سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا نبی کریمﷺ سے بابرکت نکاح (بوقت نکاح سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی عمر کتنی تھی؟ تحقیق)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا نبی کریمﷺ سے بابرکت نکاح (بوقت نکاح سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی عمر کتنی تھی؟ تحقیق)

شیعہ رافضیوں کا اعتراض

الجواب:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اعلان نبوت کے دسویں سال اور ہجرت کے تین سال قبل ماہ شوال میں ہوا- ایک دفعہ ماہ شوال کے مہینے میں عرب میں طاعون کی خوفناک وباء پھیلی جس نے ہزاروں گھرانوں کو ویران کر دیا ، اس وقت سے شوال کا مہینہ اہل عرب میں منہوس سمجھا جاتا تھا، وہ اس مہینے میں خوشی کی تقریب کرنے سے احتراز کرتے تھے، چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح شوال میں ہوا اور خطبۂ نکاح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پڑھا اور رخصتی بھی چند سال بعد شوال ہی میں ہوئی، اس مبارک نکاح کی برکت سے شوال کی نحوست کا وہم لوگوں کے دلوں سے دور ہوا- آپ کا مہر 500 درہم مقرر ہوا- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ پیدائشی مسلمان تھیں- ان ہی سے روایت ہے کہ “جب میں نے اپنے والدین کو پہچانا انہیں مسلمان پایا”- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر روز ازل سے کفر و شرک کا سایہ تک نہ پڑا-

حضرت عائشہ کی عمر بوقت ِنکاح چھ یا سات برس کی تھی اور بوقت ِرخصتی ۹ برس ۔ چنانچہ صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، ابوداود اور نسائی ان چاروں کتابوں کی متفقہ روایت یہ ہے :

«عن عائشة قالت تزوجنی رسول اللهﷺ وأنا بنت ست سنين فقدمنا المدينة فنزلنا فی بني الحارث بن خزرج فوعکت فتمزق شعري فوفی جميمة فاتتنی أمی أمّ رومان وإنی لفی أرجوحة ومعی صواحب لی فصرختْ بی فأتيتها لا أدری ما تريد بی فأخذت بيدي حتی أوقفتنی علی باب الدار وإنی لأنهج حتی سکن نفسی ثم أخذت شيئا من ماء فمسحت وجهي ورأسی ثم أدخلتنی الدار فاذا نسوة من الأنصار في البيت فقلن علی الخير والبرکة وعلی خير طائر فأسلمتنی إليهن فأصلحن من شأنی فلم يرعنی إلارسول اللهﷺ ضحی فأسلمننی إليه وأنا يومئذ بنت تسع سنين» (صحیح بخاری : حدیث نمبر ۳۸۹۴)

“حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا، اس وقت میری عمر چھ برس کی تھی۔ اس کے بعد ہم لوگ (ہجرت کرکے) مدینہ گئے اور وہاں قبیلہ بنی حارث میں قیام ہوا۔ ا س کے بعد مجھے ایسا بخار آیا کہ سر کے تمام بال جھڑ گئے، پھر (از سر نو نکل کر) کندھوں تک ابھی پہنچے تھے کہ میری ماں (اُمّ رومان) میرے پاس آئیں اور میں اس وقت لڑکیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی۔ میں ماں کے پاس چلی گئی۔ مجھے کچھ خبر نہیں کہ آج کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر دروازہ پر (تھوڑی دیر) رکے رہیں۔ میری سانس (کھیل کی وجہ سے) چڑھ رہی تھی۔ جب سکون ہوا تو ماں نے پانی لے کر میرا منہ اور سر دھویا۔ پھر مکان میں لے کر گئیں۔( گھر میں پہنچ کر دیکھتی ہوں کہ )اَنصار کی عورتیں وہاں موجود ہیں، وہ مجھے دعاءِ خیر اور مبارک باد دینے لگیں۔ ماں نے مجھے ان عورتوں کے حوالہ کیا، انہوں نے میرا بناؤ سنگھار کیا۔ اب تک مجھے کچھ خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا۔ اور پھر مجھے ان عورتوں نے آپ کے سپربد کردیا۔ اور اس وقت میری عمر کل ۹ برس کی تھی۔”

ابوداود، نسائی، صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی یہ متفقہ روایت ہے اور لطف یہ ہے کہ اس واقعہ کی راوی بھی خود حضرت عائشہ ہی ہیں اور آپ خود اپنا واقعہ اپنی زبان سے فرما رہی ہیں۔ اور نہایت صراحت کے ساتھ بتلا رہی ہیں کہ مکہ مکرمہ میں چھ برس کی عمر میں میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہوا۔ اور مدینہ منورہ میں ۹ برس کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔ کیا ایسی پختہ اور معتبر روایت مل جانے کے بعد بھی کسی اور طرف نظر کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ کیونکہ یہ حدیث نہ صرف سنن کی ہے بلکہ صحیحین کی بھی ہے جس میں صحیح بخاری بھی شامل ہے۔ اور صحیح بخاری کی صحت اور اعتبار کا جو درجہ اسلام میں تسلیم کیا گیاہے کسی سے مخفی نہیں کہ”روئے زمین پر قرآن شریف کے بعد سب سے زیادہ معتبر کتاب صحیح بخاری ہے۔”

تمام فقہاءِ امت بھی نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اسی عمر کے قائل ہیں۔ اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کتنے مسائل کی کتب ِفقہ میں ‘تفریع’ کی گئی ہے۔ کتاب الاستیعاب فی معرفة الأصحاب جو صحابہ کے حالات میں نہایت جامع، مبسوط اور معتبر کتاب ہے، اس میں بھی آپ کی عمر یہی مذکور ہے ۔ چنانچہ آپ کے ترجمہ میں اس کتاب کی عبارت یہ ہے :

«عائشة بنت أبی بکر الصديقؓ  زوج النبیﷺ تزوجها رسول اللهﷺ بمکة قبل الهجرة بسنتين هذا قول أبی عبيدة وقال غيره بثلاث سنين وهي بنت ست سنين وقيل سبع سنين وابتنی بها بالمدينة وهي ابنة تسع لاأعلمهم اختلفوا فی ذلک» (استيعاب ص۳۵۶ علی هامش الإصابة)

“حضرت عائشہؓ : (آپؓ) حضرت ابوبکرؓ کی بیٹی ہیں۔ آپ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں ہواتھا۔ ابوعبیدہؓ کا بیان ہے کہ ہجرت کے دو سال قبل یہ نکاح ہوا تھا اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ تین سال قبل ہوا تھا۔ اس وقت آپ کی عمر چھ برس کی تھی اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سات برس کی تھی۔ اور جس وقت آپ کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر رخصتی ہوئی ہے، اس وقت آپ کی عمر کل نو برس کی تھی۔ مجھے اس بارے میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں۔”

یعنی آپ کے نکاح کی عمر میں تو ذرا سا اختلاف ہے کہ کسی نے چھ، کسی نے سات برس کی عمر بتلائی ہے مگر رخصتی کی عمر سب کے نزدیک ۹ برس مسلم ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ اب رہا یہ چھ سات کا اختلاف تو اہل نظر کے نزدیک کچھ اہم نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر اپنی کتاب ‘اصابہ’ میں لکھتے ہیں:

«عائشة الصديقة أم الموٴمنين: عائشة بنت أبی بکر الصديق خطبها النبیﷺ وتزوجها بمکة في شوال سنة عشر من النبوة قبل الهجرة بثلاث سنين وأعرس بها بالمدينة فی شوال سنة اثنتين من الجهرة علی رأس ثماني عشر شهراً ولها تسع سنين وقيل دخل بها بالمدينة بعد سبعة أشهر من مقدمه وبقيت معه تسع سنين ومات عنها ولها ثماني عشرة سنة» (الاکمال :ص۲۸)

“عائشہ صدیقہ اُمّ المومنین: یہ عائشہؓ حضرت ابوبکرؓ کی لڑکی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نکاح کا پیغام دیا اور آپ سے مکہ میں شوال کے مہینہ میں نکاح کیا۔ (یہ واقعہ) ۱۰/ نبوت میں ہوا یعنی ہجرت سے تین برس پہلے اور آپ نے ان کو ۱۸/ مہینہ گذرنے کے بعد ۲ ہجری میں اپنی دلہن بنایا جس وقت آپ کی عمر کل ۹ برس کی تھی اور بعض کا بیان ہے کہ یہ خلوت مدینہ میں تشریف آوری کے صرف سات ماہ بعد واقع ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا قیام بھی (مکہ کے قیام کی طرح) صرف ۹ ہی برس رہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی کل عمر صرف اٹھارہ برس کی تھی۔”

«عائشة الصديقة أم الموٴمنين: عائشة بنت أبی بکر الصديق خطبها النبیﷺ وتزوجها بمکة في شوال سنة عشر من النبوة قبل الهجرة بثلاث سنين وأعرس بها بالمدينة فی شوال سنة اثنتين من الجهرة علی رأس ثماني عشر شهراً ولها تسع سنين وقيل دخل بها بالمدينة بعد سبعة أشهر من مقدمه وبقيت معه تسع سنين ومات عنها ولها ثماني عشرة سنة» (الاکمال :ص۲۸)

ہجرت سے تین سال قبل ماہ شوال 10 نبوی میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا نکاح ہوا، اس وقت ان کی عمر چھ سال کی تھی، ہجرت کے سات آٹھ مہینہ بعد شوال ہی میں رخصتی ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر نو سال اور کچھ ماہ تھی۔ 9 سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہیں، جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی عمر 18/ سال کی تھی، اڑتالیس سال آپ کے بعد زندہ رہیں اور 57ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی، وفات کے وقت 66 سال کی عمر تھی۔ بخاری مسلم کی روایتوں نیز سیرت اور اسماء الرجال کی کتابوں میں یہ تفصیلات لکھی ہوئی ہیں۔  

 شیعہ کتب سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا کمسنی میں نکاح