شیعہ اعتراض: حضرات شیخین (ابوبکر و عمر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین چھوڑ کر چلے گئے ۔ (الفاروق، روضۃ الاحباب، الامامت و السیاست)

🔺شیعہ اعتراض👇👇
حضرات شیخین (ابوبکر و عمر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین چھوڑ کر چلے گئے ۔
(الفاروق، روضۃ الاحباب، الامامت و السیاست)

🔹(الجواب اہلسنت)🔹

🔹(١) علامہ شبلی کی “الفاروق” اردو میں لکھی ہوئی کتاب ہے جس کا عکسی صفحہ ٧٩ شیعہ تحقیقی دستاویز کے صفحہ ٦٥٠ پر موجود ہے اللہ تعالیٰ آنکھوں کے ساتھ کوئی رتی عقل کی بھی عطاء فرمائے تو اس صفحہ کو ہی بغور پڑھ لیا جائے جس میں علامہ شبلی صاف صاف فرما رہے ہیں کہ (حضرات شیخین (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ) تجہیز و تکفین چھوڑ کر چلے گئے تھے) بظاہر اسی قسم کا خیال پیدا ہوتا ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں ۔ سطر نمبر ۱۱-۱۲ گویا اس کتاب میں مذکورہ مقام پر تاریخ کے رطب و یابس اور بے حیاء پروپیگنڈہ کو فاضلانہ طریقہ پر حکمت و بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علامہ رد فرما رہے ہیں کہ مانا تمہارا یہ الزام اور یہ الزام اور یہ الزام بھی ٹھیک ہے مگر ان الزامات کی بنیاد کیا ہے؟ اسی صفحہ کی آخری دو سطریں ہی دیکھ لی جائیں جن میں مرقوم ہے۔ لیکن اس میں غور طلب جو باتیں ہیں وہ یہ ہیں۔ کیا خلافت کا سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ نے چھیڑا تھا؟ ( صفحہ کی آخری دو سطریں) یعنی ان حضرات کا سقیفہ میں جانا اس اختلاف کے سد باب کے لیے تھا جو پیدا ہونے کا اندیشہ تھا ورنہ ان حضرات نے مسئلہ خلافت کو نہ چھیڑا تھا کہ ان حضرات کو الزام دیا جائے کہ آپ لوگ وہاں کیوں گئے ہو۔
🔹اس سوالیہ طریقہ پر جس الزام کو علامہ شبلی پاش پاش کر رہے ہیں وہی الزام ان کے سر تھونپا جا رہا ہے اور ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ اہل سنت کی کتابوں میں ہے کہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہا نے جنازہ نبوی کو چھوڑ دیا اور دوسرے کاموں میں مشغول رہے؟ لا حول ولا قوة الا بالله.

🔹فرمان نبوی: إذا فاتك الحياء فاصنع ما شئت حضرات قارئین کرام یہ ہے رافضی الزامات کی حقیقت کہ صاحب کتاب جس الزام کو ہوا میں اڑارہا ہو اور صاف براءت کا اظہار کر رہا ہو وہی الزام اس کے سر پر رکھ دیتے ہیں۔ بیشک اس طریقہ کار سے وہ اپنے خبث باطن کو تو تسکین دے سکتے ہیں مگر تلاش کا طریقہ ہر گز نہیں ہے۔

🔹(٢) روضۃ الاحباب میں حضرات شیخین کا سقیفہ بنی ساعدہ بجا کر اتحاد امت میں عدیم المثال کردار ادا کرنے والا واقعہ مذکور ہے جس سے یہ سرخی پیدا کی گئی کہ شیخین تجہیز و تکفین چھوڑ کر چلے گئے حالانکہ تقیہ بازؤں کا یہ بھی ایک فریب ہے کیا آپ کا جنازہ وفات والے دن ہی پڑھ کر ان کی تدفین کر دی گئی تھی؟ دنیا کا تاریخ سے واقف دیانت دار ایک شخص بھی ایسا نہیں جو یہ دعوی کرتا ہو بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ تین یوم تک پڑھا جاتا رہا جبکہ سقیفہ بنی ساعده میں ان حضرات کا قیام محض کچھ لمحے کا تھا جب کہ انصار جمع ہو کر خلافت کے بارے میں غور کر رہے تھے ایک انصاری نے آکر حضرات اکابرین امت کو مطلع کیا حضرات شیخین تشریف لے گئے اور اس اختلاف کو رفع کر کے والی لوٹ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی رہنمائی اور حکم سے تکمیل پذیر ہوئی ۔
🔹رافضی دماغ تو ہر بات کا الٹا مطلب ہی جانتا ہے مگر سمجھ دار آدمی اچھی طرح جانتا ہے کہ باپ فوت ہو جائے اور بیٹا اپنے باپ کا کپڑا کفن خریدنے بازار چلا جائے یا قبر کھودنے قبرستان کو جائے تو کوئی شخص یہ مطلب نہیں لیتا کہ باپ گھر میں فوت ہوا پڑا ہے اور بیٹا باپ کو فوت شدہ گھر چھوڑ کر بازار میں سیریں کرتا پھرتا ہے یا وہ قبرستان کی طرف بھاگ گیا ہے بلکہ ہر شخص یہی کہے گا کہ اس کا بازار جانا باپ کی تجہیز و تکفین میں مصروفیت کا حصہ ہے اس سے کوئی الگ چیز نہیں ۔ اسی طرح حضرات شیخین کا سقیفہ بنی ساعدہ جا کر اختلاف خلافت کو ختم کر کے اتحاد کی راہ پر سب کو قائم کر دینا بھی صاحب جنازہ کے دین کی حفاظت اور تکفین کا حصہ تھا ورنہ جنازہ کی صورت کیا ہو؟ تدفین کہاں ہو؟ وغیره بے شمار مسائل کا حل کس طرح نکالا جاتا؟ واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ کی تفصیل کتابوں میں مذکور ہے وہاں مراجعت کر لی جائے، ہم نے اختصار کے پیش نظر صرف یہ عرض کرنا ہے کہ کسی اہل سنت و الجماعت کی کتاب میں نہیں کہ حضرات شیخین نے جنازہ میں شرکت نہیں کی بلکہ روضہ رسول میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے حکم سے ہی انجام پذیر ہوئی ۔ اور اہلسنّت کی کتابوں میں جو سقیفہ بنی ساعدہ میں جانے کا تذکرہ ہے وہ دراصل صاحب جنازہ کے دین کی حفاظت اور ان کی امت کو انتشار سے بچانے کا حصہ تھا جو معمولی وقت میں حل کرنے کے بعد حضرات لوٹ آئے اور اپنی نگرانی میں ان آخری مراحل کو طے کروایا۔ اور باقی رہا ابن قتیبہ صاحب الامامت والسیاست کا حوالہ تو اس ضمن میں عرض ہے کہ یہ شخص رافضی ٹولے کا سرخیل ہے ناکہ اہل سنت کا کوئی فرد لہذا ابن قتیبہ اپنی کتاب سمیت تمہیں مبارک ہو جب یہ صاحب ہماری جماعت کا فرد ہی نہیں تو اس کی لکھی خرافات کا جواب ہمارے ذمہ نہ رہا جو اس نے لکھا وہ رافضی دماغ کا کرشمہ ہے۔