں۔”

۲۔سیدنا ابو بکر الصدیق کو اعزاز سے نوازا گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ خیمہ میں رہنے کے لئے چنا یا جہاں سے کمانڈ کی جا سکے ۔
شیعہ عالم محمد باقر الصدر اپنی کتاب فدک فی التاریخ صفحہ ۱۲۸ پر اس سعادت کو تنقید میں بدلنے کی کوشش کر کہ لکھتا ہے :
وليس لدي من تفسير معقول للموقف إلا أن يكون قد وقف إلى جوار رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وكسب بذلك موقفا هو في طبيعته أبعد نقاط المعركة عن الخطر لاحتفاف العدد المخلص في الجهاد يومئذ برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم . وليس هذا ببعيد لآننا عرفنا من ذوق الصديق أنه كان يحب أن يكون إلى جانب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الحرب لأن مركز النبي صلى الله عليه وآله وسلم هو المركز المصون الذي تتوفر جميع القوي الاسلامية على حراسته والذب عنه
میرے پاس اس کی کوئی مناسب تشریح نہیں ہے سواء اس کے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی جگہ کھڑا رہنے کی ایک کوشش ہے تاکہ ایسی جگہ لی جائے جو کہ قدرتی طور پر میدان جنگ میں خطرے سے دور ہو ۔ ہم صدیق کے طریقوں کو جانتے ہیں کہ انہیں جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا رہنا زیادہ پسند تھا کیوں کہ اس سے ان کی جگہ سب سے زیادہ محفوظ تھی جس کی حفاظت تمام اسلامی افواج کر رہی ہوتی تھیں ۔
پھر صفحہ ۱۲۵ پر لکھتا ہے
وشخصية اكتفت من الجهاد المقدس بالوقوف في الخط الحربي الأخير – العريش –
اور ایک مخصوص شخص جس نے اس بات کو زیادہ جانا کہ وہ جہاد مقدس میں سب سے آخری صفوں یعنی العریش پرکھڑا رہے۔
اگر ہم اس حقیقت سے صرف نظر کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کھڑے تھے، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں جن کی آنکھیں تعصب اور جاہلیت میں اندھی ہو گئی ہیں جب صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھے اور کافر انہیں قتل کرنے کے درپے تھے اور ان کے ٹھیک اوپر کھڑے تھے ” کیا یہ بھی جنگ میں ممکنہ بھاگنے کی کوشش تھی”
قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
٭خدا انہیں ہلاک کرے ،یہ کہاں بھٹکتے پھرتے ہیں
سورۃ التوبہ آیت 30
اوپر کی وضاحت اور حقیقت کی بنیاد سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ شیعہ صحابہ کی کسی بھی سعادت کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ خلفاء راشدین کی سب سے بڑی سعادت تدوین قرآن کریم جو کہ رسول اللہ کے بعد ہمارے ہاتھ میں ہے اسکے بارے میں ان کی رائے کیا ہے۔ ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسی کتاب کے بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں جو کہ ایسے انسانوں نے جمع کیا ہے جن پر یہ لوگ سب سے بھیانک الزام عائد کرتے ہیں اور ان کی وضاحت بدترین زبان میں کرتے ہیں ، وہ لوگ جن الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالی کے مقدس حکم یعنی امامت علی کے خلاف بغاوت کی اور دھوکہ بازی کے کام لیا۔
شیعہ علماء کرام کو یہاں دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
پہلا انتخاب
اس بات کو تسلیم کریں کہ انہو ں (یعنی صحابہ) نے قرآن جمع کیا۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناََ خوش ہونگے ۔اس طرح یہ بھی قبول کریں کہ یہ ان کی ایک عظیم تاریخی سعادت ہے اور پوری امت کو قرآن کے تحفظ اور حفاظت کرنے کے عوض میں قیامت کے دن تک ان کا شکر گزار رہنا چائے ۔
یہ ایک ایسی بات ہے جس کو ان کے نفرت بھرے ارواح کبھی قبول نہیں کر سکتے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عقیدہ امامت کی وجہ سے انہوں نے ان نفرتوں کو اپنے سینوں میں جگہ دی ، جس کی وجہ سے ان کی نظر میں صحابہ کی اس سعادت کو ماننے سے تلوار سے زخم کھانا یا چاقو سے زخم کھانا اچھا ہے ۔
اس کی ایک مثال اس طرح ہے کہ ان کے علماء میں سے ایک اس بات کا دفاع کرنا چاہتا تھا کہ قرآن تحریف شدہ ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اسکے علاوہ عقیدہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہم یہ یہ خیال کریں کہ خلفاء اچھے تھے اور ہمیں ان کے بارے میں اچھی رائے رکھنی چاہئے ، یہ سیدھا ہمارے مذہب کی بنیاد اور اس کے اصولوں کے خلاف ہے، کیوں کہ خلفاء اللہ تعالی کے مقدس حکم (یعنی امامت) کے خلاف بغاوت کرنے والے اور دھوکا کرنے والے تھے ۔
شیعہ عالم المحقق یوسف البحرانی اپنی کتاب در النجفیہ جلد ۴ صفحہ ۸۳ پر لکھتا ہے:
ولعمري إن القول بعدم التغيير والتبديل لا يخرج عن حسن الظن بأئمة الجور و أنهم لم يخونوا في الأمانة الكبرى مع ظهور خيانتهم في الأمانة التي هي أشد ضررا على الدين وأحري
میں قسم کہاتا ہوں اگر کہا جائے کہ کوئی تحریف و حذف نہیں ہوئی تو یہ برائی کے اماموں کے بارے میں اچھا خیال کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور یہ کہ انہوں نے ہماری سب سے زیادہ ضروری امانت جس پر ہمیں اعتماد ہے، اس میں خیانت نہیں کی ہے البتہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے دوسری ضروری امانت (یعنی امامت) میں خیانت ضرور کی ہے جس ہر ہم بھروسہ کرتے ہیں اور یہ مذہب کے لئے سب سےزیادہ نقصان دہ ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شیعہ عالم سوچتا ہےکہ امامت کے مسئلے پر دھوکا دینا مذہب کے لئے تحریف قرآن سے بھی زیادہ خطرناک ہے ، اب کوئی اتنا بھی بے عقل نہیں کہ یہ سوچے کہ وہ (یعنی صحابہ) قرآن کریم میں تبدیلی نہیں کرسکتے۔
دوسرا انتخاب
وہ اپنی اس اصول ہر کاربند رہے اور اس عظیم سعادت (یعنی جمع قرآن) کو یہ کہہ کر ایک گندے عمل تبدیل کرتے رہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کو اس طریقے سے جمع نہیں کیا ،جس طرح اللہ تعالی نے جمع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔یہ سب انہوں (یعنی صحابہ) نے صرف اس لئے کیا کہ وہ اس حق کو چھپانا چاھتے تھے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر کیا تھا تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں۔
ظاہر ہے کہ جو لوگ شیعہ علماء کے طریقوں سے اچھے طرح واقف ہیں اور تجربہ رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ (یعنی شیعہ) دوسرے نقطہ کا انتخاب کریں گے ۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کی کتاب کے متعلق شبہات پیدا کرنا شروع کردئے اور دعوی کرنے لگے کہ جس طریقے سے یہ جمع ہوا وہ بالکل غلط تھا، اور یہ طریقہ وہ نہیں تھا جس پر اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں۔ یہ کام انہوں نے دو طریقوں سے کیا:
پہلا طریقہ
یہ کہ خلفاء راشدین نے جب قرآن کریم کو جمع کرنا شروع کیا تو اس سے بہت سی ایسی آیات حذف کردیں جو کہ اہل بیت اور ان کی امامت کے حق میں تھیں۔ قرآن کریم کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کا یہ طریقہ ان شیعہ علماء نے اپنایا جو کہ اعلانیہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم تحریف شدہ ہے، اس سے آیات حذف کی گئی ہیں۔ ان شیعہ علماءمیں قمی ، عیاشی ، مجلسی ، نعمت اللہ الجزائری ، نوری الطبرسی اور بہت سے دیگر شامل ہیں۔
دوسرا طریقہ
خلفاء راشدین نے جب قرآن کریم جمع کیا تو انہوں نے آیات حذف کر کہ تحریف نہیں کی، بلکہ انہوں نے اس کے ابواب اور ایات کی ترتیب میں اور ان کی قرآت میں تبدیلی کردی ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تشریح ،آیات و الفاظ کی معنی اور ان کا سبب نزول حذف کردیا ۔ قرآن کریم پر شکوک و شبہات کا یہ طریقہ ان شیعہ علماء نے اپنایا جو کہ حذف یا اضافت کی صورت میں تحریف کا انکار کرتے ہیں اور ہماری تحقیق کا موضوع ِ بحث یہی ہے۔

باب دوم
ان کےکچھ علماء کےعقائد جو کہ تحریف کا انکار کرتے ہیں لیکن لوگوں کو قرآن کریم سے دور کرتے ہیں۔
ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ شیعہ علماء کا یہ گروہ قرآن کریم میں اضافے یا حذف کے معاملے پر دوسرے گروہ سے اختلاف رکھتا ہے لیکن یہ قرآن کریم کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے میں ان سے اتفاق رکھتے ہیں اور لوگوں کو اس کتاب سے دور کرتے ہیں کیوں کہ یہ خلفاء نے جمع کیا ہے ۔ یہ ان شکوک و شبہات کو مختلف پوشیدہ طریقوں سے شروع کرتے ہیں تاکہ یہ شکوک ان لوگوں کے زہن میں آسانی سے ڈالے جا سکے جو کہ ان کی کتب پڑھتے ہیں ۔اس طرح عام شیعہ قرآن کریم سے الگ ہوجاتا ہے اور اس طریقے سے یہ ایک پتھر سے دو پرندے مارتے ہیں ۔ وہ ایک طرف سے اپنے پیروکاروں کو قرآن کریم کی تعلیمات سے دور کردیتے ہیں اور دوسری طرف سے خود کو تحریف کا عقیدہ رکھنے کا الزام لگنے سے محفوظ کرلیتے ہیں۔
یہاں پر میں ان عقائد کی ایک فہرست پیش کرتا ہوں:-
۱۔ خلفاء نے قرآن کریم تب جمع کیا جب علی رضی اللہ عنہ انکے پاس صحیح قرآن لیکر آئے ۔اس کو دیکھنے کے بعد انہوں نےعلی رضی اللہ عنہ کے جمع کئے ہوئے نسخے کو لینے سے انکار کردیا اور خود اپنا نسخہ جاری کروایا ۔
۲۔ جس طرح آج مسلم قرآن کریم کی قرآت کرتے ہیں یہ اس طریقہ پر نہیں جس سے اللہ تعالی راضی ہوں ، وہ اس سے مختلف ہے۔
۳۔جو قرآن کریم علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا جس کو خلفاء نے رد کردیا ،اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کی گئے آیات کی تشریح ، اور ہر آیت کا سبب نزول لکھا ہوا تھا ۔
۴۔ جو قرآن کریم خلفاء نے جمع کیا تھا، وہ ابواب اور آیات کے ترتیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قرآن سے مختلف تھا۔
۵۔ جو قرآن کریم علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا وہ آج کے دنیا میں موجود قرآن کے مقابلے میں معجزانہ طور پر کمال اور درستگی کے ساتھ صحیح جمع کیا گیا تھا۔
۶۔ علی رضی اللہ عنہ کا قرآن جو کہ چھپے ہوئے بارہویں امام ظاہر کریں گے ،وہ ایک بالکل مختلف قرآن ہے اس قرآن سے جس کو آج کل مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ اس کی وجہ اس کی معجزانہ طاقت اور مختلف تشریح اور اس کے تدوین میں درستگی ہے ۔
اب ہم ان چھ عقائد کو ایک ایک کر کے بیان کریں گے
پہلا عقیدہ :
خلفاء نے قرآن کرم جمع کیا تو اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ انکےپاس صحیح قرآن لیکر آئے جو کہ انہوں نے جمع کیا تھا، انہوں علی رضی اللہ عنہ کے جمع کئے ہوئے نسخے کو لینے سے انکار کردیا اور خود اپنا نسخہ جاری کروایا۔
اہل تشیع کے بڑے محدث ابن بابویہ القمی جسے یہ لوگ الصدوق کہتے ہیں، اپنی ایک کتاب “کتاب الاعتقادات فی دین الامامیہ” جو کہ شیعہ عقائد میں بہت اہمیت کی حامل ہے، اس کے صفحہ 86پر لکھتے ہیں :
كما كان أمير المؤمنين عليه السلام جمعه فلما جاءهم به قال : هذا كتاب ربكم كما أنزل على نبيكم لم يزد فيه حرف ولم ينقص منه حرف . فقالوا : لا حاجة لنا فيه عندنا مثل الذي عندك فانصرف وهو يقول : فنبذوه وراء ظهورهم واشتروا به ثمنا قليلا فبئس ما يشترون۔
امیر المومنین علیہ السلام نے قرآن جمع کیا اور جب وہ ان خلفاء کے پاس لے کر آئے۔ آپ نے کہا : یہ آپ کے رب کی کتاب ہے، بالکل اسی طرح لکھی گئی ہے جس طرح تمھارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ اس میں ایک لفظ کی نہ کوئی کمی ہے اور نہ کوئی زیادتی ہے۔
انہوں نے کہا :ہمیں اس کی ضروت نہیں ہے ۔ہمارے پاس اس طرح کا نسخہ ہے جس طرح کا تمھارے پاس ہے۔ توحضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے۔
فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ٭
“تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں ،برا ہے
آل عمران آیت 187
مشہور شیعہ عالم مرتضی الانصاری کتاب الصلاة ص 119 پر کہتے ہیں:
ولذا أعرضوا عن مصحف أمير المؤمنين ع لما عرضه عليهم فأخفاه لولده القائم عليهم السلام وعجل الله فرجه.
اس لئے انہوں نے امیر المومنین علیہ السلام کے قرآن کو رد کردیا جب کہ انہوں نے ان کے سامنے پیش کیا ، تاکہ وہ اسے اپنے بیٹے القائم مھدی (عجل اللہ فرجہ) کے لئے چھپا سکیں
علامہ محقق علی بن موسی التبریزی اپنی کتاب مراۃ الکتب ص 32 پر کہتے ہیں :
كما ورد في الأخبار أنه عليهم السلام جمع القرآن بعد وفاة النبي وأتاه إلى القوم فلم يقبلوه فبقي مكنونا مخزونا حتى يظهره القائم.
جیسا کہ ہم نے روایات سے ثابت کیا انہوں (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن جمع کیا اور اس کو ان کے پاس لائے لیکن انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا ۔اس لئے یہ ہمیشہ چھپا ہوا رہے گا یہاں تک کہ مہدی آخرالزمان کا ظہور ہو۔
علامہ محمد حسین طباطبائی اپنی کتاب القرآن فی الاسلام ص 137 پر کہتے ہیں:
والإمام أمير المؤمنين عليه السلام بالرغم من انه كان أول من جمع القرآن على ترتيب النزول وردوا جمعه ولم يشركوه في الجمع الأول والثاني.
اور امیر المومنین علیہ السلام پہلے تھے جنھوں قرآن کو اس ترتیب سے جمع کیا جس طرح وہ نازل ہوا تھا لیکن انہوں نے(یعنی صحابہ نے) نے اس کو رد کردیا اور انھوں نے آپ کو پہلی بار اور دوسری بار قرآن جمع کرنے میں شامل ہونے نہیں دیا۔
وہ اپنی دوسری کتاب ، کتاب الشیعہ فی الاسلام ص 28-29 پر لکھتے ہیں:
والنبي ص قد صرح معلنا أن عليا أعرف الناس بالعلوم الاسلامية والمفاهيم القرآنية ولم يسمحوا له بالمشاركة في جمع القرآن (وهم على علم من أن عليا بعد وفاة النبي ص كان جليس داره يجمع القرآن ولم يذكر اسمه في انديتهم واجتماعاتهم.
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلام اور قرآن کے علوم میں سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں ، لیکن انہوں نے آپ کو قرآن کی تدوین کے عمل میں شامل ہونے نہیں دیا ۔ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی وفات کے بعدحضرت علی گھر میں قرآن جمع کر رہے ہیں اور ان کا نام ان ملاقاتوں اور اجتماعات میں ذکر نہیں کیا گیا ۔
شیخ علی الکورانی العاملی اپنی کتاب ألف سؤال و إشكال جلد ۱ صفحہ 243 پر لکھتے ہیں:
ففي الواقع لم تكن توجد مشكلة اسمها مشكلة جمع القرآن بل الدولة افتعلتها (والدولة هنا عمر الذي لم يقبل نسخة القرآن التي جاء بها على عليه السلام لتكون النسخة الرسمية للمسلمين
حقیقت میں قرآن کریم کو جمع کرنے کے کام میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مسئلہ حکومت نے پیدا کردیا (یہاں حکومت سے مراد خلفاء ہیں) جس نے قرآن کریم کے ایک نسخہ کو مسلمانوں کے لئے سرکاری نسخہ قبول کرنے سے انکار کردیا جو کہ حضرت علی علیہ السلام لائے تھے ۔

اپنی دوسری کتاب تدوین القرآن ص 256 پر لکھتے ہیں :-
ومع ذلك فقد قام علي عليه السلام بواجبه نحو الأمة وقدم لهم نسخة القرآن بأمر النبي صلى الله عليه وأله وخط علي ولكنهم رأوا (المصلحة في عدم جعلها نسخة القرآن الرسمية.
اس کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امت کی زمہ داری پوری کردی اور انہوں ایک قرآن کا نسخہ دیا جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ترتیب کیا ہوا اور حضرت علی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا لیکن انہوں نے اپنے ارادوں کی تکمیل کے لئے سوچا کہ قرآن کریم کے اس نسخہ کو سرکاری ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب محاضرات فی الاعتقادات جلد 2 ص 602 پر لکھتے ہیں:
صحيح أن أمير المؤمنين ع جمع القرآن وقد أشرت إلى هذا من قبل. فالإمام جاء بالقرآن إليهم فرفضوه وهذا أيضا موجود . وكان لعلي قرآن هذا موجود والكل يذكره . علي جمع القرآن الكل يذكره.
یہ سچ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے قرآن جمع کیا تھا اور میں نے پہلے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ امام علی ان کی طرف قرآن کریم کے ساتھ آئے لیکن انھوں نے اس کا انکار کیا ،حضرت علی کے پاس قرآن تھا۔ یہ ثابت شدہ ہے اور ہر کسی کو یاد ہے۔
آیت اللہ محمد الحسین الحسینی تہرانی اپنی کتاب نور الملکوت القرآن جلد ۴ ص ۳۴۵ پر لکھتے ہیں:
أما روايات الخاصة فقد جاء فيها أنه ع حمل القرآن على بعير وجاء به إلى المسجد فقال : هذا هو قرآنكم! فقالوا له : لا حاجة لنا بقرآنك! ولم يلتفتوا إليه فعطف الإمام زمام بعيره وعاد إلى المنزل وقال : أما إنكم لن ترونه إلى يوم القيامة.
شیعہ روایات میں آیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کو اونٹ پر لاد دیا اور مسجد کی جانب لے کر آگئے اور کہا کہ یہ تمہارا قرآن ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تمہارے قرآن کی ضرورت نہیں ہے اور انہوں نے آپ کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ پھر آپ نے اونٹ کی مہار کھینچی اور اپنے گھر چلے گئے ۔پھر کہا کہ آپ لوگ اسے قیامت تک نہیں دیکھیں گے۔
شیعہ عالم محمد ہادی معرفہ اپنی کتاب تلخیص التمہید ج 1 ص 156 پر فرماتے ہیں:
كان أمير المؤمنين عليه السلام أول من أبدى فكرة جمع القرآن بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مباشرة وإن كان جمعه هو رفض.
امیر المومنین علیہ السلام وہ پہلےشخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قرآن کریم کو جمع کرنے کا خیال پیش کیا، اگرچہ ان کے اپنے نسخہ کو مسترد کردیا گیا تھا۔

مشہور آیت اللہ محمد الحسینی الشیرازی کتاب قرآن کب تدوین ہوا ص 31 پر لکھتے ہیں:
أما مسألة قرآن على عليه السلام الذي جاء به فلم يقلبوه فإنما يراد ما جمعه عليه السلام من التفسير والتأويل كما ذكر ذلك أمير المؤمنين على عليه السلام بنفسه في روايته رويت عنه.
جہاں تک حضرت علی کے قرآن کا مسئلہ ہے کہ انہوں نے جمع کیا تھا لیکن رد کردیا گیا ، یہاں پراس کا مطلب ہے کہ یہ تفسیر اور تاویل کی صورت میں جمع کیا گیا تھا، جیسا کہ انہوں (یعنی حضرت علی نے) نے ان روایات میں خود بیان کیا جو ان سے مروی ہیں۔
شیعہ مصنف ڈاکٹر ظہیر البتار کتاب الامامہ تلک الحقائق القرآنیہ ص ۴۹ پر لکھتے ہیں:
لكنهم لما تنكروا له كان عليهم أن يعملوا برأيهم فرفضوا القرآن الذي جمعه لهم على أسباب النزول لكي لا يختلف في التأويل وجمعوه على النحو المعلوم.
لیکن جب انہوں نے ان کا انکار کیا ان کے پاس ان کے اپنے خیالات کے مطابق نسخہ موجود تھا اس لئے انہوں نے اس قرآن کریم کو مسترد کردیا جو کہ آپ نے جمع کیا تھا جو کہ سبب نزول کے مطابق تھا تاکہ کسی کو اس کا غلط مطلب لینے کی جرأت نہ ہو اور انہوں نے اسے اپنے طریقے سے جمع کیا۔
پھر ص ۵۰ پر لکھتا ہے :
والواقع أن أمير المؤمنين عليا عليه السلام بقي يقوم بدور المحامي عن السنة والكتاب . فكما سبق القول جمع القرآن على أسباب النزول لما لذلك من علاقة بالتأويل فرفضوه لما يظهر من حقائق لا توافق ما بنوا عليه.
حقیقت یہ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام قرآن و سنت کو بچانے کے خاطر ایک وکیل کا کردار ادا کر رہے تھے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ انہوں نے قرآن بشمول اسباب نزول آیات جمع کیا تھا کیوں کہ اس کا تعلق پھر تشریح کے ساتھ ہے اس لئے انہوں نے اس کو مسترد کردیا کیوں کہ یہ حقیقت بیان کر رہا تھا جو کہ ان کے طریقے کے خلاف تھا ۔

شیعہ مصنف عبدللہ علی احمد الدقاق کتاب حقیقت مصحف الامام علی عند السنہ والشیعہ ص 309-314 پر لکھتا ہے:
تؤكد الروايات الواردة في مصادر الشيعة الإمامية أن الخلافة قد رفضت مصحف الإمام علي عليه السلام . . . بما أن روايات الإمامية الدالة على إعراض الخلافة عن مصحف الإمام علي عليه السلام كثيرة . يحصل لنا اطمئنان بأن إعراض الخلافة عنه كان قد وقع وتحقق . . . إذن الموقف الذي نري صحته ووقوعه من قبل الخلافة هو الإعراض عن مصحف الإمام على عليه السلام ورفضه . بل ومحاولة إيجاد البديل وليس الإمضاء الذي لم نلمس له أثراً في حياتهم.
جو روایات امامی شیعہ کے ہاں پائی جاتی ہیں وہ اس بات کا اثبات کرتی ہیں کہ خلافت نے امام علی رضی اللہ عنہ کے قرآن کو مسترد کردیا ۔۔۔ اور کیوں کہ جو امامی روایات خلافت کی جانب سے قرآن کریم کو مسترد کرنے کے بارے میں ہیں وہ بہت زیادہ ہیں ،اس لئے ہمیں یقین ہے کہ یہ معاملہ ہوا ہے ۔۔ امام علی کے قرآن کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کی اور اس کو رد کر دیا، یہاں تک کہ اس کا نعم البدل بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی۔
محترم قارئین کرام غور کریں کہ کس طرح شیعہ علماء نے اس قرآن کریم کے غلط ہونے کا جواز تلاش کرنے کوشش کی ہے کیوں کہ کچھ لوگوں نے ان کے مطابق ان کے معصوم امام علی کے قرآن کو جب انہوں نے دیکھا کہ اس کے اجزاء آیات یا تشریح ان کے خواہش کے مطابق نہیں ہے تو اسے مسترد کردیا تھا۔
یہ کتاب کس طرح جائز کہلائی جاسکتی ہے جب کہ ایک معصوم امام کی جمع شدہ کتاب سے مختلف ہے جس کو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر نگرانی میں جمع کیا تھا؟
میں ایک امانت دار شیعہ سے سوال کرتا ہوں، کیا تم لوگ ایسی قرآن کو پڑھتے وقت آسانی محسوس کرتے ہو جو ان لوگوں کا جمع کیا ہوا ہے، جس کو آپ کے علماء الزام دیتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے معصوم امام کا تیار کردہ قرآن اس کے اجزاء دیکھنے کے بعد مسترد کردیا تھا؟
شیخ علی الکورانی تدوین قرآن ص ۱۸۱ پر لکھتے ہیں کہ
فرفضوا اعتمادها لأنه كان فيها تفسير كل الآيات أو كثير منها لمصلحة علي برأيهم
انہوں نےاس نسخہ کو اپنانے سے انکار کردیا کیوں کہ اس میں سب اور اگر سب نہیں تو بہت سی آیات کی تشریح ان (یعنی صحابہ )کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں تھیں۔
شیخ جعفر المرتضی الاملی اپنی کتاب ماسات الازھرہ جلد ۱ ص ۳۶۶-۳۶۷ پر لکھتا ہے
أن القرآن قد جمع على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن الخليفتين الأول والثاني قد رفضا مصحف رسول الله صلى الله عليه وسلم لأنه كان يتضمن التنزيل والتأويل وأسباب النزول والتفسير . وغير ذلك مما كان من شأنه أن يحرج الكثيرين ممن لا يرضي الحكام بإحراجهم ولا بإشاعة حقائق ترتبط بهم . وجمعوا هم آيات القرآن في مصحف واحد بعد أن أسقطوا التفسير والتأويل وأسباب النزول منه كما هو معلوم
قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمع کیا گیا تھا لیکن پہلے دو خلفاء نے رسول اللہ کا قرآن لینے سے انکار کیا کیوں کہ اس میں اسباب نزول اور تشریح موجود تھی اور بہت سی چیزیں جو کہ بہت سے لوگوں کو متاثر کر سکتی تھیں لیکن خلفاء نے ان کو لینے سے انکار کیا اور سچ کو ظاہر ہونے نہیں دیا۔ اس کے بعد انہوں نے قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کیا اور تشریح و تاویل اور اسباب نزول کو اس سے خارج کردیا۔
عبداللہ علی احمد الدقاق کتاب حقیقت مصحف امام علی ص 304پر لکھتا ہے
بعض الروايات قد نصت على أن فضائح القوم كانت موجودة في المصحف العلوي فلذلك رفضته الخلافة
اور کچھ روایات یہ بھی بیان کرتی ہیں ان لوگوں کی رسوائی علوی قرآن میں موجود تھی اس لئے خلافت نے اس قرآن کو لینے سے انکار کیا۔
پھر ص 313 پر لکھتا ہے
فلما فتحه أبوبكر خرج في أول صفحة فتحها فضائح القوم فوثب عمر وقال : يا علي اردده فلا حاجة لنا فيه فنلاحظ أن الإعراض جاء كردة فعل على ما جاء في المصحف من فضائح فكان الإعراض منه لإخفائها
جب ابی بکر نے اس کو کھولاتو پہلے ہی صفحہ پر اس نے اپنی لئے رسوائی دیکھی۔ تب عمر بیچ میں آیا اور کہا کہ اے علی! یہ واپس لے جا ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔اس لئے ہم نے محسوس کیا کہ اس کو رد کرنا اصل میں ایک ردعمل تھا کیوں کہ اس کے اجزاء میں ان لوگوں کی رسوائی موجود تھی اس لئے انہوں نے اس کو مسترد کردیا تاکہ لوگوں سے چھپایا جا سکے۔

دوسرہ عقیدہ:
جس طرح آج مسلمان قرآن کریم کی قرآت کرتے ہیں ،یہ وہ طریقہ نہیں جس سے اللہ تعالی راضی ہوں ،بلکہ وہ اس سے مختلف ہے۔
اس کے ثبوت میں ان کی روایات اور ان کے علماء کے اقوال ہیں لیکن پہلے روایات پیش کرتے ہیں۔
روایات:
۱۔ محمد بن حسن الصفار روایت کرتے ہیں :
عن السالم بن أبي سلمة قال قرأ رجل على أبي عبد الله ع وأنا أسمع حروفا من القرآن ليس على ما يقرأها الناس فقال أبو عبد الله ع مه مه كف عن هذه القراءة إقرأ كما يقرأ الناس حتى يقوم القائم فإذا قام فقرأ كتاب الله على حده وأخرج المصحف الذي كتبه علي عليه السلام . ..
سلیم بن ابی سلمہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابو عبداللہ کے سامنے قرآن کے کچھ الفاظ پڑہے جو کہ اس سے مختلف ہے جو لوگ پڑہتے ہیں تب امام نے نے کہاکہ مہ مہ اس طرح پڑھنا روک دو۔اس کو اس طرح پڑھو جس طرح دوسرے لوگ پڑہتے ہیں یہاں تک القائم مھدی ظاہر ہو جائیں جو آئیں گے تو قرآن کریم کو صحیح پڑھیں گے اور اس قرآن کوظاہر کریں گے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا۔
بصائر الدرجات ص ۲۱۳
2۔ محمد بن یعقوب الکلینی روایت کرتے ہیں سلیم بن ابی سلمہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابو عبداللہ کے سامنے قرآن کے کچھ الفاظ پڑہے جو کہ اس سے مختلف ہے جو لوگ پڑہتے ہیں تب ابو عبداللہ نے کہا کہ اس طرح پڑھنا روک دو۔اس کو اس طرح پڑہو جس طرح دوسرے لوگ پڑہتے ہیں یہاں تک القائم مھدی ظاہر ہو جائیں جو آئیں گے تو قرآن کریم کو صحیح پڑہیں گے اور اس قرآن کوظاہر کریں گے جو کہ علی رضہ نے لکھا تھا
الکافی ۲ /۶۳۳

3 ۔ محمد بن ابراہیم النعمانی روایت کرتے ہیں
عن حبة العرني قال : قال أمير المؤمنين عليه السلام : كأني أنظر إلى شيعتنا بمسجد الكوفة قد ضربوا الفساطيط يعلمون الناس القرأن كما أنزل
حبة الارنی سے وہ کہتے ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کہا کہ میں اپنے شیعوں کو مسجد کوفہ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے خیمے لگاتے ہیں اور قرآن کو اس طرح پڑہتے ہیں جس طرح یہ نازل ہوا تھا
الغیبہ ص ۳۳۳

4 ۔ المفید کہتے ہیں:-
وروي جابر عن أبي جعفر عليه السلام أنه قال إذا قام قائم آل محمد صلى الله عليه وسلم ضرب فساطيط لمن يعلم الناس القرآن على ما أنزل جل جلاله فأصعب ما يكون على من حفظه اليوم لأنه يخالف فيه التأليف
جابر سے روایت ہے کہ ابوجعفر علیہ السلام نے نےکہا جب امام قائم ظاہر ہونگے تو وہ ان لوگوں کے لئے خیمہ ذنی کریں گے جو لوگوں کو قرآن اور اس کے مکمل احکام سکھائیں گے ۔ وہ دن ان لوگوں کے لئے سخت ہونگے جو قرآن کو پہلے سے یاد کئے ہونگے کیوں کہ یہ اس سے مختلف ہوگا جس طرح یہ جمع کیا گیا تھا ۔
الارشاد المفید ۲/386، بحارالانوار المجلسی 52/339، الانوار البھائیہ عباس القمی ص 384 ، روضة الواعظین النیساپوری ص 256 ، تفسیر نورالثقلین الحوزائی ۵/27

دوم :ان کے علماء کے بیانات:
اپنے دور کا شیعہ شیخ محمد حسن النجفی جواہر الکلام ۹/292 پر لکھتا ہے
لأنه صلوات الله عليهم كانوا راضين بقرأة القرآن على ما هو عند الناس وربما كانوا يمنعون من قراءة الحق ويقولون هي مخصوصة بزمان ظهور القائم
کیوں کہ انہوں نے لوگوں کی قرآت کو قبول کرلیا اور وہ لوگوں کو صحیح قرآت سے روک بھی سکتے تھے لیکن یہ القائم کے ظاہر ہونے تک روک دیا گیا ہے۔

شیعہ شیخ اور محقق آقا رضا الھمدانی مصباح الفقیہ ۲/۱/۲۷۶ پر لکھتا ہے
وكيف كان فلا شبهة في صحة كل من القراءات السبع في مقام تفزيغ الذمة عن التكليف بقراءة القرآن وإن لم يعلم بموافقة المقروء للقرآن المنزل على النبي صلى الله عليه وآله
اور دوسرا طریقہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم کو صحیح پڑہنے اور قرآت کے اصول کو پورہ کرنے کے لئے سات قرآت صحیح ہیں اگرچہ کوئی یہ تک نہیں جانتا ہو کہ وہ جو پڑھ رہا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قرآن کے خلاف ہے

فصام النكد ص 27
شیعہ عالم عبدالکریم الحائری کتاب الصلواۃ ص ۲۰۵ پر لکھتا ہے
والذي يمكن أن يقال صحة كل من قراءات السبع في مقام تفزيغ الذمة عن التكليف بقراءة القرآن وإن لم يعلم بموافقة المقروء للقرآن المنزل وإن علم عدمه كما هو مقتضى الأخبار الآمرة بقراءة القرآن كما يقرأ الناس
یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم کو صحیح پڑھنے اور قرآت کے اصولوں کو پورا کرنے کے لئے سات قرآت صحیح ہیں اگرچہ کوئی یہ تک نہیں جانتا ہو کہ وہ جو پڑھ رہا ہے وہ اس قرآن سے مطابقت نہیں رکھتا جس طرح وہ نازل ہوا ہے اور اگرچہ ہم یہ جانتے بھی ہوں تو بھی جیسے ہم نے روایات سے سیکھا ہے وہ ہمیں اس کا حکم دیتی ہیں کہ لوگوں کی طرح قرآت کریں۔

مشہور آیت اللہ محمد صادق الروحانی کتاب فقہ الصادق جلد 4 ص 423 پر لکھتا ہے
وأما النصوص فلأن الظاهر منها المنع من قراءة الزيادات المروية عنهم ولا تدل على ترجيح قراءة على أخرى نعم هي تدل على جواز القراءة بما يعلم مخالفته للقرآن المنزل

جہاں تک روایات کے متن کی بات ہے ان روایات میں تمام اضافہ شدہ قرآت جو ان روایات میں موجود ہیں اسکے پڑھنے سے صاف طور پر منع کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ دوسری قرآت پر پڑھنے میں ترجیح کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ہاں وہ اس قرآت کے پڑھنے کی اجازت دیتی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ اصل نازل شدہ قرآن کے خلاف ہیں۔

المجدد الشیرازی کتاب تقریرات آیت اللہ مجدد شیرازی جلد ۱ ص ۱۷۳ پر کہتا ہے
والذي دلت عليه الأخبار تقريرهم عليهم السلام تلاوة القراءات المختلفة والتخيير فيها بقولهم عليهم السلام اقرأ كما يقرأ الناس
یہ روایات ظاہر کرتی ہیں کہ وہ (یعنی ائمہ) مختلف قرآتوں کو قبول کرتے تھے اور ان کے درمیان کسی ایک کو چننے کی اجازت دیتے تھے اور فرماتے کہ انہیں اس طرح پڑھاکرو جیسا کہ لوگ پڑھتے ہیں۔

المحقق الخوانصاری کتاب جامع المدراک جلد ۱ ص ۳۳۴ پر لکھتا ہے
ولكن المستفاد من الأخبار جواز القراءة كما يقرأ الناس مثل خبر سالم بن أبي سلمة …
ہمیں ان روایات سے یہ فائدہ ملتا ہے کہ یہ لوگوں کی طرح پڑھنے کی اجازت فراہم کرتی ہیں جیسے سلیم بن ابی سلمہ کی روایت ہے۔
المجدد الوحید البھاھانی کتاب الفوائد الحیریہ ص ۲۸۶ پر فرماتے ہیں
والمشهور بيننا : جواز العمل بقراءة السبعة والدليل على ذلك تقرير الأئمة عليهم السلام بل الأمر بأنه (يقرأ كما يقرأ الناس إلى قيام القائم
ہمارے ہاں جو بات مشہور ہے وہ یہ ہے کہ سات مشہور قرآت پر قرآن پڑھنے کی اجازت ہے اور اس کے ثبوت یا یہ کہیں کہ امام کا حکم ہے کہ اسے لوگوں کی طرح پڑھو یہاں تک کہ القائم ظاہر ہوجائیں۔
الفاضل التونی کتاب الوفیہ ص 260 پرلکھتا ہے
فقد روي أيضا جواز العمل بهذا القرآن الموجود حتى يقوم قائم آل محمد عليه وعليهم أفضل الصلاة والسلام
القائم آل محمد کے ظاہر ہونے تک موجودہ قرآن پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
علامہ محمد باقر المجلسی کتاب بحار الانوار 82/65-66 پر کہتا ہے
ولا ريب في أنه يجوز لنا الآن أن نقرأ موافقا لقراءاتهم المشهورة كما دلت عليه الأخبار المستفيضة إلى أن يظهر القائم ويظهر لنا القرآن على حرف واحد وقراءة واحدة رزقنا الله تعالى إدرك ذلك الزمان
بے شک ہمیں امام قائم کے ظاہر ہونے تک اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ ہم موجودہ مشہور قرأت پر قرآن پڑھیں جیسا کہ لاتعداد روایات ظاہر کرتی ہیں۔ اور پھر القائم آکر وہ قرآن ظاہر کریں گے جو کہ ایک حرف اور ایک قرأت پر ہوگا اللہ تعالی ہمیں اس وقت تک زندہ رہنے کی توفیق دےـ
مشہور آیت اللہ ابو القاسم الخوئی البیان التفسیر القرآن ص 167 پر کہتا ہے
بل ورد عنهم عليهم السلام إمضاء هذه القراءات بقولهم اقرأ كما يقرأ الناس اقرؤ كما علمتم
یہ بات ائمہ سے ثابت شدہ ہے کہ یہ قرأت پڑھنے کی اجازت ہے یعنی اس طرح پڑھو جس طرح لوگ پڑھتے ہیں یا اس طرح پڑھو جس طرح تمہیں سکھایا جائےـ
مرزا محمد تقی الاصفحانی مکال المکارم جلد ۱ ص 197 پر لکھتا ہے
القائم عليه السلام حين يظهر لأهل الأرض يقرأ القرآن كما أنزل على خاتم النبيين صلى الله عليه وآله
القائم جب ظاہر ہونگے تو لوگ قرآن کریم کو اس طرح پڑھیں گے جس طرح وہ خاتم الانبیاء علیہ السلام پر نازل ہوا ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ پڑھنے والے خود غور کریں کہ یہ چھپے ہوئے عقائد جو کہ کسی کو اللہ تعالی کی کتاب سے دور کرتے ہیں ، یعنی یہ عقائد یہ باور کراتے ہیں کہ آج کوئی بھی قرآن کریم کو اس طرح نہیں پڑھ سکتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے۔وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری قرأت غلط ہے اور یہ اس کے بالکل بر عکس ہے جو اللہ تعالی نے نازل کیا تھا۔

دوسرے الفاظ میں تمام امت مسلمہ جو کہ مشرق و مغرب میں ہے، اس کی قرأت غلط ہے اور اس سے مطابقت نہیں رکھتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا تھا اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اماموں نے اپنے لوگوں کو کہا کہ قرآن کو اس طرح پڑھو جس طرح عام لوگ پڑھتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ قرأت غلط ہے۔
میں ایک امانت دار شیعہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا یہ عقائد آپ کو قرآن کریم پڑھنے سے نہیں روکتے؟ کیا یہ آپ کی اس خوشی اور حسرت کو برباد نہیں کرتے جو آپ اللہ تعالی کی عبادت کرتے وقت اللہ کے الفاظ پڑھتے وقت محسوس کرتے ہیں؟ ان علماء کا ارادہ یہ ہے کہ آپ کو خالص توحید کی کتاب سے دور کردیں آپ کو ایسی کتاب سے دور کریں جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا ان کی اولاد کی امامت کو پیش نہیں کرتی یہاں تک کہ مھدی ظاہر ہوجائیں اور آخر کار لوگوں کو اصلی چودہ سو سال پرانا قرآن پڑھنا سکھائیں ۔ آخر میں میں اس پڑھنے والوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ المفید کی روایات کو یاد کریں جو وہ امام سے منسوب کرتے ہیں کہ وہ کہتا ہو ” وہ دن ان لوگوں پر بہت سخت ہوگا جو پہلے سے قرآن کو یاد کئے ہونگے کیوں کہ یہ اس سے مختلف ہوگا جو کہ جمع کیا گیا تھا “یعنی یہ کہا جائے کہ کیوں قرآن کو یاد کرتے ہو کہ صحیح قرآن تو مھدی لائیں گے جو کہ اس سے مختلف ہوگا!
تیسرہ عقیدہ:
جو قرآن کریم علی رضہ نے جمع کیا تھا جس کو خلفاء نے رد کردیا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کی گئے آیات کی تشریح ، اور ہر آیت کا سبب نزول لکھا ہوا تھا ۔
مشہور آیت اللہ الخوئی کتاب البیان فی تفسیر القرآن ص ۲۲۳ میں لکھتا ہے
إن اشتمال قرآنه على زيادات ليست في القرآن الموجود وإن كان صحيحا إلا أنه لا دلالة في ذلك على أن هذه الزيادات كانت من القرآن وقد أسقطت منه بالتحريق بل الصحيح أن تلك الزيادات كانت تفسيرا بعنوان التأويل وما يؤول إليه الكلام أو بعنوان التنزيل من الله شرحا للمراد
جو اضافہ امیر المومنین علیہ السلام کے قرآن میں پایا جاتا ہیں وہ ہمارے قرآن میں نہیں ہیں اگرچہ یہ سچ ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہیں قرآن کریم سے خارج کردیا گیا تحریف کے زریعے ، جو بات صحیح ہے وہ یہ ہے کہ وہ اضافہ تشریح و تفسیر ہیں یا الفاظ کی معنی یا پھر اللہ تعالی جس طرح بتانا چاہتے ہوں
مشہور آیت اللہ ناصر مکارم الشیرازی کتاب الأمثل فی تفسیر کتاب اللہ المنزل جلد ۸ ص ۲۷-۲۸ پر فرماتے ہیں
وبنظرة فاحصة إلى تلك الروايات نصل إلى أن القرآن الذي كان عند علي عليه السلام لا يختلغ مع بقية النسخ من حيث المضمون سوي اختلافه من حيث العرض والترتيب في ثلاثة أمور :
الأول : أن آياته وسوره كانت مرتبة حسب تأريخ النزول
الثاني : تثبيت سبب النزول لكل آية وسورة
الثالث: تضمن تفسير النبي صلى الله عليه وآله وسلم للآيات بالإضافة إلى ذكر الناسخ والمنسوخ
ان روایات پر اگر صحیح طرح سے غور کیا جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قرآن اجزاء کے حساب سے دوسرے نسخوں سے مختلف نہیں ہے سواء ترتیب اور تین چیزوں کے۔ اول : اس کی آیات اور سورہ ایسی ترتیب میں تھیں جیسی کہ وہ نازل ہوئی ہیں ۔
دوئم: اس میں ہر آیت اور سورت کے اسباب نزول بتایا گیا تھا ۔
سوم: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آیات کی تشریحات موجود تھیں اور ساتھ میں ناسخ اور منسوخ آیات کا ذکر بھی موجود تھا ۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب آدم تحریف القرآن ص ۳۷ پر لکھتے ہیں
ويختلف عن القرآن الموجود في أن عليا قد أضاف في هوامش الآيات بعض الفوائد التي سمعها من النبي والمتعلقة بتلك الآيات ذكرها في الهوامش . . . غاية ما هناك أنه يختلف مع هذا القرآن الموجود في الترتيب وفي أن فيه إضافات أمير المؤمنين تتعلق بالآيات وقد سمعها من النبي فكتبها في هوامش تلك الآيات
یہ اس قرآن سے مختلف ہے کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس میں آیات کی تشریح اور کچھ فوائد موجود تھے جو کہ علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آیات کے بارے میں سنے تھے۔ اور ساتھ میں یہ اس قرآن کریم سے ترتیب میں بھی مختلف تھا اور اس میں اضافہ تھا جو کہ امیر المومنین علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آیات کے بارے میں سنے تھے، وہ انہوں نے اس میں تشریح کی صورت میں لکھ دئیے۔
شیعہ عالم میر محمدی زرندی اپنی کتاب بعوث فی تاریخ القرآن و علومہ ص ۱۲۷ میں فرماتے ہیں۔
وأما جمع على عليه السلام للقرآن فالمقصود : أنه كتبه عما كان عند النبي صلى الله عليه وآله وأضاف إليه التنزيل والتأويل كما في الرواية أي أنه أضاف إليه كل ما نزل من الله حول القرآن وإن لم يكن منه . . . وخلاصة القول : إنه لا منافاة بين القول بأنه جمع بيد باب علمه مع التفسير والتأويل وغيرهما من خصائص القرآن ودقائقه بعد وفاة النبي صلى الله عليه وآله . . . ولعل مصحف النبي صلى الله عليه وآله كان مع علي حينئذ يكتب عنه مضيفا التفسير والتأويل فلم يتمكن منه أبوبكر .
جہاں تک علی علیہ السلام کی قرآن جمع کرنے کی بات ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں اس کو ویسے لکھا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور اس میں تشریح اور اسباب نزول بھی لکھ دیئے جیسا کہ روایات سے ظاہر ہے۔ مطلب یہ کہ انہوں وہ ہر چیز لکھ دی جو کہ قرآن کریم کے بارے میں نازل ہوئی اگرچہ وہ قرآن میں شامل نہیں تھی ۔ نتیجہ کے طور پر اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن جمع کیا گیا تھا اور ان کی وفات کے بعد وہ احادیث جو کہ ان کے علم کے دروازے کے ہاتھ سے تشریح و تاویل کے طور پر لکھی گئی تھیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن اس وقت علی رضہ کے پاس ہو اور انہوں نے اس کی تشریح کے ساتھ نقل بنائی ہو جس کا ابو بکر کو پتا نہ ہو۔
اس کے علاوہ صفحہ ۱۵۲ پر کہتا ہے
فتلخص مما سبق أنه كان لبعض الصحابة مصاحف يقرأون فيها وهم. على بن أبي طالب عليه السلام كان له مصحف ألفه وأضاف إليه التأويل والتنزيل ولم يحرق في عصر عثمان وورثه الأئمة من أبنائه الطاهرين حتى انتهى إلى الإمام القائم من آل محمد عليهم السلام وهو يخرجه إلى الناس
گزشتہ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ صحابہ کے پاس قرآن کریم کے مصاحف تھے جس سے وہ پڑھتے تھے ۔ ان صحابہ میں حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام شامل ہیں جنھوں نے قرآن کریم کا ایک نسخہ جمع کیا اور اس میں تفسیر و تشریح لکھ دی اور وہ قرآن عثمان کے دور میں نہیں جلایا گیا۔ وہ قرآن ان کی اولاد میں سے ائمہ کرام کو ورثہ میں ملا یہاں تک کہ وہ امام القائم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور اب وہ لوگوں کے سامنے اسے ظاہر کریں گے۔
علامہ محسن الامین الاملی کتاب اعیان الشیعہ جلد ۱ ص ۸۹ میں کہتا ہے
قال المحقق السيد محسن ابن السيد حسن الأعرجي الكاظمي في كتابه عدة الرجال بعد نقل هذا عن المعالم : قلت كأنه إنما عد جمع القرآن المجيد في التصنيف لأنه أراد بالتصنيف مطلق التأليف أو لأنه عليه السلام لم يقتصر فيما جمع وجاءهم به على التنزيل بل ضم إليه البيان والتأويل فكان أعظم مصنف
المحقق السید محسن بن السید حسن الاعراج الکاظمی اپنی کتاب عدۃ الرجال میں معالم سے نقل کرکے کہتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کریم کے نسخے کو ایک تصنیف کے طور پر شمار کیا تھا کیوں کہ ان کا مقصد عام تصنیف تھا یا پھر انہوں نے صرف قرآن کریم کی آیات جمع نہیں کیں تھیں بلکہ انہوں نے ساتھ میں ان آیات کی وضاحت اور تشریح بھی لکھ دی تھی تاکہ یہ ایک عظیم نسخہ بن جائے۔
مشہور شیعہ آیت اللہ عبدالحسین شرف الدین الموسوی کتاب مراجعات ص 410-411 پر لکھتے ہیں
أما على وشيعته فقد تصدوا لذلك في العصر الأول وأول شيء دونه أمير المؤمنين كتاب الله عزوجل فإنه ع بعد فراغه من تجهيز النبي صلى الله عليه وآله وسلم آلى على نفسه أن لا يرتدي إلا للصلاة أن يجمع القرآن فجمعه مرتبا على حسب النزول وأشار إلى عامه وخاصه ومطلقه ومقيده ومحكمه ومتشابهه وناسخه ومنسوخه وعزائمه ورخصه وسننه وآدابه ونبه على أسباب النزول في آياته البينات وأوضح ما عساه يشكل من بعض الجهات . . . وقد عُنِي غير واحد من قراء الصحابة بجمع القرآن غير أنه لم يتسن لهم أن يجمعوه على تنزيله ولم يودعوه شيئا من الرموز التي سمعتها فإذن كان جمعه ع بالتفسير أشبه
جہاں تک حضرت علی اور ان کے شیعہ کی بات ہے وہ اسکے لئے پہلے ہی دور میں کھڑے ہوئے۔ پہلی چیز جو امیر المومنین علیہ السلام نے لکھی وہ اللہ تعالی کی کتاب تھی۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دفن سے فارخ ہوئے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک قرآن کریم جمع نہیں کرلیتے وہ سوائے نماز کے گھر سے نہیں نکلیں گے ۔ وہ قرآن کریم کو جمع کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے اس کو جمع کیا اور اس کی ترتیب اس طرح رکھی جس طرح وہ نازل ہوا ہے انہوں ہر خاص و عام، مطلق اور مقید، محکم اور متشابہہ، ناسخ اور منسوخ ، عزیمت اور رخصت، سنن اور آداب پر مشتمل آیت کو واضح کر دیا اور ان کا سبب نزول بھی بیان کردیا اور جہاں کوئی مسئلہ آسکتا تھا اس کی وضاحت کردی۔ اور ایک سے زیادہ صحابہ نے قرآن کریم کو جمع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ اس کو ترتیب نزول کے ساتھ جمع نہیں کر سکے اور نہ ہی اوپر بیان کی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز اس میں تھی اس لئے حضرت علی کا جمع کردہ قرآن ایک تفسیر کے بہت ہی قریب تھا۔

خاتم شیعہ محدیثین حسین النوری الطبرسی کتاب خاتمۃ مستدرک الوسائل جلد ۴ ص 113 پر لکھتے ہیں
أما ما جاء في لسان الرواية من قوله عليه السلام لا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ عقيب وصف كتاب على عليه السلام ب “الكتاب المكنون” فهو إما إشارة منه عليه السلام إلى المصحف الذي جمعه أمير المؤمنين عليه السلام بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وآله وعرف باسم : “مصحف علي” عند الجميع وبين فيه ناسخ القرآن ومنسوخه ومحكمه ومتشابهه وعامه وخاصه ومطلقه ومقيده وأسباب نزوله وما عساه يشكل من بعض جهاته
اور حضرت علی کے الفاظ روایت کے ذریعے سے بیان کئے گئےہیں “اس کو کوئی نہیں چھو سکتا سوائے پاک کے۔ القرآن (56/89) حضرت علی کے مصحف کو کتابِ مکنون یعنی اچھی طرح سے محفوظ کتاب۔ یا تو یہ اک طرح سے اشارہ تھا امیر المومنین کے نسخے کی طرف جو کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جمع کیا تھا جس کو ہر کوئی مصحف علی کے نام سے جانتا ہے جس میں انہوں نے ناسخ و منسوخ، محکم اور متشابہ ، عام اور خاص ، مطلق اور مقید آیات اور ان کے اسباب نزول وغیرہ کو واضح کر دیا تھا۔
علامہ جعفر السبحانی کتاب عقائدنا الفلسفیہ و القرآنیہ ص 120-121 پر فرماتے ہیں
أما أنه يقال إن عليا عليه السلام جمع القرآن بعد ارتحال النبي صلى الله عليه وسلم فهذا يعني أنه كتب القرآن طبقا لشأن النزول وقدم المنسوخ على الناسخ وهذا ما يقرره المجلسي في بحار الأنوار وصاحب كتاب تاريخ القرآن . . . من المُسَلَّم به أن قرآن الإمام عليه السلام كان مشتملاً على حواشي وتوضيحات عن كيفية النزول والناسخ والمنسوخ والمحكم والمتشابه
یہ جوحضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن جمع کیا تھا اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو اس طرح لکھا جس طرح وہ نازل کیا گیا تھا اور انہوں نے ناسخ سے پہلے منسوخ آیات کو جگہ دی جیسا کہ علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں اور جس طرح مصنف تاریخ القرآن نے کہا ہے ۔۔۔ اور مُسَلم بات یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا قرآن نزول کی کیفیات ، ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ آیات کے متعلق حواشی و توضیحات پر مشتمل تھا۔

شیخ علی الکورانی العاملی کتاب الف سوال واشکال جلد ۱ ص 256 پر لکھتے ہیں
أما بعد وفاته صلى الله عليه وآله وأحداث السقيفة وبيعة أبي بكر فقد جاءهم علي بنسخة القرآن بخط يده حسب أمر النبي صلى الله عليه وآله فرفضوا اعتمادها لأنه كان فيها برأيهم تفسير بعض الآيات أو كثير منها وهي لمصلحة علي والعترة عليهم السلام فأخذها علي عليه السلام وقال لهم لن تروها بعد اليوم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ کے واقعہ میں ابو بکر کی بیعت کی گئی ۔ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس رسول اللہ کے حکم کے مطابق اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن کریم کا ایک نسخہ لیکر آئے۔ انہوں نے اس نسخہ کو اپنانے سے انکار کردیا کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق اس میں کچھ یا پھر بہت سی آیات کی تفسیر حضرت علی اور ان کی اولاد علیہم السلام کے حق میں تھیں ۔سو حضرت علی علیہ السلام نے اسے اٹھایا اور ان سے کہا آج کے بعد تم اسے کبھی نہیں دیکھ سکو گے۔
شیخ حسن عبداللہ کتاب وقفہ مع الجزائری ص 24 پر لکھتے ہیں
كما أنهم ورثوا المصحف المذكور وهو الآن موجود عند الإمام الحجة المنتظر عجل الله تعالى فرجه الشريف . . . وأنهم الأعلم بتفسيره ومعرفة أحكامه ومعارفه حسب الواقع دون غيرهم وذلك لما عندهم من تفسير للقرآن الكريم حسب ما أخبر به الرسول صلى الله عليه وآله وسلم أمير المؤمنين عليه السلام وكتبه عنه وانتقل ذلك إليهم
ائمہ کرام نے مصحف کو وراثت میں پایا، جو کہ آج کل امام منتظر عجل اللہ فرجہ کے پاس ہے۔ ۔۔ اور وہ اس کی تفسیر ، احکام کی معرفت اور معارف اپنے مواقع کے حساب سے اوروں کی نسبت بہتر جانتے ہیں ۔ اور یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس قرآن کریم کی تفسیر ہے جو کہ اس کے مطابق ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو سکھایا، اور جس کو حضرت علی نے ان سے لکھا، اور ان ائمہ کرام تک پہنچایا۔
شیخ عبداللطیف البغدادی کتاب التحقیق فی الامامہ ص 235 پر لکھتا ہے
نعم وبقي ذلك القرآن في تفسيره الصحيح عند علي عليه السلام ومن بعده الحسن عليه السلام وهكذا صار من المواريث الخاصة بالأئمة الطاهرين وهو الآن عند إمام العصر والزمان مهدي آل محمد
ہاں وہ قرآن کریم اپنی صحیح تفسیر کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے پاس موجود تھا اور پھر امام الحسن کے پاس آیا اس لئے یہ پاک اماموں کی وراثت میں آیا اور اب یہ زمانے کے امام مہدی آل محمد ﷺ کے پاس ہے ۔
محترم قارئین اس خطرناک عقیدہ پر غور کریں کہ خلفاء نے اللہ کی کتاب کو اس صحیح تشریح سے الگ کردیا جو کہ آیات کی معنی اور اس کا سبب نزول سمجھنے کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے وحی کی گئی تھی ۔اور یہ بڑا جرم ہے جو کہ شیعہ علماء خلفاء کی طرف منسوب کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں مسلمان اللہ تعالی کی آیات کی تشریح کے متعلق تقسیم ہوجاتے ہیں اور اس کا مطللب یہ نکلتا ہے کہ اس وقت امت مسلمہ نے آیات کی معنی کے متعلق مستند وحی کا انکار کردیا تھا یا کرتے آرہے ہیں۔
سنیئے کہ ان کا مشہور آیت اللہ محمد حسین التھرانی کتاب نورالملکوت القرآن جلد ۴ ص 347 پر کہتا ہے
أما عدم وجود مصحف أمير المؤمنين عليه السلام في متناول اليد فمع أنه سيلحق ضررا من جهة عدم الاطلاع على التأويل والتفسير وعلى ترتيب النزول وتقدم الآيات والسور وتأخرها وهو أمر يؤدي في النتيجة على عدم الاطلاع على العلوم القرآنية ويصعب أمر اتساعها
یہ حقیقت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا قرآن ہمارے ہاں موجود نہیں ہے۔ اگرچہ ہمیں اس تناظر میں نقصان ہو رہا ہے کہ نہ تو ہم قرآن کریم کی آیات کا سبب نزول جان سکتے ہیں اور نہ ان کی تاویل و تشریح اور نہ ہی ان کے اجزاء اور آیات کی ترتیب جان سکتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم قرآنی علوم جاننے سے قاصر ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے سیکھنا اور اس کو عام کرنا مشکل ہے۔
عبداللہ علی الدقاق کتاب حقیقت مصحف الامام علی بیان الفریقین ص 285 پر لکھتا ہے
إذن المراد بالتنزيل تفسير وشرح آيات القرآن الكريم وبهذا المعني تتضح فداحة الخسارة الكبرى التبي حلت بنا بسبب رفض الخلافة لذلك المصحف مما أدى إلى تغييبه عنا
اس لئے تنزیل کی معنی ہیں قرآن کریم کی آیات کی تفسیر اور شرح۔ اس تناظر میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خلفاء کی جانب سے انکار جو ہم سے اس کے غائب ہونے کا سبب بنا ۔جس کی وجہ سے ہم کس عظیم چیز سے محرومی برداشت کر رہے ہیں۔
معتبر شیعہ مصنف صالح الوردانی کتاب الخدعہ، رحلتی من السنۃ الی الشیعہ ص ۱۹۷ پر لکھتا ہے
ولا شك أن تجريد المصحف من هذه التفسيرات من شأنه أن يزيد من غموض القرآن وصعوبة فهم نصوصه ويفتح بابا للخلاف حول تفسيره هذه النصوص مما يؤدي إلى الفرقة بين المسلمين وهو ما وقع
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تشریحات قرآن کریم سے خارج کرنے سے اس کو اور زیادہ مبھم کردیا اور اس کے ماخذ کو سمجھنا مشکل کردیا جس سے اس ماخذ کی تشریح پر جھگڑے کا دروازہ کھلا جو کہ مسلمانوں کے درمیاں تقسیم کا سبب بنا اور یہ ہوا ہے۔

غیر جانبدار شیعہ قارئین غور کریں کہ اس زہریلے عقیدے پر جو کہ قرآن کریم کو صرف خالی الفاظ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا ،ان کی قیاس آرائی کے مطابق جب سے خلفاء نے یہ سب سے حذف کردیا، تب سے نہ ہی ہم اس کی صحیح معنی و مفہوم سیکھنے کے قابل ہیں نہ ہی اس کے اصل مطلب تک پہنچتے ہیں ۔
کیا یہ غلیظ عقیدہ آپ کے دل میں قرآن کریم کی محبت اور اس کی معنی پر غور کرنے کا جذبہ پیدا کرسکتا ہے؟ یا پھر یہ جان کر کہ اہل بیت کے دشمنوں نے اس کی خوبصورتی اور کشش حذف کردی ہے، یہ آپ کو اس سے بھی زیادہ قرآن کریم سے الگ کردیتا ہے ؟
چوتھا عقیدہ
جو قرآن کریم خلفاء نے جمع کیا تھا، وہ ابواب اور آیات کے ترتیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قرآن سے مختلف تھا۔
یہ عقیدہ شیعہ علماء نے یا تو براہ راست یا پھر بظاہر اپنایا ہوا ہے یا یہ اسے بالواسطہ طور پر بیان کرتے ہیں
الف: ان شیعہ علماء کی مثال جو کہ اس کو کہلے عام قبول کرتے ہیں
شیعہ عالم علی الکورانی کتاب معجم الحدیث المھدی جلد ۳ ص ۱۲۶ باب مھدی کی طرف سے اسلام اور قرآن کی تجدید ” میں لکھتا ہے۔
الظاهر أنه يقصد عليه السلام أنهم يعلمونهم القرآن على حدوده كاملة وقد ورد أن القرآن الذي بخط علي ويتوارثه الأئمة عليهم السلام يتفاوت مع القرآن في ترتيب سوره وربما آياته
بظاہر حضرت علی کا مقصد یہ ہے کہ وہ انہیں قرآن کریم اپنے تمام حدودِ کاملہ کے ساتھ سکھائیں اور یہ روایت کیا گیا ہےکہ جو حضرت علی کے ہاتھ کا لکھا قرآن تھا اور جو کہ ائمہ علیہم السلام کو وراثت میں ملا ،وہ آیات اور اجزاء کی ترتیب میں مختلف تھا۔
اس کے علاہ کتاب عصر الظہور ص 88-89 پر لکھتے ہیں
وقد يكون المقصود بالكتاب الجديد القرآن الجديد بترتيب سوره وآياته فقد ورد أن نسخته محفوظة للمهدي عليه السلام مع مواريث النبي صلى الله عليه وآله والأنبياء عليهم السلام وأنه لا يختلف عن القرآن الذي في أيدينا حتى في زيادة حرف أو نقصانه ولكنه يختلف في ترتيب السور والآيات وأنه بإملاء رسول الله صلى الله عليه وآله وخط علي عليه السلام.
شاید نئی کتاب سے مراد یا سورتوں اور آیات کی ترتیب ساتھ ایک نیا قرآن ہے کیونکہ مروی ہے کہ مھدی علیہ السلام کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کے ساتھ ساتھ ایک محفوظ نسخہ بھی ہے اور یہ ہمارے آج کل کے قرآن سے مختلف نہین ہے یا اس میں کوئی بھی لفظ اضافی یا حذف شدہ نہیں ہے۔ بس یہ صرف آیات اور اجزاء کی ترتیب کے حساب سے مختلف ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے املاء کرائی تھیں اور حضرت علی نے لکھیں تھیں۔
آیت اللہ شیخ ابو طالب التجلیل التبریزی کتاب تنزیۃ الاثنی عشریہ عن الشبہات الواہیہ جلد ۲ ص 526 پر لکھتا ہے
أقول : . . .أما القرآن الكريم فلا يكون جديداً إلا في ترتيب سوره أو تفسير آياتها
میں کہتا ہوں ۔۔۔ جہاں تک قرآن کریم کی بات ہے تو یہ صرف آیات و اجزاء کی ترتیب اور تشریح کے حساب سے نیا ہوگا۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب عدم تحریف القرآن ص 38 پر کہتا ہے
ويختلف عن القرآن الموجود في أن عليا قد أضاف في هوامش الآيات بعض الفوائد التي سمعها من النبي والمتعلقة بتلك الآيات ذكرها في الهوامش . . . غاية ما هناك أنه يختلف مع هذا القرآن الموجود في الترتيب وفي أن فيه إضافات أمير المؤمنين تتعلق بالآيات وقد سمعها من النبي فكتبها في هوامش تلك الآيات
اور ساتھ میں یہ اس قرآن کریم سے ترتیب میں بھی مختلف تھا اور اس میں اضافہ تھا جو کہ امیر المومنین علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان آیات کے بارے میں سنے تھے، وہ انہوں نے اس میں حاشیوں کی صورت میں لکھ دئیے۔
ب: جنھوں نے عمل کر کےاس عقیدہ کو قبول کیا
وہ اسے یہ کہتے ہوئے قبول کر تے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اسے ترتیب نزول کے حساب سےلکھا تھا اور انہوں نے ناسخ آیات منسوخ سے پہلے لکھی تھیں سو اس کو یقناَ ہمارے موجودہ قرآن کریم سے دیکھنے میں اور سمجھنے میں مختلف ہونا چاہئے۔

ہم کچھ مثال دے دیتے ہیں۔
المفید جو کہ اپنے زمانے میں شیعوں کا رہنما تھا کتاب المسائل السروریہ ص 79 پر لکھتا ہے
وقد جمع أمير المؤمنين عليه السلام القرآن المنزل من أوله إلى آخره وألفه بحسب ما وجب من تأليفه فقدم المكي على المدني والمنسوخ على الناسخ
اور امیر المومنین علیہ السلام نے نازل شدہ قرآن کریم کو اول سے آخر تک جمع کیا تھا اور اسے اس طرح مرتب کیا جس طرح اسے کرنا چاہئے۔ انہوں نے مکی سورتوں کو مدنی سورتوں سے پہلے رکھا اور منسوخ آیات کو ناسخ آیات سے پہلے رکھا۔
علامہ محمد حسین طباطبائی کتاب القرآن فی الاسلام ص 137 پر لکھتے ہیں۔
والإمام أمير المؤمنين عليه السلام بالرغم من أنه كان أول من جمع القرآن على ترتيب النزول
اور امام امیر المومنین اگرچہ وہ پہلےفرد تھے جنھوں نے قرآن کریم جمع کیا اور اس کو ترتیب نزول کے حساب سے مرتب کیا۔

مشہور آیت اللہ عبدالحسین شرف الدین الموسوی کتاب المراجعات ص 411 پر لکھتے ہیں
أما علي وشيعته فقد تصدوا لذلك في العصر الأول وأول شيء دونه أمير المؤمنين كتاب الله عز و جل فإنه بعد فراغه من تجهيز النبي صلى الله عليه وآله وسلم آلى على نفسه أن لا يرتدي إلا للصلاة أن يجمع القرآن فجمعه مرتبا على حسب النزول
جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دفن سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ جب تک قرآن کریم جمع نہیں کرلیتے، وہ سوائےنماز کے گھر سے نہیں نکلیں گے ۔ اور انہوں نے اس کو جمع کیا اور اس کی ترتیب نزول کے مطابق رکھی۔
آیت اللہ محمد الحسین التھرانی کتاب انوار الملکوت جلد ۴ ص 344 پر لکھتا ہے
ومن خصائص هذا المصحف مضافا إلى ترتيب السور والآيات حسب ترتيب نزولها
اس قرآن کریم کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی اجزاء و آیات کی ترتیب اس کی تاریخ نزول کے حساب سے ہے۔
اور ہر کوئی جانتا ہے کہ اجزاء میں سے آیات کی ترتیب کو تبدیل کرنے سے اور مکی آیات کو مدنی سے پہلے رکھنے اور ناسخ کو منسوخ سے پہلے رکھنے سے ،ان سب آیات کا سیاق و سباق تبدیل ہوجائے گا کیوں کہ سیاق و سباق ہی کسی آیت کی تشریح کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب آیات التطہیر ص 23 پر لکھتا ہے
علم اصول کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیاق و سباق ثبوت ہے مطلب کہ ہم جب کچھ الفاظ یا لفظ کی معنی جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے آگے پیچھے کیا ہے اور یہ کس سیاق و سباق میں پایا جاتا ہے کیونکہ الفاظ جو کہ اس کے آگے پیچھے ہوتے ہیں اور یہ جملہ کس سیاق و سباق پر مشتمل ہے یہ ہمیں اس لفظ یا جملہ کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں ایسا ہی کچھ ہے جو کہ وہ علم اصول میں بیان کرتے ہیں اور یہ صحیح ہے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔
ان کے علماء کے کچھ الفاظ جو کہ اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں علامہ محمد ہادی معرفہ کتاب صیانۃ القرآن من التحریف ص 230 پر کہتے ہیں
والأحاديث بهذا النمط غير قليل وهي إنما تدل على اختلاف ما بين مصحفه عليه السلام والمصحف الحاضر أما أن هذا الاختلاف يعود في نصه أم في نظمه أم في أمر آخر فهذا مما لا تصريح به في تلكم الأحاديث سوى الحديث الأول الذي نوهنا عنه فإنه صريح في وجه الاختلاف وأنه ليس في سوى النظم والتأليف لا شيء سواه فهو خير شاهد على تبيين وجه الختلاف المنوه عنه في سائر الروايات وهذا في مصطلح الأصوليين من الحكومة الكاشفة لمواضع الإبهام في سائر كلام المتكلم الحكيم. على أن نفس الاختلاف في نظم الكلام يكفي وحده سببا لصعوبة التلاوة ولصعوبة فهم المراد من الكلام لأن قوام المعني بذاته رهن النظم القائم بين أجزاء الكلام فلو غُيِّرَ غيَّرَ المعني لا محالة كما أن وضع جمل الكلام الواحد في مواضعها حسب إرادة المتكلم ونطفة خير معين على فهم مراده حيث القرائن الحافة بالكلام إنما تصلح قرائن إذا وضعت حسب وضع المتكلم دون إذا غَيِّرَت عن مواضعها الأولى سواء عن عمد أو عن اشتباه
اس مسئلہ کو بیان کرنےوالی روایات کم نہیں ہیں اور وہ ہمیں بتاتی ہیں حضرت علی علیہ السلام کے قرآن کریم اور ہمارے قرآن کریم میں فرق ہے۔ کیا یہ فرق متن میں ہے یا ترتیب میں یا پھر کچھ اور فرق بھی ہے؟ یہی چیز ہے جو کہ یہ روایات نہیں بتاتیں سوائے پہلی حدیث کے جس کو ہم نے بیان کیا، یہ واضح کرتی ہے کہ کیا فرق ہے یعنی صرف ترتیب میں فرق ہے اور کس طرح مرتب ہوا، اس میں فرق ہے۔ صرف اکیلے متن میں ہی فرق قرآت میں مشکل کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ معنی کو سمجھنے میں مشکل کرتا ہے کیوں کہ معنی کو سمجھنا متن کے ترتیب میں ہونے سے منسلک ہے۔ اگر اس کو تبدیل کردیا جائے تو یقیناَ معنی بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بولنے والے کی مرضی کے مطابق جملے کو رکھنا اس کی اصل معنی سمجھنے میں آسانی کردیتا ہے کیوں کہ بولنے والے کے ارد گراف کا سیاق و سباق صرف اشارہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے اگر اس کو اس طرح رکھا جائے جیسے بولنے والا چاہتا ہے نہیں تو اسی صورت میں یہ جان بوجھ کر یا غلطی سے تبدیل کیا جاتا ہے۔ (ترجمہ میں تصحیح ضروری ہے)
اس عقیدہ کا مطلب ہے کہ خلفاء نے لوگوں سے سچ چھپانے اور ان کو گمراہ کرنے کے واسطے قرآن کریم کی آیات اور اجزاء کی ترتیب اپنی خواہش کے مطابق تبدیل کردی دوسرے الفاظ میں موجودہ قرآن کریم میں آیات کے مقامات میں تبدیلی کر کے تحریف کی گئی ہے جو کہ لوگوں کو اللہ تعالی جو چاہتا ہے اس سے مختلف مفہوم بتاتی ہے۔ہم اس کی کچھ مثال دیتے ہیں شیعہ علماء کی جانب سے۔
مشہور آیت اللہ عبدالحسین شرف الدین الموسوی مصنف کتاب المراجعات ص 63 دین کی تکمیل کی آیت کے بارے میں لکھتا ہے
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإسْلامَ دِينًا) نزلت بشأن الإمامة بعد نصب النبي صلى الله عليه وسلم لعليا خليفة للمسلمين وهو ما يأباه السياق إذ لم يرد في سياق الآيات أي إشارة إلى موضوع الإمامة كي يحملوها عليه فكان المخرج لهم بذلك الحمل هو اتهام الخلفاء بتحريفهم للقرآن عن طريق وضع الآية في غير موضعها كي يخفوا دلالتها على الإمامة فيقول ولماذا لا يجوز أن يكون قوله تعالى (الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ) إلى قوله (وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإسْلامَ دِينًا) آية مستقلة بنفسها لا ربط لها بغيرها نزلت على حدة يوم الغدير ثم أقحمها الناس على عهد عثمان وزجوها في وسط تلك الآية الكريمة لغرض لهم أو لجهل بهم أو لغير ذلك
آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (سورۃ مائدۃ ، آیت 3) یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے بارے میں نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امت پر خلیفہ نامزد کیا لیکن آیت کا سیاق و سباق اس تشریح کو رد کرتا ہے، کیونکہ سیاق میں امامت کے موضوع کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا ۔پس اس لئے انہوں نے خلفاء کو مورد الزام ٹھرایا کہ انھوں نے اس آیت کا مقام تبدیل کردیا تاکہ امامت پر اسکی دلالت کو چھپایا جائے- یہ کیوں جائز نہیں کہ یہ آیت یہاں سے شروع ہو کر الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ (ترجمہ صحیح کرنے کی ضرورت ہے) یہاں تک وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإسْلامَ دِينًا (تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا) ایک مستقل آیت ہو، جس کا کسی اور آیت سے کوئی ربط نہ ہو۔ یہ آیت اکیلی غدیر کے دن نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں اس کو اس مبارک آیت کے بیچ میں ڈال دیا اور اس کی وجہ ان کی کچھ غرض تھی یا پھر ان کی جہالت تھی یا پھر اس کے علاوہ کچھ اور۔
علامہ باقر مجلسی بھی آیت تطہیر کے متعلق اسی طرح کا دعوی رکھتے ہیں ۔
اے پیغمبر کے اہل بیت ! خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کا میل کچیل دور کردے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے۔ سورہ الاحزاب آیت ۳۳
کیوں کہ اس آیت کا مکمل سیاق و سباق اس کے عقیدےکے مطابق یہ آیت ولی اور اس کی اولاد کے لئے نازل ہوئی ہے، اس کے خلاف ہے۔ اس لئے بحار الانوار جلد 35 ص 234 پر لکھتا ہے
لعل آية التطهير وضعوها في موضع زعموا أنها تناسبه أو أدخلوها في سياق مخاطبة الزوجات لبعض مصالحهم الدنيوية
ہو سکتا ہے کہ آیت تطہیر اس جگہ پر ڈالی گئی ہو جہاں پر یہ کہتے ہیں کہ مناسب ہے یا پھر انھوں نے اس کو ان آیات کے بیچ ڈال دیا جو کہ ازواج کو خطاب کرتی ہیں۔
آیت اللہ علی المیلانی کتاب محاضرات فی الاعتقادات جلد 2 590-591 پر لکھتا ہے
إن للتحريف معاني عديدة : التحريف بالترتيب : هناك معني للتحريف لا خلاف بين المسلمين في وقوعه في القرآن الكريم يتفق الكل على أن القرآن الموجود ليس تدوينه بحسب ما نزل يختلف وضع الموجود عن تنزيله وترتيبه في النزول وهذا ما ينص عليه علماء القرآن في كتبهم فراجعوا إن شئتم كتاب الإتقان لجلال الدين السيوطي ترونه بذكر أسامي السور سور القرآن الكريم بحسب نزولها . وأي غرض كان عندهم من هذا الذي فعلوا ؟ لماذا فعلوا هكذا؟ هذا بحث يجب أن يطرح فقد قلت لكم إن المجلس الواحد لا يكفي . ترتيب السور و ترتيب الآيات يختلف عما نزل عليه القرآن الكريم ترون آية المودة مثلا وضعت في غير موضعها آية التطهير وضعت في غير موضعها ترون آية (أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ) وضعت في غير موضعها سورة المائدة التي هي بإجماع الفريقين آخر ما نزل من القرآن الكريم ترونها ليست في آخر القرآن بل في أوائل القرآن ما الغرض من هذا؟ فهذا نوع من التحريف لا ريب في وقوعه وقد اتفق الكل على وقوعه في القرآن
تحریف کے بہت سے معنی ہیں تحریف بالترتیب : یعنی ترتیب میں تبدیلی۔ مسلمانوں میں اس بات پر اختلاف نہیں قرآن کریم میں اس طرح کی تبدیلی ہوئی ہے۔ ہر کوئی اس سے متفق ہے کہ موجودہ قرآن کریم اس طرح نہیں لکھا گیا جس طرح نازل ہوا تھا ۔ یہ نزول اور ترتیب کے حساب سے مختلف ہے ۔ یہی وہ بات ہے جس کو قرآن کریم کے علماء نے اپنی کتب میں بیان کیا ہے دیکھئے علامہ سیوطی کی کتاب الاتقان۔ آپ دیکھیں گے کہ انہوں نے اجزاء کے نام بتائے ہیں جو کہ وحی کے مطابق ہیں ،تو انہوں نے یہ کیوں کیا ؟ ان کا کیا مقصد تھا ؟ میں نے آپ کو بتایا کہ ایک تقریر اس کے لئے کافی نہیں ہے۔ آیات و اجزاء کی ترتیب ان کے نزول سے مختلف ہے ۔ آیت المودۃ کی ہی مثال لے لیں (42:23) یہ اپنے اصل مقام سے ہٹا کر دوسرے مقام پر ڈالی گئی ہے ۔ آیت التطہیر (33:33) بھی اپنے اصل مقام سے ہٹا کر دوسرے مقام پر ڈالی گئی ہے۔ سورۃ المائدہ مسلمانوں کے اجماع کے مطابق سب سے آخر میں نازل ہوئی تھی ۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آخر میں موجود نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے شروع میں موجود ہے۔ اس کا کیا مقصد ہے ؟ یہ بھی تحریف کی ایک قسم ہے اور بے شک یہ ہوا ہے۔
شیعہ کے اس عقیدہ کا خطرہ ظاہر کرنا مسلمانوں کے تمام ذہن اور عقائد کے لئے ضروری ہے۔ وہ خلفاء راشدین پر قرآن کریم کی آیات کےمقامات تبدیل کرنے اور انکےسیاق و سباق تبدیل کرنے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ ان آیات کے اصل معنی کو چھپا سکیں جو کہ ان کی قیاس کے مطابق حضرت علی کی امامت اور معصومیت ثابت کرتی ہیں !!! یہ عقیدہ بھی اس طرح خطرناک ہے جس طرح شیعہ کے کچھ عالم کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں حذف کی صورت میں تحریف کی گئی تھی کیوں کہ اس کا نتیجہ بالکل ہی ایک جیسا ہے کہ خخلفاء راشدین نے قرآن کریم میں تحریف کی تاکہ مسلمانوں سے امامت کا سچ چھپا سکیں۔ دونوں صورتوں میں سچ کو چھپانے کے لئے قرآن کریم میں ہیرا پھیری اور تبدیلی کا الزام لگایا گیا۔ بس صرف اس کے بیان کرنے کے طریقہ میں فرق ہے ، تو وہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔؟
میں اب امانت دار شیعہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں۔ کیا آپ کی روح آرام محسوس کرتی ہے جب آپ قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے اس میں برائی کے اماموں نے ہیرا پھیری ، تحریف اور تبدیلی کردی ہے؟ کیا آپ آرام محسوس کرتے ہیں کہ یہ جانتے ہوئے کہ جو آپ کے ہاتھوں کے بیچ ہے اللہ تعالی اس سے راضی نہیں ہو نے والا؟
اللہ تعالی کے اس ارشاد کے متعلق کیا خیال ہے ۔
بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔ سورہ الحجر آیت 9
شیعہ علماء کے اقوال کے مطابق اللہ تعالی نے اس کو کتنی حد تک محفوظ رکھا ہے ؟ کہ جب تاولیات و تشریحات مٹا دی گئیں اور پڑھنے اور قرآت کرنے کے طریقے بھی غلط ہیں اور آیات کو الٹ پلٹ کر ملا دیا گیا اور ان کی معنی تبدیل کیے گئے اور سب سے اہم شیعہ عقیدہ کا ستون امامت اور ائمہ کی معصومیت کو چھپا دیا گیا؟
پانچواں عقیدہ
جو قرآن کریم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا، وہ آج کی دنیا میں موجود قرآن کے مقابلے میں تدوین میں معجزانہ طور پر تمام مسائل میں کمال اور درستگی کے رکھتا تھا۔
علامہ محمد ہادی معرفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حالات و واقعات کو بیان کرتے وقت کتاب تلخیص التھمید ص 152 پر عنوان مصحف علی کے بیان میں لکھتا ہے :
امتاز مصحفه عليه السلام :
الف ۔ بترتيبه الموضوعي على ترتيب النزول الأول فالأول في دقة فائقة
ب. إثبات نصوص الكتاب كما هي من غير تحوير أو تغيير أو أن تشذ منه كلمة أو آية
ج. إثبات قراءته كما قرأه رسول الله صلى الله عليه وآله حرفا بحرف
د. اشتماله على توضيحات – على الهامش طبعا – وبيان المناسبة التي استدعت نزول الآية والمكان الذي نزلت فيه والساعة التي نزلت فيها والأشخاص الذين نزلت فيهم
ھ. اشتماله على الجوانب العامة من الآيات بحيث لا تخص زمانا ولا مكانا ولا شخصا خاصا فهي تجري كما تجري الشمس والقمر وهذا هو المقصود من التأويل في قوله عليه السلام : ولقد جئتهم بالكتاب مشتملا على التنزيل والتأويل.
فالتنزيل هي المناسبة الوقتية التي استدعت النزول والتأويل هي بيان المجري العام.
كان مصحف علي عليه السلام مشتملا على كل هذه الدقائق التي أخذها عن رسول الله صلى الله عليه وآله من غير أن ينسى منها شيئا أو يشتبه عليه شيء
ائمہ کرام کا قرآن ان وجوہات میں ممتاز تھا:
الف: موضوعی ترتیب نزول کی ترتیب کے حساب سے ہونا
ب: نصوصِ کتاب کا اثبات بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کےہونا
ث: اس کی قرآت کا اثبات حرف بحرف رسول اللہ ﷺ کی قرات کے موافق ہونا
ج: اس کا توضیحات پر مشتمل ہونا اور اس کی مناسبت کا بیان نزیل کے مطابق اور جگہ کے مطابق جہاں یہ نازل ہوئی، اور جس وقت یہ نازل ہوا، اور جن لوگوں کے بارے میں یہ نازل ہوئی۔
د: اس میں آیات کے عام پہلو موجود تھے جو کہ کسی آدمی ، وقت یا جگہ کے لئے مخصوص نہیں تھے۔ یہ سورج اور چاند کی طرح بہتا چلتا تھا ۔ اور امام کے کلام میں تاویل سے مراد یہی چیز ہے۔” میں ان کے پاس ایک کتاب لے کر آیا جو کہ تنزیل اور تاویل پر مشتمل تھی۔
تو تنزیل اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے آیات نازل ہوئیں اور تاویل آیت کے عام پہلو کو واضح کرتی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نسخے میں یہ سب باریکیاں وضاحت سے موجود تھیں جو کہ انہوں نے کسی قسم کی بھول چوک یا الجھن کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھیں تھیں ۔
وہ صفحہ نمبر 148-149 پر لکھتے ہیں
أول من تصدى لجمع القرآن بعد وفاة النبي صلى الله عليه وآله مباشرة وبوصية منه هو علي بن أبي طالب عليه السلام قعد في بيته مشتغلا بجمع القرآن وترتيبه على ما نزل مع شروح وتفاسير لمواضع مبهمة من الآيات وبيان أسباب النزول ومواقع النزول بتفصيل حتى أكمله على هذا النمط البديع
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے بعد ان کے حکم سے سب سے پہلے جو قرآن کریم کو جمع کرنے کے لئے اٹھے وہ حضرت علی بن ابی طالب تھے جو کہ اپنے گھر میں قرآن کریم کو نزول کے مطابق ترتیب دینے ساتھ تاویل و تشریح ،آیات کے مبہم حصوں اور ان کے اسباب نزول اور ان کے نازل ہونے کی جگہ کو وضاحت سے جمع کرنے میں مصروف تھے یہاں تک کہ انھوں نے اس کو شاندار انداز میں ختم کیا۔
اور وہ صیانۃ القرآن ص 229 پر کہتے ہیں
وقد ذكرنا في مصحف علي عليه السلام أنه كان على أتم تأليف وفق ما أنزل الله الأول فالأول لم يشذ عنه شيء من ذلك وقد ورثه الأئمة يدا بيد حتى يظهره الله على يد وليه صاحب الأمر عجل الله فرجه الشريف
کیوں کہ امام امیر المومنین علیہ السلام کا نسخہ بغیر کسی تبدیلی کے بالکل اسی ترتیب کے مطابق جمع کیا گیا تھا جس طرح اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ انہوں نے اس کی کسی بھی چیز کو پیچھے نہیں چھوڑا۔ اور ان سے ائمہ کو وراثت میں ملا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ولی صاحب الامر عجل اللہ فرجہ کے ہاتھ پر ظاہرفرمائے گا۔
شیعہ عالم علی الکورانی العاملی کتاب تدوین القرآن ص 254-255 پر کہتا ہے
أما نحن الشيعة فنعتقد بأن ذلك حدث وأن نبينا صلى الله عليه وآله قد ورث علومه ونسخة القرآن المؤلفة تأليفا يؤثر تاثيرا معجزا في المادة والروح ويظهر بها إعجاز القرآن وتأويله إلى علي والحسن والحسين . . . إلى أن وصلت إلى يد خاتمة الأوصياء الموعود على لسان خاتم الأنبياء الإمام المهدي أرواحنا فداه ونور نواظرنا بطلعته المباركة . وماذا نصنع إذا كانت النصوص في مصادرنا تصرح بذلك
جہاں تک ہم شیعوں کی بات ہے ، ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ وقوع پذیر ہوا تھا اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا علم اور قرآن کریم کا نسخہ وراثت کے طور پر حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین کو دیا تھا ، جو کہ اس معجزانہ طریقے سے مرتب کیا گیا تھا جو روح اور جسم کو چھو جاتا ہے اور قرآن کریم کی معجزانہ طاقت اور تشریح کو ظاہر کرتا ہے ۔۔۔ یہاں تک یہ خاتم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کے مطابق خاتم الائمہ کے امام المھدی کے پاس پہنچا۔ اور ہم کر ہی کیا سکتے ہیں جبکہ ہمارے مصادر یہی بتا تے ہیں ۔
یہاں پر مسلمانوں کے قرآن پر خفیہ حملے کو غور سے دیکھیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قرآن کمال و درستگی اور روح تک پہنچنے کی معجزانہ صلاحیت کے ساتھ ہمارے قرآن کریم سے مختلف تھا ۔ اس کو بیان کرنے میں کس طرح مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے کہ یہ کتنا یکتا و عظیم تھا اور کس طرح ، بغیر کسی تبدیلی و ترمیم کے اس کا لفظ لفظ اس طریقے سے لکھا گیا ہے جو کہ اللہ تعالی کو راضی کرتا ہے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سب چیزیں ہمارے آج کے موجودہ قرآن کریم میں موجود ہیں؟ کیا یہ وضاحتیں ہمارے آج کے قرآن کے لئے بھی ہیں ؟ اگر اس کا جواب ہاں ہے تو پھر کس طرح آپ ان کو خصوصیات کی طور پر ذکر کرتے ہیں جو کہ دوسرے قرآن سے مختلف ہیں اور اس کی انفرادیت ظاہر کرتی ہیں۔ محترم قارئین ان شیعہ علماء نے اللہ تعالی کی کتاب کی اہمیت کم کرنے کے لئے یہی زہریلی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہیں ۔
آخر میں ابو محمد الخاقانی کتاب مع الخطوط العریضہ لمحب الدین الخطیب ص 51 پر فرماتے ہیں
وعلى هذا الأساس لم يشترك في تصحيح قرآن عثمان ما دام عنده القرآن المصحح والمجموع على ما أنزل على النبي صلى الله عليه وآله وسلم ووجود قرآن علي لا يحط من قيمة القرآن الذي هو أحسن ما يمكن جمعه بعد قرآن علي عليه السلام ووجود الأحسن لا يرفع قيمة الحسن
اور اسی بنیاد پر حضرت علی نے حضرت عثمان کی طرف سے قرآن کریم کو درست کرنے میں حصہ نہیں لیا کیونکہ حضرت علی نے قرآن کریم کو درست طریق سے جمع کیا تھا جیسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا ، اور علی علیہ السلام کے قرآن کی وجہ سے اس قرآن کریم کی حیثیت کم نہیں ہوتی کیونکہ کہ علی رضی اللہ عنہ کے قرآن کی موجودگی کی وجہ سے اس قرآن کی قدرو قیمت میں کچھ کمی نہیں آتی جو کہ تدوین کے حساب سےحضرت علی کے قرآن کے بعد سب سے بہتر ہے۔ اور بہترین کے وجود سے اچھے کی حیثیت میں کمی نہیں ہوتی۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ بالواسطہ دوہرے طریقوں سے مسلسل ہمارے قرآن کریم پر حملے کرتے رہےہیں۔ اگرچہ مصنف آخر میں محتاط تھا اور وہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ تب اس نے کہا کہ اگرچہ ہمارا قرآن کریم اچھا ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مکمل قرآن کریم سے مطابقت نہیں رکھتا جس کو اس نے بہتر کہہ کر پکارا،اور حضرت علی کے قرآن کوبہترین قرار دیا۔
وہ مسلسل آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کتنا خوبصورت اور منفرد تھا جب کہ بالواسطہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ ان معجزانہ خصوصیات میں سے ایک بھی ہمارے قرآن کریم میں موجود نہیں ہے۔ ہم معتدل شیعوں سے پوچھتے ہیں، کیا آپ کے دل اس قرآن کریم کی طرف مڑ سکتے ہیں؟ یا اس قرآن کریم کی جانب جو کہ مھدی کے پاس ہے جس میں وہ سب منفرد معجزانہ خصوصیات موجود ہیں؟
چھٹا عقیدہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قرآن جو کہ چھپے ہوئے بارہویں امام ظاہر کریں گے وہ ایک بالکل نیا قرآن ہے جو کہ اس سے مختلف ہے جو آج کل مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا سبب اس کی معجزانہ طاقت اور مختلف تشریح اور اس کی تدوین میں درستگی ہے ۔
جب کہ حضرت علی کے قرآن میں وہ سب منفرد پہلو موجود تھے جو کہ لوگوں کی دلوں کو چھو جانے کا سبب ہیں ۔ قرآن کریم کی حقیقی معجزانہ طاقت ظاہر کرتے ہیں ، اور جو اللہ تعالی چاہتا ہے، اسی مناسبت سے سمجھا جائے وغیرہ ۔ تب انہوں نے اپنی روایات میں اس کو نیا قرآن کہنا شروع کردیا جیسا کہ محمد بن ابراہیم النعمانی کی حدیث ہے
عن أبي بصير قال : قال أبو جعفر عليه السلام : يقول القائم بأمر جديد وكتاب جديد وقضاء جديد على العرب شديد ليس شأنه إلا السيف ولا يستتيب أحدا ولا تأخذه في الله لومة لائم
ابو بصیر ، ابو جعفر سےروایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا القائم ایک نئی شریعت ، نئے قرآن ، اور نئے ارادے سے ظاہر ہونگے جو کہ عربوں پر سخت ہوگا ، وہ صرف اپنی تلوار استعمال کریں گے اور کسی کی بھی توبہ قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو سنیں گے سوائے اللہ کے۔
حوالہ جات: غیبت النعمانیہ ص 237 ، بحار الانوار 52/354 ، اثبات الھدات جلد 3 ص 540، معجم الحدیث المھدی جلد 3 ص 235۔
مشہور آیت اللہ محقق المنتظری کتاب دراسات فی الولایت الفقیہ جلد 1 ص 521 پر کہتے ہیں
وفي خبر أبي بصير عن أبي جعفر عليه السلام في أمر القائم عليه السلام : فوالله أنظر إليه بين الركن والمقام يبايع الناس بأمر جديد وكتاب جديد وسلطان جديد من السماء . . . وبالكتاب الجديد القرآن الكريم بشرحه وتفسيره بإملاء رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وخط أمير المؤمنين عليه السلام كما ورد بذلك أخبار كثيرة
اور ابوبصیر نے امام باقر سے امام قائم کے امر کے متعلق روایت کی ہے کہ ” اللہ کی قسم یہ ایسا ہے جیسے میں انہیں (یعنی امام قائم کو) رکن و مقام کے بیچ دیکھ رہا ہوں اور لوگ ان کی ایک نئی شریعت ، نئی کتاب اور نئی آسمانی اختیار پر بیعت کر رہے ہیں ۔۔ اور نئے قرآن کریم سے ان کی مراد شرح اور تفسیر کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے املاء کرایا گیا اور حضرت علی کے ہاتھوں لکھا گیا قرآن ہے۔ جیسا کہ ہم نے بہت سی روایات میں پڑھا ہے۔
شیخ علی الکورانی کتاب عصر الظہور ص 88-89 پر لکھتے ہیں
وقد يكون المقصود بالكتاب الجديد القرآن الجديد بترتيب سوره وآياته فقد ورد أن نسخة محفوظة للمهدي عليه السلام مع مواريث النبي صلى الله عليه وآله والأنبياء عليهم السلام وأنه لا يختلف عن القرآن الذي في أيدينا حتى في زيادة حرف أو نقصانه ولكنه يختلف في ترتيب السور والآيات وأنه بإملاء رسول الله صلى الله عليه وآله و خط علي عليه السلام ولا مانع أن تكون جدة القرآن بالمعنيين معا
اور نئی کتاب سے ایک نیا قرآن مراد ہوسکتا ہے جو آیات و اجزاء کی نئی ترتیب کے ساتھ ہوگا۔ یہ روایت کی گئی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور چیزوں کے ساتھ یہ قرآن کریم بھی مھدی کے پاس محفوظ ہے جو کہ اسے وراثت میں ملا ہے ۔
شیخ عبداللطیف البغدادی کتاب تحقیق فی الامامہ ص 235-236 پر لکھتا ہے
نعم وبقي ذلك القرآن في تفسيره الصحيح عند علي عليه السلام ومن بعده عند الحسن عليه السلام وهكذا صار من المواريث الخاصة بالأئمة الطاهرين وهو الآن عند إمام العصر والزمان مهدي آل محمد عج ومن هنا ورد من الإمام الباقر عليه السلام أنه قال : إذا خرج (أي الإمام المهدي) يقوم بأمر جديد وكتاب جديد وسنة جديدة وقضاء جديد على العرب شديد (المجالس السنية) وعنه في حديث آخر قال : لكأني أنظر إليه بين الركن والمقام يبايع الناس بأمر جديد وكتاب جديد وسلطان جديد من السماء أما إنه لا ترد له راية أبدا حتى يموت . والمراد من الأمر الجديد والكتاب الجديد والسنة الجديدة والقضاء الجديد والسلطان الجديد إنما هو الإتيان بشريعة الإسلام الحقة كما شرعها الله والإتيان بالقرآن في تنزيله وتأويله كما أنزل في تفسيره وبيان أحكامه
ہاں یہ قرآن کریم اپنی صحیح تشریح کے ساتھ حضرت علی کے پاس رہا ۔ ان کے بعد امام حسن کے پاس رہا اور یوں اماموں کی وراثت کے طور پر چلتا ہوا اب یہ امام العصر و الزمان مہدی ِ آلِ محمد کے پاس ہے۔ باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا ” جب وہ ظاہر ہونگے تو وہ ایک نئی شریعت ، نئی کتاب ، نئی سنت اور نئے حکم سے شروعات کریں گے اور وہ عربوں پر سخت ہونگے۔(المجالس السنیہ) اور امام باقر سے ایک اور روایت ہے : اللہ کی قسم یہ ایسا ہے جیسے میں انہیں (مہدی) کو رکن و مقام کے بیچ دیکھ رہا ہوں، اور لوگ ان کی ایک نئی شریعت ، نئی کتاب اور نئی آسمانی اختیار پر بیعت کر رہے ہیں۔ ان کا جھنڈا ان کی موت تک کبھی بھی نیچے نہیں ہوگا۔ یہاں پر ایک نئی شریعت ، ایک نئی کتاب ، ایک نئی سنت اور نئے حکم اور اختیار سے مراد اسلام کے اصل قوانین لاگو کرنا ہے جو اللہ تعالی چاہتے ہیں اور قرآن کریم کو اس کی تنزیل و تاویل اور اس کی قوانین کی تشریح کے ساتھ واپس لانا ہے۔
میں یہاں پر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ دکھ اور ستم ظریفی کی بات ہے کہ یہ لوگ کہ رہے ہیں کہ صحیح مذہب اور صحیح شریعہ اور قوانین صرف مہدی کے ساتھ ظاہر ہونگے ۔ کیا زیادہ دیر نہیں ہوگئی ہے؟ کیا اسے انصاف سمجھا جائے ؟
المرزا محمد تقی الاصفحانی کتاب مکال المکارم جلد 1 ص 184 پر کہتے ہیں
قال الله تعالى (فصلت 40 الآية) قال الطبرسي في مجمع البيان يريد أن قومه اختلفوا فيه أي في صحة الكتاب الذي أنزل عليه . القائم عليه السلام كذلك يختلف في الكتاب معه وهو ما جمعه أمير المؤمنين عليه السلام وهو القرآن التام المدخر عند الحجة عليه السلام . ويدل على ذلك ما في روضة الكافي بإسناده عن أبي جعفر في قوله تعالى ( : فصلت 45) قال : اختلفوا فيه كما اختلفت هذه الأمة في الكتاب وسيختلفون في الكتاب الذي مع القائم الذي يأتيهم به حتى ينكره ناس كثير فيقدمهم ويضرب أعناقهم .
اللہ فرماتے ہیں : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا (سورہ فصلت ٓایت 45 ) طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ انکے لوگ اس کتاب کی صداقت پر اختلاف کریں گے جو ان پر نازل ہوئی ہے۔ اور اس کتاب پر بھی اختلاف ہوگا جو کہ امام قائم لےکر آئیں گے جو مکمل کتاب ہے (الحجہ) مہدی کے پاس محفوظ ہے۔ اس پر جو چیز دلالت کرتی ہے، وہ روضہ الکافی میں امام جعفر کی روایت ہے اللہ تعالی کے قول کے متعلق : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا (سورہ فصلت ٓایت45 ۔) وہ ابوجعفر کہتے ہیں وہ اس پر اختلاف کریں گے جیسے امت نے اپنی کتاب پر اختلاف کیا اور وہ امام قائم کی کتاب پر اختلاف کریں گے جو وہ اپنے ساتھ لائیں گے بہت سے لوگ اس کا انکار کریں گے اور وہ (امام مہدی) ان سب کو قتل کردیں گے اور ان کے سر الگ کردیں گے۔
وہ اسی کتاب کے صفحہ 197 پر کہتا ہے
عزير عليه السلام لما رجع إلى قومه وظهر فيهم قرأ التوراة كما أنزلت على موسى بن عمران عليه السلام . القائم عليه السلام حين يظهر لأهل الأرض يقرأ القرآن كما أنزل على خاتم النبيين صلى الله عليه وآله
جب عزیز علیہ السلام اپنے لوگوں میں واپس آکر ان پر ظاہر ہونگے تو وہ تورات کو اس طرح پڑھیں گے جس طرح موسی بن عمران علیہ السلام پر نازل ہوا تھا ۔ اور امام قائم جب زمین کے لوگوں پر ظاہر ہونگے تو وہ قرآن کریم کو اس طرح پڑھیں گے کہ جس طرح وہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہواتھا۔
پھر صفحہ نمبر 63 پر کہتا ہے
أقول يمكن أن يكون هذا هو السر في تسمية القائم عليه السلام بالقرآن العظيم باعتبار أنه الآمر به وحامل الناس على قراءته ومظهره ومروجه.
میں کہتا ہوں : اس میں کوئی راز ہوسکتا ہے کہ کیوں امام قائم کو قرآن عظیم کہہ کر پکارا گیا ہے اس اعتبار سے کہ وہ اس کے متعلق حکم دیں گے اور لوگوں کو اس کی قرات پر مجبور کریں گےاور اس پر مجبور کریں گے کہ اس کو ظاہر کریں اور اس کی ترویج کریں۔

تو یہ عقیدہ بھی ویسا ہی ہے جیسے پہلے تھا ۔ شیعوں کو مجبور کرتا ہے کہ اس قرآن کریم کو نظر انداز کریں اور اس پر زیادہ دھیان مت دیں ۔ اس کے برعکس وہ اپنے امام اور نئے قرآن کا انتظار کریں۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ شیعہ کہہ رہے ہیں کہ اس کتاب کو بھول جاؤ جو کہ خلفاء نے جمع کیا ہے ہم سب کو چاہئے کہ مہدی کا انتظار کریں کہ وہ نیا قرآن ظاہر کریں ، ایس مکمل قرآن جو اللہ کی رضا کا سبب بنے اور جو کہ امام غائب کے ساتھ ہے۔
باب 3:
شیعہ کی حقیقت سے اس بحران کے کچھ توضیحات کو پیش کرنا
ایسے عقائد جو کے بیان کرنےکے بعد جوکہ شیعہ کو قرآن کریم پر شک اور اس سے روکتے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ بتایا جائے کہ حقیقت میں شیعوں پر یہ عقائد کتنا اثر کرتے ہیں

پہلی وضاحت: ان کا ان لوگوں کے کفر سے انکار جو قرآن کریم میں تحریف کو مانتے ہیں۔
جب شیعہ علماء کی اس جماعت نے فیصلہ کیا کہ وہ قرآن کریم کو تحریف شدہ نہیں مانیں گے ، ان سے توقع تھی کہ وہ ان لوگوں کے خلاف سخت موقف رکھیں گے جو کہ تحریف کے قائل ہیں ، جیسا کہ ان کی تکفیر کرنا ، ان کو مرتد اور منافق کہنا ، ان سے اور ان کے عقائد سے بیزاری ، تاکہ شاید اللہ تعالی قیامت کے دن ان سب کوایک جگہ پر جمع نہ کرے لیکن وہ اپنے کمزور موقف کی وجہ سے ہر کسی کو حیران کئیے ہوئے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کا قرآن کریم سے روحانی رشتہ اور کمزور ہوجاتا ہے

مشہور آیت اللہ المرجہ محمد سعید الحکیم کتاب رحاب العقائد جلد 1 ص 149 عنوان جو تحریف کے قائل ہیں ان کے بارے میں صحیح موقف ” کے تحت لکھتے ہیں
نعم لا يحسن الإغراق في النيل ممن يذهب للتحريف فإنهم وإن وقعوا في خطأ فادح إلا أنه خطأ علمي يبتني على الغفلة لا يسقط الحرمة ولا يوجب كفرا
ہاں جو تحریف کے قائل ہیں، ان پر حد سے زیادہ تنقید کرنا اچھا نہیں ہے۔ چاہے انہوں نے بہت ہی بڑی غلطی کی ہے لیکن یہ غفلت برتنے کے نتیجہ میں ایک علمی غلطی مانی جائے گی اور یہ ان کے اس حق کو ختم نہیں کرتا کہ ان سے مسلمانوں کی طرح برتاؤ کیا جائے۔ انہیں کافر کہنے کی ضرورت نہیں ہے٭

شیعوں کے ایک بہت ہی بڑا عالم مرزا النوری الطبرسی جو کہ قرآن کریم کو منحرف مانتا ہے، اس نے ایک قرآن کریم کو تحریف شدہ ثابت کرنے کے لئے پوری کتاب لکھی تھی، جو فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب کے نام سے جانی جاتی ہے۔ موصوف اس کتاب کی تعارف میں ص 2 پر فرماتے ہیں
هذا كتاب لطيف وسفر شريف عملته في إثبات تحريف القرأن وفضائح أهل الجور والعدوان وسميته فصل الخطاب في تحريف كتاب رب الأرباب
یہ ایک درست کتاب اور عظیم تالیف ہے جو کہ میں نے قرآن کریم کو تحریف شدہ ثابت کرنے اور ظالم اور جابر لوگوں کو ذلیل کرنے کے لئے لکھی ہے۔
صحیح العقیدہ مسلمانوں کے مطابق اس بدمعاش شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ۔تاہم شیعوں نے اس کی تعریف کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس کی مذمت کرنے کے بجائےاس کی تعظیم کی ۔ شیخ علی بن حس البلادی انوار البدریان ص 129-130 پر اس کے بارے میں کہتا ہے
اس زمانے کا ایک اور عظیم ،اسلام کا قابل اعتماد شخص اور روایات کو نقل کرنے میں مہارت رکھنے والا عالم المرزا حسین النوری الطبرسی اللہ تعالی کی اس پر رحمت ہو :- بہت سی قیمتی کتب کے مصنف تھے جیسا کہ نفس الرحمن فی فضائل سلمان ، فصل الخطاب ، جنت الماوی ، مستدرک الوسائل و مستنبات ال دلائل ، اور دیگر قیمتی کتب ہیں۔ یہ شیخ مطالعہ ، جانچ ، تحقیق ، کے لحاظ سے اللہ تعالی کے دلائل میں سے ایک دلیل تھا ۔ جیسا کہ مولانا مجلسی۔ کی تقوی اور متشکي پن ۔۔۔۔ ،
آیت اللہ علی المیلانی الطرسی کے بارے میں المحاضرات فی الاعتقادات جلد 2 ص 602 پر لکھتا ہے
صحيح أن الميرزا النوري من كبار المحدثين إننا نحترم الميرزا النوري. الميرزا النوري رجل من كبار علمائنا ولا نتمكن من الاعتداء عليه بأقل شيء ولا يجوز وهذا حرام إنه محدث كبير من علمائنا
یہ یقینا صحیح ہے کہ مرزا نوری کا شمار بڑے محدثین میں ہوتا ہے۔بے شک ہم مرزا نوری کی عزت کرتے ہیں ، مرزا نوری ہمارے بڑے علماء میں شامل ہیں اور ہمارے لئے ناممکن ہے کہ ہم اس کے تھوڑے سے بھی مخالف ہوں اور نہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ ایسا کرنا حرام ہے۔ وہ ہمارے علماء میں سے بڑے محدث ہیں۔
اور مرزا نوری کے دفاع میں مزید ص 608 پر لکھتے ہیں
أما ان نكفره ونطرده عن طائفتنا ونخرجه عن دائرتنا كما يطالب بعض الكتاب المعاصرين من أهل السنة فهذا غلط وغير ممكن أبدا
جہاں تک اہل سنت کے موجودہ مصنفین مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ہم اس کی تکفیر کریں، یا ان کو اپنے گروہ سے الگ کردیں یا ان سے تعلق ختم کردیں اور اس کو اپنے دائرے سے خارج کردیں تو یہ غلط ہے اور بالکل ہی ناممکن ہے۔
شیعہ عالم علی المحسن للہ ثم للحقائق ص 542 میں اس کے بارے میں لکھتے ہیں
اسلام کے دفاع میں مرزا حسین نوری کے واضح اثرات اور عظیم کوششیں موجود ہیں ان کے مقابلے میں ان کا اپنی کتاب میں پھسلنے کے سبب سے ہم ان کی سب کوششوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے، نہ ہی ان کی ساکھ کو کچھ کم کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ ہر پرہیزگار انسان میں کچھ عیب ضرور ہوتا ہے اور ہر علم رکھنے والا ضرور پھسلتا ہے ۔ ساتھ میں یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں یہ نہیں کہا کہ ” قرآن کریم جو ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے وہ زیادتی یا کمی کے حساب سے مسخ شدہ ہے (یعنی اس میں زیادتی یا کمی کی گئی ہے) بلکہ انہوں نے کہا کہ بے شک جو قرآن کریم ہمارے ہاتھوں میں ہے اس میں سے کچھ آیات یا الفاظ چھوڑ دئے گئے ہیں۔
مشہور آیت اللہ خمینی کتاب الاربعون الحدیث ص 21-22 پر اس کے بارے میں کہتا ہے
المولى العالم الزاهد الفقيه المحدث الميرزا حسين النوري نور الله مرقده الشريف
سید ، عالم ، فقیہ، محدث مرزا حسین نوری اللہ تعالی ان کے مقبرے کو روشنی سے بھردے۔
شیعوں کا ایک اور بڑا عالم محمد باقر بن محمد تقی مجلسی بحار الانوار کا مصنف جس نے کتاب مراۃ العقول جلد 12 ص 525 پر قرآن کریم کےمنحرف ہونے کا لکھا ہے
اور یہ حدیث صحیح ہے اور یہ کوئی راز نہیں ہے کہ یہ روایت اور بہت سی صحیح روایات واضع طور پر بیان کرتی ہیں کہ قرآن کریم میں کمی اور ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ اس بارے میں ، میں نے یہ روایات متواتر پائی ہیں (یعنی بہت سے راویوں نے بیان کی ہیں) اور ان سب کا انکار کا مطلب ہے کہ پھر کسی بھی روایات پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے بھی آگے یہ میرا عقیدہ ہے کہ اس بارے میں (یعنی قرآن کریم کے منحرف ہونے کے بارے میں) جو روایات ہیں وہ امامت کی روایات سے کم درجےکی نہیں ہیں۔ تو وہ ان روایات پر انحصار کر کہ امامت کو کیسے ثابت کرسکتے ہیں ؟
نجف کے حوزہ امامیہ کے رہنما اور موجودہ دور کے بہت ہی بڑے عالم آیت اللہ ابوالقاسم الخوئی نے اس کی تعریف میں اپنی کتاب معجم الرجال الحدیث میں بہت سی جگہوں پر لکھا ہے جیسا کہ جلد 15 ص 221 پر کہتا ہے

9940 – محمد باقر بن محمد تقي:
قال الشيخ الحر في تذكرة المتبحرين (733): ” مولانا الجليل محمد باقر ابن مولانا محمد تقي المجلسي: عالم، فاضل، ماهر، محقق، مدقق، علامة، فهامة، فقيه، متكلم، محدث، ثقة ثقة، جامع للمحاسن والفضائل، جليل القدر، عظيم الشأن، أطال الله بقاءه.
له مؤلفات كثيرة مفيدة، منها: كتاب بحار الأنوار في أخبار الأئمة الأطهار، يجمع أحاديث كتب الحديث كلها، إلا الكتب الأربعة، ونهج البلاغة، فلا ينقل منها إلا قليلا، مع حسن الترتيب وشرح المشكلات، وهو خمسة وعشرون مجلدا، وكتاب جلاء العيون، وكتاب حياة القلوب، وكتاب عين الحياة، وكتاب مشكاة الأنوار في فضل قراءة القرآن فارسي، وكتاب حلية المتقين، وكتاب تحفة الزائر، وكتاب ملاذ الأخيار في شرح تهذيب الاخبار، وكتاب مرآة العقول في شرح الكافي، وكتاب الفوائد الطريفة في شرح الصحيفة الشريفة، ورسالة في الرجعة، ورسالة في اختيار الساعات، وجوابات المسائل الطوسية، وشرح روضة الكافي، ورسالة في المقادير، ورسالة في الرجال، ورسالة في الاعتقادات، ورسالة في مناسك الحاج، ورسالة في السهو والشك وغير ذلك، وهو من المعاصرين، نروي عنه جميع مؤلفاته وغيرها إجازة “.
وقال الأردبيلي في جامعه: ” محمد باقر بن محمد تقي بن المقصود علي، الملقب بالمجلسي مد ظله العالي: أستاذنا وشيخنا، وشيخ الاسلام والمسلمين، خاتم المجتهدين، الإمام العلامة، المحقق المدقق، جليل القدر، عظيم الشأن، رفيع المنزلة، وحيد عصره، فريد دهره، نقة، ثبت، عين، كثير العلم، جيد التصانيف، وأمره في علو قدره، وعظم شأنه، وسمو رتبه، وتبحره في العلوم العقلية والنقلية، ودقة نظره، وإصابة رأيه، وثقته وأمانته، وعدالته أشهر من أن يذكر، وفوق ما يحوم حوله العبارة، وبلغ فيضة وفيض والده رحمه الله تعالى دينا ودنيا لأكثر الناس من العوام والخواص، جزاه الله تعالى أفضل جزاء المحسنين، له كتب نفيسة جيدة، قد أجازني دام بقاؤه وتأييده أن أروي عنه جميعها، منها: كتاب بحار الأنوار

9940- محمد باقر محمد تقی: شیخ الحر تذكرة المتبحرين ص 733 پر کہتے ہیں ہمارے مولانا جلیل القدر محمد باقر بن مولانہ محمد تقی المجلسی جو کہ عالم، فاضل، ماہر، محقق، مدقق، علامة، فهم رکھنے والا ،فقيه، متكلم، محدث، ثقة ثقة، تمام اچھی خصلتوں اور فضائل کے مالک، ایک بہت ہی قابل قدر آدمی تھے ( اللہ تعالی اس پر ہمیشہ رحمت قائم رکھے)۔
الاردبیلی اس کے بارے میں جامع الروات میں کہتے ہیں : محمد الباقر بن محمد تقی بن مقصود علی جو کہ مجلسی کے نام سے مشہور ہیں اللہ ان پر اپنا سایا اور بڑھائے ، ہمارے شیخ ، ہمارے عالم ، مسمانوں اور اسلام کے عالم ، مجتہدین کے خاتم اور ایک علماء کے امام ۔ محقق ، مدقق اس سب میں بہت اعلی درجے پر تھے اور اپنے زمانے میں بے مثال اور منفرد تھے اللہ تعالی انہیں بھلائی کرنے والوں میں سب سے اچھا اجر دے ان کے بہت سے قیمتی کتب تھے اور انہوں نے مجھے اجازت دی کہ میں ان سے سب کچھ روایت کروں جیسا کہ بحار الانوار۔
مشہور آیت اللہ خمینی کتاب الاربعون الحدیث ص 143 پر اس کے بارے میں کہتے ہیں
يقول المحقق الخبير والمحدث المنقطع النظير مولانا المجلسي
ماہر محقق اور منفرد محدث مولانا مجلسی کہتے ہیں
اور پھر ص 144 پر کہتا ہے
نقل المجلسي رحمه الله
المجلسی اللہ تعالی ان پر رحمت کرے روایت کرتے ہیں
اور ص 587 پر لکھتا ہے
وقد فسر المحدث الجليل المجلسي عليه الرحمة
ہمارے معزز محدث المجلسی ان پر رحمت ہو وضاحت کرتے ہیں
میرے ساتھ آپ بھی اللہ تعالی کی کتاب کی طرف ان کا بے شرم رویے پر غور کریں کہ وہ نہ تو ان کی تکفیر کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر تنقید کرتے ہیں جو کہ تحریف کے قائل ہیں ، اس کے بر عکس وہ بڑے ہی فصیح انداز میں ان کی تعریف کرتے ہیں ۔
دوسری وضاحت: تحریف سے کم اہمیت کے مسائل پر ان کا کچھ علماء کے خلاف غصہ
1۔ ان کا موقف ان کے سب سے بڑے عالم اور ان کی چار اہم کتب میں سے ایک کے مصنف ابن بابویہ قمی المعروف شیخ صدوق کی طرف سے جو کہ مانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھولتے تھے۔
الصدوق من لایحضرالفقیہ جلد 1 ص 359-360 پر لکھتا ہے ۔
انتہا پسند اور ان کے ساتھی اللہ کی ان پر لعنت ہو اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلطی اور بھول چوک ہوسکتی ہے۔۔ ہمارے شیخ محمد بن الحسن بن الولید اللہ کی ان پر رحمت ہو ،فرمایا کرتے تھے کہ غلو کی جانب پہلا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سہو کا انکار کرنا ہے۔ اگر ان روایات جو کہ اس بارے میں نازل ہوئی ہیں ان کے انکار کی اجازت دی جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری ساری روایات کو رد کیا جائے جو اس دین اور شریعت کو منسوخ کرے گا ۔” اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہو ثابت کرنے کے لئے لکھنے اور جو اس کا انکار کرتے ہیں ،ان کا رد کرنے پر مجھے اجر کی امید ہے۔

ان کے عالم شیخ مفید اپنی کتاب سہو النبی ص 20 پر شیخ صدوق کو پرتشدد اور نارضگی بھراہ جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں
إعلم، أن الذي حكيت عنه ما حكيت، مما قد أثبتناه، قد تكلف ما ليس من شأنه، فأبدى (2) بذلك عن نقصه في العلم وعجزه، ولو كان ممن وفق لرشده لما تعرض لما لا يحسنه، ولا هو من صناعته، ولا يهتدي إلى معرفة طريقه، لكن الهوى مود لصاحبه
ہم جانتے ہیں کہ ایک شخص جس سے ہم نے یہ روایت کی خود کو اس مسئلہ میں ملا دیا ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ، اور اور اس نے دکھا دیا کہ اس کو کتنا کم علم ہے اوروہ کتنا نااہل ہے۔۔ اس نے ایسے مسئلہ کا سامنا کیا ہے جس میں وہ اچھا نہیں ہے اور نہ ہی یہ اس کی مہارت میں شامل ہے اور نہ ہی اس کو اس کی طرف ہدایت ہوسکتی ہے لیکن خواہش اس کو لے جاتی ہے۔

اور صفحہ نمبر 30 پر شیخ صدوق کے بارے میں کہتا ہے
وهذا ما لا يذهب إليه مسلم ولا ملي ولا موحد، ولا يجيزه على التقدير في النبوة ملحد، وهو لازم لمن حكيت عنه ما حكيت، فيما أفتى به من سهو النبي عليه السلام، واعتل به، ودال على ضعف عقله، وسوء اختياره، وفساد تخيله.
وينبغي أن يكون كل من منع السهو على النبي عليه السلام في جميع ما عددناه من الشرع، غاليا كما زعم المتهور في مقاله: أن النافي عن النبي عليه السلام السهو غال، خارج عن حد الاقتصاد.
وكفى بمن صار إلى هذا المقال خزيا
کوئی بھی اس پر یقین نہیں کرسکتا، نہ کوئی مسلمان اور نہ کوئی ایسا شخص جو اسلام لایا اور پھر اسے رد کردیا ، نہ کوئی ایک خدا کو ماننے والا اور یہاں تک کہ نہ ہی بے دین نبوت کے تصور کے طور پر اس کو مان سکتا ہے اور میں نے پہلے جس کا ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ پر بھول چوک کا فتوی دینے کے سبب اس کا مستحق ہے۔ یہ اس کی دماغی کمزوری اور اس کی بری پسند اور اس کے تخیل کی خرابی کو ظاہر کرتی ہے۔ جس طرح کہ ایک لاپرواہ انسان نے یہ دعوی کیا ہے کہ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بھول چک سے انکار کرتا ہے وہ انتہا پسند ہے٭
اور صفحہ 32 پر فرماتے ہیں
وإن شيعيا يعتمد على هذا الحديث في الحكم على النبي عليه السلام بالغلط، والنقص، وارتفاع العصمة عنه من العناد لناقص العقل، ضيف الرأي، قريب إلى ذوي الآفات المسقطة عنهم التكليف
اس نے اس کے بارے میں اور بھی بہت سی عجیب چیزیں کہیں ہیں لیکن اوپر والی بات ہی کافی ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بالکل ایک آتش فشان کے غصے میں پھٹنے کی طرح ہے یہ سب اس لئے ہے کہ ایک آدمی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام انسان کی طرح بھولتے تھے اور دوسری طرف مثال کے طور پر اگر شیخ صدوق دعوی کرتے کہ قرآن کریم جو ہمارے پاس ہے اس کا ایک صفحہ غائب ہے تو مجلسی ان کی اس طرح تعریف کرتے : ہمارے مولانا ، اسلام کے عظیم عالم اللہ تعالی ان کے عظیم راز کو محفوظ رکھے اور ان کے مقبرے کو ہمیشہ روشن رکھے”۔
2۔ ان کا انکے بڑے عالموں میں ایک مرجیع لبنان کے آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ کے بارے میں موقف کیوں کہ اس سے حدیث غدیر ، فاطمہ کی معصومیت اسقاط جنین کے واقعے کی سند کے بارے میں سوال کیا گیا
فضل اللہ نے الندوہ رسالے جلد 1 س 422 پر کہا
إن مشكلتنا هي أن (حديث الغدير ) هو من الأحاديث المروية بشكل مكثف من السنة والشيعة، ولذلك فإن الكثير من إخواننا المسلمين السنة يناقشون الدلالة ولا يناقشون السند
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ حدیث غدیر ان روایات میں سے ہے جو کہ اہل السنہ اور شیعہ دونوں کی کتب میں بہت روایت کی گئی ہے اس لئے ہمارے بہت سے سنی بھائی اس کے متن پر بحث کرتے ہیں نہ کہ اسناد پر۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس میں کون سا چھوٹا سا اشارہ ہے جس سے حدیث غدیر کی سند بنتی ہے، عراق کے مشہور مذہبی اور سیاسی شخصیت شیخ جلال الدین الصغیر اس کے بارے میں کتاب لھذا کانت الموجھہ ص 74 پر کہتے ہیں
هذا النص هو أحد النصوص التي اعتمدتها المرجعية الدينية في حكمها على فضل الله بكونه ضالا ومضلا وخارجا عن المذهب الحق
یہ ان عبارتوں میں سے ایک عبارت ہے جس کے اوپر فضل اللہ پر فتوی دینے کے لئے ہمارے مذہبی علماء انحصار کرتے ہیں کہ وہ گمراہ ہوگیا ہے اور اس گمراہی کی وجہ سے وہ ایک سچے فرقہ کے دائرہ سے باہر ہوگیا ہے۔
فضل اللہ تعاملات السلامیہ حول المرہ ص 8-9 پر فاطمہ رضہ اور سیدہ مریم کے بارے میں کہتے ہیں
ولا نستطيع إطلاق الحديث المسؤول بوجود عناصر غيبية مميزة تخرجهم عن مستوى المرأة العادي لأن ذلك لا يخضع لأي إثبات قطعي
اور ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ کوئی خفیہ چیزیں ہیں جو کہ انہیں ایک متوسط عورت سے الگ کر سکیں کیوں کہ اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔
جلال الدین الصغیر الوجھہ ص 13-15میں فضل اللہ کے متعلق اور بہت سے مراجع کے خیالات ذکر کرتے ہیں
وفيما صرح أغلبهم بضلاله وإضلاله، تراوحت مواقف بعضهم بين التحفظ في تثبيت الموقف على الورق رغم وضوح موقفه العملي، وبين من بلغ به درجة الفساد والإفساد وأدخله في دائرة الكفر، ولعلنا في حالة كهذه لم نحصل على إجماع كهذا بين كل هذا العدد من المراجع والآيات العظام رغم اختلاف بعضهم المعروف في بعض التوجهات الاجتماعية والفقهية والأماكن، ونذكر من بين أسمائهم الشريفة ما يلي
: 1 – السيد علي السيستاني.
2 – المرحوم السيد محمد الروحاني (أستاذ فضل الله).
3 – السيد محمد سعيد الحكيم.
4 – الشيخ الوحيد الخراساني.
5 – الشيخ جواد التبريزي.
6 – السيد تقي القمي.
7 – الشيخ محمد تقي البهجة.
8 – السيد محمد الحسيني الشاهرودي.
9 – السيد مهدي الحسيني المرعشي.
10 – السيد محمد الحسيني الوحيدي التبريزي.
11 – الشيخ بشير النجفي.
12 – الشيخ نوري الهمداني.
13 – الشيخ إسحاق فياض.
14 – الشيخ الفاضل اللنكراني.
15 – الشهيد الشيخ علي الغروي.
16 – الشهيد الشيخ مرتضى البروجردي.
اور ان میں اکثر نے یہ اقرار کیا کہ فضل اللہ گمراہ ہوگئے ہیں اور وہ گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔ اور ان میں سے کچھ کا نقطہ نظر اس پر تحریری تنقید اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ بگڑنے کی حد تک جا چکا ہے جس کو وہ کفر کے دائرہ میں رکھتے ہیں اور ہم ان میں سے کچھ کے نام بتا دیتے ہیں
1- سید علی السیستانی
2- سید محمد سعید الحکیم
3- سید محمد الروحانی (فضل اللہ کے شیخ)
4- شیخ الوحید الخراسانی
5- شیخ جواد التبریزی
6- سید تقی القمی
7- شیخ محمد تقی بھجت
8- سید محمد الحسینی الشہرودی
9- سید مھدی الحسینی المراشی
10- سید محمد الحسینی الوحید التبریزی
11-شیخ باقر النجفی
12- شیخ نوری الحمدانی
13- شیخ اسحاق فاضل
14 – شیخ الفضل اللنکارانی
15- شہید شیخ علی الغراوی
16-شہید شیخ مرتضی البروجودوری
الصغیر فضل اللہ کو گالیاں دیتے ہوئے ص 55 پر لکھتا ہے
وليس من باب الخبث التساؤل عما إذا كان من الحق التصور بأن محاضرات هذا الرجل في النساء بل وخلوته معهن
اور اس کے لئے اتنی عزت کافی ہے کہ لوگ اسے عورتوں کا مرد یا پھر شہوت پرست کہیں۔
تو یہ سارا غصہ گالیاں اور تکفیر صرف اس لئے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ معصوم ہیں اور غدیر کے اسناد کے بارے میں اس سے سوال ہوا ۔ لیکن اگر وہ اللہ تعالی کی کتاب پر حملے کرتا تو آپ دیکھتے کہ کس طرح اس کی تعریف کی جاتی۔
3۔ ان کا اپنے آیت اللہ محسن الامین الحسینی العامل المتوفی سنہ 1953 کے بارے میں موقف جس نے عاشورہ کے روز خود کو تلوار اور زنجیروں سے مارنے سے منع کیا
جعفر الشاھخوری نے کتاب مرجیات المرحلہ وغبر التغیر میں اس کی فتوی کے متعلق کچھ شیعہ علماء کا ردعمل لکھا ہے جو میں یہاں بیان کرتا ہوں
الف: سید صالح الحلی نے اس پر تنقید میں ایک نظم لکھی تھی جس میں ان سب مسافروں کو جو شام سے گزریں، کہا کہ اس کی منہ پر تھوکیں۔
ب: سید رضا الحندی نے بھی ایک نظم لکھی جس میں شیعوں کو کہا گیا کہ الامین کو فاطمہ رضہ کی اولاد سے خارج کردیں
ج: ایک اور نے لکھا ہے کہ اس کے فتوے مذہب و دین کو تباہ کردیں گے اور پھر اس نے اس کو محمد بن عبدالوھاب کے ساتھ ملایا جو کہ قبروں پر طواف و سجود سے منع کرتے تھے ۔
یہ بہت ہی سخت قسم کی تنقید ان کے خلاف تنقید کے ساتھ برابر کہی جا سکتے ہیں جو کہ قرآن کریم کی تحریف کا عقیدہ رکھتے ہیں جن کو علامہ العلماء ، اللہ تعالی ان کی زندگی بڑھائے ، اللہ ان کے درجے بلند کرے اللہ تعالی ان پر رحم کرے کہا جاتا ہے وغیرہ۔
یہ تین چھوٹی سی مثالیں تھیں جو کہ آپ کو دکھائی گئ کہ معمولی سے اختلاف پر کس طرح یہ اپنے علماء پر سے بھڑاس نکالتے ہیں ایسے اختلاف جو کہ اللہ تعالی کی کتاب کو تحریف شدہ ماننے سے شدت اور سنگینی میں بہت ہی کم ہیں ۔ یہ بتاتا ہے کہ ان کو اللہ تعالی کی کتاب کے لئے کتنی حد تک محبت و عزت ہے اب میں غیر جانبدار قارئین سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا یہ سب شیعہ علماء کی نظر میں اللہ تعالی کی کتاب کی عظمت اور اہمیت ظاہر کرتا ہے ؟
تیسری وضاحت : شیعہ حوزات جہاں شیعہ علماء کی تربیت ہوتی ہے، وہاں قرآن کریم کی تدریس کا احوال
یہ ایک ایسی بدصورت حقیقیت ہے جس کا اعتراف ان کے بہت ہی بڑے عالم کرچکے ہیں
مشہور آیت اللہ خمینی القرآن الثقل الاکبر ص 32 پر اس حقیقیت کے بارے میں لکھتے ہیں
أيتها الحوزات العلمية وجامعات أهل التحقيق قوموا وانقذوا القران الكريم من شر الجاهلين المتنسكين والعلماء المتهتكين الذين هاجموا ويهاجمون القران عمداً وعن علم فإنني أقول بشكل جدي وليس (للتعارف العادي) أني أتأسف لعمري الذي ذهب هباءً في طريق الضلال والجهالة. وأنتم يا أبناء الإسلام الشجعان أيقظوا الحوزات والجامعات للالتفات إلى شؤون القران وأبعاده المختلفة جداً. واجعلوا تدريس القران في كل فروعه مد نظركم وهدفكم الأعلى. لئلا لا قدر الله أن تندموا في اخر عمركم عندما يهاجمكم ضعف الشيخوخة على أعمالكم وتتأسفوا على أيام الشباب. كالكاتب نفسه
میں حوزات کے علماء کو اور یونیورسٹی کے محققین کو کہتا ہوں کہ اٹھئے اور قرآن کریم کو جاہلیت کی برائی اور بداخلاق علماء سے بچائے جو کہ اس پر حملے کرتے ہیں اور جان بوجھ کر اس پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ میرے علم کے مطابق میں پوری سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ میں اپنی زندگی کے بارے میں افسردہ ہوں کہ میں نے اس کو جاہلیت اور گمراہی میں ضائع کردیا اور اے اسلام کے بہادر صاحبزدو حوزات اور جامعات کو جگاؤ کہ شاید یہ قرآن کریم میں بیان کی گئی تمام علوم پر غور کرسکیں اور قرآن کریم کی تعلیم کو اپنا مقصد اور سب سی پہلی منزل بنا لو تاکہ زندگی ختم ہوتے وقت تم کو افسوس نہ ہو جب بڑھاپا تمہیں لے لے اور تم اپنے جوانی کے دنوں پر افسوس کرتے رہو ؛جیسے مصنف خود۔
اس بدصورت حقیقت کو بیان کرنے کے واسطے یہ دستاویز اکیلا ہی کافی ہے جو کہ شیعہ کو متاثر کرتا ہے انکے عقیدہ کے سبب ، یہ ان کے موجودہ دور کے تمام ہی بڑے عالم جو کہ ایرانی اسلامی ریاست کا موجد ہے اس کی طرف سے پیش کی گئی بات ہے جب وہ اس سنجیدہ حالت کا اعتراف کرتا ہے جو کہ ایرانی شیعہ مدارس اور جامعات کی تھی ، کہ کس طرح علوم اللقرآن کو چھوڑ دیا گیا تھا ۔ اور وہ اس پر نادم ہوتا ہے اور اللہ تعالی کی کتاب سے دور جاہلیت اور گمراہی کی زندگی گزارنے پر معذرت خواہ ہوتا ہے۔
ایران کا موجودہ رہنما علی خامنائی اس عظیم نقصان کو بہت سی جگہوں پر ذکر کرتا ہے ہم کچھ اس کتاب الحوزہ العلمیہ فی فکر الامام الخامنائی ص 59-60
کچھ وجوہات اور حالات کی وجہ سے یا مخصوص نقطہ نظر کے سبب حوزہ السلامیہ قرآن اور علوم القرآن پر دھیان دینے میں تاریخی طور پر دور رہا ہے قرآن کریم اور اس کی علوم سے اس دوری کی وجہ سے حوزہ السلامیہ کی تعلیم پر منفی اثر پڑا ہے
اور وہ کہتا ہے
إن الإنزواء عن القرآن الذي حصل في الحوزات العلمية وعدم استئناسنا به ، أدى الى ايجاد مشكلات كثيرة في الحاضر ، وسيؤدي إلى ايجاد مشكلات في المستقبل … وإن هذاالبعد عن القرآن يؤدي إلى وقوعنا في قصر النظر
حوزات میں جو خود کو قرآن کریم سے الگ کر لیا ہے اس کا سبب یہ ہےکہ ہم اس کے ساتھ خوش نہیں ہیں۔ یہ ہمارے موجودہ اور مستقبل میں بہت سے مسائل کا سبب بنے گا اور خود کو قرآن کریم سے دور کرلینا اندھیرے پن کا سبب بن رہا ہے۔
اور وہ کہتا ہے
مّما يدعو إلى الاستغراب أن طالب العلوم الدينية من الممكن أن يصبح عالماً ومجتهداً في مجال الإسلام والفكر والفقه الإسلاميين بمعزل عن القرآن الكريم “كتاب الوحي”
یہ حیرت کا سبب ہے کہ مذہبی علوم کے طالب علم قرآن کریم کے بغیر،اسلامی فکر اور فقہ کے عالم اور مجتہد بن جاتے ہیں۔
پھر کہتا ہے
مما يؤسف له أن بإمكاننا بدأ الدراسة ومواصلتها إلى حين استلام إجازة الاجتهاد من دون أن نراجع القرآن ولو مرة واحدة .. لماذا هكذا ؟ لأن دروسنا لا تعتمد على القرآن
یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنی تعلیم شروع کرتے ہیں اور پھر قرآن کریم کو ایک دفعہ بھی دیکھے بغیر اجتہاد کی اجازت پا لیتے ہیں یہ کیوں ہے ؟ کیوں کہ ہماری علوم قرآن کریم پر انحصار نہیں کرتے۔
پھر کہتا ہے
من هنا، فإنَّ الحلَّ يكمن في إعادة الأمور إلى مجاريها الصحيحة، وبناء العلوم الإسلامية على محورية “الكتاب والسنّة” لا أن تتحوّل المعارف المؤسّسة على هامش الكتاب والسنة إلى معارف محورية، وتتحول دراسة الكتاب والسنة إلى دراسات فرعية، هذا نقضٌ للغرض، إنّ الأصول، والفقاهة، والمنطق، وعلوم العربية، وغيرها نحتاج إليها من أجل فهم الكتاب والسنّة لا العكس
یہاں سے ہمیں پتا چلتا ہےکہ مسائل کو ان کے مناسب جگہ واپس رکھنے میں ہی حل موجود ہے اور ہماری اسلامی تعلیم کی بنیاد کو قرآن و سنت پر آراستہ کیا جائے “۔ ہمیں ایسے علم کو قبول نہیں کرنا چاہئے جو کہ کتاب و سنت سے الگ ہو کر بنیادی طریقہ تعلیم بن جائیں اور کتاب و سنت کو دوسرے درجے کی ذیلی تعلیم بنادیں۔
اور وہ کہتا ہے
يجب أن لا نغفل عن القرآن الكريم و علومه و فهمه و الأنس به و يجب أن يكون القرآن جزءاً من دروس الحوزات
ہمیں کسی بھی صورت میں قرآن اور اس کے علوم اس کو سمجھنا اور اس سے راحت پکڑنے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور قرآن کریم کو ہمارے حوزات علمیہ کی تعلیم حصہ ہونا چاہئے۔ ہمارے شاگردوں کو قرآن کریم یا کم سے کم اس کا ایک پارہ حفظ کرنے کی ضرورت ہے۔
مشہور آیت اللہ محمد حسین فضل اللہ کتاب ثوابت و متغیرات الحوزہ العلمیہ ص 111
فقد نفاجأ بأن الحوزة العلمية في النجف أو في قم أو في غيرهما لا تمتلك منهجا دراسيا للقرآن
ہمیں اس بات کو دیکھ کرحیرانی ہو سکتی ہےکہ نجف یا قم یا دوسرے حوزات علمیہ پڑھانے کے واسطے قرآن کریم کا نصاب نہیں رکھتے۔
مشہور آیت اللہ محمد یعقوب شیعوں کے تنظیم کے سربراہ اس حقیقت کا کتاب ثلاثہ یشقون القرآن المسجد الامام ص 39 اور بہت سی جگہوں پر اقرار کرتے ہیں کہ
وقد قلت في بعض كتبي انه من المؤسف حقا غياب القرآن عن مناهج الدراسة الحوزوية فقد نظمت بشكل لا يحتاج فيه الطالب إلى التعمق في القرآن الكريم من أول تحصيله إلى نهايته
اور میں اپنی کچھ پہلی کتب میں بھی بیان کیا ہےکہ بدقسمتی سے یہ حقیقت ہے کہ حوزات کے نصاب سے قرآن کریم غائب ہے یہ اس طریقے سے منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ شاگرد کو شروع سے لے کر اپنی تعلیم کے آخر تک کہیں پر بھی قرآن کریم پر غور کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
اور وہ پھر کہتے ہیں
وربما يبلغ الحوزوي مرتبة عالية في الفقه والأصول وهو لم يحيَ حياة القرآن ولم يخض تجربة التفاعل مع القرآن واستيعابه كرسالة إصلاح. وقد تمر الأيام والأسابيع ولا تجد طالب العلم يمسك المصحف الشريف ليتلو آياته ويتدبر فيها لعدم وجود صلة روحية عميقة بينه وبين القرآن. ولو وجد فيه زاده وغذاءه الذي يغنيه عن غيره لما استطاع تركه, وهذه مصيبة عظيمة للحوزة والمجتمع وربما لا يحسن بعضهم قراءته مضبوطةً بالشكل
اور شاید حوزہ کے شاگرد فقہ اور اصول میں اعلی مقام حاصل کرلیں ، لیکن وہ قرآن کریم کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتا ، اور نہ ہی وہ قرآن کریم پر عمل کر سکتا ہے اور نہ ہی قرآن کریم کا روحانی پیغام سمجھ سکتا ہے ۔اور آپ دیکھیں گے کہ ہفتے اور دن گذرجاتے ہیں لیکن علم کا طالب نہ قرآن کریم کو چھوتا ہے اور نہ ہی اس کی آیات کو پڑھتا اور نہ ہی ان پر غور کرتا ہے ، کیوں کہ اس کے اور قرآن کریم کے درمیان کوئی روحانی رشتہ نہیں ہوتا (۔۔) اور یہ حوزہ اور معاشرہ کے لئے شرم کی بات ہے اور شاید ان میں سے بہت یہ قرآن کریم کو پڑھنا بھی نہ جانتے ہوں۔
آیت اللہ محمد باقر حکیم تفسیر سورہ الحمد جلد 4-5 پر حوزہ میں تفسیر کے نصاب پر لکھتا ہے
وقد قمت بتدريس هذه المادة في وقت لم تكن الحوزة العلمية العربية في قم مع الأسف ملتزمة بتدريس هذه المادة العلمية في منهجنا الدراسي العام
اور میں نے یہ نصاب پڑھایا ہے جب قم میں عربی حوزہ موجود تھا ، بد قسمتی سے وہاں اس کی عام نصاب کی تعلیم کو پڑھنے کا عزم نہیں تھا۔
ڈاکٹر جعفر باقری ثوابت و متغیرات الحوزہ علمیہ0 پر اس کے بارے میں بہت سی جگھوں اور صفحہ 109-110پر لکھتے ہیں
من الدعائم الأساسية التي لم تلق الاهتمام المنسجم مع حجمها وأهميتها في الحوزة العلمية: هو القرآن الكريم، وما يتعلق به من علوم ومعارف وحقائق وأسرار، فهو يمثل الثقل الأكبر، والمنبع الرئيسي للكيان الإسلامي بشكل عام
ص 76
قرآن کریم اور اس سے متعلق علوم ومعارف اور حقائق واسرار ان بنیادی امور میں سے شامل ہے جن کا اہتمام اس کی اہمیت کے باجود حوزہ علمیہ میں نہ ہوا۔ حالانکہ یہی ثقل اکبر ہے، اور یہی قرآن اسلام کا عمومی طور پر مرکزی منبع ہے۔
وہ پھر کہتے ہیں
بل وإنه لم يدخل في ضمن المناهج التي يعتمدها طالب العلوم الدينية طيلة مدة دراسته العلمية؛ ولا يختبر في أي مرحلة من مراحل سيره العلمي بالقليل منها ولا بالكثير
اور قرآن کریم مذہبی علوم کے طالب علم کے منتخب نصاب میں اس کے پورے تعلیم دور میں کہیں پر شامل نہیں ہوتا، اور اس سے اس کے علم کے بارے میں پورے نصاب میں کہیں پر بھی امتحان نہیں لیا جاتا۔
اور وہ کہتے ہیں
فيمكن بهذا لطالب العلوم الدينية في هذا الكيان أن يرتقي في مراتب العلم، ويصل إلى أقصى غاياته وهو (درجة الاجتهاد) من دون أن يكون قد تعرف على علوم القرآن وأسراره ، أو اهتم به ولو على مستوى التلاوة وحسن الأداء
مذہبی علوم کے طالب علم کے لئے یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ قرآن کریم کے علوم اور ان کے راز کو جانے بغیر یا اس پر غور کئے بغیر کہ اس کو کیسے پڑھا جائے،علم میں ایک اہم مقام حاصل کر لے یا پھر مجتہد کے درجے تک پہنچ جائے۔
پانچویں وضاحت: حوزہ کے شیوخ اور طلباء کی تلاوت قرآن کریم سے پہلوتہی اختیار کرنا
آیت اللہ محمد یعقوب کتاب ثلاثہ یشکون ص 10 حاشیہ 3 پر لکھتا ہے
استقرأت عدداً من العينات العشوائية وكانوا من الطلبة المتقدمين للقبول في الحوزة الشريفة ، لاستبيان علاقتهم بالقران والمفروض إنهم يمثلون درجة من الوعي والإيمان الذي دفعهم لاختيار هذا المسلك ، فوجدت أن بعضهم لم يختم القران ولا مرة ، وآخر وهو متصدي للمنبر ختمه مرتين في حياته ،والكثير منهم يقرأ سوراً متفرقة في المناسبات والمواسم الدينية ، هذا على صعيدتلاوته ، أما فهمه واستيعاب معانيه والتأمل في مفاهيمه ومضامينه فالجهل هنا مطبق
میں نے بہت سے شاگرد دیکھیں ہیں جو کہ قرآن کریم کے ساتھ اپنا رشتہ جاننے کے لئے حوزہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ، اور شاید وہ کچھ حد تک اس سے باخبر ہو جاتے۔ اور یہ ان کا عقیدہ ہے جو کہ ان کو اس راستہ پر لاتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ان میں سے بہت ایک دفعہ بھی قرآن کریم کا ختم نہیں کرسکے اور ایک شخص جو کہ ممبر پر خطبہ دے رہا تھا، اس نے اپنی ساری زندگی میں صرف دو بار اس کو ختم کیا ہے ،ان میں کچھ لوگ مذہبی مواقع پر کچھ اجزاء ہی پڑھ لیتے ہیں۔ یہ تو تلاوت کی بات ہے، جہاں تک اس کتاب کی معنی ، تصور، اور مندرجات کو سمجھنے کی بات ہے تو اس سے مکمل جہالت پائی جاتی ہے۔
اوپر والا اقتباس ایک ماہر عالم کی گواہی ہے کہ جو کہ حوزہ میں پڑھاتے ہیں اور شاگردوں سے بہت رابطے میں رہتے ہیں ، اور وہ راز جانتے ہیں جو کہ ایک متوسط شیعہ سے چھپے ہوئے ہیں۔
چھٹی وضاحت: قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے والوں کا مذاق اڑانا اور ان کو کمتر سمجھنا
ہم نے دیکھا کہ کس طرح انہوں نے کتاب اللہ کو ترک کیا، اور یہ بھی دیکھا کہ کس طرح ان کے علماء اور طالب علم قرآن کریم کی تلاوت یا اس کے سکھانے پر زیادہ دھیان نہیں دیتے ، اور یہاں ہم ان کا ردعمل دیکھیں گے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نےقرآن کریم کو سیکھنے ، بیان کرنے اور اس کو سکھانے کا فیصلہ کیا ۔
ایران کے سب سے اعلی رہنما علی الخامنائی ، الحوزہ العلمیہ فی فکر الامام الخمینی ص 59-60 پر اور ثوابت و متغیرات الحوزة العلمیة ص 110-112 پر لکھتا ہے
إنّ الأمر لم يقتصر في الحوزة العلمية على هذا الحد، بل تجاوز ذلك، وأصبح الاهتمام بمجالات الدراسة القرآنية مدعاة للاستهزاء عند بعض دعاة العلم، القائلين بأن العلم كل العلم ينحصر بدائرة الأبحاث الأصولية والفقهية، وهذا ما دعا إلى توجيه سهام التجريح إلى المنشغلين بالقرآن والعلوم القرآنية
حوزہ علمیہ میں یہ مسئلہ یہیں پر بس نہیں ہوتا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ قرآنی علوم میں دلچسپی بعض اہل علم لوگوں کے ہاں ایک مزاق بن کہ رہ گئی ہے جو کہتے ہیں کہ پورے کا پورا علم فقہ اور اصول کی تحقیق تک محدود ہے۔ یہی وہ بات ہے جو کہ ان لوگوں کے لئے تنقید کا تیر ہے جو کہ قرآن کریم اور اس کے علوم میں خود کو مصروف رکھتے ہیں
اور خامنائی کہتا ہے
إذا ما أراد شخص كسب أي مقام علمي في الحوزة العلمية كان عليه أن لا يفسّر القرآن حتى لا يتّهم بالجهل.. حيث كان ينظر على العالم المفسّر الذي يستفيد الناس من تفسيره أنّه جاهل ولا وزن له علمياً لذا يضطر إلى ترك درسه.. ألا تعتبرون ذلك كارثة؟
اگر کسی شخص کو حوزہ علمیہ میں عالم کی سند چاہئے تو اسے خود کو قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے سے بچنا ہوگا ورنہ اس پر جاہلیت کا الزام لگے گا ۔۔۔ وہ ایسے عالم کو جو کہ لوگوں کو تفسیر اور تشریح کر کے فائدہ پہنچائے، اس کو جاہل کہتے ہیں تاکہ اسے اس تعلیم کو چھوڑنے پر مجبور کیا جائے ۔۔۔ کیا آپ اسے عظیم نقصان نہیں سمجھیں گے !
ایران کا مشہور عالم اور فلسفی شہید مرتضی مطہری اپنی کتاب احیا الفکر الدین فی الاسلام میں بہت سی جگہوں پر اس کا ذکر کرتے ہیں اور صفحہ 44-46 پر لکھتے ہیں
إنَّ الجيل القديم نفسه قد هجر القرآن وتركه، ثم يعتب على الجيل الجديد لعدم معرفته بالقرآن؟!
إننا نحن الذين هجرنا القرآن، وننتظر من الجيل الجديد أن يلتصق به، ولسوف أثبت لكم كيف أن القرآن مهجور بيننا؟!
إذا كان شخص ما عليماً بالقرآن، أي إذا كان قد تدبر في القرآن كثيراً، ودرس التفسير درسا عميقاً، فكم تراه يكون محترماً بيننا؟ لا شيء.
أما إذا كان هذا الشخص قد قرأ “كفاية” الملا كاظم الخراساني، فإنه يكون محترماً وذا شخصية مرموقة. وهكذا ترون أن القرآن مهجور بيننا.
وإن إعراضنا عن هذا القرآن هو السبب في ما نحن فيه من بلاء وتعاسة، إننا أيضاً من الذين تشملهم شكوى النبي صلى الله عليه وسلم إلى ربه: (( يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : 30)

پچھلے لوگوں نے خود ہی قرآن کریم کو چھوڑا اور الگ کیا ، اور وہ اب نئی نسل پر قرآن کریم سے بے راہ روی کا الزام لگاتے ہیں !؟ یہ ہم ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے اور اب نئی نسل سے قرآن سے وابستگی کی توقع رکھتے ہیں۔ اور میں آپ کو ثابت کر کے دکھا دوں گا کہ قرآن کریم کو ہمارے ہاں چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم کے متعلق علم رکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس کے مطالعے و معنی و تشریح میں گہرائی تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ آپ کیا سوچتے ہیں اس کو ہمارے ہاں کتنی عزت ملی گے ؟ کچھ بھی نہیں اور اس کے بر عکس اگر کوئی شخص مولا کاظم خراسانی کی کتاب کفایہ پڑھ لے تو اس کی عزت کی وہ قابل احترام اور ممتاز شخصیت بن جائے گا۔ یوں قرآن کو ہم نے ترک کر دیا۔ ہمارے موجودہ غم و دباؤ کا سبب قرآن کریم کو چھوڑنا ہے ، اور ہم ان میں سے ہیں جن کے خلاف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کریں گے۔ (اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا (سورہ فرقان آیت : 30)
وہ پھر کہتے ہیں
قبل شهر تشرّف أحد رجالنا الفضلاء بزيارة العتبات المقدسة، وعند رجوعه قال:إنّه تشرّف بزيارة آية الخوئي حفظه الله، وسأله:لماذا تركت درس التفسير الذي كنت تدرسه في السابق ؟ فأجاب:أنّ هناك موانع ومشكلات في تدريس التفسير! يقول، فقلت له:إنّ العلامة الطباطبائي مستمر في دروسه التفسيرية في قم. فقال:إنّ الطباطبائي يضحي بنفسه. أي أن الطباطبائي قد ضحى بشخصيته الاجتماعية. وقد صّح ذلك
ایک مہینہ پہلے ہمارے ایک قریب نیک شخص بعض مقدس آستانوں کی زیارت سے مشرف ہوا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے کہاکہ اس کو آیت اللہ الخوئی سے ملاقات کا شرف ملا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ نے تفسیر کے دروس دینا کیوں چھوڑ دیئے، جو آپ ماضی میں دیتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ تفسیر کے درس میں رکاو ٹیں اور مسائل ہیں۔ تب میں نے کہا کہ لیکن علامہ طباطبائی ابھی تک قم میں درس تفسیر دیتے ہیں ” تب انہوں نے مجھے کہا کہ طباطبائی اپنی قربانی دی رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ اپنی سماجی عزت کی قربانی دے رہے ہیں۔
مطہری نے علامہ خوئی کے ترک تفسیر کے متعلق کلام اور طباطبائی کی قربانی کے متعلق تعلیق کرتے ہوئے کہا:
إنه لعجيب أن يقضي امرؤ عمره في أهم جانب ديني كتفسير القرآن ثم يكون عرضة للكثير من المصاعب والمشاكل : في رزقه , في حياته, في شخصيته, في احترامه, وفي كل شيء آخر. لكنه لو صرف عمره في تأليف كتاب مثل “الكفاية” لنال كل شيء تكون النتيجة أن هناك آلافا من الذين يعرفون الكفاية معرفة مضاعفة أي أنهم يعرفون الكفاية والرد عليه ورد الرد عليه والرد على الرد عليه ولكن لا نجد شخصين اثنين يعرفان القرآن معرفة صحيحة . عندما تسأل أحدا عن تفسير آية قرآنية يقول لك : يجب الرجوع إلى التفاسير.
یہ عجیب سی بات ہے کہ ایک شخص نے اپنی تمام عمر دین کے اہم پہلو یعنی تفسیر قرآن میں صرف کی۔ پھر اس پر بہت سی مشکلات اور مصائب آئے رزق میں بھی ، زندگی میں بھی ،شخصیت میں بھی ، احترام میں بھی اور دیگر تمام چیزوں میں بھی۔ لیکن جب اس نے اپنی زندگی ایک کتاب مثلا “الکفایہ” میں صرف کی تو اس نے سب کچھ پا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو کفایہ کو جانتے ہیں اور اس پر رد کو بھی جانتے ہیں، اور اس رد پر رد کو بھی جانتے ہیں، اور اس رد پر رد کو بھی جانتے ہیں، لیکن ہمیں دو شخص نہیں ملتے جو قرآن کی صحیح معرفت کو جانتے ہوں۔ اگر کسی ایک سے آپ کسی قرآنی آیت کی تفسیر پوچھیں تو وہ آپ سے کہتا ہے کہ تفاسیر کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں ( سورہ کہف آیت 97)
اختتام – اس مضمون کا مصنف ہمارے عزت ماب شیخ اور سابق شیعہ عبدالمالک الشافعی ہیں جنہوں اس کا نام الفصام النکد رکھا تھا اور اس کا انگریزی ترجمہ ہانی الطرابلسی الشافعی نے فروری 28- 2012کو کیا۔