شیعوں کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں (شیعہ کتب)

گستاخی 1

وعنه، عن ابن علوان، عن جعفر، عن أبيه، عن علي عليه السلام: إنه كان إذا أراد أن يبتاع الجارية يكشف عن ساقيها فينظر إليها

کتاب قرب الاسناد – الحميري القمي – الصفحة ١٠٣

ترجمہ
امام باقر عليه السلام سے مروی ہے کہ حضرت علی عليه السلام جب بھی کسی کنیز کو خریدنے کا ارادہ کرتے تھے تو وہ کنیز کی ٹانگوں کو ظاہر کرتے اور اس کا معائنہ کرتے

گستاخی 2

محمد بن الحسين بن أبي الخطاب، عن محمد بن سنان، عن عمار بن مروان، عن المنخل ابن جميل، عن جابر بن يزيد، عن أبي جعفر عليه السلام قال: يا جابر ألك حمار يسير بك فيبلغ بك من المشرق إلى المغرب في يوم واحد؟ فقلت: جعلت فداك يا أبا جعفر وأني لي هذا؟
فقال أبو جعفر عليه السلام: ذاك أمير المؤمنين

کتاب الاختصاص – الشيخ المفيد – الصفحة ٣٠٣

ترجمہ
امام باقر عليه السلام سے روایت ہے کہا اے جابر کیا تمہارے پاس ایسا گدھا ہے جو تمہین مشرق سے مغرب تک صرف ایک دن میں لے جائے؟ جابر نے کہا نہیں ابو جعفر عليه السلام آپ پر قربان جاؤں ایسا گدھا کہاں سے ملے گا؟ امام باقر عليه السلام نے کہا وہ امیر المومنین علی عليه السلام ہیں

یہی روایت علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں بھی بیان کی ہے

الاختصاص: ابن أبي الخطاب عن محمد بن سنان عن عمار بن مروان عن المنخل بن جميل عن جابر بن يزيد عن أبي جعفر عليه السلام قال: قال: يا جابر ألك حمار يسير بك فيبلغ بك من المشرق إلى المغرب في يوم واحد؟ فقلت: جعلت فداك يا با جعفر وأنى لي هذا؟ فقال أبو جعفر: ذاك أمير المؤمنين عليه السلام

کتاب بحار الأنوار – العلامة المجلسي – ج ٢٥ – الصفحة ٢٣٠،٢٢٩۔ 👇👇👇👇

گستاخی 3

ان الله لا يستحيي ان يضرب مثلا ما بعوضة فما فوقها” کی آیت کے تحت علامہ قمی اپنی تفسیر قمی میں لکھتے ہیں

قال وحدثني أبي عن النضر بن سويد عن القسم بن سليمان عن المعلى بن خنيس عن أبي عبد الله عليه السلام ان هذا المثل ضربه الله لأمير المؤمنين عليه السلام فالبعوضة أمير المؤمنين عليه السلام وما فوقها رسول الله صلى الله عليه وآله

کتاب تفسير القمي – علي بن إبراهيم القمي – ج ١ – الصفحة ٦٢

ترجمہ
امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا اس مثال میں الله نے امیر المومنین علی عليه السلام کی مثال بیان کی ہے پس بعوضة یعنی مچھر سے مراد امیر المومنین علی عليه السلام ہیں اور مافوقھا یعنی حقارت میں مچھر سے زیادہ سے مراد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

علامہ سید الخوئی کے نزدیک علی بن ابراہیم قمی کی نقل کی ہوئی سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور تفسیر قمی کی تمام روایات صحیح ہیں۔

ولذا نحكم بوثاقة جميع مشايخ علي بن إبراهيم الذين روى عنهم في تفسيره مع انتهاء السند إلى أحد المعصومين عليهم السلام. فقد قال في مقدمة تفسيره
(ونحن ذاكرون ومخبرون بما ينتهي إلينا، ورواه مشايخنا وثقاتنا عن الذين فرض الله طاعتهم..) فإن في هذا الكلام دلالة ظاهرة على أنه لا يروي في كتابه هذا إلا عن ثقة، بل استفاد صاحب الوسائل في الفائدة السادسة في كتابه في ذكر شهادة جمع كثير من علماءنا بصحة الكتب المذكورة وأمثالها وتواترها وثبوتها عن مؤلفيها وثبوت أحاديثها عن أهل بيت العصمة عليهم السلام أن كل من وقع في إسناد روايات تفسير علي بن إبراهيم المنتهية إلى المعصومين عليهم السلام، قد شهد علي بن إبراهيم بوثاقته، حيث قال: (وشهد علي بن إبراهيم أيضا بثبوت أحاديث تفسيره وأنها مروية عن الثقات عن الأئمة عليهم السلام

کتاب معجم رجال الحديث – العلامة الخوئي – ج ١ – الصفحة ٤٩

گستاخی  4

علي بن إبراهيم، عن هارون بن مسلم، عن مسعدة بن صدقة قال: قيل لأبي عبد الله (عليه السلام): إن الناس يروون أن عليا (عليه السلام) قال على منبر الكوفة: أيها الناس إنكم ستدعون إلى سبي فسبوني، ثم تدعون إلى البراءة مني فلا تبرؤوا مني، فقال: ما أكثر ما يكذب الناس على علي (عليه السلام)، ثم قال: إنما قال: إنكم ستدعون إلى سبي فسبوني، ثم ستدعون إلى البراءة مني وإني لعلى دين محمد، ولم يقل: لا تبرؤوا مني

کتاب الكافي – الشيخ الكليني – ج ٢ – الصفحة ١٣٤

ترجمہ
امام جعفر صادق عليه السلام سے کہا گیا کہ لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی عليه السلام نے منبر کوفہ پر کہا لوگوں عنقریب تم سے کہا جائے گا کہ مجھے گالی دو تو تم مجھے گالی دے دینا اور اگر مجھ سے براءت ظاہر کرنے کو کہیں تو نہ کرنا امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا لوگوں نے حضرت علی عليه السلام پر کیسا جھوٹ بولا ہے پھر فرمایا حضرت علی عليه السلام نے تو یہ فرمایا ہے کہ تم سے مجھے گالی دینے کو کہا جائے تو تم مجھے گالی دے دینا اور اگر مجھ سے برءات کو کہا جائے تو میں دین محمد پر ہوں یہ نہیں فرمایا کہ تم مجھ سے اظہار برءات نہ کرنا

گستاخی  5

علة الصلع في رأس أمير المؤمنين ” ع “، والعلة التي من أجلها سمى الأنزع البطين

حدثنا أبي ومحمد بن الحسن رضي الله عنهما قالا: حدثنا أحمد بن إدريس ومحمد بن يحيى العطار جميعا عن محمد بن أحمد بن يحيى بن عمران الأشعري باسناد متصل لم احفظه، ان أمير المؤمنين ” ع ” قال: إذ أراد الله بعبد خيرا رماه بالصلع فتحات الشعر عن رأسه وها أنا ذا

حدثنا محمد بن إبراهيم بن إسحاق الطالقاني رضي الله عنه قال: حدثنا الحسن بن علي العدوي، عن عباد بن صهيب، عن أبيه، عن جده، عن جعفر بن محمد ” ع ” قال: سأل رجل أمير المؤمنين ” ع ” فقال: أسألك عن ثلاث هن فيك أسألك عن قصر خلقك، وكبر بطنك، وعن صلع رأسك؟ فقال أمير المؤمنين ” ع ” ان الله تبارك وتعالى لم يخلقني طويلا ولم يخلقني قصيرا ولكن خلقني معتدلا أضرب القصير فأقده وأضرب الطويل فأقطه، وأما كبر بطني فان رسول الله صلى الله عليه وآله علمني بابا من العلم ففتح ذلك الباب الف باب فازدحم في بطني فنفخت عن ضلوعي

کتاب علل الشرائع – الشيخ الصدوق – ج ١ – الصفحة ١٥٩

ترجمہ
کیا وجہ ہے کہ امیر المومنین علی عليه السلام کے سر کے اگلے حصہ پر بال نہ تھے اور کیا وجہ ہے کہ ان کو الانزع البطین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے

امیر المومنین علی عليه السلام نے ارشاد فرمایا کہ جب الله کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سر کے بال اڑا دیتا ہے اور یہ دیکھو میں ایسا ہی ہوں

ایک شخص نے حضرت علی عليه السلام سے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں جو آپ میں موجود ہیں یہ بتایے آپ کا قد کیوں چھوٹا ہے؟ اور پیٹ کیوں بڑا ہے؟ اور سر کے سامنے کے بال کیوں نہیں ہیں؟ حضرت علی عليه السلام نے جواب دیا الله نے نہ مجھے بہت طویل بنایا اور نہ بہت فقیر بلکہ میرے قد کو مستدل بنایا تاکہ میں اپنے سے پستہ قد کے دو ٹکڑے لمبائی میں کر دوں اور اپنے سے دراز قد کی ٹانگوں پر قطا لگا دوں اب سوال یہ ہے کہ میرا پیٹ کیوں بڑا ہے تو سن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے علم کے بہت سے باب تعلیم کیے اور ہر باب سے مجھ پر علم کے ہزار باب کھل گئے اور سینے میں گنجائش نہ پا کر پیٹ میں اتر آئے

اسی طرح کی بات علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحار الالنوار میں بھی لکھی ہے

جناب فاطمہ زہرا عليه السلام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی رائے سب سے اولی ہے لیکن قریش کی عورتیں تو علی عليه السلام کے متعلق طرح طرح کی باتیں کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کا پیٹ نکلا ہوا ہے ہاتھ لمبے ہیں ان کے جوڑوں کی ہڈیاں بہت چوڑی ہیں سر کے اگلے حصہ کے بال بھی نہیں ہیں آنکھیں بڑی بڑی ہیں شیروں اور درندوں جیسے ہاتھ پاؤں ہیں ہر وقت ہنستے رہتے ہیں پھر ان کے پاس نہ مال ہے نہ دولت و حشمت بالکل مفلس اور فقیر ہیں

کتاب بحار الأنوار – العلامة المجلسي – ج ٣ – الصفحة ١٣١۔
👇👇👇