سیدنا امام حسین کی شہادت اگر شیعوں نے کی تو اہل سنت کہاں تھے؟

شیعہ اعتراض  

ُاگر امام حسین  کو بقول عام ملاں کے شیعوں نے ہی شہید کیا تو اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اہلسنت موجود تھے “الفاروق” 113

الجواب  

شیعہ کو قاتلان حسین نہ صرف معمولی ملاں کہتے ہیں بلکہ خود شیعہ معتبر کتب  بھی یہی نظریہ بیان کرتی ہیں۔

ملاں شوستری کے نزدیک تمام اہل کوفہ شیعہ تھے

مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 25

تو گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بلانے والے تمام کے تمام شیعہ تھے۔

ملا باقر مجلسی نے آپ کے بلانے والوں کو آپ کے مخلص شیعہ قرار دیا ہے

جلاء العیون صفحہ 356

ارشاد شیخ مفید صفحہ 202

مقتل ابی مخنف صفحہ 18

خط لکھنے والے بھی شیعہ تھے

مقتل ابی مخنف صفحہ 18

جلاء العیون صفحہ 356

مناقب شہر آشوب جلد 1 صفحہ 90

اخبار الطوال 229

ذبح عظیم صفحہ146

کوفی شیعوں کے بارہ ہزار خطوط حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آئے

جلاء العیون صفحہ 357

ابن زیاد کی دھمکیوں سے کوفہ والوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑ ڈالی

مقتل ابی مخنف صفحہ 25 اور 26

جب حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا

*قدخذلتنا شیعتنا*

*ہمیں ہمارے شیعوں نے رسواکر دیا*

مقتل ابی مخنف صفحہ  43

ناسخ التواریخ ج 3/137

شیخ ارشاد المفید صفحہ 223

میدان کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے شیعوں کو کیے ہوئے وعدے اور محبت یاد دلائے لیکن وہ مُکر گئے

مقتل ابی مخنف صفحہ 44

جلاء العیون صفحہ375

امام حسین کو بلانے والے ہی آپ کے قاتل بنے۔

جلاء العیون صفحہ 381

حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے مخالف میدان کربلا میں تمام کے تمام کوفی تھے کوئی شامی یا حجازی نہیں تھا

مقتل ابی مخنف صفحہ 52

شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد قافلہ کربلا کو لوٹنے والے اور اور رونے والے تمام کے تمام محبین شیعہ تھے

مقتل ابی مخنف صفحہ 96

نورالعین صفحہ 137

انوار النعمانیہ جلد 3 صفحہ246

کوفہ میں روتا اور ماتم کرتا دیکھ کر امام زین العابدین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کوفہ والو تمہارے سوا ہمارا قاتل کون ہے

جلاء العیون صفحہ 423

احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 165

سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا اے اہل کوفہ تم نے ہمیں خود ہی قتل کیا اور خود ہی روتے اور گریا زاری کرتے ہو تم کم ہنسو گے اور زیادہ روو گے

جلاء العیون صفحہ 424

احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 110

مناقب شہر بن آشوب جلد 4 صفحہ 115

دیگر خواتین میں بھی اہل کوفہ کو انہی الفاظ میں مخاطب کیا

جلاء العیون صفحہ 445

احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 106

ہم نے اختصار سے کام لیا ہے ورنہ تفصیلی عبارت اور دلائل سے ذکر کرتے بہرحال یہ یقینا ثابت ہوگیا کہ یہ کسی ملا کی بنائی ہوئی کہانی نہیں ہے کہ حضرت حسین رضی عنہ کے قاتل شیعہ ہیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے

اہل سنت کی نصرت کا مسئلہ تو جب تم کو خود ہی یہ تسلیم ہے کہ تمام اہل کوفہ شیعہ تھے تو پھر اہل سنت کی نصرت کیسی اگر اہل سنت وہاں ہوتے تو خود امام کے ساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے اس سنگین صورت حال کا دوسرے شہر اور علاقوں میں کب معلوم تھا بلکہ اہل مکہ نے بطور احتیاط چند افراد ( شیعہ کتب کے مطابق اکیس صحابی رسول) کو آپ کے ہمراہ کیا تھا جو آپ کے ساتھ شہید ہوئے مکہ اور مدینہ کے لوگ تو حسین رضی اللہ عنہ کے شیدائی تھے ، ان کا اہل سنت ہونا خود شیعہ اکابر کو بھی تسلیم ہے۔ بیشک سرکار حسین کے وہی شیدائی تھے۔

خود شیعہ کے شوستری نے کہا ہے کہ

مکہ مدینہ میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی محبت غالب تھی گویا وہ اہلسنت تھے

مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 55

اس اعتبار سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے کربلا میں جو لوگ شہید ہوئے وہ تمام کے تمام اہل سنت تھے آپ کے مدمقابل بھی شیعہ تھے اور آپ کے قاتل بھی شیعہ تھے اس اعتبار سے شیعہ کا اعتراض لغو اور بربنائے جہالت ہےاور ان کی کتب  میں اہل بیت کی شدیدترین گستاخیاں بھری پڑی ہیں

مثلا

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا  اے علی رات جب تک میں نہ آؤں فاطمہ سے مخصوص کام نہ کرنا نعوذباللہ

جلاء العیون صفحہ 134 فارسی جلد 1 صفحہ 251 مترجم اردو تہذیب المتین جلد 1 صفحہ 82

 زرارہ شیعہ مذہب کا بنیادی راوی کہتا ہے اگر میں امام جعفر رحمتہ اللہ علیہ کی باتیں بیان کرو تو لوگوں کے عضوتناسل تن جائیں معاذاللہ ثم معاذاللہ

رجال کشی جلد 1 صفحہ 346

کتب شیعہ میں حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کا یزید  کی بیعت کر لینا مذکور و مرقوم ہے

کتاب الروضہ 3 صفحہ 110ملحقہ فروع کافی

جلاء العیون  صفحہ 500

اس طرح کی سینکڑوں گستاخیاں ان کی کتابوں میں مرقوم و مذکور ہیں کیا یہی اہل بیت کی محبت ہے بیشک اہلبیت کے حقیقی محب اہل سنت ہیں

شیعہ عالم کا اقرار کہ سیدنا حسین کے قاتل کوئی اور نہیں بلکہ شیعہ تھے۔۔!!

اور شیعہ اہل بیت کے حقیقی دشمن اور ان کی محبت کے جھوٹے دعویدار ہیں

مزید واقعہ کربلا کی تحقیق کے لیے

مشہور محقق مناظر رد شیعیت مولانا اللہ یار خاں رحمہ اللہ کی کتاب ” شکست اعدائے حسین ڈاؤن لوڈ،

اور “حضرت حسین کے قاتل شیعہ تھے” پڑھیں