اعتراض شجر ملعونہ بنو امیہ

شیعہ عتراض

شجرہ ملعونہ بنو امیہ

شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کے پندرہویں پارہ کی آیت نمبر 60 میں شجرۃ الملعونہ سے مراد بلا اختلاف ائمہ مفسرین اور بالاتفاق شیعہ سنی بنو امیہ ہیں اس لیے بنو امیہ قرآن کے فرمان کے مطابق معلوم ہوئے اس لئے ان پر لعنت بھیجنا ضروری ہے

الجواب 

یہود جنہیں قرآن کریم نے مفسدین کی سند عطا کی ہے اور فتنہ پرور اور فریب کاری میں سب سے بلند مقام رکھتے ہیں حضور ﷺ کے زمانے میں عبداللہ بن ابی اور اس کی پارٹی کے افراد مسلمان بن کر اسلام کو نقصان پہنچانے شکوک و شبہات پیدا کرنے صحابہ کرام پر غلط الزامات لگا کر ان کی عزت و آبرو کو مجروح کرنے اور ان میں تفرقہ و اختلاف پیدا کرنے اور رسول ﷺ کو ایذا پہنچانے کے لیے غلط خبریں مشہور کرتے رہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان عظیم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی منافقین کی ایک یہ جماعت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک اپنے ناپاک  کوششوں میں ناکام و نامراد رہی۔

ان کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ صحابہ کرام کی مقدس جماعت تھی جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ والہانہ محبت دین اسلام کی اشاعت حفاظت اور  سربلندی کے لیے ایثار و قربانی کا بےپناہ جذبہ اور اس کے ساتھ ان کی پاکیزہ یے داغ اور متقیانہ زندگی تھی جو منافقوں کی ہمت اور کوششوں کو پست کر دیتی تھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں صحابہ کرام کی تعداد کم ہوگی دور دراز تک فتوحات کا سلسلہ قائم ہوگیا صحابہ کی جگہ دوسری نسل  کےلوگ اہم عہدوں پر فائز ہوگئے تھے جن میں حضور ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت کاسا تقوی نہیں تھا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے منافقین کی ایک جماعت عبداللہ بن سبا یہودی کی سربراہی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم ہوگی انہوں نے مرکز اسلام مدینہ منورہ سے دور نومسلم مفتوح علاقوں کو اپنا مرکز بنا لیا ان کا واحد ہدف یہ تھا کہ صحابہ کرام کی عظمت کو افتراپردازی اور دروغ گوئی کے ذریعے سے اس قدر مجروح کر دو کہ ان پر اعتماد ختم ہو جائے یہ گروہ شروع سے منافقین کے حق میں نازل ہونے والی آیات کو صحابہ کرام پر چسپاں کرکے اور آیات متشابہات کا غلط معنی و مفہوم بیان کر کے صحابہ کرام پر بے اعتمادی کا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا چلا آیا ہے اس سے خود بخود مندرجہ ذیل ان کے مطلوبہ نتائج سامنے آ جائیں گے

١۔ ۔۔دین اسلام کے پہلے ناقل صحابہ ہیں اگر ان پر اعتماد باقی نہ رہا تو پورا دین مشکوک ہوجائے گا قرآن مجید قابل اعتماد  رہے گا اور نہ حدیث نبوی صحابہ پر بداعتمادی ہی کی وجہ سے شیعہ اس قرآن کی تحریف کے قائل ہیں جن کا ایمان عادل معتبر نہیں ان کا جمع کردہ قرآن اور حدیث کیسے معتبر ہو سکتی ہے

٢۔ ۔۔وحی الہی اور صاحب وہی دونوں کا مشاہدہ کرنے والے اور رسول ﷺ سے براہ راست دین سیکھنے اور فیض و تربیت حاصل کرنے والے صحابہ کرام ہی ہیں  ویزکیھم ویعلیھم الکتاب والحکمہ وہ انکا یعنی صحابہ کرام کا تزکیہ نفس کرتا ہے اور قرآن و حکمت کی تعلیم دیتا ہے صحابہ کرام پر بے اعتمادی کے بعد لوگ قرآن و حدیث کو لغت عرب اور اپنی عقل سے سمجھنے کی کوشش کریں گے اور اپنی مرضی کے معنی اور مطلب نکالیں گے اور یہ چیز امت مسلمہ کو فکری اختلاف میں مبتلا کر دےگی چناچہ دنیا میں جتنے بھی باطل فرقے ہوئے ہیں یا موجود ہیں ان سب میں صحابہ کرام پر بد اعتمادی مشترکہ طور پر پائی جاتی ہے۔

آج کل کے روشن خیال مسلمان نما مستشرقین بھی یہی چاہتے ہیں اور صحابہ کرام اور سلف صالحین سے لاتعلق ہوکر موجودہ دور کے مطابق قرآن کو اپنی عقل سے سمجھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں تا کہ نفس کی خواہشات اور دنیاوی مفادات کے مطابق مضامین قرآن سے اخذ کرکے اسلام میں مغرب کے مادر پدر آزادی کا دروازہ کھولا جا سکے علاوہ ازیں منافقین اس ذریعہ سے مسلمانوں میں تفرقہ اور اختلافات بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں ضروری وضاحت کے بعد مذکورہ آیت کریمہ کا معنی و مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں شیعہ حضرات کی عمومی عادت ہے کہ لوگوں پر آپنے غلط بات کاتاثر قائم کرنے کے لیے شیعہ کتاب کے حوالے کو اہل سنت کے نام یا بلا اختلاف یا بالاتفاق شیعہ سنی کے الفاظ کے ساتھ پیش کرتے ہیں تاکہ سادہ لوح سنیوں کو اپنے شیعہ عقائد کی طرف بہکایا جا سکے چنانچہ  بحث آیت کے معنی و مفہوم میں شیعہ احباب کا بار بار لفظ بالاتفاق استعمال کرنا سراسر غلط اور دروغ گوئی ہے تمام صحابہ کرام اور بالخصوص ماہرین قرآن صحابہ کرام جنہوں نے براہ راست رسول ﷺ سے قرآن مجید سیکھا ہے اور رسولﷺ نے امت کو ان سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا ہے انہوں نے اور تمام اہل سنت کے مفسرین نے مذکورہ آیت میں شجرہ ملعونہ کا معنی زقوم کا درخت کیا ہے چنانچہ تفسیر طبری تفسیر مدارک تفسیر جلالین تفسیر روح البیان تفسیر ابن کثیر ملاحظہ ہو اور اہل سنت کے تمام مفسرین نے اس لفظ سے بنوامیہ مراد لینے کی سختی سے تردید کی ہے اس لئے شیعہ کا یہ کہنا لا اختلاف بین احد انہ ارادبھا بنی امیة کہ اس بات میں کسی ایک شخص کا بھی اختلاف نہیں ہے کہ آیت مذکورہ میں شجرہ ملعونہ سے مراد بنوامیہ ہیں بالکل غلط ہے نمونہ کے طور پر امام المفسرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی جنہوں نے رسول ﷺ سے قرآن سیکھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعا دی اور امت کو ان سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا ہے ان کا حوالہ پیش خدمت ہے اور تفسیر بھی اس مفسر کی ہے جس نے اپنی کتابوں میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام پر لعنت اللہ لکھا ہے

تفسیر تفسیر طبری جلد 15

قال ابن عباس رضی اللہ عنہ والشجرہ الملعونہ فی القران قال شجرة الزقوم

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں شجرة ملعونہ سے مراد زقوم کا درخت ہے یہ درخت جہنم کی تہہ میں اگا اور دوزخیوں کی خوراک ہوگی  درخت بھی حضور ﷺ کو معراج میں دکھایا گیا تھا اور اسے کفار کے لیے آزمائش بنا دیا گیا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے تو پھر یہ درخت کیسے اگے گا

دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ آیت جس سورۃ میں واقع ہے وہ سورت مکی ہے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا خاندان فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا ہے اس اعتبار سے بھی شجرہ ملعونہ سے مراد بنو امیہ لینا غلط ہے