سیدنا معاویہؓ اور ملا علی قاری حنفیؒ (مولانا علی معاویہ) حصہ اول

سنیت کےلبادے میں چھپے رافضیوں کا رد (پارٹ 1)

السلام علیکم دوستو۔

 قاسم علی نامی ایک شخص جو بظاہر سنی بنے ہوئے ہیں لیکن ان کی کافی پوسٹس سیدنا معاویہؓ کے خلاف ہیں، یہ صاحب سیدنا معاویہؓ کے خلاف اھل السنت کی کتابوں سے حوالاجات دے کر ان کا غلط مفہوم نکال کراھل السنت عوام کی دلوں میں سیدنا معاویہؓ کی نفرت بٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اب آتے ہیں ان کی ایک پوسٹ کی طرف۔

[سیدنا معاویہؓ اور ملا علی قاری حنفیؒ]

ملا علی قاری حنفیؒ کی کتاب مرقاۃ شرح مشکاۃ سے ان کی چند عبارات نقل کرتے ہیں، میں الگ الگ کرکے ان سب کی حقیقت واضح کرونگا ان شاء اللہ۔

پہلی عبارت۔ (معاویہؓ کے باغی ہونے کی بحث)

ملا علی قاری لکھتے ہین کہ

قُلْتُ: فَإِذَا كَانَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَرْجِعَ عَنْ بَغْيِهِ بِإِطَاعَتِهِ الْخَلِيفَةَ۔

ترجمہ۔ میں (ملا علی قاری) کہتا ہوں اس صورت میں ان (معاویہؓ ) پر واجب تھا کہ وہ بغاوت کو چھوڑکر خلیفہ کی اطاعت کرتے۔

ملا علی قاریؓ قتل عمارؓ والی حدیث کے تحت یہ بات لکھ رہے ہیں، گویا سیدنا معاویہؓ باغی تھے، اس جیسی اور بھی عبارات پیش کی جاتی ہیں معاویہؓ کو باغی ثابت کرنے کے لئے۔۔

الجواب:

۱، سب سے پہلے ھم یہ دیکھتے ہیں کہ باغی کی تعریف کیا ہے۔

فقہ حنفی کی کتاب البناية شرح الهداية جلد 6 صفحہ 735 پر ہے کہ

فأهل البغي هم الخارجون على إمام الحق بغير حق

یعنی باغی وہ ہے جو امام برحق کی اطاعت سے ناحق طور پر خارج ہو۔

یہی تعریف الدر المختار وحاشية ابن عابدين جلد 6 صفحہ 411 پر بھی ہے۔

اس تعریف کے مطابق معاویہؓ باغی ثابت نہیں ہوتے،کیونکہ

* سیدنا معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کی بیعت کی ہی نہیں تھی، جب بیعت ہی نہیں کی تھے ان کی اطاعت میں داخل ہی نہیں ہوئے تھے تو اطاعت سے خارج کیسے ہوئے؟؟

* دوسرا یہ کہ سیدنا معاویہؓ قصاص کا مطالبہ کررہے تھے، اور قصاص کے مطالبے کو کوئی بھی ناحق مطالبہ نہیں کہہ سکتا، خود سیدنا علیؓ نے بھی اس مطالبے کو غلط نہیں کہا تھا، تو جب ان کا مطالبہ ناحق تھا ہی نہیں تو باغی کیسے ہوئے؟؟

اور الدر المختار وحاشية ابن عابدين جلد 6 صفحہ 411 میں واضح موجود ہے کہ

فَلَوْ بِحَقٍّ فَلَيْسُوا بِبُغَاةٍ،

کہ اگر ان کا مطالبہ حق پر مبنی ہے تو وہ باغی نہیں۔۔

تو باغی کی تعریف معاویہؓ پر کسی بھی صورت فٹ ہوتی ہی نہیں۔

۲، علماء نے باغی خارجیوں کو لکھا ہے۔

فقہ حنفی کی کتاب البناية شرح الهداية جلد 6 صفحہ 735

المراد من البغاة الخوارج، ولهذا ذكر هذا الباب في المبسوط بيان الخوارج

کہ باغیوں سے مراد خوارج ہیں، اسی لئے المبسوط میں اس بات کا ذکر ‘‘بیان الخوارج’’ کے نام سے ہے۔

۳، اگر بالفرض مان بھی لیں کہ سیدنا معاویہؓ حقیقتا باغی تھے، تب بھی وہ صرف اس وقت تک تھے جب تک سیدنا حسن ؓ نے ان کو خلافت حوالے نہیں کہ تھی۔

خود قاسم علی صاحب نے فتح القدیر جلد 7 صفحہ 245 کے حوالے سے ایک پوسٹ چلائی تھی جس میں واضح موجود ہے کہ

ثم انما یتم اذا ثبت انہ ولی القضاءقبل تسلیم الحسن لہ،و اما بعد تسلیمہ فلا،و یسمی ذلک العام عام الجماعۃ۔۔

یعنی معاویہؓ کا خطاکار ہو کر کسی کو عھدہ دینا یہ حضرت حسنؓ کا ان کو خلافت حوالے کرنے سے پہلے تک ہے، حضرت حسنؓ کا خلافت معاویہؓ کے حوالے کرنے کے بعد وہ خطاکار باغی نہیں، کیونکہ اس سال کو مسلماں کا اجتماع والا سال کا نام دیا گیا ہے۔

تو سیدنا معاویہؓ بالفرض باغی تھے بھی تو صرف سیدنا حسن ؓ کا خلافت حوالے کرنے تک تھے، لیکن بغض معاویہ کے مریض آج تک ان کو باغی کہہ کر سیدنا حسن ؓ کے فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں۔

۴، اب سوال یہ ہوتا ھے کہ اگر سیدنا معاویہؓ باغی نہیں تھے تو پھر ملا علی قاریؒ اور بھی کافی علماء و محدثین نے ان کو باغی کیوں لکھا؟؟

تو جواب یہ ہے کہ جن جن علماء نے معاویہؓ کو باغی لکھا ہے وہ صورتا اور بظاھر ؓباغی ہونے کہ حیثیت سے لکھا ہے کہ معاویہؓ خلیفہ برحق کے مقابلے میں آئے ان سے اختلاف کیا اور جنگ تک بات پہنچ گئی، اس اعتبار سے باغی لکھا ھے نہ کہ حقیقی باغی کی حیثیت سے۔

جیسا قران میں ہے

وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى۔ سورہ طہ آیت 121

تو یہاں معنی یہی ہے کہ بظاھر تو یہی لگتا ہے کہ آدم علیہ السلام نے اللہ کی نافرمانی کی لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔

۵، سیدنا علیؓ کا جو رویہ معاویہؓ کے ساتھ تھا، وہ باغیوں والا نہ تھا۔ جیسا کہ

۱، ان سے تحکیم کے نام سے جنگ بندی کردی، حالانکہ باغیوں کے ساتھ قران کے مطابق آخر تک لڑنے کا حکم ہے جیسا خارجیوں کے ساتھ ہوا۔

۲، خارجیوں سے ان کے مؤقف پر ابن عباسؓ کو بھیج کر مناظرہ کروایا لیکن معاویہؓ کے موقف و مطالبے کو رد نہیں کیا۔

۳، کافی صحابہ کرام ؓ کا علیؓ سے معاویہؓ کے ساتھ جنگ کرنے پر اختلاف کرنا، لیکن خارجیوں سے جنگ پر کسی صحابی نےان سے جنگ لڑنے میں علیؓ سے اختلاف نہیں کیا۔

۴، جنگ صفین کے بعد علیؓ افسوس کرتے تھے، لیکن خارجیوں کے ساتھ جنگ کے بعد سجدہ شکر ادا کیا۔

اس کے علاوہ اور بھی فرق ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ بھی سیدنا معاویہؓ اور اھل شام کو حقیقی باغی نہیں سمجھتے تھے۔

اس پوسٹ میں سیدنا امیر معاویہؓ پر ایک اعتراض باغی اور بغاوت پر بحث ہوئی۔ امید ہے کہ حقیقت سب کو سمجھ میں آئے گی۔