شیعہ اثنا عشریہ کا قبروں اور مزاروں کی عبادت کے بارے میں قبیح غلو

شیعہ اثنا عشریہ کا قبروں اور مزاروں کی عبادت کے بارے میں قبیح غلو

 شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت بیت اللہ الحرام سے زیادہ بہتر ہے، بلکہ حسین کے زائرین پاک لوگ ہیں، اور ان کے بارے میں شک وترتدد(توقّف) کرنے والے اولاد زنا ہیں۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار للمجلسي) ،۹۸؍۸۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرنا دو ملیون (بیس لاکھ) حج ،دو ملیون(بیس لاکھ) عمرہ اور دو ملیون(بیس لاکھ) غزوہ کے برابر ثواب ہے، اور ہر حج ،عمرہ اور غزوہ کا ثواب رسول اللہ ﷺ اور ائمہ راشدین کے ساتھ حج ،عمرہ اور غزوہ کے ثواب کی طرح ہے۔ (دیکھیں: کتاب( نور العینین في المشي إلی زیارۃ قبر الحسین) لمحمد الاصطھباناتی،ص۲۶۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 کربلا اسلام میں سب سے مقدّس جگہ ہے، نیز مکہ و مدینہ اور بیت المقدس سے زیادہ عظیم ہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ عباس کاشانی کی کتاب(مصابیح الجنان) ،ص۳۶۰)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کی مٹی کو کھانا ہر بیماری سے شفاہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ مفید کی کتاب(المزار) ،ص۱۲۵)۔

  اسی طرح وہ ۔جھوٹے طور پر۔ کہتے ہیں کہ:

ابو عبد اللہ (جعفر صادق) رحمہ اللہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر میں تمہیں حسین اور ان کے قبر کی زیارت کی فضیلت بیان کردوں، تو تم لوگ سرے سے حج ہی کرنا چھوڑ دوگے، تمہاری بربادی ہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم بنانے سے پہلے کربلا کو امن والا اور مبارک حرم بنایا تھا؟! (دیکھیں: شیعوں کے شیخ ابن قولویہ قمی کی کتاب(کامل الزیارات) ، ص۴۴۹)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 بے شک مقبروں میں نماز ادا کرنا مسجد میں نماز ادا کرنے سےزیادہ بہتر ہے، بلکہ کہا گیا ہے کہ: مسجد حرام میں نماز ادا کرنے کے بالمقابل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا اس سے دوگُنا اجر کا باعث ہے۔ (دیکھیں: شیعوں کے شیخ علی سیستانی کی کتاب(منھاج الصالحین) ، ۱؍۱۸۷)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 اسلام میں سب سے بڑی عید ،عید الفطر اور عید الأضحٰی نہیں ہے، بلکہ عید غدیر ہے جو کہ بدعی(نئی ایجاد کردہ) ہے اور اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ محمد شیرازی کا رسالہ(عید الغدیر) ،ص۱۱)۔