سیده فاطمہ الزہرا ع کا دروازہ اور مجاۃ اسلمی کو آگ سے جلانے پر حضرت ابوبکر کا اظہار افسوس (العقد الفريد)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر شیعہ الزام نمبر۔12

🔺شیعہ الزام 👇👇
سیده فاطمه الزہرا ع کا دروازہ اور مجاۃ اسلمی کو آگ سے جلانے پر حضرت ابوبکر کا اظہار افسوس ۔
(العقد الفريد)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹
رافضی شیعہ کرم فرماؤں کی فکری ترقی اور بلند ظرفی کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال مذکورہ الزام بھی ہے بجائے اپنے گھر کو غلاظت و گندگی سے پاک صاف کرنے کے اپنے گھر کا گند اور غلاظت اہلسنّت کے پاک و طاہر گھر مل کر شور مچانا شروع کر دیا کہ صرف ہم اکیلے ہی تو گندے نہیں یہ اہل سنت بھی ہماری طرح ہیں۔ حالانکہ ایک سلیم الفکر شخص جب بھی کسی فاسد شے کے پائے جانے پر آگاہ ہو جاتا ہے تو وہ اس فاسد شے کو زائل کرنے کی کوشش کرتا ہے نہ کہ وہی فاسد چیز اٹھا کر آگاہ کرنے والے پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ البتہ ابلیس لعین کا طرز فکر ، سلیم الفکر لوگوں سے بالکل مختلف ہے کہ جب میں بارگا و عالی سے نکالا گیا ہوں اور اپنے مالک کی نافرمانی کا طوق گلے میں ڈال لیا ہے تو ابن آدم کو بھلا کیوں اُس مالک ارض و سماء سے قریب ہونے دوں مذکورہ حوالہ کے علاوہ تحقیقی دستاویز کی تمام تر کاوش کا مرکز فقط یہی منفی فکر ہے کہ
ہم تو ڈوبے تمہیں بھی لے ڈوہیں گے صنم۔

🔸ورنہ کیا شیعہ “تحقیقی دستاویز” والے اتنے بے خبر ہیں کہ انہیں یہ بھی علم نہیں کہ “العقد الفرید” کا لکھاری تقیہ باز شیعہ ہے؟
شیعہ کتابوں کا گند اہلسنّت کے کھاتے میں ڈالنا اسی منفی فکر کی عکاسی کرتا ہے جو ہم عرض کر چکے ہیں، نہ یہ نظریہ اہل سنت والجماعت کا ہے اور نہ ہی کسی دیانت دار مؤرخ کا! ہم اہلسنّت اس غليظ الزام سے الحمد للہ ایسے ہی بری ہیں جیسے بھیڑ یا حضرت یوسف علیہ السلام کے کھا جانے والے الزام سے ۔
اگر اللہ تعالی کی عطاء فرمائی عقل سے ذرا برابر بھی کام لیا جائے تو یہ الزام لمحہ بھر میں ہوا ہو جاتا ہے حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سیده فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا دروازہ آگ میں جلانے کا واقعہ ہرگز ثابت نہیں رافضی قلم کار بھی زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکے کہ خانہ بتول پر آگ لائی گئی تھی۔ باوجود صحابہ کرام سے بغض و عناد اور اعلیٰ درجہ کی دشمنی کے وہ بھی یہی
کچھ کہہ سکے مگر در اقدس خانہ بتول کو آگ لگا دینے کا دعوی ان کے بس میں بھی نہ ہوا۔
🔸 جب صورت حال یہ ہے تو ایک ایسا کام جو ہوا ہی نہیں اس پر ندامت اور اظہار افسوس کرنے کا کیا مطلب؟ مگر جھوٹ ہو یا سچ یار لوگوں نے اپنے گند پاک گھروں میں انڈیلنے کا جو ٹھیکہ لیا ہوا ہے وہ فرض تو نبھانا ہی ہے ناں۔
🔸جیسا کہ رافضی قلم کار صاحب “عقد الفرید” وغیرہ کی مذکور و عبارتوں سے یہ تاثر دیا گیا کہ سیدہ طیبہ بنت رسول حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے در خانہ کو آگ میں جلا دیا گیا البتہ بعد میں افسوس ہوا تو سوال یہ ہے کہ ذو الفقار کے مالک فاتح خیبر حضرت علی رضی اللہ عنہ جو دنیا بھر کی مدد کرتے ہیں وہ کہاں تشریف لے گئے تھے؟ اگر یہ واقعہ ثابت اور درست ہے تو دنیا بھر کے
سارے ظلم اور ظالم جمع کر لئے جائیں پھر بھی اس ظلم کے مقابلے میں بے وزن ہیں اتنے بڑے ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہے جمل و صفین میں تو کسی نے خانہ بتول کو نہ جلایا تھا جو وہاں میدان میں تشریف لائے اور یہاں خاموش رہے کیا یہ کھلے
لفظوں میں حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی ذات اطہر پر کھلا ہوا جارحانہ حملہ نہیں ؟
🔸دنیا کی ہر آنکھ ان لفظوں کو پڑھ کر جان لے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو ہرگز ہرگز آگ نہیں لگائی۔
یہ سراسر جھوٹ اور یہودیانہ دشمنی ہے جو رفیق غار و مزار سے ہر دشمن اسلام کو ہے البتہ کوڑ مغز قلم کاروں نے ہزار حیلے سے جو الزام تراشا وہ خود ان کے ہی ہاتھوں پاش پاش ہو گیا۔ کہ اظہار ندامت در اصل تو بہ ہے۔ اور توبہ سے گناہوں کی معانی ضرور حاصل ہو جاتی ہے جو رب عم رسول اللہ رضی اللہ عنہ حضرت حمزه رضی اللہ عنہ کے قاتل وحشی کو نادم ہونے پر معاف فرما دیتا ہے جبکہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کے جسد اطہر کی اہانت تاریخ اسلام کا المناک واقعہ ہے تو عقل دشمنوں کے کہے الزام کم از کم درجہ قتل تک تو نہیں پہنچے پھر یہاں معافی کیوں نہ ہوگی؟ اور جب مالک نے معاف فرما دیا تو مملوک کو کیا اختیار ہے جو اسے پھر سے دنیا میں نشر کرے؟ رحمت عالم ﷺ کا ارشاد ہے .
كل بني آدم خطاء و خير الخطائين التوابون . (مشکوة)
گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں”۔
ہر آدم کی اولاد ( کا فرد) گناہ گار ہے اور بہترین گناہ گار وہ ہے جو توبہ کرے اور ارشاد فرمایا التائب من الذنب كمن لا ذنب له – ( زاد الطالبین)

🔸خلاصہ یہ ہے کہ جناب ابن جریر صاحب اور ابن عبد البر اندلسی صاحب عقد الفرید نے اپنے شیعہ مذہب کی ترجمانی میں مذکورہ الزام رقم کیے ہیں جو اہل سنت کا مسلک نہیں شیعہ کرم فرما اپنے ان نا پاک نظریات کو اہل سنت کے کھاتے ڈالنے کی جسارت نہ کریں تو اچھا ہے ورنہ جب پردہ چاک ہو گا تو پہلے سے کچھ بڑھ کر شیعہ قوم کی بدنامی ہوگی۔

سیده فاطمہ الزہرا ع کا دروازہ اور مجاۃ اسلمی کو آگ سے جلانے پر حضرت ابوبکر کا اظہار افسوس (العقد الفريد)” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں