شیعہ اثناعشریہ کا امہات المومنین عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو کافر قراردینا (معاذاللہ)

   شیعہ اثناعشریہ کا امہات المومنین عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو کافر قراردینا (معاذاللہ) 

  شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ :

بے شک نبی ﷺ کی بیوی نوح اور لوط علیہما السلام کی بیوی کی طرح کافر ہوسکتی ہے۔

اور ان کے نزدیک نبیﷺ کی بیوی سے مراد ام المومنین عائشہ ہیں اللہ ان سے اور ان کے باپ سے راضی ہو۔

(دیکھیں: کتاب (حدیث الأفک) لجعفر مرتضی ،ص۱۷)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 عائشہ رضی اللہ عنہا نبیﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئیں تھیں جس طرح کہ بہت سارے صحابہ مرتد ہوگئے تھے۔

(الشھاب الثاقب في بیان معنی الناصب) لیوسف بحرانی، ص۲۳۶)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

عائشہ رضی اللہ عنہا نے خیانت ودھوکہ سے چالیس دینار جمع کیا تھا ، اور اسے علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والوں میں تقسیم کردیا تھا!!

 (دیکھیں: کتاب (مشارق أنوار الیقین) لرجب البرسي ،ص۸۶)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ۔نعوذ باللہ۔ زنا کا صدور ہوا تھا، چناں چہ اللہ کے اس قول:﴿ أُولَـٰئِكَ مُبَرَّ‌ءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ﴾ [النور:۲۶] ’’ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان بازی) کر رہے ہیں وه ان سے بالکل بری ہیں، ‘‘ کے بارے میں کہتے ہیں کہ: اس آیت میں نبیﷺ کی زنا سے تنزیہہ(پاک قراردینا) ہے نہ کہ ان کی تنزیہہ مقصود ہے (اور اس سے ان کا مقصود عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں)۔

(دیکھیں : کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطي البیاضي ۳،؍۱۶۵)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے قول: ﴿ مَنْ أَنبَأَكَ هَـٰذَا ﴾[التحریم:۳] ’’ تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی۔‘‘ میں کفر کیا،اور اللہ نے ان کے اور عائشہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: ﴿ إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾[التحریم:۴] ’’ (اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو بہت بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ‘‘ صاغت یعنی زاغت ، اور زیغ کفر کو کہتے ہیں۔ اور عائشہ اور حفصہ دونوں نبیﷺ کو زہر پلانے پر متفق تھیں، پس جب اللہ نے دونوں کے اس فعل سے آپ کو باخبر کردیا جس میں آپ کے قتل کا ارادہ کیا گیا تھا تو ان دونوں نے جھٹ سے قسم کھا لیا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا ہے تو اللہ نے اپنے اس قول کو نازل فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَا تَعْتَذِرُ‌وا الْيَوْمَ ﴾ [التحریم: ۷]’’ اے کافرو! آج تم عذر وبہانہ مت کرو ‘‘۔ (دیکھیں: کتاب( الصراط المستقیم) لزین الدین النباطي البیاضي،۳؍۱۶۸)۔