سیدہ فاطمہ کے گھر پر حملے کی حقیقت ایک شیعہ مرجع عالم دین کی زبانی

سیدہ فاطمہ کے گھر پر حملے کی حقیقت ایک شیعہ مرجع عالم دین کی زبانی

اس ویڈیو میں شیعہ مرجع عالم دین سید محمد حسین فضل اللہ المعروف “آیت اللہ فضل اللہ” بیان کرتے ہیں:

“جب ہم زہرہ علیہ السلام کی یادیں تازہ کرتے ہیں تو پھر ہمارے لئے بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم انکی معطر اور طئب سیرت کے بارے میں بھی ضرور جانیں کیونکہ سب سے بڑا مسئلہ بہت لوگوں کے ساتھ وہ یہ ہے کہ بی بی زہرہ علیہ السلام کی زندگی کا ذکر صرف ایک سانحہ کے طور پر کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ لوگ انکی خوبصورت شخصیت کو بھول کر صرف ایک مسئلہ پر متوجہ رہتے ہیں کہ زہرہ علیہ السلام کی پسلی توڑ دی گئی تھی، اور یہ مسئلہ ہماری سمجھ سے باہر ہے. کیوں؟

کچھ لوگ آپ سے یہ کہیں گے سیدہ زہرہ علیہ السلام کی پسلی ٹوٹ جانے پر یقین نہیں کرتے، جیسے کہ زہرہ علیہ السلام کی پسلی ٹوٹ جانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہو. میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ میرے ساتھ ایک لمحہ کے لئے ذرا سوچیں. سیدہ زہرہ علیہ السلام حضرت علی علیہ السلام کی بیوی تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حضرت علی علیہ السلام کے پاس انکی امانت تھیں، اور وہ تمام امت کے نزدیک محبوب ترین شخصیت ہیں. کیونکہ رسول اللہ (ﷺ) انکو بہت اہمیت دیتے تھے.

بہرحال، اگر واقعی حضرت عمر نے بی بی زہرہ کو قتل کیا ہوتا تو امام علی کیا کر رہے تھے؟ کیا امام علی بزدل تھے؟ تم میں سے جو جو شخص شادی شدہ ہے فرض کرو کوئی تمہاری بیوی پر حملہ کرنے یا قتل کرنے کا ارادہ کرے تو کیا تم بیٹھ کر لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھو گے یا اسکا دفاع کرو گے؟ اگر تم اپنی بیوی کا دفاع نہیں کر سکتے تو لوگ تمہارے بارے میں کیا کہیں گے؟ یہ تو تھی پہلی بات.

دوسری بات یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام گھر میں اس وقت اکیلے تھے؟ وہاں پر بنی ہاشم کا خاندان موجود تھا! اور تو اور بی بی زہرہ علیہ السلام کو لوگ اس طرح سے چھوڑ سکتے تھے کہ کوئی انکی پسلی توڑ دے، تو کوئی تلوار انکے دو ٹکڑے کر دے، ان کے سینے میں کیل اتار دے؟ کیا ایسی باتوں کو عقل تسلیم کرتی ہے؟ سوچو… غور کرو…! لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی (ﷺ) نے علی علیہ السلام کو منع کیا تھا. کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کو منع کیا تھا؟ کیا انہوں نے اپنی موت سے پہلے یہ وصیت کی تھی کہ “یا علی اگر فاطمہ پر کوئی حملہ کرے تو تم پر حرام ہے کہ تم اس کا دفاع کرو”؟ کیا ایک انسان جس کے پاس تھوڑی سی بھی عقل ہو ایسا سوچ سکتا ہے؟ کیا یہ بات منطقی ہے کہ نبی (ﷺ) نے علی علیہ السلام سے کہا ہو کہ “اگر میری بیٹی کو کوئی قتل کرنا چاہے”، جو کہ رسول اللہ (ﷺ) کی محبوب ترین بیٹی تھیں” تو تم اس کا دفاع نہ کرنا”؟

اسی وجہ سے میں صاف صاف کہہ دیتا ہوں کہ واللہ میں اس کہانی سے اتفاق نہیں کرتا. اور تم جانتے ہو کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دیکھو سید کیا کہہ رہے ہیں، لوگ بی بی زہرہ علیہ السلام کی پسلی زبردستی توڑنے پر تلے ہوئے ہیں. اور دوسری بات یہ ہے کہ زہرہ علیہ السلام خود بھی بہت طاقتور ہوا کرتی تھیں جس کے بارے میں ہم بات کریں گے. بہت سے لوگ اس قصے کو سنا سنا کر لوگوں کو رلانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ انکی عقل اس بات کو بالکل تسلیم نہیں کرتی اور اب تم نے مجھ سے یہ بات سن لی ہے تو تم بھی اپنی عقل سے سوچو کہ اگر یہ واقعہ تمہارے ساتھ پیش آئے تو کیا تم اسے قبول کرو گے؟ تو پھر کیسے یہ بات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں قبول کر لیتے ہو؟

کسی نے کسی غیر شیعہ عالم کو یہ کہتے سنا کہ تم شیعہ لوگ کیوں کہتے ہو کہ حضرت علی بزدل تھے؟ اس نے جواب دیا نہیں وہ تو شیر تھے! تو وہ بولا کہ وہ کیسے شیر تھے جنہوں نے اپنی بیوی کا دفاع تک نہیں کیا؟”

👆🏻یہ ہوبہو وہی الفاظ ہیں جو ویڈیو میں آیات اللہ فضل اللہ صاحب کی زبان سے ادا ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو دین کا صحیح فہم عطا فرمائے اور ہمیں حق کو سمجھنے، قبول کرنے، بیان کرنے اور اس. پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین!

ڈاؤنلوڈ وڈیو

ایک اور شیعہ محقق کی تحقیق

اس وڈیو میں آگ در بتول کے واقعے کے متعلق اہل سنت و اہل تشیع کی اولین کتب کی تمام  روایات کی تفصیل بتائی گئی ہے اور تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ افسانوی  اور مکمل گھڑا ہوا  قصہ ہے جس کی کوئی حقیقت نیہں ہے۔

ڈاؤنلوڈ کریں

ڈاؤنلوڈ کریں