شیعہ اثنا عشریہ کی کفار سے دوستی ، اور ان کی خیانتوں اور بے وفائیوں کا بیان

شیعہ اثنا عشریہ کی کفار سے دوستی ، اور ان کی خیانتوں اور بے وفائیوں کا بیان

 شیعہ اثناعشریہ کہتے ہیں کہ:

اور اہل کوفہ پرملامت وناگواری کی وجہ یہ ہےکہ انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو طعن کا نشانہ بنایا، اورحسین کو دعوت دینے کے بعد قتل کرڈالا

(دیکھیں: کتاب (تاریخ الکوفہ) ،ص۱۱۳)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر دےجنہوں نے ہماری مدد کے لئے ہمیں دعوت دی لیکن انہوں نے ہمیں قتل کرڈالا۔

(دیکھیں :کتاب( منتھی الآمال) ،۱؍۵۳۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں:

 حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں (یعنی کوفہ کے شیعوں) نے ہمیں خوفزدہ کیا، اور یہ اہل کوفہ کی کتابیں(خطوط) ہیں، اور یہی میرے قاتل ہیں۔

(دیکھیں: کتاب(مقتل الحسین) لعبد الرزاق المقرم،ص۱۷۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 علی بن حسین رحمہ اللہ نے اہل کوفہ کو روتے اور نوحہ کرتے دیکھ کر فرمایا: ہماری خاطر تم روتے اور نوحہ کرتے ہو! تو پھر وہ کون ہے جس نے ہم کو قتل کیا ہے؟؟

(دیکھیں: کتاب (نفس المھموم) لعباس قمی،ص۳۵۷)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ( پھرحسین رضی اللہ عنہ سے اہل عراق کے بیس ہزار لوگوں نے بیعت کی جنہوں نے آپ کے ساتھ غداری کی، آپ کے خلاف خروج کیا جبکہ آپ کی بیعت ان کے گردنوں میں(لٹکی ہوئی) تھی، اور پھر انہوں نے آپ کو قتل کرڈالا۔

(دیکھیں: کتاب (أعیان الشیعۃ) لمحسن امین،۱؍۳۲)۔

  اسی طرح وہ اسلامی ممالک کے خلاف دشمنوں کی نصرت ومدد کو واجب کہتے ہیں،اور قبضہ گرجنگجؤوں سے عدم تعرّض کے قائل ہیں۔

(دیکھیں: شیعوں کے بڑے مرجع سیستانی کے ۴ ؍۳؍۲۰۰۳ عیسوی کوجاری کردہ فتوی کو جس میں عراق پر حملہ کرنے والی امریکی فوجیوں سے جنگ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،اور شیعوں کے شیخ محمد مہری نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ عراق میں جو شیعہ کے مراجع کی طرف سے فتوی صادر ہوتا ہے اور جس میں ان اجنبی فوجیوں کے خلاف وجوب جہاد کا مطالبہ کیا جاتا ہےجوعراق کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں وہ فتوی دلیل سے خالی ہے، اور یہ فتاوےمحض تقیہ وخوف اور زندگی کی حفاظت کے طور پر ہیں،کیوں کہ یہ اکراہ واجبار کے تحت ہیں۔ اور اس کی تاکید شیعوں کے مرجع صادق شیرازی مقیم ’’قُم‘‘ کے فتوی سے ہوتی ہے جو عراقی نظامِ حکومت کے اسقاط کے لئے امریکہ کے ساتھ تعاون کو جائز سمجھتا ہے۔ (دیکھیں: جریدہ الوطن،کویت، بروز جمعہ، ۲۷؍۹؍۲۰۰۲م)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بےشک وہ مسلمان جو سرحدوں پر کفار سے لڑائی کرتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں جنگجو ہیں، اور شہداء تو صرف شیعہ امامیہ ہیں گرچہ اپنی بستروں پر ہی وفات پائیں۔

(دیکھیں: کتاب (تھذیب الأحکام) للطوسی، ۶؍۹۸)۔