شیعہ اثناعشریہ کا تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ بقیہ کوکافر قراردینا

شیعہ اثناعشریہ کا تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ بقیہ کوکافر قراردینا

  شیعہ اثنا عشریہ تین صحابہ کرام کو چھوڑ کر بقیہ تمام صحابہ کرام کو کافر ومرتد کہتےہیں، اور ان میں سر فہرست ابوبکر،عمر، عثمان،خالد بن ولید، معاویہ بن ابی سفیان اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم ہیں ۔

(دیکھیں: کتاب( الروضۃ من الکافي) للکلینی، ۸؍۲۵۴)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا ابوبکر،عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے بغض و عداوت رکھنا

 شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

تبرّا کے سلسلے میں ہمارا (شیعہ اثنا عشریہ کا )عقیدہ یہ ہے کہ: ہم چار بتوں (ابو بکر، عمر، عثمان، معاویہ ) اور چار عورتوں(عائشہ، حفصہ، ہند، امّ الحکم )، اور ان کے تمام متبوعین وپیروکاروں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں، اور (ہم یہ کہتے ہیں کہ) یہ لوگ روئے زمین پر سب سے بُرے لوگ ہیں، اور اللہ ،اس کے رسول اور ائمہ پر ان کے دشمنوں سے تبرا بازی کئے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

(دیکھیں: کتاب(حق الیقین) للمجلسی ،ص۵۱۹)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کافر ہیں، اور ان دونوں سے محبّت کرنے والا بھی کافر ہے۔

(دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۶۹؍۱۳۷،۱۳۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ابوبکر وعمر ملعون ہیں ،اور یہ دونوں اللہ عزوجل کے ساتھ کفروشرک کرکے مرے۔

(دیکھیں: کتاب(بصائر الدرجات) للصفّار،۸؍۲۴۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

نبی ﷺ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ غار (ثور) اس وجہ سے لے گئے کیوں کہ خدشہ تھا کہ کہیں وہ کفار کو آپ ﷺکے بارے میں جانکاری نہ دیدیں۔

(دیکھیں: کتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی، ۲؍۱۲۷)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے حالاں کہ ان کی گردن میں بُت لٹکے ہوتے اور وہ ان کی سجدہ کر رہے ہوتے۔

(دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۵۳)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 عمررضی اللہ عنہ کو ایک ایسی بیماری لاحق تھی کہ جسے آدمی کا پانی (منی)ہی شفا دے سکتا تھا، اور ۔معاذ اللہ۔ ان کی دادی زنا کی بیٹی تھیں۔

(دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۶۳، و کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطی البیاضی،۳؍۲۸)۔

  اسی طرح یوم نیروز کی تعظیم کے قائل ہیں، اور عمر رضی اللہ کے قتل کیے جانے والے دن کا جشن مناتے ہیں، اور ان کے قاتل کو بابا شجاع الدین کا نام دیتے ہیں، اور عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کرنےکی وجہ سے بطور جزا اس کی قبر کی زیارت پر لوگوں کو ابھارتے ہیں۔

(دیکھیں: کتاب (عقد الدرر في بقر بطن عمر) لیاسین الصوّاف،ص۱۲۰)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

قریش کے دوبت یعنی( ابوبکر وعمر) پر بد دعا کرنا عظیم ترین نیکی اور طاعات میں سے ہے، اور انہیں لوگوں نے ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما پر جبت اور طاغوت کا اطلاق کیا ہے۔ (دیکھیں: کتاب(إحقاق الحق) للمرعشی،۱؍۳۳۷)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 ان کے من گھڑت وجھوٹے مہدی ابوبکر اور عمررضی اللہ عنہما کو زندہ کریں گے اور انہیں پھانسی دے کر جلائیں گے، پھر وہ امّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو زندہ کریں گے اور ان پر حد قائم کریں گے۔(دیکھیں: کتاب ( الرجعۃ) لاحمد احسائی ،ص۱۱۶، ۱۶۱)۔

  اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

عثمان رضی اللہ عنہ زانی اور مخنّث(ہجڑے) تھے اور دف بجاتے تھے۔(دیکھیں: کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطی البیاضی،۳؍۳۰)۔