شیعہ اثنا عشریہ کا مصر وشام سے بغض و عداوت رکھنا

شیعہ اثنا عشریہ کا مصر وشام سے بغض و عداوت رکھنا

 شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 مصر کے لوگ داؤد علیہ السلام کی زبانی لعنت کئے گئے ،چناں چہ ان میں سے بندر اور سور بنادئے گئے۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جب اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل سے ناراض ہوا تو انہیں مصر میں داخل کردیا، اور جب ان سے راضی ہوا تو اس سے باہر نکال دیا۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ان کے معصوم امام ابوجعفرؒ نے فرمایا کہ:میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی ایسی چیز کو کھاؤں جو مصر کی پکی ہوئی مٹی سے بنائی گئی ہو، اور میں مصر کی مٹی سے اپنا سر دھونے کو نا پسند کرتا ہوں اس خوف سے کہ کہیں اس کی مٹی وراثت میں مجھے ذلت نہ دیدے،اور میری غیرت کو ختم کردے، مصرکو فتح کرو لیکن اس میں قیام کا مطالبہ نہ کرو، اور میرا گمان ہےکہ انہوں نے کہا: کہ وہ دیوثیت پیدا کردےگی۔

(دیکھیں: کتاب(تفسیر القمي) للقمی،۲؍۲۴۱،وکتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی ،۱؍۴۵۶،وکتاب(فروع الکافي) للکلینی،۶؍۵۰۱، وکتاب (بحار الأنوار) للمجلسی،۶۰؍۲۱۱)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شام کیا ہی بہتر زمین ہے، اور اس کے باشندے کتنے ہی برے ہیں، رومیوں نے کفر کیا لیکن ہم سے دشمنی نہیں کی، جبکہ شامیوں نے کفر کیا اور ہم سے دشمنی کی، اور یہ نہ کہو کہ اہل شام سے،بلکہ کہو اہل شؤم(منحوس ملک) سے۔

(دیکھیں: کتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی،۱؍۴۵۶، وکتاب (أصول الکافي) للکلینی،۲؍۴۱۰، وکتاب (تفسیر القمي) للقمی،۲؍۲۴۱)۔