شعب ابی طالب : اصل حقائق بمعہ ثبوت

شیعہ اعتراض: قریش مکہ کے بائیکاٹ کے دوران نبی کریم کے ساتھ تمام بنی ہاشم نے تین برس کا عرصہ شعب ابی طالب میں کٹھن تکالیف سے گذارا، اس وقت حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق کہاں تھے؟

♦️ شعب ابی طالب میں شیخین کریمین (حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق) کی عدم شرکت کا دعوی باطل و مردود ہے۔

♦️ جب نبی کریم کو تکلیف دینے کے لئے قریش مکہ جمع ہوئے تو انہوں نے ایک عہدنامہ لکھا ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس مشکل ترین وقت میں بھی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔

♦️ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ شعب ابی طالب کے واقعہ کا سبب ہی حضرت عمر فاروق اور دیگر صحابہ کرام کا قبول اسلام تھا۔

👈 تاریخ کی کئی معتبر کتب سے ان حقائق کی تصدیق ہوتی ہے۔

🔴شعب ابی طالب ۷ نبوی 🔴

اعلان نبوت کے ساتویں سال ۷ نبوی میں کفار مکہ نے جب دیکھا کہ روز بروز مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور حضرت حمزہ و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما جیسے بہادرانِ قریش بھی دامن اسلام میں آ گئے تو غیظ و غضب میں یہ لوگ آپے سے باہر ہو گئے اور تمام سرداران قریش اور مکہ کے دوسرے کفار نے یہ اسکیم بنائی کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے اور ان لوگوں کو کسی تنگ و تاریک جگہ میں محصور کر کے ان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے تا کہ یہ لوگ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائیں۔ چنانچہ اس خوفناک تجویز کے مطابق تمام قبائل قریش نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ جب تک بنی ہاشم کے خاندان والے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو قتل کے لئے ہمارے حوالہ نہ کر دیں

1️⃣ کوئی شخص بنو ہاشم کے خاندان سے شادی بیاہ نہ کرے۔

2️⃣ کوئی شخص ان لوگوں کے ہاتھ کسی قسم کے سامان کی خریدوفروخت نہ کرے۔

3️⃣ کوئی شخص ان لوگوں سے میل جول، سلام و کلام اور ملاقات و بات نہ کرے۔

4️⃣ کوئی شخص ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ جانے دے۔

منصور بن عکرمہ نے اس معاہدہ کو لکھا اور تمام سرداران قریش نے اس پر دستخط کر کے اس دستاویز کو کعبہ کے اندر آویزاں کر دیا۔ ابو طالب مجبوراً حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور دوسرے تمام خاندان والوں کو لے کر پہاڑ کی اس گھاٹی میں جس کا نام ” شعب ابی طالب ” تھا پناہ گزین ہوئے۔ ابولہب کے سوا خاندان بنو ہاشم کے کافروں نے بھی خاندانی حمیت و پاسداری کی بنا پر اس معاملہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور سب کے سب پہاڑ کے اس تنگ و تاریک درہ میں محصور ہو کر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اور یہ تین برس کا زمانہ اتنا سخت اور کٹھن گزرا کہ بنو ہاشم درختوں کے پتے اور سوکھے چمڑے پکا پکا کر کھاتے تھے۔اور ان کے بچے بھوک پیاس کی شدت سے تڑپ تڑپ کر دن رات رویا کرتے تھے۔ سنگدل اور ظالم کافروں نے ہر طرف پہرہ بٹھا دیا تھا کہ کہیں سے بھی گھاٹی کے اندر دانہ پانی نہ جانے پائے۔ (زرقانی علی المواهب ج۱ ص ۲۷۸)

مسلسل تین سال تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور خاندان بنو ہاشم ان ہوش ربا مصائب کو جھیلتے رہے یہاں تک کہ خود قریش کے کچھ رحم دلوں کو بنو ہاشم کی ان مصیبتوں پر رحم آ گیا اور ان لوگوں نے اس ظالمانہ معاہدہ کو توڑنے کی تحریک اٹھائی۔ چنانچہ ہشام بن عمرو عامری، زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی، ابو البختری، زمعہ بن الاسود وغیرہ یہ سب مل کر ایک ساتھ حرم کعبہ میں گئے اور زہیر نے جو عبدالمطلب کے نواسے تھے کفار قریش کو مخاطب کرکے اپنی پر جوش تقریر میں یہ کہا کہ اے لوگو ! یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ کہ ہم لوگ تو آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خاندان بنو ہاشم کے بچے بھوک پیاس سے بے قرار ہو کر بلبلا رہے ہیں۔ خدا کی قسم ! جب تک اس وحشیانہ معاہدہ کی دستاویز پھاڑ کر پاؤں سے نہ روند دی جائے گی میں ہرگز ہرگز چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ تقریر سن کر ابوجہل نے تڑپ کر کہا کہ خبردار ! ہرگز ہرگز تم اس معاہدہ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ زمعہ نے ابوجہل کو للکارا اور اس زور سے ڈانٹا کہ ابوجہل کی بولتی بند ہو گئی۔ اسی طرح مطعم بن عدی اور ہشام بن عمرو نے بھی خم ٹھونک کر ابوجہل کو جھڑک دیا اور ابو البختری نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ اے ابوجہل ! اس ظالمانہ معاہدہ سے نہ ہم پہلے راضی تھے اور نہ اب ہم اس کے پابند ہیں۔

اسی مجمع میں ایک طرف ابو طالب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے لوگو ! میرے بھتیجے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کہتے ہیں کہ اس معاہدہ کی دستاویز کو کیڑوں نے کھا ڈالا ہے اور صرف جہاں جہاں خدا کا نام لکھا ہوا تھا اس کو کیڑوں نے چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ اس دستاویز کو نکال کر دیکھو اگر واقعی اس کو کیڑوں نے کھا لیا ہے جب تو اس کو چاک کرکے پھینک دو۔ اور اگر میرے بھتیجے کا کہنا غلط ثابت ہوا تو میں محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تمہارے حوالے کردوں گا۔ یہ سن کر مطعم بن عدی کعبہ کے اندر گیا اور دستاویز کو اتار لایا اور سب لوگوں نے اس کو دیکھا تو واقعی بجز اﷲ تعالیٰ کے نام کے پوری دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ مطعم بن عدی نے سب کے سامنے اس دستاویز کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اور پھر قریش کے چند بہادر باوجودیکہ یہ سب کے سب اس وقت کفر کی حالت میں تھے ہتھیار لے کر گھاٹی میں پہنچے اور خاندان بنو ہاشم کے ایک ایک آدمی کو وہاں سے نکال لائے اور ان کو ان کے مکانوں میں آباد کر دیا۔ یہ واقعہ ۱۰ نبوی کا ہے۔ منصور بن عکرمہ جس نے اس دستاویز کو لکھا تھا اس پر یہ قہر الٰہی ٹوٹ پڑا کہ اس کا ہاتھ شل ہو کر سوکھ گیا۔

(مدارج النبوة ج۲ ص۴۲)

٭٭٭ عام الحزن (غم کا سال) ۱۰ نبوی ٭٭٭

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم “شعب ابی طالب” سے نکل کر اپنے گھر میں تشریف لائے اور چند ہی روز کفار قریش کے ظلم و ستم سے کچھ امان ملی تھی کہ ابو طالب بیمار ہو گئے اور گھاٹی سے باہر آنے کے آٹھ مہینے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

ابو طالب کی وفات حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے ایک بہت ہی جاں گداز اور روح فرسا حادثہ تھا کیونکہ بچپن سے جس طرح پیار و محبت کے ساتھ ابو طالب نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پرورش کی تھی اور زندگی کے ہر موڑ پر جس جاں نثاری کے ساتھ آپ کی نصرت و دستگیری کی اور آپ کے دشمنوں کے مقابل سینہ سپر ہو کر جس طرح آلام و مصائب کا مقابلہ کیا اس کو بھلا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کس طرح بھول سکتے تھے۔

حضرت بی بی خدیجہ کی وفات :

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر ابھی ابو طالب کے انتقال کا زخم تازہ ہی تھا کہ ابو طالب کی وفات کے تین دن یا پانچ دن کے بعد حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی دنیا سے رخصت فرما گئیں۔ مکہ میں ابو طالب کے بعد سب سے زیادہ جس ہستی نے رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت میں اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کیا وہ حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی ذات گرامی تھی۔ جس وقت دنیا میں کوئی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مخلص مشیر اور غمخوار نہیں تھا حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی تھیں کہ ہر پریشانی کے موقع پر پوری جاں نثاری کے ساتھ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی غمخواری اور دلداری کرتی رہتی تھیں اس لئے ابو طالب اور حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا دونوں کی وفات سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مددگار اور غمگسار دونوں ہی دنیا سے اٹھ گئے جس سے آپ کے قلب نازک پر اتنا عظیم صدمہ گزرا کہ آپ نے اس سال کا نام “عام الحزن” (غم کا سال) رکھ دیا۔

حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے رمضان ۱۰ نبوی میں وفات پائی۔ بوقت وفات پینسٹھ برس کی عمر تھی۔ مقام حجون (قبرستان جنت المعلی) میں مدفون ہوئیں۔ حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس ان کی قبر میں اترے اور اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کی لاش مبارک کو زمین کے سپرد فرمایا۔ (زرقانی ج۱ ص۲۹۶)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تاریخ شاہد ہے کہ قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے مکمل طور پر بائیکاٹ کر لیا تھا اس بائیکاٹ کا عرصہ تین سال ہے حضرت ابوطالب تمام بنی ہاشم کو شعب ابی طالب میں لے گئے تھے یہ تین برس کا عرصہ بنی ہاشم نے نہایت عسرت اور کٹھن تکالیف سے گزارا ان تین سال کے دوران حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کہاں تھے اگر یہ بزرگ مکہ میں ہی تھے تو انہوں نے حضرت کا ساتھ کیوں نہ دیا اور اگر شعب ابی طالب میں رسول ﷺ کے ساتھ نہ جا سکے تو کیا کسی وقت ان بزرگوں نے  آب ودانہ ہی کی کوئی رسول ﷺ کی مدد کی جبکہ کفار مکہ میں سے زہیر ابن امیہ بن مغیرہ نے پانی اور کھانے پہنچانے اور عہدنامے کو توڑنے پر دوستوں کو آمادہ کیا

الجواب:

شعب ابی طالب کے واقعہ میں شیخین (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدم شرکت کا دعویٰ ہی باطل و مردود ہے اس لیے کہ اس نے اپنے گمان فاسدہ سے یہ تحریر کیا ہے اس نے اپنے دعوے کی دلیل میں کوئی صریح بسند صحیح روایت نقل نہیں کی ہے اس لیے کہ ائمہ نے شعب ابی طالب کے حالات بیان فرماتے ہوئے صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ جب رسول ﷺ کی ایذا رسائی پر قریش مجتمع ہوگئے اور انہوں نے ایک صحیفہ لکھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس مشکل ترین وقت میں رسول ﷺ کے ساتھ تھے اس وجہ سے جناب ابو طالب نے اس واقعے کو بصورت شعر ذکر کیا ہے جس میں سرکار دو عالم کے ساتھ سرکار سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ہونا صراحت کے ساتھ مذکور ہے

وھم رجعواسھل بن بیضاراضیا

فسر ابوبکر بھا ومحمد

جناب ابوطالب نے کہا قبیلہ قریش نے سہل بن بیضاء کو راضی کرکے واپس کیا ایک جماعت قریش کی صحیفے کے نقص اور توڑنے کے لیے کھڑی ہو گئیں ان میں سہل ابن بیضاء بھی تھا

جنہوں نے ابھی قبول اسلام نہ کیا تھا بعد میں مسلمان ہوئے پس اس بات پر رسول ﷺ بھی راضی ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسرور ہوئے

ازالۃ الخفاء 2/110 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ

دیگر محدثین نے بھی اس واقعہ کو نقل کیا ہے مذکورہ شعر کے ساتھ

حوالہ جات

البدایہ والنہایہ جلد 3 صفحہ 98

سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 379

الاستیعاب جلد 2 صفحہ 92

معلوم ہوا کہ شیعہ کا یہ ہے مذکورہ اعتراض بر بنائے جہالت و خباثت ہے اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اختصار مانع ہونے کی وجہ سے ہم نے صرف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ہی ذکر کیا ہے یہ بات قابل غور ہے کہ شعب ابی طالب کا واقعہ کا سبب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کا قبول اسلام تھا
دیکھئے طبری جلد 2 صفحہ 335 البدایہ صفت جلد 3 صفحہ 79

روضة الصفاء اللشعیی میں بھی یہی مذکور ہے ص2 /49

پھر دوسری بات یہ ہے کہ عدم ذکر عدم شے کو مستلزم نہیں ہوا کرتا شیعہ کا یہ کہنا بغیر دلیل کے باطل ومردود ہے

صاف اسکینز

1

2

3

4