شیعہ اعتراض آیت رجم موجودہ قرآن میں غائب ہے۔ (مسند احمد)

شیعہ اعتراض
آیت رجم موجودہ قرآن میں غائب ہے۔ (مسنداحمد)

کرم فرماؤں کو معلوم ہونا چاہیے کہ سواد اعظم روافض کی طرح ہر رطب و یابس روایات پر گزارا کرنے والے نہیں، الحمدلله ہمارا فن اسماء الرجال لاکھوں راویان حدیث کی تحقیق کے لیے بیسیوں کتابوں میں پھیلا ہوا ہے جو کھوٹے کھرے کو واضح کر کے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دیتا ہے ذرا تعصب کے شیشے اتار کر دیکھئے یہاں روایت میں محمد بن اسحاق راوی کھڑا ہوا ہے جس کی روایات کو ارباب علم نے قبول نہیں کیا ہاں اسکا کوئی اور متابع ہو تو پھر غور کیا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کی یہ روایت صرف اسی سے منقول ہے گویا اس روایت کو نقل کرنے میں یہ منفرد ہے ایسی صورت میں انکی روایت قبول نہیں کی جاتی . ارباب علم کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں۔

1- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے تہذیب میں لکھا ہے کہ ایوب بن اسحاق نے امام احمد ابن حنبل سے محمد بن اسحاق کی گئی
روایت کے متعلق پوچھا جس کو نقل کرنے میں وہ منفرد ہوتو امام احمد ابن حنبل نے جواب ارشاد فرمایا کہ اسکی منفرد روایت قبول نہیں کی جائے گی۔
(تہذیب التهذيب جلد 9 صفحہ 43)

2- علامہ ذہبی رحمہ اللہ مفصل بحث کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: . . یعنی جس روایت میں یہ منفرد ہو وہ روایت منکر ہوتی ہے۔ (میزان الاعتدال ج ۳ صفر ۲۴)

3- علامه عینی شرح بخاری میں ارشاد فرماتے ہیں کہ امام ہستی نے ارشاد فرمایا ہے کہ جن روایات کے نقل کرنے میں امن اسحاق منفرد ہو اس روایت کو قبول کرنے سے علماء اجتناب فرماتے ہیں ۔ (عمدة القاری شرح بخاری از علامہ بدرالدین میں ج6 صفحہ 176)

محمد بن اسحاق کے شیعہ ھونے پر دلیل

 – محمد بن إسحاق بن يسار بن خيار..
وقد أمسك عن الاحتجاج بروايات ابن إسحاق غير واحد من العلماء لأسباب منها أنه كان يتشيع، وينسب إلى القدر

تاریخ بغداد ج 2 ص 7

 شاملہ کا لنک

محمد بن اسحاق کے شیعہ اور قدری (تقدیر کا منکر) ھونے کی وجہ سے بہت سارے علماء نے محمد بن اسحاق کی روایات سے دلیل نہیں لی.

جس روایت کا یہ حال ہو جو مذکور ہوا اس روایت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا یہ روافض کرم فرماؤں کا حصہ ہے کہ ہر غلط بات پر اعتقاد جما کر بیٹھ جاتے ہیں اہل علم بات کو تول کر ہی قبول کرتے ہیں چنانچہ مذکورہ روایت معیار قبول پر پورا نہیں اترتی لہٰذا قابل قبول نہیں۔