شیعہ اثناعشریہ کے خُرافات

شیعہ اثناعشریہ کے خُرافات

 شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

 فرشتوں کی ایک جماعت نے کسی چیز کے بارے میں آپس میں اختلاف کیا تو انہوں نے آدمیوں میں سے کسی کو حکم بننے کا سوال کیا تو اللہ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ تم لوگ خود انتخاب کرو تو انہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔

(دیکھیں: کتاب(مسند فاطمۃ) لحسین تویسرکانی،ص۲۹۶)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

عفیر گدھے نے رسولﷺسے ہم کلام ہوکر کہا: میرے ماں باپ آپ پرفداہوں، میرے باپ نے اپنے باپ کے واسطے سے،اپنے دادا کے ذریعہ، ان کے والد کے توسّط سے روایت نقل کی ہے کہ:وہ سفینہ نوح میں نوح علیہ السلام کے ساتھ تھے،نوح علیہ السلام ان کے پاس آئے،اور اس کے سرین پر ہاتھ پھیرا اور کہا:اس گدھے کی ذریت میں ایک ایسا گدھا ظاہر ہوگا جس پر سیدالمرسلین وخاتم النبیین سواری کریں گے،پس اللہ کی تعریف ہے کہ اس نے مجھے وہ گدھا بنایا

(دیکھیں :کتاب(أصول الکافی)للکلینی،۱؍۲۳۷)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ان کے امام باقرؒ نےمٹی سے ایک ہاتھی بنایا اور اس پر سوار ہوکر مکّہ گئے۔

(دیکھیں: کتاب(مدینۃ المعاجز) لہاشم بحرانی،۵؍۱۰)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ائمہ (اثناعشریہ) کے پیشاب وپاخانہ میں کوئی خباثت،بدبواور گندگی نہیں پائی جاتی، بلکہ مشک عنبر کی طرح ہے،اورجس نے ان کے پیشاب وپاخانہ اور خون کو نوش کیا اللہ اس پر جہنم حرام کردے گا اور جنت میں دخول کو واجب کردے گا۔

(دیکھیں: أنوار البھیّۃ) لآیت اللہ الآخوند ملازین العابدین الکلبایکانی،ص۴۴۰)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ائمہ کے پیٹ سے خارج ہونے والی ہوا(ریح)یا غلیظ وغلاظت (گوز وپاخانہ)مشک عنبر کی طرح ہوتی ہے۔

(دیکھیں: کتاب(أصول الکافي) للکلینی،۱؍۳۱۹)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

کالا جوتا پہننے میں تین باتیں پائی جاتی ہیں: میں نے کہا: تین باتیں کون سی ہیں آپ پر میری جان قربان ہو؟؟ فرمایا: نگاہ کمزور کرتا ہے، آلہ تناسل کو ڈھیلا کردیتا ہے، اور غم لاحق کرتا ہے۔ (أصول الکافي)للکلینی،۱؍۳۱۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

پیلا جوتا پہننے میں تین باتیں پائی جاتی ہیں: نگاہ صاف کرتا ہے، آلہ تناسل کو سخت کرتا ہے، اور غم کو دور کرتا ہے۔

(دیکھیں: کتاب(الفروع من الکافي) للکلینی،۶؍۴۶۵)

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

گاجر کاکھانادونوں گردوں کو گرم کرتا ہے، اور آلہ تناسل کو سیدھا(کھڑا) رکھتاہے او رجماع میں مدد کرتا ہے۔

(دیکھیں: کتاب( الفروع من الکافي) ،۶؍۳۷۲)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شیطان عورت کےپاس آکر اسی طرح بیٹھتا ہے جس طرح آدمی عورت کے پاس بیٹھتا ہے، اور اس سے اسی طرح بات کرتا ہے جس طرح آدمی بات کرتا ہے، اوراسی طرح جماع کرتا ہے جس طرح آدمی جماع کرتا ہے، میں نے کہا: یہ کیسے معلوم ہوتا ہے؟؟ فرمایا: ہم (شیعہ)سے محبت اور بغض کے ذریعے،پس جس نے ہم سے محبت کیا تو اس کا نطفہ بندے(انسان) کا ہوگا، اور جس نے ہم سے بغض وحسد کیا اس کا نطفہ شیطان کا ہوگا۔

(دیکھیں: کتاب( الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۵۰۲)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شرمگاہ دو ہوتی ہیں(قُبل اوردُبر) ،رہی بات دُبر کی تو وہ دونوں سُرین سے ڈھکی ہوتی ہے، پس جب تم آلہ تناسل اور دونوں انڈوں(خصیتین) کو ڈھاک لیتے ہو تو پوری طور سے شرمگاہ کا پردہ کردیتے ہو۔

(دیکھیں: کتاب( الفروع من الکافي)للکلینی،۶؍۵۰۱)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

رہی بات دیگر لطف اندوزی کی جیسے شہوت سے چھونا،جسم کو ملانا وچمٹانا،رانوں کا بوسہ دینا تو اس میں کوئی حرج نہیں،چاہے شیرخوار (دودھ پیتی بچی) ہی کیوں نہ ہو۔

(دیکھیں: کتاب( تحریر الوسیلۃ) للخمینی،۲؍۲۲۱)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

حائضہ کےغسل کرنے سے پہلے اس سےجماع کرنا جائز ہے۔

(دیکھیں : کتاب(الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۳۹۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 عورت کے دبر میں جماع کرنا جائز ہے۔

(دیکھیں : کتاب(الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۵۴۰)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

حائضہ عورت جنازہ پڑھے گی، لیکن لوگوں کے ساتھ صف میں نہیں رہے گی۔

(دیکھیں: کتاب (من لایحضرہ الفقیہ) لابن بابویہ القمی،۱؍۱۷۹)۔