شیعہ اثنا عشریہ کا اہل سنّت کےخلاف اس قدر حقد کرنا جو وصف سے باہر ہے

شیعہ اثنا عشریہ کا اہل سنّت کےخلاف اس قدر حقد کرنا جو وصف سے باہر ہے

 شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

بے شک ناصبی مسلم کا خون حلال ہے، لیکن میں تجھے تقیہ اختیار کرنے کو کہوں گا ،اگر تو اس ناصبی مسلم پر کسی دیوار کو گراسکے،یا اسےکسی پانی میں غرق کرسکے تاکہ تیرے خلاف اس فعل پر کوئی گواہی نہ دے تو اسے انجام دے، پوچھا گیا: تمہارا اس کے مال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فرمایا: جس مال پرتو قادرہو اسے ہلاک وبرباد کردے۔

 (دیکھیں: کتاب( وسائل الشیعۃ) للحرّ العاملی ۱۸؍۴۶۳)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

سنّی کی دیت بکرا کی طرح ہے، بلکہ بکرااس سے بہتر ہے، اور یہ ان کے چھوٹے بھائی کی دیت کے مساوی نہیں ہے، اوروہ شکاری کتّاہے، اور نہ ہی ان کے بڑے بھائی کی دیت کے مساوی ہے، اور وہ یہودی ہے۔

(دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری،۳؍۳۰۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ناصبی مسلمان کے مال کو جہاں پاؤ لے لو اور اس کا خمس ہمیں ادا کرو۔

(دیکھیں: کتاب (وسائل الشیعۃ) للحرّ العاملی ۶؍۳۴۰)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک روزِ قیامت سنیّوں کی نیکیاں شیعوں کو دیدی جائیں گی،اور شیعوں کی برائیاں سنّیوں پر لاد دی جائیں گی اور پھر انہیں جہنم میں ڈال دیا جائیگا۔(دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۵؍۲۴۷،۲۴۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اہل سنت نجس ہیں اور ان کے خون ومال مباح ہیں، بلکہ وہ مخلّد فی النار ہیں، اوروہ اس میں سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ (دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۲؍۳۰۶، وکتاب (حق الیقین في معرفۃ أصول الدین) لعبد اللہ شبر۲؍۱۸۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

جب شیعی کسی شیعی سے کہے (اے سنُّی) تووہ اسے سزا دے رہا ہوتا ہے،اور شرعاً ثابت ہے کہ اس کی تعزیر کرنا اسے دھمکانا اور ڈانٹناہے۔(دیکھیں: کتاب(حیاۃ المحقق الکرکي وآثارہ) ،۶؍۲۳۷)۔