شیعہ رافضیوں پر کفر کے فتوی:تکفیر روافض پر چند شبہات کا ازالہ

*تکفیر روافض پر چند شبہات کا ازالہ*

*(📢نوٹ: اس فتویٰ کو پڑھ کر کوئی عالم/مفتی اب بھی یہ کہنے کا دعویٰ کرے گا کہ شیعہ مطلقاً کافر نہیں)*

ماہنامہ بینات جمادین 1408ھ کی خصوصی اشاعت *خمینی اور اثنا عشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ* پر مشتمل تھی جو ہند و پاکستان کے اکابر علماء کے فتاوٰی اور گرامی قدر، آراء پر مبنی ٹھوس مُدلل اور ناقابل انکار حقائق کی حامل ایک تحقیق و تاریخی دستاویز تھی *بینات* کی اس خصوصی اشاعت کے دو ایڈیشن چند ہی دنوں میں نایاب ہو گئے۔
قارئین کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر تیسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا۔ اُدھر ہندوستان میں حضرت مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ سے خلوص و اخلاص اور دعوات صالحہ کا ثمرہ کہ ہزاروں کی تعداد میں *الفرقان* اور پھر کتابی شکل میں اس عظیم تحقیقی کتاب نے *ایرانی انقلاب اور خمینی* سے بڑھ کر کام دکھایا اس سے جہاں ابن سبا کی اولاد کو اپنی روائے تقیہ تار تار ہوتے دکھائی دینے لگی وہاں کسریٰ کے جانشین خمینی کے ایوان میں زلزلہ اور بھونچال سا ہو گیا۔ لہذا شیعہ لابی نے اپنی خفت کو عفت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک گُمنام مفتی صاحب سے اپنی منشاء کا فتویٰ حاصل کر کے ایران اور پاکستان کے شیعی حلقوں میں اچھال کر سرخرو ہونے کی ناکام کوشش کی *بینات* کے ایک قاری نے ڈیرہ غازی خان سے اس فتویٰ کی ایک کاپی بھیج کر تشفی چاہی تھی کہ حضرت مولانا محمد عاشق الٰہی بلندشہری رحمہ اللہ کا جواب میسر آ گیا جو انشاءاللہ اس سلسلہ کی تشکیک کے لئے تریاق ثابت ہوگا۔
(سعید احمد جلال پوری عفی عنه)

✍ روافض کا فرقہ اپنے عہد اول سے اسلام اور مسلمان کا اور قرآن کا اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا بہت بڑا دشمن رہا ہے مکاری اور تقیہ (جھوٹ) کے ہتھیار سے مسلح ہونے کی وجہ سے عامۃ المسلمین بلکہ بہت سے علماء پر بھی ان کا کفر مخفی رہا ہے۔ ہندوستان میں حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمة الله مایہ ناز پہلے شخص ہیں جنہوں نے گذشتہ صدی میں روافض کی کتابوں کا خوب وسیع مطالعہ کیا اور یہ یقین ہو جانے کے بعد کہ فرقہ اثناء عشریہ عقائد کفریہ رکھتا ہے، ان پر کُفر کا فتویٰ دیا۔ بہت سے لوگوں کو ضرورت سے زیادہ احتیاط کی پاسداری ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ علی الاطلاق روافض کو کافر نہ کہا جائے کیونکہ ان کے بہت سے فرقے ہیں ہر ایک کا حال معلوم نہیں ہے۔ البته مقید کر کے یوں کہنا چاہئے کہ جو شخص تحریف قرآن کا یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بھول کر غیر علی پر وحی لانے کا قائل ہو یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا پر تہمت کو صحیح جانتا ہو وہ کافر ہے۔
♦️درحقیقت شیعوں کے کُفریہ عقائد پر ان کے عقیدہ تقیہ(جھوٹ) نے پردہ ڈال رکھا تھا جب کوئی شخص ان کے مذکورہ عقائد کے بارے میں گفتگو کرتا تو کہہ دیتے کہ یہ ہمارے عقیدے نہیں ہیں، اِن کی کتابیں بھی زیادہ تر سامنے نہ آئی تھیں۔ دور حاضر میں ان کی کتابیں چھپ کر سامنے آ گئی ہیں اور خمینی نے اپنی کتاب *کشف الاسرار اور الحکومۃ الاسلامیہ* میں واضح طور پر عقائد کفریہ شائع کر دیئے ہیں جن لوگوں نے ان کو امام مانا وہ سب ان عقائد کفریہ کو تسلیم کرنے کی وجہ سے کافر ہو گئے۔ ایران کے علاوہ دوسرے تمام ممالک کے شیعہ تقریباً سب ہی خمینی کو امام مان چکے ہیں۔ الاما قل و شَذّ۔ اور خمینی نے جو عقائد کفریہ شائع کئے ان (عقائد) کی پورے عالم کے روافض میں سے کسی نے بھی تردید نہیں کی، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تمام روافض اثناء عشریہ ان عقائد سے متفق ہیں۔
آج کل شیعوں کے بہت سے فرقے کہاں ہیں جو یوں کہا جائے کہ تمام روافض کو علی الاطلاق کافر کہنے سے اجتناب کیا جائے پورے عالم میں اس وقت ان کے دو ہی فرتے ہیں۔
♦️*ایک فرقہ تفضیلی ہے جو یمن میں پایا جاتا ہے یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیگر تمام صحابہ کرام سے افضل جانتے ہیں۔ اور فروع میں فقہ شافعی پر عمل کرتے ہیں اس بات سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ اگر چہ ان کا مسلک تفضیلی عام روایات حدیث کے خلاف ہے، اور اس فرقہ کا کوئی عقیدہ کفریہ سامنے نہیں آیا۔ لہذا اس کو کوئی کافر بھی نہیں کہتا*
(ردالمحتار – کتاب الجهاد باب المرتد مطلب علم في حكم ساب الشخين -۱۴-۲۳

♦️*دوسرا فرقہ اثناء عشریہ جس کے عقائد کفر یہ بالکل واضح اور ظاہر ہیں۔ *حضرت مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ مدیر اعلیٰ ماہنامہ الفرقان لکھنئو* کو الله تعالیٰ جزائے خیر دے جنہوں نے فرقہ *اثناء عشریہ* کے عقائد کُفریہ کی ان کی کتابوں سے نشان دہی فرمائی پر ایک سوال مرتب فرمایا *جس کا جواب مولانا حبیب الرحمن اعظمیٰ رحمہ الله نے تحریر فرمایا ہے اور فرقہ اثناء عشریہ کو کافر قرار دیا ہے* ہند و پاک کے بڑے بڑے علماء و مفتیان کرام نے اس پر اپنی تصدیق توثیقی دستخط ثبت فرما دیے ہیں یہ مجموعہ دونوں مُلکوں ہند و پاک میں شائع ہو چکا ہے، روافض کی طرف سے اب تک ایسی کوئی بات کسی فرد یا ادارہ یا انجمن نے شائع نہیں کی کہ یہ ہمارے عقائد نہیں ہیں اور جب تک کوئی فرقہ، فرقہ اثناء عشریہ سے منسلک رہے گا، ان عقائد کُفریہ سے برات ظاہر نہیں کر سکتا ورنہ وہ اپنے دین سے ہاتھ دھو بیٹھے گا*
♦️مذکورہ بالا فتویٰ اور اس کی توثیقات اور تصدیقات کے طبع ہونے کے بعد ایک صاحب کو اظہارِ حق کا جوش آیا۔ یہ صاحب احمد علی سعید ہیں جن کو دارالعلوم دیوبند کا مفتی اعظم ظاہر کیا گیا ہے ان کا حالیہ فتویٰ رسالہ “توحید” تہران میں ایرانی حکومت نے شائع کیا ہے۔ اس فتویٰ میں تحریر کیا ہے کہ روافض علی الاطلاق کفر کا فتویٰ لگانا غیر شرعی جسارت ہے۔ لیکن ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ “فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جو ان ضروریات دین کا منکر ہو جو نصوص معلومہ سے ثابت ہیں اس پر کُفر کا فتویٰ لگایا جائے گا” اور یہ بھی لکھا ہے کہ “جس کا عقیدہ ہو کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وحی کے لانے میں غلطی کی ہے یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحبت رسول کا قائل نہ ہو یا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا پر بہتان تراشی کرتا ہو تو ایسا عقیدہ رکھنے والے پر کُفر کا حکم لگایا جائے گا”
نیز یہ بھی لکھا ہے کہ تمام شیعوں کا عقیدہ یہ نہیں۔
مفتی صاحب موصوف کو روافض سے ضرورت سے زیاد حُسن ظن ہے حالانکہ جو روافض فرقہ “اثناء عشریہ” سے متعلق ہیں (اور علی الاطلاق ان ہی کو شیعہ کہا جاتا ہے) ان میں سے کوئی شخص بھی مذکورہ بالا عقائد سے بیزاری ظاہر کرنے والا نہیں ہے جب سے روافض کو علی الاطلاق کافر کہا گیا ہے اور حضرت مولانا حبیب الرحمٰن رحمہ اللہ کا فتویٰ مع تصدیق علماء حق روافض کی تکفیر کے بارے میں شائع ہوا ہے اس کو تقریباً ایک سال گزر رہا ہے کسی شیعہ نے بھی یہ اعلان نہیں کیا کہ ہم ان عقائد سے بری ہیں۔ اگر شیعہ ان عقائد سے بیزار ہیں تو اسی رسالہ توحید ہی میں احمد علی صاحب کے فتوے کے ساتھ ہی ان عقائد سے اپنی بیزاری شائع کر دیتے جن کی وجہ سے ان پر کُفر کا فتویٰ عائد کیا گیا۔ مفتی صاحب موصوف نے تحریر فرمایا کہ *جن روافض کا عقیدہ ہے وہ اقل قلیل ہیں* مفتی صاحب کی یہ بات غلط ہے کیونکہ فرقہ “اثناء عشریہ” کا ہر فرد ان عقائد کا حامل ہے اگرچہ وہ اظہار نہیں کرتا لیکن قرائن واضحہ سے یہ بات مُحقق ہے کہ ان سب کے یہی عقائد ہیں، مفتی صاحب نے خود بھی یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ قرائن واضحہ سے مفتی کو جب یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا یہ عقیدہ ہے تو کفر کا فتویٰ اس کے بارے میں دے سکتا ہے۔
مفتی صاحب موصوف کا فرمانا کہ *جن شیعہ کے عقائد کفریہ ہیں وہ اقل قلیل ہیں* تعجب خیز ہے کیا مفتی صاحب پورے عالم کے روافض سے مل کر اور ہر اک کا عقیدہ معلوم کرکے یہ بات لکھ رہے ہیں یا رجمابالغیب یہ ارشاد فرما رہے ہیں؟
♦️جناب مفتی صاحب نے شرح فقہ اکبر” سے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ اگر کسی کے کلام میں ۹۹ احتمال کفر کے ہیں اور ایک احتمال اس کی نفی کا ہے تو کفر کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیے مفتی صاحب نے اپنی بات کو موئید کرنے کے لئے اس عبارت کو بےجا پیش کیا ہے اور اس کا غلط سہارا لیا ہے۔ جن کفریہ عقائد کی بنیاد پر حضرات اکابر نے روافض پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے ان میں سے کسی ایک میں بھی غیر کُفر کا ایک فیصد بھی احتمال نہیں ہے جو شخص یہ کہتا ہو قرآن مُحرف ہے *اس میں کفر ہی کفر ہے* ایمان کا کون سا احتمال مفتی صاحب کو نظر آ رہا ہے؟؟؟
♦️*اس زمانہ میں لاعلمی میں بہت سے مفتی دُشمنوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں اس وقت جناب احمد علی صاحب نے اپنا فتویٰ لکھ کر اہل حق کے فتویٰ کی تردید کرنے کی بےجا جسارت کی ہے۔ روافض کے ہاتھ میں انہوں نے ایک بہت بڑا ہتھیار دے دیا تاکہ وہ مُکفرین کو غلطی پر بتا سکیں.پھر فتویٰ بھی دار العلوم دیوبند کے مفتی اعظم کی طرف سے منسوب ہے حالانکہ یہ صاحب دارالعلوم دیوبند قائم کردہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی قدس سرہ کے مدرسہ میں نہ مُدرس ہیں نہ مفتی ہیں مفتی اعظم تو کیا ہوتے*
♦️روافض، اہلسنّت کو ان کے اکابر کو حتیٰ کہ حضرات صحابہ کرام تک کو کافر کہتے ہیں جن میں حضرات خلفائے ثلاثہ، سیدنا ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین بھی ہیں بلکہ وہ حضرت رسولﷺ پر بھی یہ تہمت رکھتے ہیں کہ آپ نے العیاذباللہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ڈر امت کو اللہ تعالیٰ کا پیغام نہیں پہنچایا جو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت سے متعلق تھا۔ جو لوگ رسولﷺ پر کتمان حق کا الزام لگاتے ہوں کوئی تاویل والا مفتی ان کو کہاں تک دائرہ اسلام میں رکھ سکتا ہے؟ شیعہ خود اپنے اقرار سے رسولﷺ کے دین پر نہیں ہیں۔ اہلسنت الحمد اللہ اسی دین پر ہیں جو رسولﷺ الله تعالیٰ کی طرف سے لائے اور وہی حقیقتاً دین اسلام ہے، روافض کا اپنا بنایا ہوا خود ساختہ دین وہ ہے جسے وہ حضرات ائمہ اہلبیت علیہم الرحمتہ والرضوان کی طرف منسوب کرتے ہیں جب وہ دین محمدی ﷺ پر ہیں ہی نہیں اور وہ اہلسنّت کا دین اور اپنا دین الگ الگ بتاتے ہیں اہلسنّت کو کافر کہتے ہیں تو علماء اہلسنّت نے اگر ان کو دائرہ اسلام سے خارج بتا دیا تو کون سی غلطی کی؟ روافض کو اس پر ذرا بھی افسوس نہیں ہے کہ وہ اہلسنّت کے اس دین پر نہیں ہیں جو رسولﷺ کا دین ہے ان کو تو اپنے خود ساختہ دین پر فخر ہے وہ تو اہلسنّت کے دین کو اختیار کرنے کو تیار نہیں اور ہمارے مفتیان کرام میں جو ان کو خواہ مخواہ دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی بے جا کوشش میں لگے ہوئے ہیں مفتی احمد علی صاحب کسی شیعہ سے یہ کہلوا دیں کہ میرا دین وہی ہے جسے حضرت خاتم النبیینﷺ لے کر آئے تھے۔ اس کے بعد اُن کے داخل فی الاسلام ہونے کی بات کریں روافض صاف یوں نہیں کہتے کہ ہمارا دین اسلام نہیں ہے لیکن عقائد کُفریہ کی وجہ سے ان کا دعواۓ اسلام غلط ہے۔ یوں تو قادیانی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں حالانکہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔ ان کو پاکستان قومی اسمبلی میں ہر فرقے اور ہر جماعت نے کافر قرار دے دیا وہ پھر بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اس زبردستی کے دعویٰ کا اس دنیا میں علاج ہو جاتا اگر کسی جگہ اسلامی قانون کا نفاذ ہوتا اب تو آخرت ہی میں ان کے کُفر کی سزا ملے گی، جوابدہی ہوگی۔
♦️درحقیقت ان آخری سات آٹھ سال میں جس طرح کُھل کر روافض کا کُفر سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے کبھی اس قدر واضح ہو کر سامنے نہیں آیا تھا کچھ عجب نہیں کہ سمجھدار شیعہ خمینی کی امامت کو شیعوں کے لئے اس اعتبار سے بہت زیادہ ضرر رساں اور خطرناک قرار دے رہے ہوں کہ اس کی باتوں اور کتابوں سے اہلسنت پر روافض کا کُفر پوری طرح عیاں ہو گیا جو اب تک تقیہ کے غلیظ حجاب میں مستور تھا۔
♦️ساری دنیا کو معلوم ہے کہ روافض تمام صحابہ مہاجرین و انصار کو کافر کہتے ہیں اور یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ ان کی ہر مجلس تبرّا پر ختم ہوتی ہے، جو شخص مہاجرین و انصار کو کافر کہتا ہے وہ قرآن مجید کی تصريح رضی الله عنهم ورضوا عنه کو جھٹلاتا ہے، جو سورۃ توبہ میں موجود ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ شیعوں کو تحریف قرآن کا اسی لئے قائل ہونا پڑا کہ وہ مہاجرین و انصار کے کفر کے قائل ہیں۔ ان کو ایک کفر نے دوسرے کفر میں دھکیل دیا۔ مفتی احمد علی کسی شیعہ سے یہ کہلوا دیں کہ مہاجرین و انصار اہل ایمان تھے اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔ اگر مفتی صاحب ان کو کافر کہنے کو تیار نہیں تو کیا وہ تصریح قرآن کی تکذیب کی وجہ سے عِنداللہ کافر نہ ہوں گے؟
ہم شیعوں کو بھی دعوت فکر دیتے ہیں ان میں سے ہر شخص غور کرے کہ میں محمد رسولﷺ کے دین پر ہوں یا نہیں؟ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم، تمام مہاجرین و انصار جیسے بھی ہوں الله تعالیٰ کا ان کا معاملہ ہے تم اپنے ایمان کی تو فکر کرو کیا بارہ اماموں کا عقیدہ رسولﷺ سے منقول ہے؟
کیا ان اماموں کے معصوم ہونے کے بارے میں رسول ﷺ نے کچھ ارشادفرمایا؟ کیا تقیہ اور تبرّا کی تعلیم رسولﷺ نے دی ہے؟
غور کریں اور خوب کریں اور یہ بھی بتائیں کہ رسول اللہﷺ دنیا سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر تشریف لے گئے یا نا کام؟؟ شیعہ کامیابی والی بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے نزدیک چار پانچ کے علاوہ سب صحابہ کافر تھے اور ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت رسولﷺ حضرت علی رضی الله عنہ کی خلافت کا اعلان نہ کر سکے اگر شیعوں کی یہ بات مان لی جائے تو رسولﷺ کی محنت رائیگاں گئی، شیعوں کی اس بات سے آیت قرآنی *لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ* کی تکذیب لازم آتی ہے۔


(*اس بارے مزید تحقیق کے لیے ایجاد مذہب شیعہ مولانا اللہ یار خاں رحمہ اللہ کی عمدہ ترین کتاب ہے*)

ایجاد مذہب شیعہ ( مولانا اللہ یار خاں)


*ہم خیر خواہانہ طور پر شیعوں کو غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں*
♦️فتویٰ کا تعلق تو روافض کی تکفیر سے تھا لیکن جناب احمد علی صاحب حرم شریف کے فساد کو بھی درمیان میں لے آئے جو وہاں سہ ١٤٠٧ھ کے حج کے موقع پر ہوا تحریر فرماتے ہیں کہ *رہی یہ بات کہ ایران کے شیعوں نے حرم شریف میں فساد کیا اگر یہ بات صحیح ہی ہو کہ انہوں نے فساد کیا ہے تو اس فعل کی وجہ سے بھی ان پر کُفر کا فتویٰ کسی طرح بھی عائد نہیں ہوتا*
*معلوم ہوتا ہے کہ شیعوں نے یہ بات احمد علی صاحب سے لکھوائی ہے مُفتیان کرام نے اس فساد کی وجہ سے ان کو کافر نہیں کہا ان کی وجوہ کفر اور ہیں جو فتویٰ میں ذکر کی گئی ہیں*
جناب احمد علی صاحب نے اول تو شیعوں کو فساد سے بری کرنے کے لئے مذکورہ بالا عبارت میں یہ الفاظ لکھ دیئے ہیں کہ اگر یہ بات صحیح ہی ہو کہ انہوں نے فساد کیا‘‘ پھر یہ تحریر فرمایا کہ اب حرم میں جو کچھ ہوا کس نے پہل اور ابتداء کی، اس کے مقاصد کیا تھے اور کس نے دفاع کیا اس کو تو صحیح طور پر دونوں حکومتیں ہی جانتی ہیں (الی ان قال) کیسے کہا جائے کہ اس میں سُنی مسلمان شریک نہیں تھے اس لئے کہ ایران میں صرف شیعہ ہی نہیں بستے، سُنیوں کی بھی لاکھوں کی تعداد ہے، کیا ان میں سے کوئی حج کو نہیں گیا تھا اور اس میں شریک نہیں تھا؟
مفتی صاحب نے خواہ مخواہ ایسے احتمالات پیدا کئے ہیں جن سے شیعوں کا حُجاج پر حملہ آور ہونا اور “البلدُالامین” میں فساد برپا کرنا محض ایک مشکوک سی بات ہو کر رہ جاتی ھے جس سے بڑی حد تک شیعوں کا دامن فساد اور قتل و قتال سے پاک ہو جاتا ہے، یا وہ لوگ جنہوں نے ان سے فتویٰ لکھوایا اور صحیح حال اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن انہوں نے دانستہ یا نادانستہ طور پر جو شیعوں کی حمایت کی ہے وہ جسارت بے جا ہے،
مختلف ممالک کے حُجاج موقع پر حاضر تھے جنہوں نے آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے خواہ مخواہ ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے اور جھوٹی شقیں نکال کر ان کو جھوٹا اور روافض کو شر و فساد سے بری قرار دیا جا رہا ہے ایرانی شیعہ تقریباً اٹھارہ سال سے حج کے نام پر حرمین آتے رہے ہیں اور شر و فساد کرتے رہے ہیں، جناب احمد علی صاحب نے مُمکن ہے اس لمبی مُدت میں حج کیا ہو تو شیعوں کی حرکات سے صرفِ نظر کر گئے ہوں ورنہ ایسی بات نہ لکھتے بلاشبہ ایران میں اہلسنّت والجماعت رہتے ہیں اول تو ان کی تعداد بہت کم ہے پھر وہ جو حج میں تھوڑے سے آتے تھے وہ تو دوسروں مسلمانوں کی طرح صرف حج کرنے آتے ہیں شیعوں کے ساتھ کسی سال بھی انہوں نے شر وفساد اور نعرہ بازی میں شِرکت نہیں کی اَحقر کو برسہا برس سے ہر سال حج کی سعادت نصیب ھوتی ہے شیعوں کا شر و فساد ہر سال سامنے آتا تھا لیکن سعودی حکومت قصداً طرح دے جاتی تھی اور چشم پوشی سے کام لیتی تھی جب سر سے پانی اونچا ھو گیا تو حکومتِ سُعودیہ کو وہ اقدام کرنا پڑا جس کی ذمہ داری ان پر آتی تھی.
شیعہ قرآن کو مانتے نہیں ورنہ سورۃ الحج کی آیت *وَ مَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍۭ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿٪۲۵﴾ سورۃ الحج* کو سامنے رکھتے اور وہ حرکت نہ کرتے جو انہوں نے مکہ معظمہ میں ١٤٠٧ کے حج میں کی آخر حج کے موقع پر چاقُو اور چُھری لے کر جلوس نکالنا حج کا کون سا رُکن ھے؟؟
مفتی احمد علی صاحب ہی اس عقدہ لاینحل کو حل کر سکتے ہیں. فتویٰ کے آخر میں احمد علی صاحب نے لکھا ہے کہ موجودہ وقت میں جو کچھ ھے مفاد پرستوں اور اقتدار پرستوں کا ایک نیا فتنہ ھے ہمارے نزدیک احمد علی صاحب کا فتویٰ کچھ اس انداز کا ہے کہ نہیں مفاد پرستوں نے استعمال کر لیا ہے اور اہل کُفر کے کُفر ظاہر ہو جانے کے بعد ان کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کی ضِد کرنا یا ایک مستقل فتنہ ہے۔ الله ہم سب پر رحم فرمائے اور شیعہ کے مکائد اور دسائس سے محفوظ رکھے یہ بات قابل سوال ہے کہ دیوبند کا لکھا ہوا فتویٰ ایران کیسے پہنچا اور وہاں کیسے چھپا اور وہاں کے رِسالہ میں چھپنے کے لئے کس نے دیا اور یہ فتویٰ ہندوستان کے جرائد میں کیوں نہ آیا؟
فالى الله المشتکی و هو المستعان

*بشکریہ ماہنامہ الفاروق کراچی صفر ١٤٠٩
کتبہ: محمد عاشق الٰہی بلند شہری
بنات رجب المرجب ١٤٠٩ھ*