شیعہ اعتراض: بی بی فاطمہ زہرا ع نے حضرات شیخین (ابوبکر و عمر) کو اپنے جنازہ میں شامل نہ ہونے کی وصیت کی ۔(روضۃ الاحباب)

🔺شیعہ اعتراض 👇👇

بی بی فاطمہ زہرا ع نے حضرات شیخین (ابوبکر و عمر) کو اپنے جنازہ میں شامل نہ ہونے کی وصیت کی ۔ (روضۃ الاحباب)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

🔹(١) روضۃ احباب کے مصنف کون ہیں؟ ان کے مکمل احوال سے آگاہی نہیں ہوسکی ۔ اگر یہ صاحب اہل سنت سے ہیں تو دانستہ یا نادانستہ ان کی یہ صریح غلط روایت ہے شیعہ نے جو تحقیقی دستاویز میں عکسی اصلی صفحہ ٦١٠ پر لکھی ہے۔ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ سیدہ کے جنازہ میں نہ صرف شیخین شریک ہوئے بلکہ سیدہ کا جنازہ خود سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پڑھا تھا۔

چنانچہ طبقات ابن سعد میں ان کی مکمل سند کے ساتھ یہ روایت موجود ہے۔
عن حماد عن ابراهيم النخعی قال صلی ابوبكر الصديق على فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فكبر اربعاء
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ پڑھایا اور ان پر چار تکبیریں کہیں ۔
👈(طبقات ابن سعد جلد ۸ صفحہ ١٩ تحت تذکرہ فاطمۃ مطبوعہ لندن یورپ)

🔹(٢) دوسری روایت طبقات کی اسی مسئلہ پر اسی جلد میں موجود ہے جس میں یہ الفاظ ہیں:
عن مجاهد عن الشعبي قال صلى عليها ابوبکر رضی الله عنه و عنها .
یعنی شعبی کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھی“۔(ایضا) . .

🔹(٣) امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ۔
ثنا محمد بن عثمان بن ابی شیبه ثنا عدن بن سلام ثنا سواد بن مصعب عن مجاهد عن الشعبي إنّ فاطمة رضي الله عنها لما ماتت دفنتها على ليلاً و اخذ بضبعی ابی بکر الصديق رضي الله عنه فقدمه يعني في الصلوة عليها.
روایت کا حاصل یہ ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو رات میں دفن کیا اور (جنازه پڑھانے کے وقت) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دونوں بازو پکڑ کر سیدہ کا جنازہ پڑھانے کیلئے آگے کیا۔
👈(السنن الکبری للبیہقی مع الجوہر النفی جلد ٤،صفحہ ٢٩ کتاب الجنائر کنز العمال جلد ٧ صفحہ ١١٤ کتاب الفضائل (فضائل فاطمۃ طبع اول)

🔹(٤) امام محمد باقر رحمہ اللہ کی روایت کنز العمال علی المتقی الہندی نے بحوالہ خطیب ذکر کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
امام جعفر صادق امام محمد باقر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمۃ دختر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئیں تو ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہ دونوں حضرات جنازہ پڑھنے کے لئے تشریف لائے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (جنازہ پڑھانے کیلئے کہا کہ آگے تشریف لائے تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا آپ خلیفہ رسول ہیں میں آپ سے پیش قدمی نہیں کر سکتا پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائی۔
👈(کنز اعمال (خط في رواۃ مالک مالک ) جلد ٦ صفحہ ٣١٨طبع قدیم روایت نمبر ۵۲۹۹ باب فضائل الصحابہ فضل الصدیق مسندات على رضی اللہ تعالیٰ عنہ )

🔹(٥) حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تحفہ اثنا عشریہ میں یہ روایت نقل فرماتے ہیں ۔
اور فصل الخطاب میں (یہ روایت) لایا ہے کہ ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان اور عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم اجمعین نماز عشاء کے وقت حاضر ہوئے اور رحلت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مغرب عشاء کے درمیان میں شب سہ شنبہ سوم ماہ مبارک رمضان بعد چھ مہینے کے وفات آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے واقع ہوئی ۔ کہ عمران کی اس وقت اٹھائیس برس کی تھی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ با اجازت علی مرتضیٰ کے پیش امام ہوئے اور نماز جنازہ ادا کی اور چار تکبیریں ادا کیں۔
👈(تحفہ اثنا عشریہ مترجم اردو باب دہم در مطاعین خلفاء وغیرہ ھم فی مطاعین صدیقی طون نمبر ١٣ صفحہ ٥٨٣.٥٨٤)
اسی طرح ابونعیم رحمہ اللہ علیہ کی حلیة الاولیاء جلد ٤ صفحہ ٩٦ پر اور ریاض النضره جلد ١ صفحہ ١٥٦ پر اور دیگر کئی مقامات پر یہ روایات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شریک ہوئے اب خدا کو معلوم کے ان روایات کے مقابلے میں روضۃ الاحباب والے کو کیا سوجھی جو ایک دوسری بات کہیں سے کھینچ لائے لہذا ہم عرض کرتے ہیں کہ ان ہماری روایات مشہورہ کثیرہ کے مقابلے میں روضۃ الاحباب والے کی عکسی صفحہ پر دی گئی روایت بالکل غیر مقبول اور ناقابل تسلیم ہے۔
🔺اگر مذکورہ کتاب کے مصنف اہل سنت سے ہیں تو کسی غلطی میں مبتلا ہو گئے یا شیعہ فریب کاروں کے دام فریب میں مبتلا ہو گئے اور اگر کوئی دوسری بات ہے تو خیر شیعہ لوگوں کا تو کام ہی تہمتیں تراشنا اور الزام بازی کا بازار گرم رکھنا ہے۔ سو انہوں نے بھی اپنا فرض نبھایا مگر حق وہی ہے جو ہم عرض کر چکے کہ سیدہ کے جنازہ میں شیخین (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ) کو شریک نہ کرنے کی وصیت نہ سیدہ نے کی تھی اور نہ ہی شیخین جنازہ سے پیچھے رہے یہ سرا سر یار لوگوں کا بہتان اور صریح افترا جھوٹ ہے جو سیدہ پر باندھا گیا اور بے سرو پا دور کی اڑائی گئی۔