شیعہ اثنا عشریہ کا مُتعہ پر ابھارنا اور بدکار عورتوں سے لطف اندوز ہونا

شیعہ اثنا عشریہ کا مُتعہ پر ابھارنا اور بدکار عورتوں سے لطف اندوز ہونا

 شیعہ اثنا عشری کہتے ہیں کہ:

آدمی بطور متعہ ہزار بار شادی کرسکتاہے، کیوں کہ متعہ والی عورت کو نہ طلاق دی جاتی ہے اور نہ وارث بنایا جاتا ہے،بلکہ یہ تو کرایہ پر لی ہوئی چیز ہوتی ہے۔

(دیکھیں: کتاب( الاستبصار) لابی جعفر طوسی،۳؍۱۵۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

متعہ کی اولاد دائمی بیوی کی اولاد سے افضل ہوتی ہے۔

(دیکھیں: کتاب(منھج الصادقین) للملا فتح اللہ کاشانی،ص۳۵۶)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

بدکار اور فاجرہ عورتوں سے متعہ کرنا جائز ہے، بلکہ ان کے نزدیک ان (عورتوں سے متعہ)کے بارے میں ترغیب آئی ہوئی ہے۔

(دیکھیں:کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۱۰۰؍۳۱۹،۳۲۰) ۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

متعہ شدہ عورت چار(بیویوں) میں سے نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی طلاق ہوتی ہے اور نہ وارث ہوتی ہے، بلکہ یہ کرایہ پر لی ہوئی چیز ہوتی ہے۔

(دیکھیں:کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۱۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

حسینہ عورتوں سے متعہ کرنا جائز ہے گرچہ وہ شادی شدہ یا بدکار ہوں۔

(دیکھیں: الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۶۲)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ادنیٰ درجے کا متعہ یہ ہے کہ آدمی عورت سے ایک مرتبہ متعہ کرے۔

(دیکھیں: کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۶۰)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 زانیہ عورت سے کراہت کے ساتھ متعہ کرنا جائز ہے ،خاص طور سے جب وہ زنا وبدکاری سے مشہور ہو۔

(دیکھیں: کتاب(تحریر الوسیلۃ) للخمینی،۲؍۲۵۶)۔