شیعہ اثنا عشریہ کا اپنے اماموں کو نبیوں پر فوقیت دینا اور ان کے حق میں غلو کرنا

شیعہ اثنا عشریہ کا اپنے اماموں کو نبیوں پر فوقیت دینا اور ان کے حق میں غلو کرنا

  شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 ائمہ اثنا عشریہ انبیاء ورسل سے افضل ہیں۔

(دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری،۳؍۳۰۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شیعہ کے ائمہ ماکان وما یکون(ازل سے ابد تک) کی بات جانتے ہیں، اور ان پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے، اور وہ اپنی اختیار سے ہی موت پاتے ہیں۔

(دیکھیں: کتاب( أصول الکافي) للکلینی،۱؍۲۵۸،۲۶۰)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک امام کے لئے مقام محمود،بلند درجہ اور ایسی تکوینی خلافت ہوتی ہے جس کی ولایت اور تسلط و سطوت کے لئے دنیا کے تمام ذرّے تابع ہوتے ہیں۔

(دیکھیں: کتاب (تحریر الوسیلۃ) للخمینی، ص۵۲)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ائمہ اثنا عشریہ کے لئے خالق کے علاوہ تکوینی ولایت حاصل ہے، اور یہ ولایت اسی طرح ہے جس طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی ولایت ہے۔

( دیکھیں: کتاب (مصباح الفقاھۃ) لابی القاسم خوثی، ۵؍۳۳)۔

 اسی طرح و ہ کہتے ہیں کہ:

ہمارے (یعنی ائمہ اثنا عشریہ) کے اللہ کے ساتھ ایسے حالات ہیں جہاں تک کسی مقرّب فرشتہ اور نبی مرسل کی پہنچ نہیں ہوسکتی ہے۔

(دیکھیں: کتاب (تحریر الوسیلۃ) للخمینی، ص۹۴)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ اثنا عشریہ کو اپنی اجازت سے معاملات جاری کرنے اور شب قدر وغیرہ میں اسے تنفیذ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اور اس امر کے ثبوت میں کوئی مانع نہیں ہے۔

(دیکھیں: کتاب (البرھان القاطع) ،لمحمد تقی بہجت ،ص۱۴، یہ شرعی وعقدی سوالوں کے جوابات کا مجموعہ ہے جسے شیعہ اثنا عشریہ کے شیخ محمد تقی بہجت نے دئیے ہیں)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک اوصیاء یعنی(ائمہ اثنا عشریہ) پہلؤوں میں اٹھائے جاتے ہیں،اور رانوں سے نکالے جاتے ہیں، اور انہیں کوئی نجاست نہیں لگتی۔

(دیکھیں: کتاب (مدینۃ المعاجز) لہاشم بحرانی، ۸؍۲۲)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک اللہ،اس کے فرشتے، اور انبیاء ومومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرتے ہیں۔

(دیکھیں: کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی ،۴؍۵۸۰)ْ

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امام نبی کی طرح ہے، لہذا اس کے لئے ضروری ہے کہ طفولیت کی عمر سے لے کر موت تک عمدا یا سہوا تمام ظاہری وباطنی فواحشات ورزائل سے معصوم ہو، کیوں کہ ائمہ شریعت کے محافظ ونگراں ہیں، اس سلسلے میں ان کی حالت نبی کی حالت کی طرح ہے۔

(دیکھیں: شیعہ اثناعشریہ کے شیخ ابراھیم زنجانی کی کتاب (عقائد الإمامیۃ) ،۳؍۱۷۹ کو)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ملائکہ کی پیدائش اہل بیت کی خدمت کرنے کے لئے ہوئی ہے۔

(دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۲۶؍۳۳۵)۔