شیعہ اثنا عشریہ کا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو کرنا

شیعہ اثنا عشریہ کا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو کرنا

  شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں رسول ﷺ سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی آواز اورزبان میں گفتگو کی تھی۔

(دیکھیں: کتاب (کشف الیقین في فضائل أمیر المؤمنین) لحسن بن یوسف بن مطہّر الحلي،ص۲۲۹)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 بے شک اللہ تعالیٰ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے طائف میں سرگوشی فرمائی اور ان کے درمیان جبرئیل علیہ السلام تھے۔

(دیکھیں: کتاب( بصائر الدرجات) للصفّار ،۸؍۲۳۰)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جنت وجہنم کے تقسیم کار ہوں گے ، اہل جنّت کو جنت میں داخل کریں گے، اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کریں گے۔

(دیکھیں : کتاب (بصائر الدرجات) للصفّار،۸؍۲۳۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اللہ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا جو علی کا اطاعت گزار ہوگا گرچہ وہ رب کا نافرمان ہو، اوراللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا جو علی کا نافرمان ہوگا گرچہ وہ رب کا اطاعت گزار ہو۔

(دیکھیں: کتاب( کشف الیقین في فضائل أمیر المومنین) لحسن بن یوسف بن مطہّر الحلی ،ص۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ انبیاء کے راز دار ہیں، اور اللہ نے فرمایا: اے محمد ! میں نے علی کو انبیاء کے ساتھ  باطن طور پر بھیجا ہوں اور تمہارے ساتھ ظاہر میں بھیجا ہوں۔

(دیکھیں: کتاب (الأسرار العلویۃ) لمحمد مسعودی، ص۱۸۱)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی رضی اللہ عنہ محمد ﷺکے لئے ایک نشانی تھے، اور محمد ﷺعلی رضی اللہ عنہ کی ولایت کی طرف بلاتے تھے۔ (دیکھیں: کتاب (بصائر الدرجات) لمحمد الصفّار،ص۹۱)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی نبی بھیجے سب نے ولایت علی کی طرف خوشی سے یا ناخوشی سے دعوت دیا۔

(دیکھیں: کتاب (الأسرار العلویۃ) لمحمد مسعود ،ص۱۹۰)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

دین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ولایت کے بغیر نا مکمل ہے۔(دیکھیں: کتاب (الاحتجاج) للطبرسی،۱؍۵۷)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

رسول ﷺ نے فرمایا : خبر دار ! میرے پاس جبرئیل آئے اور کہا: اے محمد، تمہارا رب تمہیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے اور ان کی ولایت کا حکم دیتا ہے۔

(دیکھیں: کتاب (بصائر الدرجات) لمحمد الصفّار، ص۹۲)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

(دیکھیں: کتاب(علل الشرائع) لابن بابویہ القمی،ص۲۰۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک گرج وکڑک (بجلی وبادل کی آواز)تمہارے ساتھی کے حکم سے ہوتا ہے ، لوگوں نے کہا کہ: ہمارا ساتھی کون ہے؟ فرمایا: امیرالمومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔

(دیکھیں: کتاب (الاختصاص) للمفید ،ص۳۲۷)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مردہ کو زندہ کرتے ہیں، اور بے چین لوگوں کی بے چینی کو دور کرتے ہیں۔

(دیکھیں: کتاب( عیون المعجزات) لحسن عبد الوہاب ص۱۵۰، ورسالہ (حلا ل المشاکل) وقصۃ عبد اللہ الحطّاب الخرافیۃ)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اجازت و پرمٹ کے بغیر کوئی بھی شخص جنت میں نہ داخل ہوسکے گا۔

(دیکھیں: کتاب (مناقب امیرالمومنین) لعلي بن المغازلي ،ص۹۳)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرنے والا کا فر ہے، اور ان پر دوسروں کو ترجیح دینے والا مرتد ہے۔

(دیکھیں: کتاب ( بشارۃ المصطفیٰ لشیعۃ المرتضیٰ)، ۲؍۷۹)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سےعلی رضی اللہ عنہ پرفخر کرتا ہے۔

(دیکھیں: کتاب ( بشارۃ المصطیٰ لشیعۃ المرتضیٰ) ،۱؍۶۶)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

 انبیاء ورسل علی رضی اللہ عنہ کی ولایت کا اعتراف کرنےکے لئے بھیجے گئےتھے۔

(دیکھیں: شیعہ اثنا عشریہ کے شیخ ہاشم بحرانی کی کتاب (المعالم الزلفی) ،ص۳۰۳ کو) ۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے فضا کی طرف اشارہ کیا، چناں چہ بادل متوجّہ ہوکر بلند ہوا، اور پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، پھر انہوں نے عمار سے کہا: ( ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ اور کہو: ﴿بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَ‌اهَا وَمُرْ‌سَاهَا﴾ [الھود:۴۱] ، ’’ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے‘‘، چناں چہ عمار سوار ہوئے اور وہ دونوں ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔

(دیکھیں: کتاب( بحار الأنوار) للمجلسی)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ایک کتّےنے عربی نخوت اور خودداری وغیرت کی وجہ سےعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے انتقام میں دو صحابہ کو دانت سے کانٹ لیا۔اور ایک گدھے نے یہ گواہی دی کہ علی رضی اللہ عنہ اللہ کے ولی ہیں، اور اس کےرسولﷺ کے وصی ہیں۔

(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی ،۴۱؍۲۴۷،و۱۷؍۳۰۶)۔