سیدہ ام کلثوم بنت علی کا سیدنا عمر فاروق سے بابرکت نکاح(اہل تشیع معتبر کتب)

🔴 اہل سنت کے درمیان اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں بلکہ اجماع ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام کلثوم سے نکاح کیا تھا

🔻 حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لاثانی داماد حضرت عمر فاروق سیدہ اُم کلثوم بنت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے۔

اگر رافضی اس حقیقت کے انکاری ہیں تو کیا تسلیم کرنے والے مندرجہ ذیل شیعہ علماء ان سے کم تر جانتے تھے یا اُن میں انصاف کا کچھ شائبہ تھا؟؟؟۔۔

1️⃣ صاحب کافی نے کن گندے لفظوں میں اس حقیقت کو ادا کیا ہے!۔

ان ھذا اول فرج غصبناہ

یہ پہلی شرمگاہ ہے جو ہم سے چھین لی گئی۔۔

مکمل روایت :

(باب) * (تزويج ام كلثوم) *

ابو جعفر الکلینی نے کہا: “علی بن ابراھیم عن ابیہ عن ابن ابی عمیر عن ھشام بن سالم و حماد عن زرارۃ عن ابی عبداللہ علیہ السلام فی تزویج ام کلثوم فقال: ان ذلک فرج غصبناہ” ابو عبداللہ علیہ السلام (جعفر صادق رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے ام کلثوم کی شادی کے بارے میں کہا: یہ شرمگاہ ہم سے چھین لی گئی تھی۔ (الفروع من الکافی 5/ 346)

☝️☝️☝️☝️☝️☝️ اس روایت کی سند شیعہ اصولوں سے صحیح ہے۔ اس کے راویوں علی بن ابراہیم بن ہاشم القمی وغیرہ کے حالات تنقیح المقال میں مع توثیق موجود ہیں۔ ۔

☝️☝️☝️☝️☝️☝️

علامہ مجلسی نے بھی اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

کتاب مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول – العلامة المجلسي – ج ٢٠ – الصفحة٤٢

♦️ تنبیہ: اہل سنت کے نزدیک یہ روایت موضوع ہے اور امام جعفر صادق رحمتہ اللہ اس سے بری ہیں

اصول کافی سے ثبوت 2

2️⃣ ابو جعفر الکلینی نے کہا: “حمید بن زیاد عن ابن سماعۃ عن محمد بن زیاد عن عبداللہ بن سنان و معاویۃ بن عمار عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال: ۔۔۔ان علیاً لما توفی عمر اتی ام کلثوم فانطلق بھا الیٰ بیتہ۔” ابو عبداللہ (جعفر الصادق) علیہ السلام سے روایت ہے کہ۔۔۔جب عمر فوت ہوئے تو علی آئے اور ام کلثوم کو اپنے گھر لے گئے۔(الفروع من الکافی 6/115)

مکمل روایت:

(باب) * (المتوفى عنها زوجها المدخول بها اين تعتد وما يجب عليها) *

محمد بن يحيى، وغيره، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن النضربن سويد، عن هشام بن سالم، عن سليمان بن خالد قال: سألت أباعبدالله (عليه السلام) عن امرأة توفى زوجها أين تعتد، في بيت زوجها تعتد أو حيث شاءت؟ قال: بلى حيثشاءت، ثم قال: إن عليا (عليه السلام) لما مات عمر أتى ام كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته.

☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️ اس روایت کی سند شیعہ کے اصول سے صحیح ہے۔ اس کے تمام راویوں مثلاً حمید بن زیاد، حسن بن محمد بن سماعہ اور محمد بن زیاد عرف ابن ابی عمیر کے حالات مامقانی (شیعہ) کی کتاب : تنقیح المقال میں موجود ہیں۔

اصول کافی سے ثبوت 3

3️⃣ ابو عبداللہ جعفر الصادق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب عمر فوت ہو گئے تو علی نے آ کر کلثوم کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے گھر لے گئے۔ (الفروع من الکافی 6/115-116)

مکمل روایت

(10903 – 2) محمد بن يحيى، وغيره، عن أحمد بن محمد بن عيسى، عن الحسين بن سعيد، عن النضربن سويد، عن هشام بن سالم، عن سليمان بن خالد قال: سألت أباعبدالله (عليه السلام) عن امرأة توفى زوجها أين تعتد، في بيت زوجها تعتد أو حيث شاءت؟ قال: بلى حيث شاءت، ثم قال: إن عليا (عليه السلام) لما مات عمر أتى ام كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته.

حميد بن زياد، عن ابن سماعة، عن محمد بن زياد، عن عبد الله بن سنان، ومعاوية ابن عمار، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفى عنها زوجها أتعتد في بيتها أو حيث شاءت؟ قال: بل حيث شاءت، إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فانطلق بها إلى بيته

کتاب فروع الكافي – الشيخ الكليني – ج ٦ – الصفحة ٧٥

ترجمہ

میں نے ابو عبدلله سے پوچھا کہ وہ عورت جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو وہ عدت شوہر کے گھر میں پوری کرے گی یا جہاں وہ چاہے کر لے؟ امام (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا جہاں وہ چاہے کر لے کیونکہ حضرت عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) کے انتقال کے بعد حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) ام کلثوم (رضی اللہ تعالی عنھما) کو اپنے گھر لے آے۔


☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️

ان دونوں حدیثوں میں سے پہلی حدیث کو علامہ مجلسی نے موثق (قابل قبول) اور دوسری حدیث کو صحیح کا درجہ دیا ہے۔

کتاب مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول – العلامة المجلسي – ج ٢١ – الصفحة ١٩٩،١٩٨،١٩٧

👇👇👇👇👇👇👇

شیعہ کتاب الاستبصار (اصول اربعہ) سے ثبوت 4

4️⃣ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی نے ” الحسین بن سعید عن النضر بن سوید عن ھشام بن سالم عن سلیمان بن خالد” کی سند کے ساتھ نقل کیا کہ ابو عبداللہ علیہ السلام (جعفر الصادق رحمہ اللہ ) نے فرمایا:

جب عمر فوت ہوئے تو علی علیہ السلام نے آ کر ام کلثوم کا ہاتھ پکڑا پھر انہیں اپنے گھر لے گئے۔ (الاستبصار فیما اختلف من الاخبار 3/472 ح 1258 )

مکمل روایت

[1258] 2 – الحسين بن سعيد عن النضر بن سويد عن هشام بن سالم عن سليمان بن خالد قال: سألت أبا عبد الله عليه السلام عن امرأة توفي عنها زوجها أين تعتد في بيت زوجها أو حيث شاءت؟ قال: حيث شاءت، ثم قال: إن عليا عليه السلام لما مات عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته.

☝️☝️☝️☝️☝️☝️ اس روایت کی سند بھی شیعہ اسماء الرجال کی رو سے صحیح ہے۔

ان کے علاوہ درج ذیل شیعہ کتب میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ام کلثوم بنت علی کے نکاح کا ذکر موجود ہے:

👇👇👇👇👇👇

5️⃣تہذیب الاحکام (8/161، 9/262)

6️⃣الشافی للسید المرتضیٰ علم الھدی (ص 116)

7️⃣مناقب آل ابی طالب لابن شھر آشوب (3/162)

8️⃣کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ للاربلی (ص 10)

9️⃣مجالس المومنین للنور اللہ الشوستری (ص 76)

🔟حدیقۃ الشیعہ للاردبیلی (ص 277)