شیعہ اثنا عشریہ کا نبیﷺ،آپ کی بیٹیوں اور آل بیت کے ساتھ اساءت وبد سلوکی

شیعہ اثنا عشریہ کا نبیﷺ،آپ کی بیٹیوں اور آل بیت کے ساتھ اساءت وبد سلوکی

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جب نبی ﷺ پیدا ہوئے تو کئی دنوں تک دودھ پئے بغیر رہے، تو ابوطالب نے ان کو اپنے پستان سے لگایا تو اللہ نے اس کے اندر دودھ پیدا کردیا ، چناں چہ کئی روز تک آپ ابو طالب(کی چھاتی )سے دودھ پیتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب کوحلیمہ سعدیہ مل گئیں تو آپ نے نبیﷺکو ان کے حوالے کردیا ۔

(دیکھیں: کتاب (أصول الکافی) للکلینی، ۱؍۴۴۸)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے زیادہ بہادر تھے، بلکہ آپﷺ کو سرے سےبہادری دی ہی نہیں گئی تھی۔

(دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۱۷)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 نبی ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک کہ وہ فاطمہ کا رخساریا سینہ کا بوسہ نہیں دے لیتے تھے۔

(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی ۴۲؍۴۳)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 نبیﷺکی بیٹیوں میں سے صرف فاطمہ رضی اللہ عنہا(حقیقی) بیٹی تھیں، اور رقیہ ،ام کلثوم اور زینب یہ آپﷺ کی ربائب(پرورش کردہ بیٹی) تھیں۔

 (دیکھیں: دائرۃ المعارف الإسلامیۃ الشیعیۃ) ج۱؍۲۷)

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

حسن بن علی رضی اللہ عنہ مومنوں کو ذلیل کرنے والے تھے کیونکہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی تھی۔

(دیکھیں: کتاب (رجال الکشي) ص۱۰۳)۔