شیعہ اعتراض: حضرت ابوبکر و عمر کو گالی دینا کفر نہیں ھے. (شرح فقہ اکبر)

🔺شیعہ اعتراض 👇👇
حضرت ابوبکر و عمر کو گالی دینا کفر نہیں ھے.
(شرح فقہ اکبر)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

🔹(١) جن کی گُھٹی میں خیانت اور فریب کاری داخل ہو گئی ہو اسے کیا واسطہ کہ حق بات کیا اور اس دجل فریب سے کتنے بندگان خدا کا ایمان برباد ہوگا انہیں تو اپنے فریب کا جال ڈالنا ہی ہے اور بس ۔ ورنہ ہر صاحب علم بخوبی آگاہ ہے کہ کفر اور ایمان کا تعلق عمل سے نہیں عقیدے سے ہے اہل اسلام کفر کا حکم لگانے سے پہلے سینکڑوں مرتبہ سوچتے اور غور کرتے ہیں یوں ہی دور کی چھوڑنا کسی صاحب علم کا کام نہیں اگر کسی کلام میں سو احتمالات نکلتے ہوں ان میں سے صرف ایک احتمال اسلام کا ہو ۹۹ کفر کے پائے جائیں تب بھی کفر کا فتوی عائد نہیں کیا جاتا مگر جس میں سر تا پا کفر کا سیاہ لبادہ ہی نظر آتا ہو ایسے شخص پر کفر کا حکم لگانے سے اعراض کرنا کفر کی حمایت ہے۔ جس کی شریعت اسلامیہ اجازت نہیں دیتی۔

🔹(٢) شرح فقہ اکبر کے مذکورہ مقام پر ایک اختلافی مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ اختلاف مرتکب کبیرہ کا شرعی حکم ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب مسلمان ہے یا کافر؟

🔺چنانچہ اس بارے میں 3 مذاہب ہیں۔

🔸(١) وہ کافر ہے۔ خوارج
(شیعہ سے بگڑا ہوا گروه)

🔸(٢) نہ مسلمان ہے نہ کافر بلکہ کفر و اسلام کے درمیان میں ہے۔
(معتزلہ)

🔸(٣) فاسق ، گنہگار ہے کافر نہیں ۔ ماتریدیہ ، اشعریہ یعنی عام اہل سنت و الجماعت۔ “

اس عنوان پر مذکورہ بحث کی تفصیل میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ چونکہ گالی دینا ایک عمل ہے اور اس عمل کی وجہ سے اس کا مرتکب کافر نہ ہو گا کہ یہ عمل کفر کرنے کی طرح نہیں تا کہ وضاحت ہو جائے کہ کسی گناہ کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہوتا۔

🔹(٣) شہد کی مکھی اور عام مکھی وجود و وزن وغیرہ میں تقریباً ایک جیسی ہیں فرق ذوق اور عادت کا ہے عام مکھی پورا صاف ستھرا جسم چھوڑ کر پھوڑے پھنسی والی گند والی جگہ پر قرار پاتی ہے اور شہد کی مکھی کبھی گندی جگہ پر پاؤں بھی نہیں لگاتی بلکہ خوبصورت پھول، پھل باغ اور گلستان اس کی قیام گاہ ہے لہذا پھولوں پر بیٹھنے والی مکھی کے منہ سے شہد اور دوسری مکھی کے منہ سے گند نکلتا ہے غور کرنے والوں کیلئے اس مثال میں عبرت کا سامان ہے اور عقل دشمنوں کے مرض حسد کو یہ مثال ذرا بھی شفا نہیں دے سکتی پوری تحقیقی دستاویز کا جائزہ لیجئے جہاں مریض کو اپنا چہرہ صاف پانی میں دکھائی دیا اس نے فوراً اس صاف پانی کو بھی اپنی طرح کا خیال کر کے زمانے بھر کو یہ پیغام سنایا کہ میں اکیلا نہیں میرے جیسے اور بھی ہیں ۔ مگر ہر ایک تو مریض عقل نہیں ہوتا جو صرف پانی میں اپنا چہرہ دیکھے اور پانی میں رکھے ہوئے خزانے اور اس کی تازگی سے خبردار نہ ہو۔

ارباب دانش ملاحظہ فرمائیں مذکورہ مقام پر یہ تو نظر آ گیا کہ شیخین (سیدنا ابوبکر و عمر ) پر سب کرنا کفر نہیں اس کی تہہ میں حکم کی علت کیوں نہ سمجھ آئی کہ کوئی شخص گالی گناہ سمجھ کر دے اور اس کا یہ اعتقاد ہو کہ میں نے جو یہ گالی دی ہے یہ کوئی اچھا کام نہیں کیا بلکہ میرا عمل گناہ اور معصیت ہے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے اگر یوں گناہ سمجھ کر گالی دے تو کفر نہیں جیسے کوئی شخص نماز نہ پڑھے تو کافر نہیں زکوۃ نہ دے تو کافر نہیں رشوت لے تو کافر نہیں اسی طرح گالی دے تو گالی دینا کفر نہیں لیکن اگر نماز نہ پڑھنے والا شخص یہ کہے کہ نماز چھوڑنا کوئی جرم اور گناہ نہیں بلکہ حلال ہے تو اب تمام ارباب علم ایسے شخص پر کفر کا حکم لگا دیں گے کیونکہ ایک ہے گناہ اور ایک ہے اس گناہ کو حلال جاننا اس دوسری چیز کا تعلق عقیدے کے ساتھ ہے لہذا فساد عقیدہ کی بنا پر بھی یہ شخص کافر ہو جائے گا اسی طرح اگر کوئی شخص گالی دینا حلال جان لے تو ایسے شخص کو کافر ہی کہا جائے گا خدا تعالی آنکھیں دے تو شیعہ تحقیقی دستاویز کا عکسی صفحہ کی سطر نمبر ۲۰ کو بھی ذرا دیکھا جائے لکھا ہے۔
ای لكن اذا لم يكن يعتقد حلها لان من استحل معصية قد ثبت حرمتها بدلیل قطعی فهو کافر۔
👈(شرح فقہ اکبر صفحہ ٧٢)
یعنی (وہ گالی دینے والا کافر نہیں جبکہ وہ) گالی دینے کو حلال نہ جانتا ہو اس لئے کہ جب وہ گناہ کے ایسے کام کو جائز جانے جو دلیل قطعی سے ثابت ہو تو ایسا شخص کافر ہے۔ یہ الفاظ اسی صفحہ پر لکھے ہوئے یار لوگوں کو نظر نہیں آتے کیونکہ ان الفاظ میں روافض کا اصلی چہرہ چھپا ہوا موجود ہے۔ نیز علامہ شامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں. ان استباحة المعصية كفر کہ معصیت کو حلال سمجھنا کفر ہے۔
👈(شامی ص ٣٠٠ طبع مکتبہ امدادیہ ملتان )
شیعہ کتب شاہد ہیں کہ وہ صحابہ کرام پر تبرا کرنے اور گالیاں دینے کو نہ صرف جائز بلکہ ثواب کا کام جانتے ہیں
جب شیعہ سب و شتم کو ثواب جان کر اختیار کریں تو ان کیلئے شرح فقہ اکبر کا فتوی سطر نمبر ۲۰ پر لکھا ہوا موجود ہے ذرا غور سے ملا حظہ فرمائیں شاید احساس ندامت پیدا ہو جائے۔

نیز سب شیخین بہت سے علماء کے نزدیک کفر ہے۔
علامہ شامی (رحمہ اللہ لکھتے ہیں
وفيدهم المحشي بعير الشيخين لما سياتي في باب المرتد آن سابهما او احدهما كفر۔
👈(شامی ص ۳۰۰ ج ٢)
محشی نے اس عبارت کو کہ سب اصحاب رسول کفر نہیں ہے اس کو غیر شیخین کے ساتھ خاص کیا ہے۔ اس لیے کہ باب المرتد میں عنقریب آ رہا ہے کہ شیخین کو گالی دینا کفر ہے۔

صاحب درمختار لکھتے ہیں
بحرالرائق میں جوہرہ سے منقول ہے شہید کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہ جس نے شیخین کو یا ان میں سے ایک کو گالی دی یا ان پر طعن کیا وہ کافر ہو جائے گا اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی ۔ دبوسی اور فقیہ ابوللیث ثمر قندی نے اس کو لیا ہے اور فتوی کے لیے یہی مختار ہے۔ اور ابن نجیم (رح) نے الاشباہ میں اسی پر اعتماد فرمایا ہے اور مصنف (صاحب تنویر الابصار) نے اس کو باقی رکھا ہے
👈(درمختار جلد ٦ صفحہ ٣٧٦)

علامہ شامی (رح) لکھتے ہیں:
ٰ بزاز میں خلاصہ سے منقول ہے کہ رافضی جب شیخین کو گالی دے اور ان پر لعنت کرے تو وہ کافر ہو جائے گا۔
👈(شامی ص ٣٧٧ ج ٦)

🔺بحر الرائق میں اس مسئلہ کو اور زیادہ وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ ارباب ذوق بحر الرائق مطالعہ فرما کر تسلی کر لیں۔۔