سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا

 اُمّ المُومنین سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا

اجمالی خاکہ
نام صفیہ
والد حُیی بن اخطب
والدہ حزہ بنت سموئیل
سن پیدائش بعثت نبوی سے2سال بعد تقریباً
قبیلہ بنو نضیر
زوجیت رسول 7 ہجری
سن وفات 50ہجری
مقامِ تدفین جنت البقیع مدینہ منورہ
کل عمر 65سال

نام و نسب:

صفیہ نام تھا، سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے: صفیہ بنت حُیی بن اخطب بن سعید بن عامر بن عبید بن خزرع بن ابی حبیب بن نضیر۔جبکہ والدہ کا نام” برہ” یا” ضرہ“تھا۔ جو قبیلہ بنو قریظہ کے سردار سموئیل کی بیٹی تھیں۔

ولادت:

آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے تقریباً 2 سال بعد میں ہوئی۔

خاندانی پس منظر:

سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ بنو نضیر تھا، یہ یہود کا بہت ممتاز قبیلہ تھا، آپ رضی اللہ عنہا کے والد حُییح پر پیش اور ی کو دو بار پڑھنا ہے پہلی بار زبر کے ساتھ اور دوسری پر جزم قبیلہ بنو نضیر کے سردار تھے۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ اولاد نبی اور قبیلہ کے سردار ہونے کی وجہ سے آپ کو معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ والدہ کی طرف سے بھی آپ رضی اللہ عنہا کے خون میں سرداری کےاوصاف پائے جاتے تھے۔

پہلا نکاح:

آپ رضی اللہ عنہا کی عمر جب 14 برس کی ہوئی تو آپ کی شادی سلام بن مشکم القرظی سے کر دی گئی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد سلام بن مشکم نے آپ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی۔ سلام بن مشکم اپنے قبیلہ بنو نضیر کا سردار تھا، اسلام دشمنی میں بہت سرگرم رہا کرتا تھا۔ غزوہ بدر کے بعد جب قریش مکہ کے رئیس ابو سفیان اپنے مقتولین بدر کا انتقام لینے کے لیے دوسواونٹ سواروں کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے تو سیدھے اسی سلام بن مشکم قرظی کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے ابو سفیان کا پر جوش استقبال کیا، اعلیٰ قسم کے کھانے کھلائے، شراب پلائی اور حملہ کرنے کے لیے مدینہ طیبہ کے مخفی راز بھی ابو سفیان کو دیے۔
نوٹ: یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔ بعد میں آپ ایمان لے آئے اور جلیل القدر صحابی بنے۔

مدینہ سےجلا وطنی:

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے، اسلام کی دعوت دی، لوگوں نے اسلام کو قبول کیا، مدینہ میں پہلے سے موجود مذہبی اثر رسوخ کے مالک یہود کے مذہبی وقار میں خاطر خواہ کمی آنے لگی۔ بت پرست مشرکوں میں تسلسل کے ساتھ پھیلتی ہوئی یہودیت، سکڑ گئی۔دوسری طرف مکہ کے قریشی بدر میں ہلاک ہونے والے اپنے سرداروں کا انتقام لینے اور اسلام کو ختم کرنے کے لیے مدینہ کے یہودیوں کو اپنے ساتھ ملا رہے تھے۔ گویا مشرکین مکہ اور یہود مدینہ دونوں اسلام کو مٹانے کے لیے اکٹھے ہو گئے۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے قبیلے بنو نضیر نےایک بار سازش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر گرا کر قتل کرنا چاہا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے اس سازش کی اطلاع کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے راستے سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ دوسری بار قریش مکہ کے کہنے پر بنو نضیر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا اور چال یہ چلی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ تین آدمی لے کر ہمارے پاس تشریف لائیں۔ ہم بھی تین علما کو ساتھ لے کر آتے ہیں۔ آپ اسلام سمجھائیں اگر ہمارے علماء نے آپ کی دعوت کو تسلیم کر لیا تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منظور فرمایا۔راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ تلواریں باندھ کر آپ کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا۔ کئی دن تک یہ محاصرہ جاری رہا۔ لشکر اسلام نے ان کی معاشی قوت کے استیصال کے لیے ان کے باغات تک جلا دیے۔ جب یہ ہر طرف سے بے بس ہو گئے تو انہوں نے صلح کی درخواست کی۔ بالآخر بنو نضیر کو مدینہ سے جلاوطنی اختیار کرنے مجبور کیا گیا وہ اس شرط کے ساتھ راضی ہوئے کہ جس قدر مال و اسباب اونٹوں پر لے جا سکیں، لے جانے دیں تو ہم مدینہ سے نکل جائیں گے۔ چنانچہ جلا وطنی پر مجبور ہونے والوں میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ کے والد حیی بن اخطب اور سلام بن ابی الحُقیق، کنایہ بن الربیع کے علاوہ چند دیگر لوگ بھی بنو نضیر سے خیبر کی طرف چلے گئے، وہاں لوگوں نے ان کا اس قدر احترام کیا کہ خیبر کا سردار تسلیم کر لیا۔

دوسرا نکاح:

خیبر پہنچ کر آپ رضی اللہ عنہا کے والد نے آپ کا نکاح کنانہ بن ابی الحُقیق سے کر دیا۔ کنانہ خیبر کےسردار ابو رافع کا بھتیجا تھا اور خود بھی خیبر کے قلعہ القموص کا حاکم تھا۔

جنگ کی تیاریاں:

آپ رضی اللہ عنہا کے والد حیی بن اخطب جب خیبر آئے تو یہاں اسلام کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے کی تیاریاں شروع کیں۔ آس پاس کے قبائل کو اس کے لیے تیار کیا۔ یہاں تک کہ ایک بڑا لشکر جنگ کے لیے تیار کر لیا۔

غزوہ ذی قرد:

یہود نے قبیلہ غطفان کو بھی لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ عیینہ بن حصن فزاری نے چند افراد کے ساتھ مل کر یہ شرارت کی کہ مقام ذِی قَرد)چراگاہ کا نام ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں چر رہی تھیں ان پر حملہ کر دیا۔ اونٹنیوں کی حفاظت پر مامور حضرت ابوذر کےبیٹے کو قتل کر دیا۔ ان کی بیوی کو گرفتار کر لیا اور 20 اونٹنیاں ساتھ بھگا لےگئے۔ حضرت سلمہ بن الا کو ع رضی اللہ عنہ کو اس حملے کا علم ہوا تو انہوں نے تیز رفتاری سے پیدل دو ڑکر حملہ آوروں کو جا لیا۔ ابھی وہ ایک جگہ پر اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان پر اتنی پھرتی سے تیر برسائے کہ تمام حملہ آورزخمی ہو کرفرار ہو گئے، حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ تمام اونٹنیاں واپس چھڑا لائے۔ اس کے تین دن بعد غزوہ خبیر ہوا۔

غزوہ خیبر:

مدینہ کے شمال مغرب میں خیبر نامی ایک شہر آباد تھا یہ نہایت زرخیز مقام تھا یہاں پر یہودیوں نے چند قلعے بنا رکھے تھے۔ یہود دیگر قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر مدینہ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک عرصے سے جنگی اسلحہ جمع کر رکھا تھا۔ قبیلہ بنو غطفان اور قبیلہ بنو اسد کو نصف کجھوروں کے باغات کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا چکے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی تیاریوں اور اسلحہ جمع کرنے کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو حاکم مدینہ مقرر فرمایا اور خود 1400افراد پر مشتمل صحابہ کرام کے قافلے کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ادھر رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی نے کسی طریقے سے یہودیوں کو خفیہ طور پر مسلمانوں کی روانگی کی اطلاع دے دی۔پہلے تو یہود نے کھلے میدان میں لڑنے کا فیصلہ کیا اور ایک میدان میں نکل آئے ان کا خیال یہ تھا کہ مسلمانوں کو خیبر پہنچنے میں کچھ دن لگ جائیں گے،چند دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ رجیع میں فوجیں اتاریں، خیمے، مستورات اور بار برداری کا سامان یہاں اتار دیا گیا جبکہ اصل لشکر نے خیبر کا رخ کیا۔
مقام صہبا ءپر پہنچ کر نمازِ عصر ادا کی گئی اور اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ستو نوش کیے۔ رات ہوتے ہوتے لشکر خیبر کے قریب پہنچ گیا تھا اور عمارتیں نظر آنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکنے کا حکم دیا اور یہاں رک کر دعا فرمائی۔دوسرے دن خیبر پہنچے۔ یہود ایسی بزدل قوم تھی جب انہوں نے اہل اسلام کی جنگی تیاریاں دیکھیں تو کھلے میدان کے بجائے قلعہ بند ہو کر لڑنے لگے۔

قلعہ قموص کی فتح:

خیبر کی آبادی دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک حصے میں پانچ قلعے تھے۔
1:قلعہ ناعم
2:قلعہ صعب بن معاذ
3:قلعہ زبیر
4:قلعہ اُبی
5: قلعہ نزار
ان میں سے مشہور تین قلعوں پر مشتمل علاقہ نطاۃ کہلاتا تھا اوربقیہ دو قلعوں پر مشتمل علاقہ شق کے نام سے مشہور تھا۔
خیبر کی آبادی کا دوسرا حصہ کتیبہ کہلاتا تھا۔ اس میں صرف تین قلعے تھے۔
1:قلعہ قموص یہ بنو نضیر کے خاندان ابوالحقیق کا قلعہ تھا
2:قلعہ وطیح
3:قلعہ سلالم۔
یہودیوں نے اپنی خواتین اور بچے قلعہ قموص اور نطاۃ میں جبکہ دیگر سامان و اسلحہ وغیرہ قلعہ ناعم میں محفوظ کرلیا اور ہر قلعے پر تیر انداز تعینات کردیے۔ مسلمانوں نے پانچ قلعوں کو ایک ایک کر کے فتح کیا جس میں 50مجاہدین زخمی اور ایک شہید ہوئے۔
قلعہ قموص سب سے بنیادی اور بڑا قلعہ تھا جو ایک پہاڑی پر بنا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے چند صحابہ کرام کو بھیجا لیکن یہ فتح نہ ہوا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” کل میں اسے علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ شکست کھانے والا اور بھاگنے والا نہیں ہے۔ خدا اس کے ہاتھوں سے فتح عطا کرے گا۔“یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خواہش کرنے لگے کہ کاش یہ سعادت انہیں نصیب ہو۔
دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ انہیں آنکھ کی تکلیف ہے اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ مبارک ان کی آنکھ پر لگایا آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھ کی تکلیف بالکل ختم ہو گئی۔
دوسرے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ میدان میں اترے تو یہودیوں کے مشہور پہلوان مرحب کا بھائی حارث مسلمانوں پر حملہ آور ہوا مگرحضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے ایک ہی وار میں قتل کر دیا اور اس کے ساتھی بھاگ گئے۔ اس کے بعد مرحب رجز جنگی اشعارپڑھتا ہوا میدان میں اترا۔ اس نے زرہ اور خَود پہنا ہوا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ نے بھی جواب میں رجز پڑھا اور مرحب کے سر پر اتنے زور سے تلوار کا وار کیا جس سے خَود دو ٹکڑے ہو گئی اور مرحب دو دھڑوں میں کٹ گیا۔
زِرَّہ: لوہے کا بنا ہوا جنگی لباس جس کے ذریعے تیر و تلوار وغیرہ کے حملوں سے جسم کو بچایا جاتا ہے۔
خَوْد: خ کو زبر کے ساتھ پڑھنا ہے۔ لوہے کی بنی ہوئی جنگی ٹوپی۔
اس کی ہلاکت کے بعد باقی یہودی خوفزدہ ہو کر قلعہ میں جا گھسے۔ حضرت علی عنہ نے قلعہ کا دروازے کو دونوں ہاتھوں سے پورا زور سے اکھاڑلیا۔ اس کے بعد آپ نے اس دروازے کو قلعہ قموص کے آگے والے گڑھے پر رکھا تا کہ اسلامی فوج گھوڑوں سمیت قلعہ میں داخل ہو سکے،اسلامی فوج داخل ہوئی، یہودی سہم گئے انہوں نے اپنے ہتھیار ڈال دیےاورقلعہ قموص بھی فتح ہو گیا۔ اس پورے غزوے میں 93 یہودی ہلاک ہوئے جبکہ 15 مسلمان شہادت کے اعلی مقام پر فائز ہوئے۔

خیبر کی نصف پیدا وار:

فتح کے بعد خیبر کی زمین تقسیم کی گئی لیکن اہل خیبر نے گذارش کی کہ زمین ایسے ہی رہنے دی جائے ہم پیداوار کانصف ادا کیا کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا اور کاشت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم؛ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیتے جو فصل کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد اہل خیبر سے کہتے کہ ان میں سے جو حصہ چاہو لے لو۔

خیبر میں قیام:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے بعد کچھ عرصہ تک خیبر میں مقیم رہے، تمام تر امن و امان کے باوجود بھی یہودیوں کی اسلام دشمن سازشیں ختم نہ ہوئیں۔ اسی دوران ایک واقعہ پیش آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو مرحب کی بھابھی زینب نے کھانے کی دعوت دی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوالہ لینے کے بعد کھانے سے ہاتھ روک لیا جبکہ ایک صحابی حضرت بِشر رضی اللہ عنہ نے پیٹ بھر کر کھایا۔ زہر کی وجہ سے حضرت بشر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ بعد میں زینب نے جرم کا اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذاتی طور پر معاف فرمایا لیکن وہ حضرت بشر رضی اللہ عنہ کے قصاص میں قتل کر دی گئی۔

مال غنیمت کی تقسیم:

غزوہ خیبر میں کئی نامور پہلوان جنگ جو اور یہودیوں کے سردار مارے گئے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے خاندان کے سارے افراد اسی غزوے میں قتل کر دیے گئے یا جنگی قیدی بنا لیے گئے۔ جنگ کے بعد تمام قیدی اور مال غنیمت ایک جگہ جمع کئے گئے۔
اسی دوران حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور ان کی ایک رشتہ دار خاتون کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ پکڑ کر لائے۔ راستے میں مقتولین کی لاشیں خاک و خون لتھڑی ہوئی پڑی تھیں۔ ان میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ کے والد، بھائی، شوہر اور خاندان کے بعض دوسرے لوگوں کی بھی کی لاشیں بھی تھیں۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ان لاشوں کو دیکھا لیکن بالکل تحمل کا دامن نہیں چھوڑا۔ جبکہ آپ کے ساتھ قید ہونے والی دوسری خاتون نے جب لاشیں دیکھیں تو بے قابو ہو کر رونا پیٹنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس عورت کے رونے کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی تربیت کرتے ہوئے فرمایا:’’بلال تمہارے دل میں رحم پیدا نہیں ہوا کہ ان عورتوں کو اس راستے سے لائے ہو جہاں ان کے باپ اور بھائی خاک و خون میں لتھڑے پڑے ہیں۔“

دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کا انتخاب:

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قیدیوں کے پاس بیٹھ گئیں۔ جب مال غنیمت تقسیم ہونے لگا تو حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے پسند فرمایا۔

صحابہ کرام کا مشورہ:

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدہ صفیہ کی حیثیت کا خیال فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ یارسول اللہ! صفیہ بنی قریظہ اور بنو نضیر کی رئیس زادی ہے، خاندانی وقار کے پیش نظروہ ہمارے سردارمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ موزوں ہے۔‘‘

سیدہ صفیہ کو اختیار:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مشورہ قبول فرما لیا۔اور وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو دوسری لونڈی عطا فرما کر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کردیا اور یہ اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو اپنے گھر چلی جائیں اور اگر چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آجائیں۔

قبول اسلام:

اسی موقع پر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اسلام کو دل و جان سے قبول کر لیا اور اہل ایمان کی صف میں شامل ہو گئیں۔ابراهيم بن جعفر اپنے والد سے روایت كرتے ہیں، وہ كہتے ہیں: جب صفیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا:” تمہارے والد برابر میرے سخت ترین یہودی دشمنوں میں سے رہے، یہاں تك كہ اللہ نے انہیں ہلاک كردیا۔“
پھر اللہ كےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا:” فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر تم اسلام قبول كرلو تو میں تمہیں اپنے پاس ہی روک لوں گا، اور اگر تم یہودیت پر برقرار رہنا چاہو، تو ایسا ہے كہ میں تمہیں آزاد كیے دیتا ہوں، تم اپنی قوم كے پاس چلی جاؤ۔“
عرض كی کہ اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کے دعوت دینےسے پہلے ہی سے اسلام کی مشتاق تھی اور دل سے آپ کی تصدیق کرچکی تھی۔ جب میں یہاں آئی ہوں تب بھی مجھے یہودیت میں کوئی رغبت نہیں تھی اور اب تو نہ ان میں کوئی میرا باپ ہے نہ بھائی۔ آپ نے مجھے کفر واسلام کے درمیان اختیار دیا ہے تو میرا فیصلہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول مجھے آزادی اور اپنی قوم میں لَوٹنے سے زیادہ عزیز ہیں۔

حضرت صفیہ؛ ام المومنین بنتی ہیں:

سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنا ہی پسندفرمایا، خیبر سے واپسی پر جب آپ سد الروحاء کے مقام پر پہنچے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہاحیض سے پاک ہوئیں تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان كے ساتھ آئے شب عروسی گزاری اور دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت ولیمہ کی۔ ان کا حق مہر؛ اِن کی اپنی آزادی تھی۔ یہاں سے چلتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کوخود اپنے اونٹ پر سوار فرمایا اور خود اپنی چادر مبارک سے ان پر پردہ کیا۔
نوٹ: ہم اس بات کا تذکرہ پہلے کر چکے ہیں کہ پردہ کرانے میں حکمت یہ تھی کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، باندی نہیں۔

مدینہ منورہ تشریف آوری:

دعوت ولیمہ وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ تشریف لائیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کو حضرت حارث بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پرٹھہرایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہا کے حسن وجمال کی تذکرہ مدینہ کی عورتوں میں پھیل گیا چنانچہ ازواج مطہرات اور انصار و مہاجرین کی خواتین آپ کو دیکھنے کے لیے تشریف لائیں۔

حضرت فاطمہ سے محبت:

اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے تشریف لائیں۔ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر ہیں تو انہوں نے اپنے کانوں کے جھمکے اور زیورات اتارکر ان کی خدمت میں پیش کیا اور ان کے ساتھ جو دوسری خواتین تشریف لائیں انہیں بھی کوئی نہ کوئی زیور تحفے میں دیا۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے پوچھا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جو ابھی تک غالباً حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے اسلام لانے سے واقف نہ ہو پائی تھیں یہ کہا کہ” یہودیہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا: نہیں بلکہ صفیہ مسلمان ہو چکی ہے اور اس کا اسلام بہت اچھا ہے۔
ایک خواب کی تعبیر پوری ہوئی:
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر زخم کا ایک نشان تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے آپ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:’’یا رسول اللہ ! میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ آسمان سے چاند ٹوٹ کر میری گود میں آن گرا ہے جب میں نے یہ خواب اپنے خاوند کنانہ بن ابی الحقیق کو سنایا، اس نے یہ کہہ کر کہ توملکہ عرب بننا چاہتی ہے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا جس کی وجہ سےیہ نشان پڑ گیا۔
آپ نے جو خواب دیکھا تو اس کی تعبیر یوں پوری ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہا پوری کائنات کے سردار کی زوجہ بن گئیں۔

محبوبانہ تنبیہ:

خاوند بیوی ہونے کے ناتے بعض ایسے امور بھی پیش آتے ہیں جن کا تعلق فطری زندگی کے ساتھ بہت گہرا ہوتا ہے۔ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی ازدواجی زندگی امت محمدیہ کی خواتین کےلیے اپنے اندر کئی حکمتوں کو سمیٹے ہوئے ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کے حالات امت کی تعلیم کے لیے تھے۔ اس لیے بعض ایسے واقعات بھی پیش آئے جن سے امت نے دوچار ہونا تھا۔ چنانچہ
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے ناخوش ہو گئے۔ آپ رضی اللہ عنہا سیدھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور فرمایا:’’آپ جانتی ہیں کہ میں اپنی باری کسی صورت کسی کو بھی نہیں دیتی لیکن اگر آپ میرا ایک کام کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کردیں تو میں اپنی باری کا دن آپ کو دیتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کام کے لئے راضی ہو گئیں اور زعفران کی رنگی ہوئی ایک چادر لے کر اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو مہک جائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لے گئیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ عائشہ! یہ تمہاری باری کا دن نہیں۔‘‘سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:’’یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔‘‘ پھر تمام صورتحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے۔
واللہ !صفیہ سچی ہے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں تمام ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف لائیں۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بے چینی کی حالت میں دیکھا تو آپ کا دل بھر آیا چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نےعرض کی:’’ یا رسول اللہ ! کاش آپ کی بیماری مجھے ہو جاتی۔‘‘ازواج مطہرات نے ان کی طرف دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ واللہ وہ سچّی ہیں۔‘‘یعنی ان کا اظہار عقیدت سچے دل سے ہے۔

لونڈی کو آزاد کر دیا:

خلافت فاروقی کے زمانے میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے امیر المؤمنین سے شکایت کی کہ امّ المؤمنین میں ابھی تک یہودیت کے کچھ اثرات باقی ہیں۔ کیونکہ وہ اب بھی ہفتہ کے دن کو اچھا سمجھتی ہیں جیسا کہ یہودی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں اور یہودیوں سے دلی لگاؤ بھی رکھتی ہیں۔ چونکہ بات آپ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کہہ رہی تھی اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ حقیقت حال معلوم کرنے کے لیےخود امّ المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس چل کر آئے۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہانے فرمایا: ’’جب سے اللہ نے مجھے ہفتہ کے دن کے بدلے جمعہ کا دن عنایت فرمایا تو ہفتہ کے دن کی محبت میرے دل سے نکل گئی ہے باقی چونکہ یہودی میرے قریبی رشتہ دار ہیں تو مجھے صلہ رحمی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہا کے جواب سے مطمئن ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہا کی حق گوئی کو سراہا۔
اس کے بعد سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نےاس لونڈی کو بلا کر پوچھا:’’ تو نے امیر المؤمنین کے پاس جا کر میری بے جا شکایت کیوں کی؟کس چیز نے تجھے اس الزام تراشی پر آمادہ کیا؟‘‘
لونڈی نے کہا:’’ مجھے شیطان نے بہکادیا تھا۔‘‘
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اس کے شیطانی وسوسے والے عذر کو قبول فرماتے ہوئے کہا:’’ جا میں نے تجھے راہ خدا میں آزاد کیا۔‘‘

درد مندی کا وصف:

خلافت عثمانی کا زمانہ جہاں مسلمانوں کے لیے باعث رحمت تھا وہاں پر باعث آزمائش بھی تھا۔ مدینہ طیبہ کے اندر فسادی بلوائیوں نے 35 ہجری میں حضرت عثمان ذوالنّورین رضی اللہ عنہ کے مکان کا محاصرہ کر لیاگیا تو ان کو بہت سخت رنج ہوا۔
چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے ایک غلام کو ساتھ لیا اور اپنے خچر پر سوار ہو کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکان کی طرف روانہ ہوئیں۔ اشتر نخعی نے ان کے غلام کو دیکھ کر پہچان لیا اور آگے بڑھ کر خچر کو مارنا شروع کردیا چونکہ حالات بگڑے ہوئے تھے اور اشتر نخعی کے مقابلے میں مزید پیش قدمی ممکن نہیں تھی،اس لئے آپ رضی اللہ عنہا نے حالات کے پیش نظر واپسی کا فیصلہ فرمایا اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانا بھیجا۔

وفات:

50 ہجری رمضان المبارک میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا65 سال کی عمر میں وفات پا گئیں اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

وصیت:

آپ رضی اللہ عنہا نے اپنا ذاتی مکان اپنی زندگی میں ہی اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا تھا البتہ ترکہ میں ایک لاکھ دراہم چھوڑے اور اس کے ایک تہائی کی وصیّت اپنے بھانجے کیلئے کی۔جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔ لوگ اس کو حصہ دینے میں شش و پنج کا شکار ہونے لگے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نےفرمایا:
’’ لوگو! اللہ سے ڈرو اور صفیہ کی وصیت پوری کرو۔‘‘چنانچہ آپ کی وصیت پر عمل کیا گیا