شیعہ اثنا عشریہ کے یہاں امامت رُکن ہے اور اس کا منکر کافر ہے

شیعہ اثنا عشریہ کے یہاں امامت رُکن ہے اور اس کا منکر کافر ہے

 شیعہ کہتے ہیں کہ:

جوشخص امامت کا اعتقاد نہیں رکھتا تو اس کا ایمان بغیر اس پر ایمان واعتقاد کے نا مکمل ہے۔

(کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۷۸)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امامت نبوّت کی بقا کے لئے ہے، اور وہ دلیل جورسولوں کو بھیجنے اور انبیاء کو مبعوث کرنے کو واجب ٹہراتی ہے وہ دلیل بعینہ رسول کے بعد امام کے تعیین کو واجب کرتی ہے۔

 (دیکھیں: کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۸۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امامت سے ان کی مراد ایک ایسا الٰہی منصب ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کےبارے میں اپنے سابق علم سے اختیار کرتا ہے، جس طرح کہ وہ نبی کا انتخاب کرتا ہے ، اور نبی کو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ امّت کو اللہ کی طرف رہنمائی کریں، اور امّت کو ان کی اتباع کا حکم دیتا ہے۔

(دیکھیں: کتاب (أصل الشیعۃ وأصولھا) لمحمد حسین کاشف الغطاء، ص۱۰۲۹)۔

بلکہ یہ (امامت) دین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے جس کا اعتقاد رکھے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ، اور دوسری عبارت میں وہ یوں کہتے ہیں: امامت نبّوت کے استمرار وبقا کے لئے ہے۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جس نے امیر المومنین علی بن ابی طالب کی امامت اور ان کے بعد کے ائمہ کا انکار کیا تو گویا اس نے تمام انبیاء کی نبوّت کا انکار کیا، اور جس نے امیر المومنین کا اقرار کیا او ر ان کے بعد کے ائمہ میں سے کسی ایک کا انکار کیا تو وہ تمام انبیاء کےاقرار کرنے والے کے درجے میں ہوگا اور محمد ﷺ کی نبوّت کا انکار کرنے والاٹھرے گا۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 جس نے( ائمہ اثنا عشریہ میں) سے کسی ایک امام کا انکار کیا تو وہ تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی نبوت کے انکارکرنے والے کےدرجے میں ہوگا۔

(دیکھیں: کتاب (منھاج النجاۃ) للفیض الکاشانی، ص ۴۸)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

شیعہ امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس نے کسی ایک امام کا انکار کیا اور ان ائمہ کے تئیں اللہ تعالیٰ نے اس پر جو اطاعت فرض کی ہے اس کا انکار کیا تو وہ کافر اور گمراہ ہے، اور خلود فی النار کا مستحق ہے۔

 (دیکھیں: کتاب (حق الیقین في معرفۃ أصول الدین) لعبد اللہ شبر۲،؍۱۸۹)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ایسے شخص پر شرک و کفر کا اطلاق کرنا جو امیرالمومنین (علی رضی اللہ عنہ) کی امامت کا اعتقاد رکھتا ہےاور نہ ہی ان کی اولاد میں سے(دیگر) ائمہ کی امامت کا، اور ان پر دیگر لوگوں کو فوقیت دیتا ہے تو یہ اس کے خلود فی النّار ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

(دیکھیں : کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی، ۲۳؍۳۹۰)۔