سیدنا علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے

وكان بدء أمرنا أنا التقينا والقوم من أهل الشام. والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان

کتاب نهج البلاغة – خطب الإمام علي (ع) – مکتوب ٥٨ – الصفحة ٤٤٨

ترجمہ

ہمارے معاملے کی ابتدا یہ ہے کہ ہم شام کے لشکر کے ساتھ ایک میدان میں جمع ہوے جب بظاہر دونوں کا خدا ایک تھا رسول ایک تھا پیغام ایک تھا نہ ہم اپنے ایمان و تصدیق میں اضافہ کے طلبگار تھے نہ وہ اپنے ایمان کو بڑھانا چاہتے تھے معاملہ بالکل ایک تھا صرف اختلاف خون عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) کے بارے میں تھا۔

ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ضرار رضی اللہ عنہ سے فرمایا:کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کچھ بیان کریں۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو تقریر کی وہ سیرتِ مر تضوی پر ایک جامع تبصرہ ہے۔ انھوں نے کہا:

“حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند حوصلہ اور نہایت قوی تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے تھے،عادلانہ فیصلہ کرتے تھے۔ ان کے ہرسمت سے علم پھوٹتا اور حکمت ٹپکتی تھی۔ دنیا اور اس کی دلفربیوں سے و حشمت کرتے تھے۔ رات کی تاریکی وو حشت سے محبت کرتے تھے، عبرت پذیر اور بہت غور و فکر کرنے والے تھے۔ معمولی لباس اور جو کاکھانا پسند کرتے تھے۔ ہم میں ہم ہی لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ دینداروں کی تعظیم کرتے تھے۔ غریبوں کو مقرب بناتے تھے۔ ان کے سامنے طاقتور باطل میں طمع نہیں کر سکتا تھا اور کمزور انصاف سے مایوس نہیں ہوتا تھا۔ بعض مواقع پر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات گزر رہی ہے، ستارے جھلملا رہے ہیں اور وہ اپنی داڑھی مٹھی میں دبائے ایک بے قرار اور غم رسیدہ انسان کی طرح اشکبار کہہ رہے ہیں:اے دنیا! کسی اور کو فریب دے تو مجھ سے لگاوٹ کر رہی ہے،میری مشتاق ہے۔ افسوس۔ افسوس میں نے تجے تین طلاقیں دیں۔ تیری عمر تھوڑی اور تیرا مقصد حقیر ہے۔ ہائے ہائے ،سفر طویل، راستہ و حشت ناک اور زادِ سفر تھوڑا ہے۔”دوران ِتقریر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بارش کے قطروں کی طرح ٹپک رہے تھے ،اور فرما رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بھی بڑھکر شان کے مالک ہیں،اور پھر انکو انعامات سے نوازا۔

)مجالس صدوق (امالی) شیخ صدوق)

ذکر علی اور معاویہ

اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں ضرار ابن ضمرہ معاویہ بن ابو سفیان کے پاس گیا تو معاویہ نے اس سے کہا میرے سامنے علی کے اوصاف بیان کرو اس نے کہا مجھے اس سے معاف رکھیں ۔

معاویہ نے کہا اے ضرار ڈرو مت بیان کرو۔

ضرار نے کہا: خدا علی پر اپنی رحمت نازل فرمائے وہ ہمارے درمیان ہماری ہی مانند تھے ہم جس وقت بھی ان کی خدمت میں جاتے تو وہ اپنی قربت ہمیں عطا فرماتے

جب بھی ہم ان سے کوئی سوال کرتے تو وہ بیان فرماتے ہم جب بھی انہیں دیکھنے جاتے تو ہم سب پر محبت فرماتے۔ انہوں نے کبھی اپنے دروازے ہمارے لیے بند نہیں کیے اور نہ ہی دروازے پر نگران مقرر کیا اور خدا کی قسم انہوں نے ہر حال میں ہمیں اس طرح اپنے قریب رکھا کہ وہ خود ہم سے زیادہ ہمارے قریب تھے ان کی ہیبت اسقدر تھی کہ ہم ان سے بات کرنے کی تاب نہ رکھتے تھے اور ان کی بزرگی ان کے سامنے آغاز سخن کی دعوت نہ دیتی تھی جب آپ مسکراتے تو آپ کے دندان مبارک موتیوں کی لڑی کی مانند دکھائی دیتے۔

معاویہ نے کہا اے ضرار مزید بیان کرو

ضرار نے کہا خدا اپنی رحمت علی پر نازل فرمائے۔ خدا کی قسم وہ بہت زیادہ جاگنے اور بہت کم سونے والے تھے۔ وہ شب و روز کی ہر ساعت قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے ، انہوں نے اپنی جان خدا کی راہ میں دیدی، ان کی آنکھوں سے اشک جاری رہتے اور پردہ ان کے لیے نہ گرایا جاتا ۔

مال و دولت انہوں نے کبھی ذخیرہ نہ کیا اور نہ ہی کبھی خود کو اس سے وابستہ رکھا رو جفا کاروں سے نرمی نہ برتتے مگر بدخوئی نہ کرتے۔

ہم نے انہیں اکثر محراب عبادت میں ہی کھڑے دیکھا اور جب رات ہوتی تو اپنے معبود کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے اور اپنی ڈارٹھی پکڑے اس کے سامنے یوں کانپتے جیسے کوئی سانپ مارنے والا کانپ رہا ہوتا ہے جب آپ غمزدہ ہوتے گریہ فرماتے اور کہتے اے دنیا تو اپنا رخ میری طرف کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ میں تیرا مشتاق بنوں دور رہ دور رہ کہ میں تجھ سے احتیاج نہیں رکھتا میں نے تجھے تین طلاقیں دی ہیں تو رجوع نہیں کرسکتی اور فرمایا کرتے آہ ، راستہ طویل ہے اور توشہ کم اور طریقہ سخت ہے۔

معاویہ نے یہ سنا تو گریہ کیا اور کہا اے ضرار خدا کی قسم علی اسی طرح کے تھے اسی طرح کے تھے ،خدا ابوالحسن پر رحمت کرے۔

(مجالس صدوق ترجمہ امالی شیخ صدوق ص 579,589)

بسمہ الله الرحمن الرحیم

جب بذات خود حضرت علی شیر خدا رضی الله نے اعلانیہ فرما دیا کی ان کے مخالف گروہ کی شان میں کلمہ خیر کے سوا کوئی بات نہ کہو ۔ اور یہ بھی کہا کی وہ ہمیں باغی سمجھتے ہیں اور ہم انہیں۔ اس بناء پر اختلاف ہوا۔

اس اعلان کے باوجود شیعہ و نیم روافض کا امیر معاویہ رضی الله کے گروہ پر لعن طعن کہنا درحقیقت حضرت علی رضی الله کے فرمان کو جھٹلانا ہے۔۔۔اور حضرت علی شیر خدا رضی الله سے خود کو بڑا مجتہد ثابت کرنا ہے۔

تعظیم قدر صلاۃ امام مروزی حدیث نمبر 594

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعَ عَلِيٌّ، يَوْمَ الْجَمَلِ أَوْ يَوْمَ صِفِّينَ رَجُلًا يَغْلُو فِي الْقَوْلِ فَقَالَ: «لَا تَقُولُوا إِنَّمَا هُمْ قَوْمٌ زَعَمُوا أَنَّا بَغَيْنَا عَلَيْهِمْ، وَزَعَمْنَا أَنَّهُمْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَقَاتَلْنَاهُمْ» فَذَكَرَ لِأَبِي جَعْفَرٍ أَنَّهُ أَخَذَ مِنْهُمُ السِّلَاحَ، فَقَالَ: مَا كَانَ أَعْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ “.

( اسنادہ صحیح رجال کلھم الثقات)

حضرت علی رضی الله نے جنگ جمل و صفین کے موقع پر ایک شخص کو سنا کہ وہ ( مقابل لشکر والوں کے حق میں) تشدد آمیز باتیں کہہ رہا ہے، اس پر آپ نے فرمایا کہ :- ان حضرات کے بارے میں کلمہ خیر کے سوا کوئی بات نا کہو دراصل ان حضرات نے یہ سمجھا ہے کہ ہم نے ان کے خلاف بغاوت کی یے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔اس بناء پر ہم ان سے لڑتے ہیں۔

( اسنادہ صحیح)

سند کے دو آخری راوی شیعوں کے بھی متفقہ ثقہ و حجت امام ہیں۔

امام جعفر بن محمد المعروف امام جعفر صادق رضی الله و امام محمد باقر رضی الله زبردست ،مجتہد ، ثقہ، ثبت، حجت ،الامام ، اور عظیم الشان شخصیات ہیں۔