شیعہ اعتراض حضرت عائشہ و حفصہ(رضی اللہ عنہا) کے دل ٹیڑھے ہو گئے

🔴شیعہ اعتراض 🔴
حضرت عائشہ و حفصہ (رضی اللہ عنہا) کے دل ٹیڑھے ہو گئے
(بخاری مترجم جلد ۳ ص ۵۹ ترمذی مترجم منه ۵۳۷ الکشاف، تفسیر فی ظلال القرآن)

💠الجواب اہلسنّت💠
محترم حضرات مذکورہ چار کتابوں میں دو مترجم اور دو عربی عبارت پر مشتمل ہیں ان میں ایک ہی واقعہ کا ذکر ہے کہ سائل نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حج کے موقع پر یہ سوال کیا کہ جن دو ازواج مطہرات کے بارے میں یہ آیت “فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا“ نازل ہوئی وہ کون کون ہیں تو سائل (حضرت عبد اللہ ابن عباس) کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سوال کا جواب ارشاد فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

🔸 اسی ایک واقعہ کو چار کتابوں سے نقل کیا گیا ہے جس کے عکس شیعہ تحقیقی دستاویز نے لگا کر ازواج مطہرات کی گستاخی اور بے ادبی قرار دیا ہے کہ دیکھو خود اہل سنت ازواج مطہرات کی گستاخی کرتے ہیں اور ان کی کتابوں میں یہ گستاخانہ عبارت موجود ہے۔

قارئین کرام……! رافضی دجل وفریب کی کرشمہ سازی ملاحظہ فرمایئے کہ اپنے فاسد دماغ سے آیت کا غلط ترجمہ ( کہ ان دونوں کے دل ٹیڑھے ہو گئے ) ایجاد کر کے اس خانہ ساز ترجمہ کو اہلسنّت کے کھاتے ڈال کر گستاخی کا نام دے دیا،
جبکہ یہ ترجمہ غلط ہے ملاحظہ فرمائیں شیعہ تحقیقی دستاویز کا صفہ نمبر 535 جس پر بخاری مترجم کا عکس صف نمبر ۱۵۹ دیا گیا ہے اس پر باب نمبر ۱۱۳ کی پہلی حدیث کی سطر نمبر ۳ اور چار پر آیت کا ترجمہ لکھا ہے “تمہارے دل پھر گئے ہیں تم اللہ سے توبہ کرو” اور شیعہ کتاب تحقیقی دستاویز کا صفحہ ۵۳۷ پر عکسی صفحہ کے تحت صرف ایک نصف سطر کا حاشیہ ہے جس پر ترجمہ ہے تمہارے دل راہ حق سے کچھ ہٹ گئے ہیں۔
گویا خود ان کے دیے ہوئے کسی صفحوں پر وہ مطلب نہیں بنا جو کہ رافضی کرم فرماؤں نے سُرخی بنا کر لکھا ہوا ہے بلکہ خود تراشیدہ اور خانہ ساز مطلب کو گستاخانہ عبارت بنا ڈالا ہے۔ اور یہی رافضی دماغ کا کمال ہے کہ وہ بات کا بنگر بنانے اور الزام تراشی کرنے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔

♦️2. مذکورہ آیات ان ہر دو امہات المؤمنین جن کی عظمت پر روشن دلیل ہیں جیسا کہ ہم عرض کریں گے مگر آپ رافضی قلمکار کی کوڑ مغزی پر داد دیجیے کہ دعوی ہے اہلسنّت بھی ازواج مطہرات کے گستاخ ہیں اور جواب میں جو کتاب پیش کی وہ ہے آیت قرآنی جس کی تفسیر حدیث کی شکل میں موجود ہے
ملاحظہ فرمایئے ایک طرف وہ قرآن پاک کو ازواج مطہرات کا العياذباللہ گستاخ قرار دے رہے ہیں دوسری طرف وہ قرآن و حدیث سے صاف دستبرداری کا اعلان کر رہے ہیں کہ یہ تمہاری کتابیں ہیں ہماری نہیں۔ اور یہی بات اگر ہم کہہ دیں کہ رافضی قرآن کا دشمن اور اس کا انکاری ہے تو تحقیقی دستاویز والے منہ بنا لیتے ہیں اور زور شور سے دعویٰ کرنے لگتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں انکار کرنے والے تو جاہل شیعہ ہیں محققین کا تو یہ مذہب نہیں۔
تحقیق دستاویز : 58تا 45

♦️3. ان آیات و احادیث میں نہ تو کوئی بے ادبی کا پہلو ہے اور نہ ہی گستاخی کا ۔ بلکہ مال درجے کی عظمت و بلند مرتبہ کا واشگاف اعلان ہے روافض نے جو بھونڈا ترجمہ کیا ہے اس سے البتہ عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ واقعی یہ بھی سوء ادب اور ازواج مطہرات کی گویا گستاخی ہے مگر درست یہ ہے کہ دل ٹیڑھے ہو گئے‘ کا ترجمہ خانہ ساز اور بناوٹی ہے
ملاحظہ فرمائیں لفظ صفت صغو سے ہے اور صغو کا معنی ہے میلان، پس کسی چیز سے میلان ہو تو عربی لغت میں اس مفہوم کو ادا کرنے کیلئے حسب ذیل الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
زیغ، ادعوا، تخر، انحراف
♦️اور اگر کسی چیز کی طرف میلان ہو تو عربی لغت میں اس کے لیے درج ذیل الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔
في، التفات، توریۃ، صغو، انابت
صفت کے متعلق عربی اصطلاحات درج ذیل ہیں:

صغوه معك: اس کا میلان تیرے ساتھ ہے۔

اصغيت الى ندان: تو نے اس کی طرف میلان کیا۔ .

ابعي يعلم بمصغی خده – لڑکا خسارے کے مال کرنے سے معلوم کیا جاتا ہے۔

اصغت الشمس و النجوم – سورج اور ستارے مائل ہو چکے ہیں

كان يصغي لها الاناء ۔ آپ نے بلی کیلئے برتن کو نیچے مائل کر دیا۔
معلوم ہوا کہ صغوا کا معنی مائل ہونا ہے۔ لہذا اس آیت میں بھی اس لفظ صغوا کا معنی مائل ہونا ہے اور جو لوگ اس تحقیق معنی کو چھوڑ کر غلط مفہوم کی رٹ لگاتے اور سرخیاں جماتے ہیں وہ قساوت قلبی کے مریض ہیں۔

🔵اس ترجمہ کی مزید تائید 🔵

جان لینا چاہئے کہ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سے قبل إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ کا جملہ موجود ہے جو شرط ہے اور نہ صفت قُلُوبُكُمَا جزا ہے اس طرح کے جملے عرب کی اصطلاح میں اور قرآن مجید میں بکثرت استعمال ہوئے ہیں جیسے۔

1. إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ .
“اگر تم فتح کے طلبگار ہو تو پس تمہارے پاس وقت آگئی ہے‘‘

2.فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ
اگر وہ لوگ تیری تکذیب کرتے ہیں تو پس آپ سے پہل نبیوں کی تکذیب کی گئی ہے۔

3. إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ – “اگر تم نے رسول کی امدادا نہیں کی تو پس اللہ تعالی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خود بخود امداد فرما دی۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں شرط و جزاء کی طرز کے جملہ بکثرت استعمال ہوۓ ہیں لہذا اس آیت میں بھی إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ شرط اور فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا” اس کی جزا ہے جس کا معنی یہ ہے۔
اور اگر تم دونوں بیبیاں خدا کی طرف رجوع کرو تو پس تمہارے دل خدا کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔

⭕اس ترجمہ کو ملاحظہ فرمانے کے بعد ارباب علم ارشاد فرمائیں کہ کیا یہ آیت ان دو مقدس ازواج کی تحقیر کو واضح کر رہی ہے یا ان کی خوبصورت طریقہ سے تربیت کر رہی ہے؟؟؟
حق یہ ہے کہ مذکورہ روایت کا ترجمہ وہ ہے جو پوری وضاحت سے ہم نے عرض کر دیا اور جو ترجمہ روافض نے گھڑا ہے یہ ان کے اپنے ٹیٹرھے دل کا ٹیڑھا پن ہے جو خود ٹیڑھا ہو کر سب کو ٹیڑھا دیکھتا ہے
مثل مشہور ہے
المرء يقيس على نفسه . .
آدی دوسرے کو اپنے اوپر قیاس کرتا ہے ( کہ جیسا میں ہوں دوسرا بھی ویسا ہی ہو گا)۔

🔸5. جس کی آنکھوں میں کالا جالا ہو اسے تو تمام چیزیں کالی ہی نظر آتی ہیں مگر جو کچھ اس کی بیمار آنکھ نے دیکھا ایسے ہی حقیقت نہیں بن جاتی رافضی بیمار مغز تو اہل سنت کی اس بات پر خوب بغلیں بجاتے ہیں کہ یہ توہین ہے اور ازواج مطہرات کی توہین خود اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہے مگر حق اس کے علاوہ ہے بلاشبہ اہل سنت کی کتابوں میں بلکہ اہل سنت کی طرف عطیہ خداوندی سے حاصل ہونے والی سب سے عظیم کتاب قرآن کریم میں یہ سب واقعہ موجود ہے مگر یہ واقعہ ازواج مطہرات کی رفعت مقام کو چار چاند لگا رہا ہے وہ اس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو علم آتا ہے وہ براه راست اللہ پاک کی طرف سے آتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بلندی مرتبہ کی یہ بڑی دلیل ہے کہ اس کا براہ راست تعلق اللہ جل شانہ کی ذات عالی کے ساتھ قائم ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ کہا، کرنا اور بولنا ہو وہ سب اللہ تعالی کی اجازت سے ہوتا ہے انبیاء کی تربیت کے بعد اللہ تعالیٰ کی خاص تربیت کا حصہ ازواج مطہرات کو حاصل ہوا کہ اگر کبھی نا مناسب کام ہو گیا تو انسانوں کی بجائے خود اللہ تعالی نے ان کی تربیت فرمائی اور تعلیم کیا کہ یوں کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ گھریلو معاملات میں نشیب و فراز کا ہر شخص کو سامنا کرنا ہوتا ہے۔ عورت سے کمی کوتاہی عام طور پر ہو جایا کرتی ہے اس کوتاہی پر باپ ماں شوہر یا خاندان کے بزرگ اور بڑے حضرات اصلاح کا فرض نبھاتے ہیں مگر ازواج مطہرات کیلئے معاملہ دوسرا ہے کہ الله تعالیٰ خود ان کے لیے اسلامی احکام نازل فرماتا ہے اور تو اور اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی نہیں فرمایا کہ آپ ان کی یوں تربیت فرما، بلکہ بذریعہ وحی جلی کے ازواج مطہرات کو خود مخاطب بنایا۔

اور یہی بات ان مقدسہ ازواج کے لیے عظمت کی دلیل ہے کہ ان کی تربیت و اصلاح خود اللہ تعالی کی اپنی وحی و کلام سے ہوئی ہے۔
بادشاہ کسی کے نام چند حروف تقریر کے لکھ دے تو وہ پھولا نہ سمائے کہ بادشاہ نے مجھے یاد کیا اور جن کو بادشاہوں کا بادشاه نہ صرف بلائے بلکہ ان کی گھریلو اور نجی زندگی پر بھی رہنمائی فرمائے اس کی عظمت شان کا کیا مکان ۔ مگر عزت و عظمت کے جگمگاتے چراغ آنکھوں والے ہی دیکھ پائیں گے بصیرت سے محروم ظاہر میں بھلا إن حقائق تک رسائی کہاں پائیں گے کہ جن کی زندگی معصیتوں کا بحر ناپید ہو اور اللہ تعالی کی عنایات کا وافر حصہ انہیں نہ ملا ہو۔

🔸6: سورة تحریم کی آیات کے شان نزول میں کچھ واقعات درج ہیں جیسے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا آپ کو شہد پلانا اور اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا و حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ آپ کے منہ مبارک سے بو آرہی ہے۔ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا اپنے گھر میں ایک باندی کے ساتھ تخلیہ میں دیکھ کر غیرت نسوانی کا شکار ہو جانا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا جنت کا راز کو ظاہر کر دینے والا واقعہ۔
ان واقعات کو سنی کتابوں سے نقل کر کے حضرات امہات المومنین کی گستاخی سے تعبیر کیا گیا حالانکہ ان واقعات میں بے ادبی اور گستاخی کا پہلو ہرگز نہیں بلکہ چند باتوں کی وضاحت ہے

🔹1۔ انبیاء کے علاوہ کوئی معصوم نہیں اگر چہ وہ صحابہ و صحابیات و ازواج ہوں مگر وہ محفوظ ہیں کہ ان کے کھاتے میں گناه رہتے نہیں فوری معافی ہو جاتی ہے۔

🔹2 رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان ازواج سے کمال محبت کا بیان کہ ان کی دل جوئی میں وہ کر دیا جو فی الواقعہ نہ کرنا چاہئے تھا۔

🔹3. عورتوں کو تنبیہ کہ اگر کبھی شوہر کے حق میں کوئی نامناسب کام ہو جائے تو ان مقدسہ ماؤں کی طرح فورأ رجوع الی اللہ کریں۔

🔹4.ان مقدسہ ازواج کے کمال مرتبہ کا اظہار کہ اگر چہ ان کو یہ نہ کرنا چاہئے تھا مگر عند اللہ ان کا یہ مقام ہے کہ بجائے تادیب کے تہذیب کی اور تربیت کا پہلو اختیار فرمایا نہ کہ سزا تجویز فرمائی اس طرح کے کئی اسباق اور تربیت کے خوبصورت طریقے ان واقعات کی تہہ میں مستور ہیں جو باعث تحقیر ہیں ۔ جیسا کہ روافض کا خیال ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یہ باعث عزت ہے کہ یہ کچھ کرنے کے بعد بھی اللہ تعالی ان کی دل جوئی تسلی اور تربیت ہی فرمانا ہے اور یہ سب دلیل عزت و توقیر ہے نہ کہ دلیل تحقیر۔

🔹5.میاں بیوی کا آپس میں جو رشتہ محبت اور انس ہوتا ہے وہ ارباب مشاہدہ سے مخفی نہیں۔ محبت میں بھی ایسے کام بھی سرزد ہو جاتے ہیں جو بظاہر مجیب معلوم ہوتے ہیں نیز بھی گھریلو معاملات میں اتار چڑھاؤ بھی ہو جاتا ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ان گھریلو واقعات کو کسی کی تحقیر و تذلیل کا زریعہ بنایا جائے اگر ان گھریلو واقعات کی تحقیر کا زریعہ جانا جائے تو زرا روافض ان واقعات پر بھی لب کشائی کریں۔

♦️1 فریقین کے ہاں مسلم ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ عہد نبوت میں فاطمہ بنت ہشام پھر اسماء بنت عمیس سے عقد کرنے کا ارادہ کیا اخیر سیده فاطمة الزہرا رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روک دیا۔
اس واقعہ کے درست ہونے پر تو فریقین متفق ہیں مگر یہ واقعہ ان نفوس قدسیہ کی تحقیر کا باعث ہرگز نہیں

♦️2. روافض کی کتب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کا روٹھ جانا اور اپنے ابا کے گھر تشریف لے جانا تحریر کیا ہے ایک واقعہ بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں گھر سے ناراض ہو کر چلے گئے اور مسجد نبوی میں جا کر مٹی سو رہے جسم مٹی لگ گئی آپ تشریف لائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس حال میں دیکھ کر فرمایا اے مٹی کے باپ اٹھ تم یا ابو تراب باہمی گھریلو ناراضگی کے یہ واقعات مسلمات میں سے ہیں مگر ان واقعات کی بنا پر معاذ اللہ حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی ذات پر حرف گیری قطعاً روا نہیں کہ یہ واقعات گھریلو زندگی کا حصہ ہیں۔

📢ہماری عرض ہے کہ جیسے ہی واقعات مسلم ہیں مگر باعث تحقر نہیں نہ ان واقعات کی بنا پراعتراض کرنا درست ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے معاف فرما دیا کسی کو اس پر حرف گیری کا حق نہیں ہے۔ اسی طرح ازواج مطہرات بالخصوص سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جن کی گود میں محبوب کائنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیکن اللہ تعالی کی طرف سفر آخرت کیا اور جن کا حجره جنت بنا اور جن پر جبریل علیہ السلام اللہ تعالی کا سلام لایا اُن کے مذکورہ واقعات بھی ان مقدسه ازواج کے لئے فری تحقیر ہرگز نہیں۔