شیعوں کی طرف سے توہین سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا

🔥🔥🔥 🔞🔞عورتیں اور بچے یہ پوسٹ مت پڑھیں 🔞🔞🔥🔥🔥

توہین  حضرت بتولؓ:

’’پس جب ارادہ تزویج فاطمہؓ ہمراہ علیؓ ہوا، جناب فاطمہؓ سے پنہاں حضرت نے بیان کیا ،جناب فاطمہؓ نے کہا کہ میرا آپ کو اختیار ہے، لیکن زنان قریش کہتی ہیں کہ علیؓ بزرگ شکم اور بلند دست ہے اور بند ہائے استخوان پراگندہ ہیں،آگے سر کے بال نہیں آنکھیں بڑی اور ہمیشی خندہ دہاں اور مفلس ہیں۔

(جلال العیون ص 130ج۔ بحار الانوار جلد 3 ص 131 )

سوچنے کی بات یہ ہے کیا واقعی حضرت فاطمہؓ ایسی بازاری گفتگو کر سکتی ہیں؟  کیا سیدنا علی کو اللہ عزوجل نے جسمانی طور پر بدنما بنایا تھا؟ معاذاللہ ثم معاذاللہ

اس سے بڑھ کر بھی حضرت بتولؓ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی توہین ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ایسی نام نہاد محبت سے خدا کی پناہ
ترااژدھا گر بود یار غار
ازاں بہ کہ جاہل بودو غم گسار
یہ ہے شیعہ کے دعووں کی حقیقت کہ ہم لوگ محبان اہل بیت ہیں اور ثقلین ( قرآن اور اہل بیت رسولﷺ) کو ماننے والے ہیں۔

آپ محمد ﷺ کی حضرت علی کو جماع کرنے کی نصیحت
یعنی سسر کی داماد کو جماع کرنے کی نصیحت
1- ياعلی شب دو شنبہ کو جماع کرنا اگر بچہ پیدا ہوا تو قرآن کا حافظ اور خدا کی نعمتوں پر راضی و شاکر ہوگا،
2- یاعلی اگر تم شب سہ شنبہ کو جماع کیا اور جو بچہ پیدا ہوگا وہ اسلام کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ رتبہ شہادت بھی پائے گا منہ سے اس کے خوشبو آتی ہوگی دل اس کا رحم سے پر ہوگا ہاتھ کا وہ سخی ہوگا اور زبان اس کی غیبت وافترام و بہتان سے پاک ہوگی،
3- یا علی اگر تم شب پنجشنبہ جماع کرو گے تو جو بچہ پیدا ہوگا حاکم شریعت ہوگا یا عالم،
4- اور اگر روز پنجشنبہ ٹھیک دوپیر کے وقت جماع کرو گے تو آخری دم تک شیطان اس کے پاس نہ بھٹکے گا اور خدا اس کو دین و دنیاں کی سلامتی عطا فرمائے گا،
5- یاعلی اگر تم نے شب جمعہ کو جماع کیا تو بچہ پیدا ہوگا وہ فصاحت بیانی اور شیریں زبان میں مشہور ہوگا اور کوئی خطیب اس کی ہمسری نہ کر سکے گا،
6- اور اگر روز جمعہ بعد نماز عصر جماع کیا تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ عقلائے زمانہ میں شمار ہوگا،
7-اگر شب جمعہ بعد نمازے عشاء جماع کیا تو امید ہے جو بچہ پیدا ہوا وہ ابدال میں شمار ہو،
8- یاعلی شب کی پہلی ساعت میں جماع نا کرنا کیونکہ اگر بچہ پیدا ہوا تو شاید جادوگر ہو اور دنیاں کو آخرت پر اختیار کرے،
یا علی یہ وصیتیں مجھ سے سیکھ لو جس طرح میں نے جبرائیل سے سیکھی ہیں۔۔۔
تہذیب الاسلام ملا باقر مجلسی صفحہ 133 تا 134


بسند حسن جناب صادق  سے روایت کی ہے کہ حلال چیز بیان کرنے میں کوئی غیرت نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شب زفاف جناب علی رض اور جناب فاطمہ رض سے فرمایا جب تک میں نہ آلوں کام نہ کرنا جب حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے دونوں پاؤں دونوں صاحبوں کے رخت خواب میں درانہ فرمائے
کتاب جلاء العيون – العلامة المجلسي – ج ١ – الصفحة ٢١١


❌ کیا کوئی باپ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسے کر سکتا ہے؟؟؟ کیا نبی ﷺ کے بارے میں ایسی بات کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟؟؟


📌 رافضہ کی متعدد کتب میں یہ روایت موجود ہے:
نبی ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سیدہ فاطمہ کے چہرے یا “نعوذ باللہ” ان کے دونوں پستانوں کے درمیان پیار نہ کر لیتے۔
📖 بحار الانوار:ج43 ص 78

🍀یہ ہے ان لوگوں کی اہل بیت سے محبت، شیعوں کی حالت مشرکین مکہ سے کم نہیں جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا لیکن جب اپنے گھر بیٹی ہوتی تو موت پڑ جاتی، ایسے ہی یہ بھی ہیں متعہ کی بات اور اس کی فضیلت میں ان کی رالیں ٹپکتی ہیں لیکن کوئی ان کی بیٹی مانگے تو جو تھوڑا غیرت مند ہو گا وہ تھوڑا جھجکے گا ضرور اور ایسے ہی کوئی رافضی کوشش تو کرے اپنی بیٹی کو اس جگہ پیار کرنے کی۔ جس طرح ان بدبختوں نے لخت جگر پیمبرﷺ کی طرف اس قسم کی باتیں منسوب کر رکھی ہیں۔